پی ایم انڈیا
اسٹیج پر موجود دہلی کی مقبول وزیر اعلیٰ محترمہ ریکھا گپتا جی، مرکزی وزیر محترمہ ان پورنا دیوجی، محترمہ ساوتری ٹھاکرجی، قومی کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن محترمہ وجیاراہتکر جی، یہاں آپ سب کے درمیان کئی معزز شخصیات بھی موجود ہیں، ارکانِ پارلیمنٹ ہیں، ارکانِ اسمبلی ہیں، لوک سبھا کی سابق اسپیکر ، معزز میرا کمار جی بھی ہمارے درمیان موجود ہیں ۔یہاں موجود میری تمام معزز بہنوں، اس وقت ملک میں بیساکھی کے تہوار کی خوشی کی لہر ہے۔ کل ملک کے مختلف حصوں میں نیا سال بھی منایا جائے گا۔ میں آج جلیانوالہ باغ قتل عام کے بہادر شہیدوں کو بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہوں ۔
ساتھیو،
ملک کی ترقی کے اس اہم سفر کے دوران، بھارت 21ویں صدی کے سب سے بڑے فیصلوں میں سے ایک اہم فیصلہ لینے جا رہا ہے۔ میں بڑی ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ یہ 21ویں صدی کے اہم ترین فیصلوں میں سے ایک ہے۔ یہ فیصلہ ناری شکتی کے نام ہے، ناری شکتی وندن کے نام ہے۔ ہماری پارلیمنٹ ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے قریب ہے۔ ایک ایسی نئی تاریخ جو ماضی کے عزم کو حقیقت میں بدلے گی اور مستقبل کے اہداف کو پورا کرے گی۔یہ ایک ایسے بھارت کا عزم ہے جو مساوات پر مبنی ہو، جہاں سماجی انصاف صرف ایک نعرہ نہ ہو بلکہ ہماری ورک کلچر، ہماری فیصلہ سازی اور ہماری عملی زندگی کا فطری حصہ بن جائے۔
ساتھیو،
ریاستوں کی اسمبلیوں سے لے کر ملک کی پارلیمنٹ تک، دہائیوں سے جاری انتظار کے خاتمے کا وقت 18-17-16 اپریل ہے۔ 2023 میں نئی پارلیمنٹ کے نئی عمارت کے قیام کے ساتھ ہی ہم نے ناری شکتی وندن ایکٹ کی صورت میں پہلا قدم اٹھایا تھا۔ اس قانون کے بروقت نفاذ اور جمہوریت میں خواتین کی مؤثر شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے، 16 اپریل سے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کی خصوصی نشست منعقد کی جا رہی ہےاور اس سے پہلے آج ناری شکتی وندن کا یہ پروگرام منعقد کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے ہمیں ملک کی کروڑوں ماؤں اور بہنوں کی دعائیں اور آشیرواد حاصل ہو رہے ہیں۔ میں یہاں آپ کو کوئی نصیحت دینے یا جگانے نہیں آیا ہوں، بلکہ میں آج یہاں آپ سب، یعنی ملک کی کروڑوں ماؤں اور بہنوں کا آشیرواد لینے آیا ہوں۔ آپ سب ملک کے کونے کونے سے یہاں آئی ہیں اور میں آپ کی اس شرکت اور اس اہم کام کے لیے وقت نکالنے پر دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ساتھ ہی، میں بھارت کی تمام خواتین کو ایک نئے دور کے آغاز پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو،
جمہوری نظام میں خواتین کو ریزرویشن دینے کی ضرورت کو ہر کوئی دہائیوں سے محسوس کر رہا تھا اور اس پر مسلسل گفتگو بھی ہوتی رہی ہے۔ اس موضوع پر تقریباً چار دہائیاں، یعنی 40 سال گزر چکے ہیں۔ اس میں تمام سیاسی جماعتوں اور کئی نسلوں کی کوششیں شامل رہی ہیں۔ ہر پارٹی نے اپنے اپنے انداز میں اس خیال کو آگے بڑھایا ہے۔2023 میں جب ناری شکتی وندن ایکٹ پیش کیا گیا، تو تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر اسے منظور کیا تھا۔ اس وقت ایک آواز میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسے ہر حال میں 2029 تک نافذ کیا جانا چاہیے۔ سب کا یہی مؤقف تھا کہ قانون تو پاس ہو جائے لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہو، یہ کسی کو بھی منظور نہیں ہوگا۔ خاص طور پر اپوزیشن کے تمام ساتھیوں نے بھی زور دے کر کہا تھا کہ اسے 2029 تک نافذ کیا جائے۔2029 کی اس وقت کی حد کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت نے اس معاملے پر مسلسل غور و فکر کیا، کیونکہ اپوزیشن کی بات بھی ہمارے لیے اہم ہوتی ہے۔ اسی لیے ہم نے مسلسل مشاورت، غور و فکر اور نئے راستے تلاش کئے۔ آئین کے ماہرین سے بھی مشورے لیے گئے اور اب 16 اپریل سے پارلیمنٹ میں اسی موضوع پر تفصیلی بحث بھی ہونے جا رہی ہے۔
ساتھیو،
ہماری کوشش ہے اور ہماری ترجیح بھی ہے کہ اس بار بھی یہ کام بات چیت، تعاون اور شراکت داری کے ذریعے مکمل ہو۔ مجھے پورا یقین ہے کہ جس طرح اس قانون کو منظور کرتے وقت پارلیمنٹ اور ایوان کا وقار بڑھا تھا، اسی طرح اس بار بھی سب کے اجتماعی تعاون سے پارلیمنٹ کی عزت مزید بلند ہوگی۔ ملک کی ہر خاتون کو یہ محسوس ہوگا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے سیاست سے بالاتر ہو کر ان کے مفاد میں یہ اہم فیصلہ کیا ہے۔میں دیکھ رہا ہوں کہ گزشتہ کچھ دنوں سے ملک بھر میں خواتین اس موضوع پر کھل کر بات کر رہی ہیں۔ اس پر وسیع پیمانے پر بحث جاری ہے اور یہ جمہوریت کی ایک بڑی طاقت ہے۔ اسمبلیوں اور لوک سبھا تک پہنچنے کے ان کے خوابوں کو، آپ سب کے خوابوں کو، اب نئے پر ملنے والے ہیں۔ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ ملک میں ایک مثبت فضا قائم ہو رہی ہے۔
ساتھیو،
آزادی کی جدوجہد سے لے کر آئین ساز اسمبلی کے فیصلوں تک، آزاد بھارت کی بنیاد رکھنے میں ہندوستان کی ناری شکتی نے بے پناہ کردار ادا کیا ہے، تاریخ اس کی گواہ ہے۔ آزادی کے بعد بھی جن خواتین کو نمائندگی کا موقع ملا، انہوں نے ملک کے لیے شاندار خدمات انجام دی ہیں۔ ہمارے ملک میں صدر سے لے کر وزیر اعظم تک، خواتین نے جہاں بھی ذمہ داریاں سنبھالیں، اپنی الگ پہچان اور وراثت قائم کی ہے۔اس وقت بھی ہمارے ملک میں صدر سے لے کر وزیر خزانہ تک، اہم عہدوں پر خواتین فائز ہیں۔ انہوں نے ملک کی عزت اور وقار دونوں میں اضافہ کیا ہے۔
ساتھیو،
ہمارے ملک میں خواتین کی قیادت کی ایک بہترین مثال پنچایتی راج ادارے بھی ہیں۔ آج بھارت میں 14 لاکھ سے زائد خواتین مقامی حکومتی اداروں میں کامیابی کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ تقریباً 21 ریاستوں میں تو پنچایتوں میں ان کی شرکت تقریباً 50 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔جب میں کبھی بیرونِ ملک مہمانوں سے اس موضوع پر بات کرتا ہوں، تو یہ اعداد و شمار سن کر وہ حیران رہ جاتے ہیں اور ان کے لیے یہ ایک بڑی مثال بن جاتا ہے۔
ساتھیو،
یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ لاکھوں خواتین کی سیاست اور سماجی زندگی میں یہ سرگرم شمولیت، دنیا کے بڑے بڑے رہنماؤں اور سیاسی ماہرین کے لیے بھی حیرت کا باعث بنتی ہے۔ اس سے پورے بھارت کا وقار بہت بڑھتا ہے۔
ساتھیو،
متعدد مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کی شرکت بڑھی، تو نظام میں بھی زیادہ حساسیت آئی ہے۔ یہ ایک بہت بڑی طاقت ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ پانی، تعلیم، صحت اور غذائیت جیسے کئی شعبوں میں زیادہ لگن، حساسیت اور مؤثر انداز میں کام ہوا ہے۔جل جیون مشن کی مثال اس کی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے، جس میں پنچایت کی سطح پر خواتین کی شمولیت نے نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔
ساتھیو،
ہماری لوکل باڈیز اور اداروں میں اتنے برسوں سے جو لاکھوں خواتین کام کر رہی ہیں اور قیادت کر رہی ہیں، ان کے پاس زمینی سطح (گراس روٹ لیول) پرنہایت قیمتی اور طویل تجربہ موجود ہے۔ وہ اب بڑی ذمہ داریوں کے لیے تیار بھی ہیں اور پُرعزم بھی۔میں اپنا ایک ذاتی تجربہ آپ سے شیئر کرتا ہوں۔ یہ صلاحیت کیا ہوتی ہے، اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب میں 2001 میں نیا نیا وزیرِ اعلیٰ بنا تھا۔ مجھے حکومت چلانے اور انتظامی نظام کا زیادہ تجربہ نہیں تھا، ایک طرح سے میں نیا ہی تھا۔شاید 2002 یا 2003 کی بات ہے، ہمارے ایک ایم ایل اے میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میرے حلقے کے ایک گاؤں کی پنچایت کی بہنیں آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔ یہ علاقہ کھیڑا ضلع اور آنند ضلع کا تھا، جہاں سردار ولبھ بھائی پٹیل کی جائے پیدائش بھی ہے۔ میں نے کہا کہ اگر پنچایت کا کوئی کام ہے تو انہیں پنچایت کے وزیر سے ملوائیں، لیکن انہوں نے کہا کہ نہیں، وہ آپ ہی سے ملنا چاہتی ہیں۔میں نے پوچھا کیوں؟ تو بتایا گیا کہ اس پنچایت کے تمام ممبران خواتین ہیں، ایک بھی مرد رکن نہیں ہے۔ میں حیران ہوا اور کہا یہ کیسے ممکن ہے؟ تو بتایا گیا کہ گاؤں والوں نے طے کیا کہ اس بار جب سربراہ خاتون ہوگی تو تمام ممبران بھی خواتین ہی ہوں گی، اس لیے کسی مرد نے الیکشن نہیں لڑا۔یہ سن کر میری دلچسپی بڑھی اور میں نے کہا کہ میں ضرور ان سے ملوں گا۔ وہ ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، تقریباً 13 ممبران پر مشتمل پنچایت تھی۔ میں نے انہیں وقت دیا اور وہ سب مجھ سے ملنے آئیں۔ ان 13 بہنوں میں سے جو سرپنچ تھیں، وہ شاید آٹھویں جماعت تک پڑھی ہوئی تھیں۔ باقی میں سے کچھ خواتین نے تو شاید اسکول بھی نہیں دیکھا تھا، اور کچھ گھونگھٹ میں تھیں۔میں نے سوچا کہ شاید وہ کوئی مطالبات لے کر آئی ہوں گی، جیسے عام طور پر لوگ آتے ہیں، لیکن میں حیران رہ گیا کہ ان کے ہاتھ میں کوئی کاغذ نہیں تھا۔ میں نے ان سے تعارف کے بعد پوچھا کہ آپ نے وقت مانگا تھا، کیا کام ہے؟ انہوں نے کہا کہ کوئی خاص کام نہیں، ہم بس منتخب ہو کر آئے ہیں تو آپ سے ملنے آ گئے۔یہ میرے لیے بہت حیرت کی بات تھی، کیونکہ عموماً لوگ میمورنڈم لے کر آتے ہیں۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو پانچ سال کے لیے اتنی بڑی ذمہ داری ملی ہے، آپ کا خواب کیا ہے؟ آپ اپنے گاؤں کو کیسا بنانا چاہتی ہیں؟عام طور پر ہم جیسے لوگ کیا جواب دیتے؟ کہ اسکول بنا دیں گے، اسپتال بنا دیں گے، سڑکیں بنا دیں گے، لیکن اس دن آٹھویں جماعت تک پڑھی ہوئی اس سرپنچ اور ان کی ساتھی خواتین نے جو جواب دیا، وہ شاید دنیا کا سب سے بڑا ماہرِ معاشیات بھی نہ دے سکے۔انہوں نے کہاکہ ‘‘ہماری صرف ایک خواہش ہے۔’’
میں نے پوچھا: ‘‘کیا؟’’ انہوں نے جواب دیا کہ ‘‘ہمارے گاؤں میں کوئی بھی غریب نہ رہے۔’’یہ جواب آج بھی میرے کانوں میں گونجتا ہے۔ بڑے سے بڑے ماہرینِ معاشیات کے لیے بھی اس سے بڑا پیغام نہیں ہو سکتا۔یہ میرے لیے ایک بہت ہی سبق آموز اور خوشگوار تجربہ تھا۔ میں وزیراعلیٰ بنا، پھر وزیرِ اعظم بھی بنا، لیکن اس پنچایت کی خواتین کی یہ بات آج بھی میرے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ زمین سے جڑے ہوئے تجربے سے نکلنے والی باتیں، وید کے اقوال کی طرح سچائی اور رہنمائی کا درجہ رکھتی ہیں۔
اور اس لئے ساتھیو،
ناری شکتی وندن ایکٹ کو نافذ کرنا، ایسی تمام خواتین کی زندگی میں ایک بہت بڑا موقع ثابت ہونے جا رہا ہے۔ اب پنچایت سے آگے بڑھ کر پارلیمنٹ تک پہنچنے کا ان کا سفر مزید آسان ہونے والا ہے۔
ساتھیو،
آج وکست بھارت کے ہمارے سفر میں خواتین کا کردار اور بھی زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ مجھے اطمینان ہے کہ 2014 میں آپ سب نے، ملک کے عوام نے ہمیں خدمت کا موقع دیا اور تب سے لے کر اب تک ہماری حکومت نے خواتین کی زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبے بنائے اور انہیں کامیابی سے نافذ کیا۔آج پہلی سانس سے لے کر آخری سانس تک ہماری حکومت کسی نہ کسی اسکیم کے ذریعے بھارت کی بہنوں اور بیٹیوں کی خدمت میں موجود ہے۔ بیٹی کی پیدائش سے پہلے اس کی حفاظت کے لیے بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ مہم شروع کی گئی تاکہ رحم مادر میں بیٹی کی جان نہ لی جائے۔ حاملہ ماں کو مناسب غذائیت فراہم کرنے کے لیے پردھان منتری مارت وندنا یوجناکے تحت ہر حاملہ خاتون کو 5000 روپے کی مالی مدد دی جاتی ہے۔پیدائش کے بعد بیٹی کی تعلیم میں رکاوٹ نہ آئے، اس کے لیے سکنیہ سمردھی یوجنا شروع کی گئی تاکہ بہتر منافع کے ساتھ بچت ممکن ہو۔ بچوں کو سنگین بیماریوں سے بچانے کے لیے بروقت ویکسینیشن یقینی بنانے کی غرض سے مشن اندر دھنش کا آغاز کیا گیا۔اسکولوں میں لڑکیوں کو بیت الخلا کی سہولت فراہم کرنے کے لیے سووچھ بھارت ابھیان کے تحت کروڑوں بیت الخلا تعمیر کیے گئے۔ حیض کے دوران مشکلات کم کرنے کے لیے مفت سینیٹری نیپکن فراہم کرنے کی مہم بھی شروع کی گئی۔اگر بیٹی کھیل کے میدان میں آگے بڑھنا چاہتی ہے تو کھیلو انڈیا کے تحت اسے سالانہ ایک لاکھ روپے تک کی مدد دی جا رہی ہے۔ اگر وہ فوج میں جانا چاہے تو حکومت نے سینک اسکولوں اور نیشنل ڈیفنس اکیڈمی میں داخلے کے راستے بھی کھول دیے ہیں۔ باورچی خانے کے دھوئیں سے نجات کے لیے پردھان منتری اجولا یوجنا کے تحت کروڑوں مفت گیس کنکشن دیے گئے۔ پانی کے لیے دور دراز نہ جانا پڑے، اس کے لیے جل جیون مشن کے تحت ہر گھر نل سے پانی فراہم کرنے کی مہم چلائی گئی۔خاندان کے لیے راشن کی فکر نہ ہو، اس کے لیے مفت راشن اسکیم شروع کی گئی۔ صحت کے اخراجات کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے آیوشمان بھارت کے تحت 5 لاکھ روپے تک کا مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح سستی ادویات کی فراہمی کے لیے جن اوشدھی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں 80 فیصد تک رعایت پر دوائیں ملتی ہیں۔ان تمام اقدامات کا سب سے زیادہ فائدہ ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو ہو رہا ہے۔
ساتھیو،
آپ سب اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھارت میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ان کی معاشی شراکت کو بڑھانا نہایت ضروری ہے۔ اسی لیے ہماری حکومت نے ہر فیصلے اور ہر اسکیم میں اس پہلو کو مدنظر رکھا ہے۔پہلے خاندان کی جائیداد عموماً مردوں کے نام ہوتی تھی۔ گھر ہو تو مرد کے نام، کھیت ہو تو مرد کے نام، دکان ہو تو مرد کے نام، گاڑی ہو تو مرد کے نام، حتیٰ کہ اسکوٹر بھی مرد کے نام پر ہوتا تھا اور یہ ایک عام روایت تھی۔ ہم نے پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت گھروں کو ترجیحی بنیادوں پر خواتین کے نام پر رجسٹر کرنا شروع کیا۔بچوں کے اسکول میں داخلے کے وقت عموماً والد کا نام لکھا جاتا تھا، لیکن ہم نے اس میں تبدیلی کرتے ہوئے ماں کا نام بھی شامل کرنا شروع کیا۔ گزشتہ 11 برسوں میں اس فیصلے سے 3 کروڑ سے زائد خواتین کو فائدہ ہوا ہے، جو اپنے گھروں کی مالک بنی ہیں۔ اس سے خواتین نہ صرف سماجی بلکہ معاشی طور پر بھی مضبوط ہو رہی ہیں۔عام طور پر جب باپ اور بیٹا کاروباری معاملات پر بات کرتے ہیں تو اگر ماں چائے لے کر آتی ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ آپ کچن میں جائیں، ہم بات کر رہے ہیں۔ میں خود گھریلو زندگی نہیں گزارتا، لیکن یہ سب جانتا ہوں۔ مگر اب جب خواتین معاشی طور پر مضبوط ہو رہی ہیں تو بیٹا بھی کہتا ہے کہ ماں کو بھی بلاؤ، وہ بھی اس گفتگو میں شامل ہوں۔
ساتھیو،
سال2014 میں ہمارے ملک میں کروڑوں خواتین ایسی تھیں جنہوں نے کبھی بینک کا دروازہ بھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ بینکاری نظام سے جڑی ہی نہیں تھیں، اس لیے انہیں اس کے فوائد بھی نہیں ملتے تھے۔ ہم نے پردھان منتری جن دھن یوجنا شروع کی، جس کے تحت ملک کی 32 کروڑ سے زائد خواتین کے بینک اکاؤنٹس کھولے گئے۔جب میں گجرات میں تھا تو ایک فیصلہ کرنا میرے لیے ابتدا میں کافی مشکل تھا۔ گجرات میں کوآپریٹو ڈیری کا بہت بڑا نظام ہے اور مویشی پالنے کا زیادہ تر کام ہماری مائیں اور بہنیں کرتی ہیں۔ وہ دودھ جمع کرانے جاتی تھیں، لیکن اس کی ادائیگی مردوں کو کی جاتی تھی۔جب میں وزیر اعلیٰ بنا تو میں نے فیصلہ کیا کہ ادائیگی مردوں کو نہیں دی جائے گی۔ اس کے بجائے، دودھ جمع کرانے والی خواتین کے بینک اکاؤنٹس کھلوائے گئے اور ڈیری کی آمدنی براہِ راست خواتین کے کھاتوں میں منتقل کی جانے لگی۔
ساتھیو،
آج ہماری بیٹیاں نئے نئے کاروبارومیں اپنی پہچان بنا رہی ہیں۔ پردھان منتری مدرا یوجنا کے تحت دیے گئے 60 فیصد سے زیادہ قرض خواتین نے حاصل کیے ہیں۔ ملک میں اسٹارٹ اپ انقلاب کی قیادت بھی خواتین کر رہی ہیں اور آج 42 فیصد سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس میں کم از کم ایک خاتون ڈائریکٹر موجود ہے۔خواتین کے کیریئر پر اثر نہ پڑے، اس کے لیے ہم نے میٹرنٹی لیو کو بڑھا کر 26 ہفتے کر دیا ہے، جو دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں بھی دستیاب نہیں ہے۔ جب میں یہ بات انہیں بتاتا ہوں تو وہ حیران رہ جاتے ہیں۔
ساتھیو،
آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ سال پہلے ملک میں اسکل انڈیا مشن شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت پیشہ ورانہ تربیتی پروگرامز کا آغاز ہوا۔ آج اس کے نتائج ہمیں زرعی انقلاب کی صورت میں نظر آ رہے ہیں، جہاں ہزاروں‘‘ڈرون دیدی’’ اس تبدیلی کی قیادت کر رہی ہیں۔میں نے ایک بار ان ‘‘ڈرون دیدی’’ سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بات کی۔ یہ گاؤں کی بیٹیاں اور بہوئیں ہیں، جو اب ڈرون چلا رہی ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ پہلے گاؤں میں لوگ انہیں عام ناموں سے پکارتے تھے، لیکن اب انہیں‘‘پائلٹ’’کہا جاتا ہے۔ اس طرح ایک چھوٹے سے فیصلے سے لوگوں کے نظریات میں کتنی بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ خواتین اب ٹیکنالوجی کے ذریعے جدید زراعت سیکھ رہی ہیں۔آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ گزشتہ 11 برسوں میں تقریباً 10 کروڑ خواتین خود امدادی گروپس (سیلف ہیلپ گروپس)سے جڑ چکی ہیں۔ حکومت نے دیہی معیشت کو مضبوط بنانے والی ایسی 6 کروڑ خواتین کو‘‘لکھ پتی دیدی’’ بنانے کا ہدف رکھا ہے، جن میں سے 3 کروڑ سے زائد خواتین یہ مقام حاصل کر چکی ہیں۔یہ ویمن سیلف ہیلپ گروپس بینکوں سے قرض حاصل کرتے ہیں اور ان کی واپسی کا ریکارڈ نہایت شاندار ہے۔ اگر انہیں بدھ کے دن رقم جمع کرانی ہو تو وہ منگل کو ہی جمع کرا دیتی ہیں۔ ان خواتین کے مالی لین دین کی وجہ سے نان پرفارمنگ اثاثوں (این پی اے) کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا، جتنا پیسہ بینکوں سے جاتا ہے، اتنا ہی واپس بھی آتا ہے۔میں نے اپنی حکومتی ذمہ داریوں کے دوران بینکنگ نظام میں غریبوں کی امیری بھی دیکھی ہے اور امیروں کی غریبی بھی دیکھی ہے۔
ساتھیو،
صرف یہی نہیں، ہماری مائیں اور بہنیں ‘وکل فار لوکل’ کی برانڈ ایمبیسیڈر بن رہی ہیں۔ بہنو کی‘‘ویمن لیڈ ڈیولپمنٹ’’ کے وژن کی ایک بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے خواتین کے بارے میں پرانی سوچ کو چیلنج کیا ہے۔جب جی ٹوئنٹی کے دوران بھارت اس کی صدارت کر رہا تھا، تو مجھے دنیا کے ممالک کو یہ سمجھانا پڑا کہ‘‘ویمن ڈیولپمنٹ’’ اور ‘‘ویمن لیڈ ڈیولپمنٹ’’ میں کیا فرق ہے۔ دنیا کا ایک بڑا طبقہ ‘‘ویمن ڈیولپمنٹ’’ تک تو متفق تھا، لیکن ‘‘ویمن لیڈ ڈیولپمنٹ’’ کو قبول کرانے کے لیے ہمیں خاصی محنت کرنی پڑی اور ہمیں اس میں کامیابی بھی ملی۔اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ آج خواتین اُن شعبوں میں بھی کامیابی کی بلندیاں چھو رہی ہیں، جہاں کبھی مردوں کی اجارہ داری سمجھی جاتی تھی۔ آج ہماری بیٹیاں فائٹر پائلٹ بن کر آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔ آج بھارت میں دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں خواتین پائلٹس کا تناسب سب سے زیادہ ہے، جو ایک خوش آئند بات ہے۔آج پی ایچ ڈی میں داخل ہونے والی بیٹیوں کی تعداد 2014 کے مقابلے میں دوگنی ہو چکی ہے۔ اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے شعبے میں تقریباً آدھی شراکت ہماری بیٹیوں کی ہے۔ ریاضی اور سائنس، یعنی ایس ٹی ای ایم تعلیم میں بھی بیٹیوں کی شرکت تقریباً 43 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔مجھے یاد ہے کہ میں ایک ترقی یافتہ ملک کے دورے پر گیا تھا، جہاں کے وزیرِ تعلیم میرے ساتھ لفٹ میں تھے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ بھارت میں خواتین کی تعلیم کا کیا حال ہے؟ میں نے کہا کہ بہت اچھا ہے، کئی جگہوں پر تو مردوں سے بھی زیادہ ہے۔ پھر انہوں نے خاص دلچسپی سے پوچھا کہ ای ٹی ای ایم تعلیم میں خواتین کی کیا شراکت ہے؟ جب میں نے بتایا کہ تقریباً 50 فیصد حصہ خواتین کا ہے، تو وہ حیران رہ گئے۔ یہ ایک ترقی یافتہ ملک کے وزیرِ تعلیم کا ردِعمل تھا۔
ساتھیو،
ہمارے معاشرے میں خواتین کی حفاظت ایک بڑی چیلنج رہی ہے۔ صدیوں سے خواتین کو اپنی سلامتی کے لیے خاموش رہنا پڑا ہے۔ ہماری حکومت نے اس سمت میں بھی مضبوط اقدامات کیے ہیں۔ انصاف کے نظام کو زیادہ حساس بنانے اور فیصلوں کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ہم نے قانونی اصلاحات کی ہیں اور ساتھ ہی فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتوں کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔بھارتیہ نیائے سنگہتا میں بھی خواتین کی حفاظت کو ترجیح دی گئی ہے۔ ایف آئی آر درج کرانے کے عمل کو آسان بنایا گیا ہے، اب کسی بھی جگہ سے ای-ایف آئی آر یا زیرو ایف آئی آر درج کرائی جا سکتی ہے۔ متاثرہ خاتون کے بیان کو آڈیو اور ویڈیو کے ذریعے ریکارڈ کرنے جیسی سہولیات بھی نافذ کی گئی ہیں۔ایسے کئی اقدامات کے ذریعے ہم ایک ترقی پسند معاشرے کے تصور کو حقیقت میں بدل رہے ہیں۔
ساتھیو،
زندگی کے ہر مرحلے، ہر فکر، خوشی و غم اور ہر موقع کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہماری حکومت نے چھوٹے بڑے اقدامات کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنایا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک اپنے جمہوری نظام کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے تیار ہے۔
ساتھیو،
ملک کی ناری شکتی نے اپنی محنت، ہمت اور خود اعتمادی سے نئی بلندیوں کو حاصل کیا ہے۔ اب ہمیں مل کر اس طاقت کو مزید توانائی دینی ہے اور اس کے لیے مواقع کو وسیع کرنا ہے۔میں آج اس اسٹیج سے ملک کی ہر ماں، بہن اور بیٹی کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ملک ان کی خواہشات کو سمجھتا ہے اور ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہا ہے۔
ساتھیو،
میں پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث سے پہلے، ملک کی ناری شکتی سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ آپ اس پورے عمل میں اپنی سرگرمی برقرار رکھیں۔ آپ اپنے اپنے علاقوں کے ارکانِ پارلیمنٹ سے ضرور ملاقات کریں۔ ملک کی خواتین اپنے نمائندوں کے سامنے اپنا مؤقف پیش کریں اور اپنی توقعات ان تک پہنچائیں اور جس دن وہ ایوان میں شرکت کے لیے روانہ ہوں، تو انہیں پھولوں کی مالا پہنا کر رخصت کریں تاکہ جب ارکانِ پارلیمنٹ ماؤں اور بہنوں کی دعاؤں اور آشیرواد کے ساتھ روانہ ہوں گے، تو وہ کوئی غلط فیصلہ نہیں کر سکیں گے۔اس سے ہمارے یہ ساتھی ارکانِ پارلیمنٹ درست فیصلہ کریں گے، خواتین کے مفاد میں فیصلہ کریں گے اور اتفاقِ رائے سے فیصلہ کریں گے۔
ساتھیو،
میری آپ سے ایک اور درخواست ہے۔ ناری شکتی وندن پروگرام میں ہونے والی بات چیت کو آپ سب ملک کے گاؤں گاؤں تک پہنچائیں۔ ذاتی میل جول، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہمیں اس بڑے فیصلے کو ملک کی ہر عورت تک پہنچانا ہے۔ ہمیں انہیں باخبر کرنا ہے تاکہ وہ اس اہم فیصلے کی طاقت کو سمجھ سکیں، اپنی ذمہ داری کو پہچان سکیں اور کھل کر یہ خواب دیکھ سکیں کہ آنے والے وقت میں ریاستوں سے لے کر ملک کی پارلیمنٹ تک وہ اپنی موجودگی درج کرا سکتی ہیں۔آئیے، ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ناری شکتی کو اس کے حقوق حاصل ہوں گے اور وہ فیصلہ سازی کے عمل میں مکمل شراکت دار بنیں گی۔ یہی ہمارے روشن مستقبل کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔میں تو یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ 18-17-16 اپریل کے دوران، اگرچہ یہ اسپیکر کے اختیار کا معاملہ ہے، لیکن میری خواہش ہے کہ اس وقت پارلیمنٹ کی ناظرین گیلری خواتین سے بھری ہو۔ اس سے پورے ملک میں ایک جشن کا ماحول بنے گا۔یہ کسی ایک جماعت یا دوسرے کی جیت یا ہار کا موضوع نہیں ہے۔ نہ یہ کہ کس نے کیا یا کس نے نہیں کیا۔اس کا سارا کریڈٹ ملک کی ماؤں اور بہنوں کو جاتا ہے، سارا کریڈٹ ملک کی پارلیمنٹ کو جاتا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو جاتا ہے۔ پچھلے تین چار دہائیوں سے جو مسلسل کوششیں ہو رہی ہیں، ان سب کو اس کا کریڈٹ حاصل ہے۔یہ سب کا ہے، سب کے تعاون سے ہے، اور سب کی بھلائی کے لیے ہے۔اسی یقین کے ساتھ آپ سب نے وقت نکالا اور اس پروگرام میں جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، اس کے لیے میں دل کی گہرائیوں سے آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
بہت بہت شکریہ۔
***
ش ح۔ ک ا۔ ن ع
U.NO.5776
Speaking at the Nari Shakti Vandan Sammelan in Delhi. https://t.co/bnocSJqwYB
— Narendra Modi (@narendramodi) April 13, 2026
India's Nari Shakti has made immense contributions. pic.twitter.com/BxSbAHK67K
— PMO India (@PMOIndia) April 13, 2026
In our country, the Panchayati Raj institutions are a remarkable example of women's leadership. pic.twitter.com/7uNzwK3ySl
— PMO India (@PMOIndia) April 13, 2026
Supporting women at every stage of life. pic.twitter.com/mclimUNZ9i
— PMO India (@PMOIndia) April 13, 2026
Today, women are excelling even in sectors once considered male-dominated. pic.twitter.com/FFE9Dj820g
— PMO India (@PMOIndia) April 13, 2026
India's Nari Shakti have reached new heights through their hard work, courage and confidence.
— PMO India (@PMOIndia) April 13, 2026
Now, we must come together to empower them further by expanding opportunities. pic.twitter.com/vIaH6tRxx2