Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

نئی دہلی میں منعقدہ ہند- اٹلی ٹیکنالوجی سربراہ اجلاس سے وزیراعظم کے خطاب کا متن

نئی دہلی میں منعقدہ ہند- اٹلی ٹیکنالوجی سربراہ اجلاس سے وزیراعظم کے خطاب کا متن


 

عزت مآب جناب وزیراعظم جوسیپّے کونتے صاحب ، مرکزی کابینہ میں میرے رفیق کارڈاکٹر ہرش وردھن صاحب، اس ٹیکنالوجی سربراہ اجلاس میں موجود ٹیکنالوجی کی دنیاسے جڑے سبھی ساتھیوں، خواتین اور حضرات۔

نمسکار!

چاؤ، کومے  ستائی!

اٹلی سے یہاں سبھی تشریف لائے مہمانوں کا خاص طور سے دلی خیرمقدم ہے!

بینوینوتو اِن انڈیا!

دوستو،

یہ 24واں ٹیکنالوجی سربراہ اجلاس ہے ، اس سربراہ اجلاس میں شراکت دار ملک کی حیثیت سے اٹلی کی حصہ داری اور ساتھ ہی وزیراعظم  کونتے صاحب کی باوقار موجودگی ہمارے لئے انتہائی باعث افتخار ہے۔

یہاں آنے سے قبل اپنی سرکاری ملاقات کے دوران وزیراعظم جناب کونتے صاحب کے ساتھ میری تفصیل سے گفتگو ہوئی ہے۔ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے تئیں ان کا جوش اور ان کی عہدبستگی کا میں نے خود تجربہ کیا ہے۔

یہ سال ہمارے لئے اس لئے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ سال ہندوستان اور اٹلی کے سفارتی تعلقات کی استواری کا 70واں سال ہے۔ اسی سال سائنس وٹیکنالوجی کے میدان میں ہمارے تعاون کے 40 برس مکمل ہورہے ہیں۔ اس مبارک موقع پر وزیراعظم کونتے صاحب کا سفر ہند اپنے آپ میں ایک الگ ہی اہمیت رکھتا ہے۔

دوستو،

آج وہ وقت ہے جب ٹیکنالوجی کے بغیر زندگی کا تصور کرنا دشوار ہے۔ آج تقریباً ہر شخص کی زندگی  ٹیکنالوجی سے کسی نہ کسی طور سے جڑی ہوئی ہے۔  پچھلے کچھ برسوں کے دوران تو ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت تیزی سے تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ اس کی رفتار اتنی تیز ہے کہ ایک ٹیکنالوجی کا اثر سماج کے آخری سرے تک پہنچ بھی نہیں پاتا کہ اس سے بہتر ٹیکنالوجی وجود میں آجاتی ہے۔ ان حالات میں سبھی ملکوں کے سامنے  بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ چلنے کا چیلنج ہے تو متعدد مواقع بھی دستیاب ہیں۔

ہندوستان نے تو ٹیکنالوجی کو سماجی انصاف تفویض اختیارات ،شمولیت ،اہل سرکاری نظام اور شفافیت کا وسیلہ بنالیا ہے۔ سرکاری خدمات کی آخری سرے تک مؤثر فراہمی کو ٹیکنالوجی کے وسیلے سے یقینی بنایا جارہا ہے۔ خاص طور سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا ایک وسیع تک انفراسٹرکچر فروغ دیا جارہا ہے تاکہ عام آدمی کو اور آسانی سے سہولیات کا فائدہ حاصل ہوسکے۔ ٹیکنالوجی کو ہم ایزآف لیونگ (زندگی جینے کی آسانی)کا اہم وسیلہ مانتے ہیں۔

آج دنیا کی سب سے بڑی ڈائریکٹ بینیفٹ اسکیم میں سے ایک اسکیم ہندوستان میں چلائی جارہی ہے۔ سرکاری امداد راست طور سے استفادہ کنندگان کے بینک کھاتوں میں پہنچائی جارہی ہے۔ برتھ سرٹیفکیٹ سے لیکر ضعیفی کی پنشن تک کی متعدد سہولیات آج آن لائن ہیں۔  مرکز اور ریاستی سرکاروں کی 300 سے زائد خدمات کو امنگ ایپ کے وسیلے سے ایک پلیٹ فارم پر لایا گیا ہے۔

ڈیجیٹل پیمنٹ آج کل ماہانہ ڈھائی سو کروڑ ٹرانزکشن کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ملک بھر میں قائم تین لاکھ سے زائد کامن سروس سینٹر سے گاؤں گاؤں میں آن لائن خدمات فراہم کرائی جارہی ہیں۔

پچھلے چار برسوں میں بھارت میں ایک جی بی ڈیٹا کی قیمت 90 فیصد سے زیادہ تک کم ہوئی ہے۔ بھارت میں یہ سستا ڈیٹا ملک کے ہر شہری کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی فراہم کرانے کا مؤثر وسیلہ بن رہا ہے۔

دوستو،

ہندوستان اب اپنی آئی ٹی سافٹ ویئر پاور کی شناخت کو اگلی سطح پر لے جانے کیلئے آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم ہندوستان میں سائنس  ٹمپرس سے ٹیکنالوجیکل ٹمپرس فروغ دینے پر زور دے رہے ہیں۔ ملک بھر میں اٹل ٹنکرنگ لیب کے وسیلے سے اسکولوں میں جدت طرازی کیلئے، مستقبل کی تکنیک کیلئے ٹمپرامنٹ کو فروغ دیاجارہا ہے۔ اٹل اینوویشن مشن  کے وسیلے سے ملک بھر میں ایسے نوجوانوں کا نیٹ ورک تیار کیا جارہا ہے جو چوتھے صنعتی انقلاب کا مضبوط ستون بنیں گے۔

ہندوستان میں جو جدت طرازیاں یا اینوویشن ہورہے ہیں ان میں کوالٹی پر بھی زور دیا جارہا ہے۔ ہندوستان کا خلائی پروگرام اس کی بہترین مثال ہے۔ اس کی کامیابی تو خود اٹلی نے بھی محسوس کی ہے۔

آج ہندوستان اٹلی سمیت دنیا کے متعدد ملکوں کے سیٹلائٹ بہت کم خرچ پر خلا میں بھیج رہا ہے ، یہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کا فائدہ گھر گھر تک پہنچانے میں فائدے مند ثابت ہورہے ہیں۔

ساتھیو، آج  جب پوری  دنیا انڈسٹری  فور پوائنٹ زیرو  پر گفت کررہی ہے ایسے میں ہندوستان اور اٹلی کی قدیمی تہذیبوں کے درمیان سائنس و ٹیکنالوجی کے  شعبوں میں  تعاون کو مضبوط کرنے سے نئے مواقع تو پیدا ہی ہوں گے ا س کے ساتھ چیلنجوں کا مقابلہ بھی ہم مؤثر طریقے سے کر پائیں گے۔

دوستو،

آج ہندوستان دنیا کی بہت تیزی سے ترقی کرنےو الی معیشتوں میں شامل ہے ، ہندوستان کا وسیع ڈومیسٹک مارکٹ یعنی گھریلو بازار  ، نوجوانوں کی آبادی ، ٹیکنالوجی  اور اینوویشن کا ایکوسسٹم ایک ساتھ ملکر دنیا کی گروتھ کا ایک طاقتور انجن ثابت ہونے والا ہے۔

 سائنس اور ٹیکنالوجی میں اٹلی کے پاس بھی مالامال وراثت موجود ہے، مینوفیکچرنگ کی دنیا میں اٹلی کا نام اعلیٰ معیاری کیلئے جانا جاتا ہے۔ اس سے ہندوستان اور اٹلی ساتھ ملکر ہائی کوالٹی ریسر چ کے میدان میں اپنا تعاون مزید مضبوط کرسکتے ہیں۔  اس تعاون کے وسیلے سے ہم عالمی چیلنجوں کے حل کے لئے مشترکہ ٹیکنالوجی سولوشن تیار کرسکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے ، فضا کو صاف ستھری بنانے، انسانی فلاح کیلئے سائنس اور ٹیکنالوجی  کے میدان میں تعاون کو مضبوط کرنا ، پہلے مقابلے میں آج سب سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ دونوں ملکوں کی سائنسداں برادری اور کاروباری اکابرین  ملکر ریسرچ اور اینوویشن کے کٹنگ ایج شعبوں میں تعاون کررہے ہیں۔ قابل تجدید توانائی ، انوائرمنٹل سائنس یعنی ماحولیاتی سائنس  ، نیورو سائنس اور آئی ٹی سے لیکر تہذیبی وراثت کی حفاظت تک سبھی شعبوں میں ہمارا وسیع تر تعاون موجود ہے۔

دوستو،

تعاون کے اس جادے کو مضبوط کرنے کے ساتھ ہی ہمارا نشانہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ تحقیق وترقی کے  نتائج  تجربہ گاہوں تک ہی محدود نہ رہیں بلکہ ان کے فوائد سماج اور عوام الناس تک بھی پہنچائے جائیں۔ میں اسی لئے ہمیشہ کہتا ہوں کہ سائنس اِز یونیورسل یعنی سائنس آفاقی ہے، ٹیکنالوجی ہیزٹو بی لوکل  یعنی ٹیکنالوجی کو مقامی بننا ہے۔

ہندوستان میں اپنی تاریخی وراثت کے تحفظ کے لئے سائنس اور ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ  یعنی شری (ایس ایچ آر آئی ) کا آغاز کیا جاچکا ہے۔ اس کا مقصد تاریخی یادگاروں کی حفاظت اور بحالی کیلئے  ٹیکنالوجی سے جڑے حل تلاش کرنا ہے۔ ٹیکنالوجی ، ٹورزم اور ہسٹری   کا سنگم  ان تینوں میں دکھائی دیتا ہے۔

مجھے یقین  ہے کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران سربراہ اجلاس میں ہونے والی گفتگو سے دونوں ملکوں کے درمیان ٹیکنالوجی ٹرانسفر ، جوائنٹ وینچرز اور مارکیٹ ایکسس کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ یہ سربراہ اجلاس ہمارے مشترکہ مستقبل کی گفتگو میں اہم کردار ادا کرے گا۔

دوستو،

آج ہند- اٹلی  دو فریقی  انڈسٹریل ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ  کوآپریشن پروگرام کے  اگلے مرحلے  کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے مجھے ازحد مسرت ہورہی ہے اس سے ہماری صنعتیں اور تحقیقی ادارے کسی بھی قسم کی دشواری کے بغیر  نئی مصنوعات اور پروٹوٹائپس کو فروغ دے سکیں گے۔  ’’نوہاؤ‘‘  کو وقت کی مانگ   کے مطابق ’’شو ہاؤ‘‘ میں تبدیل کیاجاسکے۔ 

 دونوں ملکوں میں  معاشی مراسم اور مضبوط کرنے کیلئے ہم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جوائنٹ کمیشن آن ایکونومک  کو آپریشن(جےسی ای سی)  کی رہنمائی میں ایک سی ای او فورم بھی تشکیل دیاجائے۔  اس کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کےد رمیان  دو طرفہ سرمایہ کاری میں  اضافے کیلئے کاروبار میں پیش آنے والی دشواریوں کو بھی  دور کرنے کیلئے ایک فاسٹ ٹریک میکانزم  بنانے پر بھی اتفاق رائے قائم ہوا ہے۔

مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ ہندوستان اور اٹلی نے ایل اے ڈی یعنی لائف اسٹائل  ایکسیسریز ڈیزائن کے میدان میں باہمی تعاون کو فروغ دینے پر  بھی اتفاق کیا ہے۔ اس میں بھی لیدر سیکٹر ، ٹرانسپورٹیشن اینڈ آٹوموبائل ڈیزائن یعنی ٹی اے ڈی پر بھی خاص طور سے توجہ مرکوز کی جائے گی۔

اس کے ساتھ ہی مجھے یہ بتاتے ہوئے بھی ازحد مسرت ہورہی ہے کہ ہمارے دونوں ملک تہذیبی وراثتوں کے تحفظ ، قابل تجدید توانائی ، لائف سائنسز اور جیوہیزارڈ  جیسے چنندہ میدانوں میں میکوشل  پر مبنی انڈیا – اٹالین  سینٹر آف ایکسیلنس بھی قائم کئے جا ئیں گے اس سے نہ صرف اعلیٰ معیار کی یونیورسٹیاں ، تحقیقی ادارے اور صنعتیں آپس میں جوڑی جاسکیں گی جن سے ہمیں درپیش چیلنجوں کا تکنیکی حل بھی نکالا جاسکے گا۔

دوستو،

ٹیکنالوجی سربراہ اجلاس کی کامیابی کیلئے میں سبھی منتظمین کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں۔ میں اٹلی کی سرکار کا بھی دل کی گہرائیوں  سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک شراکتدار ملک کی حیثیت سے جڑنے کی ہماری دعوت قبول کی ۔  ٹیکنالوجی سربراہ اجلاس کے سبھی  شرکاء کے تئیں بھی ممنونیت کا اظہار کرتا ہوں۔ آپ سبھی کا تعاون اور موجودگی اس سربراہ اجلاس کی کامیابی کیلئے انتہائی اہم رہی ہے۔

میں ایک بار پھر عزت مآب وزیراعظم  کونتے صاحب کے تئیں اظہار ممنونیت کرتا ہوں کہ انہوں نے اس تقریب کو رونق بخشی ، یہی نہیں بلکہ انہوں نے ہند۔ اٹلی کی نئی شراکت داری کی تشکیل نو کو اپنی ذاتی رہنمائی ، نظریے اور عہدبستگی کا انمول تحفہ بھی دیا ہے۔

گراتسیے ملّے

بہت بہت شکریہ

 

U-5558