پی ایم انڈیا
|
نمبر شمار |
متوقع نتائج |
تفصیل |
|
1. |
ہجرت اور نقل و حرکت کی شراکت داری(ایم ایم پی) سے متعلق مفاہمت نامہ |
اس مفاہمت نامے کا مقصد مساوی سلوک کے اصولوں کے تحت ہجرت اور نقل و حرکت کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا اور قومی قوانین کے مطابق غیر قانونی ہجرت، انسانی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام اور اس کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔ اس میں زیادہ سے زیادہ 5 سال کی مدت کے لیے متعدد بار داخلے کے ویزے کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جس کے تحت ہر دورے میں 6 ماہ تک قیام کیا جا سکے گا، جبکہ طلبہ کے لیے قابل تجدید ایک سالہ اجازت نامے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ |
|
2. |
نوجوان پیشہ ور افراد (وائی پی ایس)کے تبادلے سے متعلق معاہدہ |
اس معاہدے کا مقصد ایسے نوجوان پیشہ ور افراد کے تبادلے کو منظم کرنا ہے جو دوسرے ملک میں عارضی ملازمت اختیار کرتے ہیں، تاکہ وہ اپنے شعبے میں پیشہ ورانہ اور لسانی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکیں۔ وائی پی ایس کے تحت ہر ملک سے سالانہ 300 افراد کا تبادلہ ہوگا، جسے بڑھا کر 500 کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر دفعات کے ساتھ ساتھ قومیت اور رہائشی حیثیت کی تصدیق کے لیے 30/90 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ |
|
3. |
وفاقی محکمہ اقتصادی امور، تعلیم و تحقیق(ای اے ای آر) اور سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں کی وزارت کے درمیان متعین شعبوں میں ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجیز، نقل و حرکت کے نظام اور بنیادی ڈھانچے کے فروغ اور باہمی تعاون سے متعلق مفاہمت نامہ |
اس مفاہمت نامے کا مقصد پائیدار بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے، جس میں ٹرانسپورٹ اور نقل و حرکت کے نظام پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے تحت الیکٹرک گاڑیوں، روپ ویز، سرکلر اکانومی، سرنگوں اور ٹرانسپورٹ کے دیگر شعبوں میں ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کو ترقی دے کر تعاون کو آگے بڑھایا جائے گا۔ |
|
4. |
محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی(ڈی ایس ٹی) اور سوئس نیشنل سائنس فاؤنڈیشن(ایس این ایس ایف) کے درمیان مکتوبِ ارادہ(ایل او آئی) |
اس مکتوبِ ارادہ (ایل او آئی) کا مقصد بھارتی اور سوئس تحقیقی برادریوں کے درمیان طویل مدتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس کے تحت ابتدائی سائنسی تعاون کی حوصلہ افزائی، مستقبل میں مشترکہ تحقیق کے لیے شراکت داری قائم کرنے اور باہمی طور پر طے شدہ ترجیحی شعبوں میں طویل مدتی اقدامات کو برقرار رکھنے کے لیے ایک وسیع تر فریم ورک قائم کرنے میں مدد دی جائے گی۔ |
|
5. |
محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی(ڈی ایس ٹی) اور زیورخ یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز کے درمیان اختراع، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور کاروباری سرگرمیوں میں تعاون کے لیے نفاذی انتظام (آئی اے) |
اس نفاذی انتظام (آئی اے) کا مقصد اختراع، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور کاروباری سرگرمیوں کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون قائم کرنا ہے۔ اس کے تحت ابتدائی مرحلے کے اسٹارٹ اپس کے لیے انڈو-سوئس اکیڈمیا-انڈسٹری ٹریننگ ((اے آئی ٹی انڈیا) پروگرام کو دوطرفہ تبادلے، مشترکہ ورکشاپس، صلاحیت سازی اور نیٹ ورکنگ کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔ |
II۔ اعلانات
|
نمبر شمار |
اعلان |
|
|
سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت کے اشتراک سے انڈو سوئس ریسرچ فلیگ شپ تقریب کا افتتاحی اجلاس |
****
ش ح ۔ ا ک۔ ج
Uno-4645