Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

نوئیڈا اور دلی کے درمیان نئی میٹرو لائن کے افتتاح کے موقع پر وزیراعظم کے خطاب کے اقتباسات


نئی دہلی۔26دسمبر؛

میرے پیارے بھائیو اور بہنو،

آج پوری دنیا کرسمس کا تہوار منارہی ہے۔ حضرت عیسیٰ کا محبت اور رحم کا پیغام بنی نوع انسان کی بہبود کا ایک بہتر سے بہتر راستہ ہے۔ دنیا بھر میں کرسمس کے اس مبارک موقع پر بہت بہت نیک خواہشات۔ آج دو بھارت رتن، اُن کا بھی جنم دن ہے۔ ایک بھارت رتن، مہامنا مدن موہن مالویہ جی اور دوسرے بھارت رتن جناب اٹل بہاری واجپئی۔

ابھی ہمارے وزیراعلیٰ کہہ رہے تھے کہ کوئی وزیراعظم، جب کسی ریاست میں جاتا ہے تو اس ریاست کو راحت ہوتی ہے، اچھالگتا ہے، لیکن میں تو کسی ریاست میں نہیں گیا ہوں۔ میں تو اپنی ریاست میں آیا ہوں۔ اترپردیش نے ہی مجھے گود لےکر میری پرورش کی ہے، میری تعلیم و تربیت کی ہے اور مجھے نئی ذمہ داریوں کے لیے ڈھالا ہے۔ یہی اترپردیش ہے، بنارس کے لوگوں نے مجھے ممبر پارلیمنٹ بنایا۔ پہلی بار ممبر پارلیمنٹ ہے اور یہی اترپردیش کے 22 کروڑ لوگ ہیں، جنھوں نے ملک کو مستحکم سرکار دینے میں بہت بڑا رول نبھایا ہے۔ اور مجھے ویزر اعظم کے طور پر آپ کی خدمت کرنے کی خوش نصیبی حاصل ہوئی ہے۔

بھائیو اور بہنو، آج بوٹینیکل گارڈن سے مجھے میٹرو میں سفر کرنے کی خوش نصیبی حاصل ہوئی ہے اور آج کا دور ایسا ہے کہ بغیر رابطوں کے زندگی ٹھہر جاتی ہے۔ بغیر رابطے کے بکھرا بکھرا سا ماحول ہوجاتا ہے۔ یہ میٹرو، یہ صرف آج کے دور میں ، چلو میٹرو آگئی، اچھا ہوا۔ اتنے محدود معنی نہیں ہیں۔ کروڑو روپے کی لاگت لگتی ہے۔ بہت باریکی سے اس کو لاگو کرناہوتا ہے، لیکن ایک طرح سے آنے والے سو سال تک آنے والی پیڑھی در پیڑھی تک اس کا عام لوگوں کو فائدہ ملنے والا ہے۔ یہ انتظامات دور رس ہوتے ہیں۔ ایک نوئیڈا کے شہری کی شکل میں، ایک اترپردیش کے شہری کی شکل میں، اس ملک کے شہری کی شکل میں یہ انتظامات صحیح معنوں میں سب کے فائدے کے لیے ، سب کے سکھ کے لیے ہوتے ہیں۔

کبھی کبھی ہمارے ملک میں کوئی بھی موضوع ایسا نہیں ہوتا ہے، جس پر سیاست کا رنگ نہ لگایا جائے اور اس لیے کبھی کبھی ترقی کے عمدہ کام بھی ہمیشہ عوام کے مفاد کے ترازو میں تولنے کے بجائے سیاسی پارٹیوں کے مفادات کے ترازو سے تولے جاتے ہیں۔ آج بھی ہم ملک میں بہت بڑی تعدا دمیں پٹرولیم مصنوعات کو درآمد کرتے ہیں۔ ملک کا بہت سارا پیسہ اس پر خرچ ہورہا ہے۔ہماری کوشش ہے کہ 2022 ، جب بھارت کی آزادی کے 75 سال ہوں تو غیرملکوں سے ، جو ہم پٹرلیم مصنوعات درآمد کرتے ہیں، دوسری طرف ہمارے ملک کی جو ضرورت بڑھتی چلی جارہی ہے۔ 2022 میں یہ ضرورت اور بڑھنے والی ہے۔ ہم کچھ ایسے قدم اٹھانا چاہتے ہیں۔ کہ اس بڑھتی ہوئی ضرورت کے باوجود آج ہم جتنا درآمد کرتے ہیں، اس میں کچھ فیصد ہم کمی کرسکتے ہیں کیا؟ ملک کا پیسہ ، ملک میں بچا سکتے ہیں کیا؟ اور اس لیے عوامی ٹرانسپورٹ، تیز ٹرانسپورٹ، کثیر رخی ٹرانسپورٹ، یہ وقت کی ضرورت ہے۔ آج شاید پیسہ خرچ کرنے میں دقت آتی ہے، ترجیحات کو ذرا بدلنا پڑتا ہے۔ لیکن اس کے سبب آنے والے وقت میں اس کا بہت فائدہ ہونے والا ہے۔ اس میٹرو کے ساتھ شمسی توانائی کو بھی جوڑا گیا ہے۔ قریب قریب دو میگاواٹ بجلی، سولر انرجی سے پیدا ہوتی ہے، سورج کی توانائی سے پیدا ہوگی ۔ جو اس میٹرو کے خرچ کو کم کرنے میں کام آئے گی۔ اس میٹرو کے سبب جو نجی گاڑیوں میں جاتے ہیں وہ لامحالہ میٹرو پسند کریں گے اور ان کی طرف سے بھی جو پٹرولیم مصنوعات کا خرچ ہوتا تھا، اس میں بہت بھاری مقدار میں بچت ہوگی۔ ماحول کو فائدہ ہوتاہے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ میٹرو کا سفر ، یہ ہمارے ملک میں ایک فخر کا موضوع ہونا چاہئے۔ وقار کا موضوع بننا چاہئے۔ ہر شخص فخر سے کہے نہیں، نہیں میں گاڑی نہیں لے جاؤں گا۔ بھی میں تو میٹرو سے جانا پسند کروں گا۔ یہ ہمیں اپنی سوچ میں تبدیلی خود لانی ہوگی اور تب جاکر ہم ملک کو کئی مسائل سے بچا سکتے ہیں۔ اور ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ 24 دسمبر 2002 کو اٹل بہاری واجپئی ،ا س ملک کے سب سے پہلے میٹرو کے مسافر بنے تھے۔ آج اس واقعے کو 15 سال ہوگئے ہیں۔ اُس وقت آغاز ہوا تھا۔ آج سو کلومیٹر سے بھی زیادہ یہ نیٹ ورک پھیل چکا ہے اور آنے والے کچھ اور وقت میں یہ اور بڑی تعداد میں جڑنے والا ہے۔ وہ دن دور نہیں ہوگا جب دنیا کے پہلے پانچ میٹرو نیٹ ورک میں ہمارے اس نیٹ ورک کا بھی نام درج ہوجائے گا۔ اور یہ چیزیں ہم وطنوں کے لیے ایک فخر کا موضوع ہوں گی۔

آج اٹل بہاری واجپئی جی کے جنم دن کو ہم ایک اچھی حکمرانی کے دن کے روپ میں بھی مانتے ہیں۔ کبھی کبھی ہمارے ملک میں یہ مان کر چلا جاتا ہے کہ سب ایسا ہی چلےگا، ایسا ہی رہے گا۔،چھوڑو یار کون کرے گا۔ اور کبھی ہم کہتے ہیں، کہ ہم تو بہت غریب ملک ہیں، کیا کریں، کچھ ہے ہی نہیں، ہمارے پاس، سچائی یہ نہیں دوستو، یہ ملک مکمل ہے، مالامال ہے، لیکن ملک کے عوام کو اُس تکمیل اور مالامالیت سے الگ رکھا گیا ہے۔ اور اس لیے اگر باریکی سے دیکھا جائے تو دھیان میں یہی آتا ہے کہ مسائل کی جڑ میں ایک اہم وجہ ہے۔ حکمرانی کی کمی ، اچھے ڈسپلن کی کمی ہوتی ہے، چلتی ہے، میرے ، پرائے، تیرے، اپنی چیزیں اسی میں اُلجھ جاتی ہیں۔ ایک رویہ بن گیا ہے۔ کوئی بھی کام لے کر جاؤ، ہو کوئی سامنے دیکھتا ہے، پھر آہستہ سے پوچھتا ہے، میرا کیا؟ پوچھتا ہے کہ نہیں پوچھتا ہے؟ یہی عادت ہے نہ، اور اگر سامنے سے جواب پھیکا آیا، تو تیرا کچھ نہیں، اور اگر یہ ہوا تو پھر وہ ہاتھ اوپر کرکے کہہ دیتا ہے، تو پھر مجھے کیا۔ نظام حکومت میرا کیا، وہیں سے شروع ہو، اور اگر میرا مفاد ثابت نہ ہو تو مجھے کیا، تم جانو، تمہارا کام جانے۔ اس صورتحال نے ملک کو تباہ کیا ہے۔ اور میں نے اسے بدلنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔

میں جانتا ہوں یہ چیزیں کرنے میں کتنی دقت ہوتی ہے۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ لیکن آپ مجھے بتائیے، سیاسی فائدہ ہو،تبھی فائدہ کرنا چاہئے، اور اگر سیاسی فائدہ نہ ہو تو فیصلہ ہی نہیں کرنا چاہئے۔ کیا ملک کو ایسے بیچ لٹکتے رہنے دینا چاہیے کیا؟ اور اس لیے بھائیو اور بہنو، ملک نے ایک ایسی سرکار چنی ہے، جو پالیسی پر چلنا چاہتی ہے۔ صاف نیت کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہے۔ اور عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی لانے کے خوابوں کو پورا کرنے کے ارادے سے کام کرتی ہے۔ ہمارے سارے فیصلے عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی لانے کے لیے ہیں۔

یہ میٹرو کا آج افتتاح ہورہا ہے۔ کروڑو روپے خرچ ہوئے ہیں۔ میں نہیں مانتا ہوں، کہ ہندوستان کے جو سرفہرست دس تاجر گھرانے ہوں گے، اس میں سے کوئی اس میں سفر کرنے کے لیے آنا والا ہے۔ اس میں تو سفر کرنے والے آپ لوگ ہیں۔ بڑے فخر کے ساتھ سفر کرنے والے لوگ آئے ہیں، اور میں بھی یہاں آپ کے لیے آیا ہوں۔

اچھی حکمرانی ، آپ نے دیکھا ہوگا، اُن ریاستوں کی ترقی اچھی ہورہی ہے، جہاں پر حکمرانی پر زور ہے۔ اچھی حکمرانی کی کوشش ہے۔ اور جہاں جہاں حکمرانی میں سدھار شروع ہوتا ہے۔ نظام حکومت میں سدھار شروع ہوتا ہے۔ حکومت جوابدہ بنتی ہے۔ ملازم ذمہ دار بنتے ہیں۔ پورا نظام ، پوری انتظامیہ ذمہ دار ہوتی ہے، تو اپنے آپ مسائل کم ہوتے نظر آتے ہیں۔ اٹل بہاری واجپئی جی نے اپنے دور اقتدار میں اچھی حکمرانی پر زور دیا، ملک کو رابطے کے لیے زور دیا۔ آج ایک منصوبہ پورے ملک میں کسی ایم ایل اے سے ملئے۔ کسی بھی ایم پی سے ملئے، ایک چیز کا ضرور اظہار ہونا چاہئے اور وہ ہے وزیراعظم گرام سڑک یوجنا۔

اس ملک میں اُن باتوں کو بھلا دینے کی بھرپور کوشش ہوئی ہے، کہ آخر کار گاؤں گاؤں سڑک پہنچانے کا یہ خواب کس کا تھا۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ یہ خواب اٹل بہاری واجپئی کا تھا۔ پردھان منتری گرام سڑک یوجنا، اگر کسی نے لگائی تو اٹل بہاری واجئی نے لگائی۔ اور اس کے سبب ہندوستان کا ہر گاؤں پکی سڑک سے جڑ رہا ہے، اور جب سے ہم آئے ہیں، ہم نے بیڑہ اٹھا یا ہے کہ 2019 تک ہر گاؤں کو پکی سڑک سے جوڑ کر واجپئی جی نے جس کام کو شروع کیا تھا، اس کو تکمیل کی طرف لےجانا۔

پورے ہندوستان کو جوڑنے کا کام کسی وقت راستے بنانے کے لئے تاریخ میں شیر شاہ سوری کا نام سنتے آئے تھے۔ اس کے بعد پورے ہندوستان کو جوڑنے کا ایک ہی تصور کا ایک ہی ڈیزائن کا ، بنانے کا خواب واجپئی جی نے دیکھا۔ اور اپنی ہی مدت کار میں بہت زیادہ رفتار بھی دے دی۔ آج پورا ملک یہ نیا رابطہ نئے روڈ کی تعمیر، اسے دیکھ کر اُس کو لگتا ہے، ہاں ایسا لگ رہا ہے کہ ہم اب دنیا کی برابری کررہے ہیں۔ یہ میٹرو کا خواب ، جس کے پہلے مسافر اٹل بہاری واجپئی تھے۔ آج ہندوستان کے بہت سے شہروں میں میٹرو کا کام چل رہا ہے۔ پچاس سے زیادہ شہروں میں بہت ہی جلد میٹرو کا نیٹ ورک اور دنیا کو بھی تعجب ہورہا ہے کہ ایک ملک میں میٹرو نیٹ ورکک ے لیے کتنی بڑی تعداد میں کام چل رہا ہے اور دنیا میں سرمایہ کاری کرنے والے اس میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

1200 قانون، جب میں چناؤ لڑ رہا تھا۔ تو میں نے ایک جگہ تقریر میں کہا تھا، کہ پہلے کی سرکاریں اس بات پر فخر کرتی ہیں، کہ ہم نے یہ قانون بنایا، وہ قانون بنایا۔ فلانا بنایا۔ اچھی بات ہے قانون بنانا، پارلیمنٹ کی خاص ذمہ داری ہے اور وقت کی ضرور ت کے مطابق بنانے بھی چاہئیں۔ لیکن میں نے چناؤ مہم میں کہا تھا کہ میں وزیراعظم بننے کے بعد ہر دن ایک قانون ختم کرنا چاہتا ہوں۔ قانونوں کا ایسا جال، یہ اچھی حکمرانی کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک ہی کام کے لیے آپ کو تین قانون مل جائیں گے۔ اگر افسر کرنا چاہتا ہے تو ایک نکالے گا، لٹکانا چاہتا ہے تو دوسرا قانون نکالا، اور اگر بھٹکانا چاہتا ہے تو تیسرا نکالے گا۔ عام آدمی کو اس سے مشکلات پیش آتی ہیں اور اس لیے حکومت نے اب تک قریب قریب 1200 قانون ختم کردئیے ہیں۔

اچھی حکمرانی کی سمت مجھے برابر یاد ہے، جب میں پہلی بار نیا نیا وزیراعظم بنا، تو اخباروں میں خاص خبریں چھپتی تھی کیا؟ یہ مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد لوگ وقت پر دفتر آنے لگے ہیں۔ اب مجھے بتائیے کہ خوشخبری ہے یا دکھ ہونے والی خبر ہے۔ بہت لوگوں کو خوشی ہوئی، کہ چلو مودی آئے تو لوگ وقت پر آنے لگے، لیکن مجھے دکھ ہوا کہ میرے ملک کا کیا حال ہے۔ کہ ایک افسر وقت پر چلا جائے تو بھی میرا ملک خوش ہوجاتا ہے، اس نے کتنے دُکھ دیکھے ہوں گے، اس کی یہ جیتی جاگتی مثال ہے۔

میں آج اپنے تونگر وزیراعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ جی کا دل سے خیرمقدم کرنا چاہتا ہوں۔ بہت عمدہ طریقے سے ملک کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ سبھی سمتوں میں ترقی کے راستے پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ اچھی حکمرانی پر زور دے رہے ہیں۔ لیکن ان کے کپڑے دیکھ کر یہ بھرم پھیلایا جاتا ہے کہ وہ جدید سوچ کے ہوہی نہیں سکتے۔ یہ پران کو ماننے والے ہوں گے، یہ روایتوں سے بندھے ہوں گے، لیکن آج مجھے خوشی ہے کہ جس نوئیڈا کے تعلق سے ایک شبیہہ قائم ہوگئی تھی کہ کوئی وزیراعلیٰ یہاں آ نہیں سکتا ہے، اس کہاوت کو یوگی جی نے بغیر کہے اپنی آمد سے ثابت کردیا کہ یہ سب خیالات غلط ہوتے ہیں۔ جدید دور ایسا ہونہیں سکتا۔ اور اس لیے میں یوگی جی کو دل سے مبارکباد دیتا ہوں۔

وزیراعلیٰ کے کہیں جانے سے کرسی چلی جائے گی، اس ڈر سے اگر جیتے ہیں، تو ایسے لوگوں کو وزیراعلیٰ بننے کا حق نہیں ہے۔ کہاوتوں میں قید کوئی بھی سماج ترقی نہیں کرسکتا۔ ہم ٹیکنالوجی کے دور میں جی رہے ہیں، سائنس کے دور میں جی رہے ہیں، عقیدت کا اپنا مقام ہوتا ہے، لیکن اندھے اعتقاد کے لیے کہں جگہ نہیں ہوسکتی۔ میں جب گجرات میں وزیراعلیٰ بنا، اب یہ مصیبت صرف اترپردیش میں ہے، ایسا نہیں ہے۔ ہندوستان کی کئی ریاستیں ایسی ہیں، کئی جگہیں ایسی ہیں، جہاں کہاوتوں میں پتہ نہیں کیا کیا آپنے دیکھا ہوگا۔ ایک وزیر اعلیٰ نے کار خریدی۔ میں جدید دور کی بات کررہا ہوں، اور کسی نے بتادیا کہ کار کے رنگ سے تعلق ہے تو انھوں نے کار کے اوپر نیبو اور مرچ اور جانے کیا کیا یہ ، یہ لوگ ملک کو کیا تحریک دیں گے۔ ایسے اندھے اعتقاد میں جینے والے لوگ عام زندگی کا بہت نقصان کرتے ہیں۔ سارے ہندوستان میں کہیں نہ کہیں اس طرح کی واہموں میں میں کئی سرکاریں، کئی وزرائے اعلیٰ پھنسے پڑے ہیں۔

جب میں گجرات میں وزیر اعلیٰ بنا، میرے سامنے کوئی چھ یا سات جگہیں ایسی لائی گئیں کہ وہاں تو جا ہی نہیں سکتے۔ اگر وہاں کو جاتا ہے تو بعد میں وہ وزیر اعلیٰ رہتا ہی نہیں، اس کی کرسی چلی جاتی ہے۔ میں نے بیڑہ اٹھایا۔ میں نے کہا کہ میرے دورے میں پہلے ہی سال میں ہی یہ سارا پورا کردو۔ میں ان سب جگہوں سے گجرات گیا، جہاں اس طرح کے واہموں کے سبب تین تین چار چار دہائیوں سے کوئی وزیر اعلیٰ اُس طرف گیا تک نہیں۔ سارا انھوں نے ختم کردیا۔ سب جگہوں پر گیا، شان سے گیا۔ اور اس کے بعد بھی سب سے لمبی مدت کار تک خدمت کرنے کا موقع وزیراعلیٰ کے ناطے مجھے ملا۔ اب اس گاؤں کا اس تحصیل کا، اس شہر کا کیا دوش تھا۔لیکن آج یوگی جی نے نوئیڈا کےساتھ، یہ جو ٹیکا لگا تھا، اُس کو اپنے بل بوتے سے ہٹا دیا۔ بہت بہت مبارکباد کے مستحق ہیں آپ۔

بھائیو، بہنو، اچھی حکمرانی اٹل بہاری، واجپئی جی کا جنم دن، جب میں اچھی حکمرانی کی بات کرتا ہوں، تو میں کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ آپ دیکھئے کہ یوریا کا کارخانہ لگے اور یوریا کی پیداوار میں اضافہ ہو۔ یہ تو چھوٹابچہ بھی جانتا ہے۔ لیکن ملک میں ایک بھی نیا یوریا کا کارخانہ لگائے بغیر ہماری حکومت بننے کے فوراً بعد اچھی حکمرانی پر زور دیا گیا۔ ضروری پالیسیوں کو مقرر کیا گیا، خاکہ بنایا گیا، لاگو کیا گیا۔ ایک بھی نیا یوریا کا کارخانہ نہ بناتے ہوئے بھی قریب قریب 20 لاکھ ٹن یوریا کی زیادہ پیداوار ہوئی۔ وہ کارخانے ، وہی مشین، وہی خام مال، وہی مزدور ، حکومت بدلنے کے بعد اچھی حکمرانی پر زور دیا۔ نیا کارخانہ لگتے ہوئے بھی اسی پرانے نظام میں 18 سے 20 لاکھ ٹن یوریا بڑھ جانے سے اچھی حکمرانی کے سبب ہوتا ہے۔

بھائیو، بہنو، ریل کی پٹری بچھانے کا کام ، ریل کے ملازم اُتنے ہی ہیں۔ سڑک رابطے وہی ہیں، ریلوےکا محکمہ وہی ہے۔ فیصلے کرنے والے لوگ وہی ہیں۔ فائل کا آنے جانے کا راستہ بھی وہی ہے۔ اس کے باوجود بھی، کیا سبب ہے کہ پہلے جتنی ریل کی پٹری ایک دن میں بچھائی جاتی تھی، آج ہماری سرکار بننے کے بعد اُس سے دوگنا پٹری بچھائی جاتی ہے، وجہ پالیسی صاف ، نیت صاف، اچھی حکمرانی پر زور اسی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ نئی ریل لائن ، اسی طرح سے ڈبل لائن ، جہاں ایک لائن موجود ہے، نہ دوسری لائن ، کیا وجہ ہے کہ پہلے کی حکومتوں کےمقابلے میں ہمارے آنے کے بعد یہ دوگنا کرنے کا کام ڈبل لائن کا کام ڈبل ہوگیا ہے۔ سبب اچھی حکمرانی۔

بھائیو اور بہنو ،راستے، سڑکیں بنانا، قومی شاہراہ پہلے ایک دن میں جتنی بنتی تھیں، اچانک سرکار کے پاس پیسے نہیں آگئے ہیں، لیکن ایک ایک پائی کا صحیح استعمال ہو، ہر مشین کا اچھے سے اچھا استعمال ہو، وقت کا اچھے سے اچھا استعمال ہو۔ یہ حکمرانی کے بنیادی اصولوں کا نتیجہ ہے۔ کہ ہماری قومی شاہراہوں کی تعمیر پہلے کی حکومت میں ایک دن میں جتنی ہوتی تھی، اس حکومت میں دوگنی ہوتی ہے دوگنی۔ سبب اچھی حکمرانی۔

بھائیو اور بہنو، ہمارے ملک میں آج عالمی تجارت کا دور ہے۔ سمندر کے کنارے کی ، ہماری بندرگاہوں کی اہمیت ہے۔ ہمارے یہاں کارگو ہینڈلنگ نگیٹو تھیں۔ ترقی ہو نہیں رہی تھی، جو تھا اس سے بھی پیچھے جارہے تھے، ہمارے آنے کے بعد دنیا نہیں بدلی ہے، ہم بدلے ہیں۔ سرکار بدلی ہے۔ ارادے بدلے ہیں،اچھی حکمرانی پر زور دیا گیا ہے اور آج اسی کارگو کی ہینڈلنگ کی نگیٹو گروتھ تھی، وہ آج گیارہ فیصد ہوگئی ہے، کیونکہ ہم اچھی حکمرانی لائے ہیں۔

بھائیو اور بہنو، قابل تجدید توانائی ، شمسی توانائی ، ہوائی توانائی، پن بجلی پروجیکٹ، نیوکلیائی بجلی کے پروجیکٹ، ان سارے میدانوں میں آج جس انداز میں کام کررہے ہیں، پہلے کے مقابلے قابل تجدید توانائی کی صلاحیت، ہم نے دوگنی کردی ہے دوگنی۔ بھائیو اور بہنو یہ اچھی حکمرانی کے سبب ہوا ہے۔

پہلے جب حکومت تھی، اگر آپ ایل ای ڈی کا بلب لینے جائیں ، جس سے بجلی کے خرچ میں بچت ہوتی تھی۔ آپ جان کر حیران ہوں گے کہ پہلے ایل ای اڈی کا بلب ساڑھے تین سال پہلے، میرے آنے سے پہلے، ساڑھے تین سو روپے میں بکتا تھا۔ آج چالیس پچاس روپے میں بکتا ہے۔ 28 کروڑ ایل ای ڈی بلب آج اس ملک میں پہنچے۔ 14 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ جس کے گھر میں ایل ای ڈی کا بلب لگا ہے۔ ان کی بچت ہوئی، کسی کی 200 کسی کی 500 ، کسی کی ایک ہزار اور کسی کی 2000 روپے، یہی نہیں بلکہ تقریباً 6 ہزار کروڑ روپے ایل ای ڈی بلب ی قیمت کم ہونے کے وسیلے سے درمیانی آمدنی والے کنبوں کو ملے۔ اگر اچھی حکمرانی ہوتی ہے، تو تبدیلی کیسے آتی ہے یہ اس کی روشن مثال ہے۔
بھائیو، بہنو، پروگرام مقررہ مدت میں معین ہوتا ہے اور پالیسی کی بنیاد پر چلایا جاتا ہے، کسی کے خم ابرو کے اشارے پر نہیں۔ پالیسی سیاح و سفید میں ہوتی ہے، جس کی وجہ سے امتیاز و تفریق کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اور جب تفریق نہیں ہوتی تو بدعنوانیوں کے امکانات بھی خود بخود کم ہوجاتے ہیں۔

بھائیو، بہنو، ہم ملک میں بہتر حکمرانی کے وسیلے سے جناب اٹل بہاری واجپئی کی زندگی کی ریاضت سے حوصلہ لیتے ہوئے ملک کو نئی بلندیوں پر لے جانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ ہم سب کا ساتھ اور سب کا وکاس کے منتر کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم جب ترقی کی بات کرتے ہیں تو وہ ترقی اجتماعی ترقی ہوتی ہے۔ ایسی ترقی، جس کے مثبت اثرات سب پر مرتب ہوتے ہیں۔ ترقی ملک گیر ہو، ترقی سب کا ساتھ ، سب کا وکاس اور سب کی شراکت داری کے منتر سے جڑی ہوئی ہو اور ترقی مستقبل کو پیش نظر رکھ کر ہونی چاہئے۔ اسی لیے ہم ترقی پر مبنی بہتر حکمرانی پر زور دیتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں، جس طرح اٹل بہاری واجپئی جی نے ملک کے ہر گوشے کو جوڑنے کے لیے کام کیا، رابطہ کاری کے فروغ کے لیے کام کیا، اسی طرح میں تو یہی کہوں گا کہ اگر اٹل بہاری واجپئی جی کی بہتر حکمرانی کے حوالے سے ایک جملے میں شناخت کرانی ہو، تو میں انہیں بھارت مارگ ودھاتا کہوں گا۔ اٹل بہاری واجپئی جی بھارت مارگ ودھاتا ہیں۔ راستوں کو دنیاکی نئی اونچائی پر لے جانے اور لوگوں کو جوڑنے کا کام واجپئی جی کے وسیلے سے ہوا تھا، آج ان کے یوم پیدائش پر اور کرسمس کے مقدس تہوار کے موقع پر، ساتھ ہی مہامنا جی کے صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر آج پورے ملک اترپردیش اور دلی کو جوڑنے والی یہ میٹرو وقف کرتے ہوئے میں انتہائی فخر و مسرت کا احساس کررہا ہوں۔ میں ایک بار پھر اس پروگرام میں مجھے مدعو کرنے کے لیے اترپردیش سرکار کے تئیں ممنونیت کا اظہار کرتا ہوں اور اترپردیش کے عوام اور نوئیڈا کے لوگوں کے تئیں ممنونیوت کا اظہار کرتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ۔

(م ن ۔ا س۔ ن ر۔ 26.12.2017 )

U – 6504