Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

نیشنل ہیلتھ مشن یعنی قومی صحتی مشن کے تحت حاصل کردہ پیش رفت اور اختیار کاری پروگرام کمیٹی کے فیصلوں سے کابینہ کو آگاہ کیا گیا


 

نئیدہلی03  جنوری  ۔وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ کو قومی صحتی  مشن (این ایچ ایم ) اور بااختیار پروگرام کمیٹی اور این ایچ ایم کے مشن اسٹیئرنگ گروپ کے فیصلوں سے آگاہ کرایا گیا ہے۔

اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:

          گزشتہ پانچ برسوں کے دوران نیز 18-2017  کے دوران این ایچ ایم کے تحت حاصل کردہ نتائج درج ذیل ہیں :

  1. 16-2014 کے دوران زچہ شرح اموات کا تناسب (ایم ایم آر ) 2.7 فیصد کے انحطاط سے  ہمکنار ہوا جبکہ 12-2010 کے دوران ایم ایم آر 178 تھا۔
  2. 2011 میں 44 کے مقابلے میں  2016  میں نوزائدہ بچوں کی شرح اموات کا تناسب (آئی ایم آر ) گھٹ کر 34  ہوگیا۔2015  اور 2018  کے دوران آئی ایم آر کا سالانہ شرح انحطاط 8.1 فیصد رہا ۔
  3. 2011  میں  55  کے مقابلے میں 2016  میں پانچ برس سے کم کی عمر کے بچوں کی شرح اموات (یو-5  ایم آر ) گھٹ کر 39  ہوگئی ہے ۔16-2015 کے دوران یو-پانچ ایم آر سالانہ شرح انحطاط  9.3فیصد رہا۔2016  میں مجموعی تولیدی شرح میں  (ٹی ایف آر ) 2.3فیصد کا انحطاط رونما ہوا۔16-2011  کے دوران ٹی ایف آر کی سالانہ شرح انحطاط  1.7فیصد دیکھی گئی ہے اور اس کے علاوہ متعدد امراض سے متعلق صحتی اشاریوں نے بھی بہتری کی جانب اشارہ کیا ہے ۔ان میں  درج ذیل نکات شامل ہیں۔
  1. ملیریا کے معاملے میں سالانہ طفیلی  جراثیموں کے پھیلاؤ (اے پی آئی ) میں 2016  کے دوران 0.84  کا انحطاط رونما ہوا جبکہ 2011  میں  یہ 1.0  تھا۔2017  میں  ملیریا کا پھیلاؤ 30 فیصد تک گھٹا اور ملیریا کے نتیجے میں لاحق ہونے والی اموات میں 70فیصد کی تخفیف واقع ہوئی۔
  2. ایک لاکھ کی آبادی پر تپ دق (ٹی بی ) لاحق ہونے کے معاملات  2017  میں گھٹ کر 204 رہ گئے جبکہ 2013  میں  234 معاملات رونما ہوئے۔ایک لاکھ آبادی پر ٹی بی لاحق ہونے کے معاملات 2017  میں  204 رہ گئے جبکہ 2016  میں  211  معاملات رونما ہوئے تھے۔بھارت میں  ایک لاکھ  آبادی پر ٹی بی کے نتیجے میں  رونما ہونے والی اموات جو 2016  میں  32 تھیں ، 2017  میں گھٹ کر 21 رہ گئیں۔
  3. ایک لاکھ آبادی پر جزام لاحق ہونے کے سلسلے میں تعداد کو قو می پیمانے پر تخفیف سے ہمکنار کرنے میں  کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ایسے اضلاع کی تعداد جنہوں نے جزام کو یکسر ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔2017  میں ان کی تعداد 554  ہوگئی ہے اور مارچ  2018 تک یہ تعداد گھٹ کر 571  پر آگئی تھی۔
  4. تمام بلاکوں میں  کالا آزار لاحق ہونے کے سلسلے میں فی دس ہزار آبادی پر اس مرض کا شکار ہونے والوں کی تعداد ایک سے بھی کم رہ گئی ہے۔ایسے بلاک جہاں دس ہزار آبادی پر اس مرض  کے ایک سے زیادہ معاملات سامنے آئے ، ان کی تعداد 2017  میں گھٹ کر 72 رہ گئی جبکہ 2016  میں یہ تعداد 94  تھی۔
  5. تمباکو کے استعمال سے لاحق ہونے والے امراض میں بھی تخفیف ہوئی ۔چار ایسے غیر متعدی امراض  مثلاََ کینسر یا سرطان ، ذیا بیطس ، لقوہ اور امراض قلب کے معاملے میں  تعداد کے لحاظ سے تخفیف واقع ہوئی اسی طریقے سے پھیپھڑوں کے دائمیامراض  میں محتلف اقدامات کے نتیجے میں کمی واقع ہوئی ہے۔تمباکو کا استعمال 17-2016  میں 28.6 فیصد تھا۔اس میں 6فیصد کی تخفیف رونما ہوئی ۔اسی طریقے سے 10-2009  کے مقابلے میں جب یہ تعداد 34.6فیصد تھی، تخفیف لانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

م ن ۔س ش ۔رم

U-60