پی ایم انڈیا
وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج میسورو، کرناٹک میں سوامی وویکانند کلچرل یوتھ سینٹر – ‘وویک اسمارک’ کا افتتاح کیا۔ تقریب میں موجود معززین اور شہریوں کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیراعظم نے سب سے پہلے شہر کی سرپرست دیوی، دیوی چامنڈیشوری کو احترام کے ساتھ نمن کیا۔
رام کرشنا مشن کی تعلیمات سے جڑے اپنے گہرے روحانی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے، وزیراعظم نے اپنے ابتدائی دنوں سے لے کر موجودہ ذمہ داریوں تک کے ذاتی سفر پر اس تنظیم کے گہرے اثرات کو یاد کیا۔ جناب مودی نے کہا کہ “آپ تمام لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے، میں آج میسورو کی اس مقدس زمین پر ایک بالکل مختلف اور طاقتور توانائی محسوس کر رہا ہوں۔”
شہر کی تعریف کرتے ہوئے اسے قوم کے ثقافتی شعور کا ابدی مرکز قرار دیتے ہوئے، وزیراعظم نے شاندار محلوں، متحرک تہواروں اور تاریخی روایتوں پر مشتمل اس کے عظیم الشان ورثے کی بہترین حفاظت کی تعریف کی۔ جناب مودی نے کہا کہ “ہندوستان کا ورثہ اس شہر کے ذرے ذرے میں بسا ہوا ہے، اور یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوتی ہے کہ اسے کتنی مہارت سے محفوظ اور آراستہ کیا گیا ہے۔”
نئے افتتاح شدہ سوامی وویکانند کلچرل یوتھ سینٹر، جسے ‘وویک اسمارک’ بھی کہا جاتا ہے، کی عظیم روایت کا ذکر کرتے ہوئے، وزیراعظم نے عظیم روحانوی پیشوا، کوویمپو جیسے مقامي دانشمندوں، اور شہر کی علمی تاریخ کے درمیان گہرے تاریخی تعلقات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ “اس تاریخی مرکز کے افتتاح کے ذریعے، ہم اس عظیم مشن کو ایک بالکل نئی وسعت دے رہے ہیں۔”
ایک عام فرد کو غیر معمولی شخصیت میں ڈھالنے کے لیے درکار سخت روحانی آزمائشوں پر زور دیتے ہوئے، وزیراعظم نے کسی سالک کی ریاضت کے ابتدائی دنوں میں بصیرت افروز سرپرستوں کے اہم رول کو اجاگر کیا۔ جناب مودی نے کہا کہ “جو شخص کسی سالک کو اس کی ریاضت کے دوران پہچانتا ہے، وہ دراصل اس کے حتمی روحانی مقام و مرتبہ کے حصول میں ایک اہم شریکِ کار ہوتا ہے۔”
ایک اہم تاریخی واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے، وزیراعظم نے یاد دلایا کہ کس طرح 130 سال سے بھی پہلے میسورو کے تب کے مہاراجہ نے ایک نوعمر اور نسبتاً غیر معروف جہاں گرد سنیاسی کی قابلیت کو پہچانا اور ان کا ساتھ دیا؛ اس اہم مدد کا اعتراف سوامی وویکانند نے بعد میں امریکہ سے بھی گہرے اظہارِ تشکر کے ساتھ کیا تھا۔ جناب مودی نے کہا کہ “اس وقت جب ان کی شہرت قائم نہیں ہوئی تھی، انہیں پہچاننے والے لوگوں میں تب کے مہاراجہ کا نام سرِ فہرست تھا۔”
رام کرشنا آشرم کے بنیادی فلسفے کو سوامی وویکانند کے بلا غرض اور بے لوث خدمت کے نظریے سے جوڑتے ہوئے، وزیراعظم نے تعلیمی، طبی، اور آفت زدگان کی امداد کے کاموں میں اس ادارے کی ایک صدی پر محیط خدمات کی تعریف کی۔ جناب مودی نے کہاکہ “سچ تو یہ ہے کہ وہی شخص زندہ ہے جو دوسروں کے لیے جیتا ہے، اور اسی منتر پر عمل کرتے ہوئے اس آشرم نے اپنے شاندار 100 سال مکمل کیے ہیں۔”
نئی افتتاح شدہ اس یادگار کے مستقبل کے اثرات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے، وزیراعظم نے اس ادارے کو ترغیب دی کہ وہ نوجوانوں کی ایک ایسی نئی نسل تیار کرے جو اپنے ذاتی مقاصد پر ملک اور محروم طبقے کو ترجیح دے۔ جناب مودی نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ”ہمیں یہاں ایسے نوجوانوں کو ڈھالنا ہوگا جن کے لیے بھارت ماتا کی خدمت کرنا اور غریبوں کے دکھ درد دور کرنا ہی ان کی زندگی کا اصل مقصد ہو۔”
سوامی وویکانند کے دور میں ہندوستانی نوجوانوں کی غلامانہ حالت کا ان کے موجودہ عالمی تسلط سے موازنہ کرتے ہوئے، وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اس عظیم مفکر نے نوجوانوں کی تعلیم کو قوم کی تعمیر کا بنیادی ستون سمجھا۔ جناب مودی نے کہا کہ”ہندوستانی نوجوان، جو کبھی زوال اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے، آج پوری دنیا کی ترقی کو حیرت انگیز رفتار دے رہے ہیں۔”
نوجوان نسل کی بدولت حاصل ہونے والی شاندار تکنیکی اور معاشی کامیابیوں کی تفصیلا ت بتاتے ہوئے، وزیراعظم نے ملک کو دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت، تیسرا بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم، اور دوسری بڑی موبائل مینوفیکچرنگ کی صلاحیت فراہم کرنے کا سہرا نوجوانوں کے سر باندھا۔ جناب مودی نے کہا کہ “آج ہندوستان مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیپ ٹیک، اسپیس ٹیکنالوجی اور اختراع میں جو شاندار نئے باب لکھ رہا ہے، وہ محض اپنے نوجوانوں کی بے پناہ صلاحیتوں کی بدولت ہے۔”
خلائی شعبے (ایروسپیس) میں ایک حالیہ تاریخی سنگِ میل کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیراعظم نے نجی طور پر تیار کردہ راکٹ کی کامیاب لانچنگ کا جشن منایا اور اسے ملک کی ڈیجیٹل اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں جاری تیز رفتار پیش رفت کی بہترین مثال قرار دیا۔ جناب مودی نے کہا کہ “خواہ وہ ‘آتم نربھر بھارت’ کی مہم ہو یا ‘میک ان انڈیا’ کا اقدام، ان کی حتمی کامیابی کی اصل قوتِ محرکہ صرف اور صرف ہندوستان کے نوجوانوں کی طاقت ہے۔”
اس ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ (نوجوان آبادی کا فائدہ) سے فائدہ اٹھانے کی سرکاری ذمہ داری کا خاکہ پیش کرتے ہوئے، وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کی صلاحیت صرف اسی وقت قومی طاقت میں بدلتی ہے جب انہیں درست مواقع، واضح سمت اور مضبوط تعلیمی ڈھانچہ فراہم کیا جائے۔ جناب مودی نے کہا کہ “نوجوانوں کی صلاحیت اسی وقت کسی قوم کی حقیقی طاقت بنتی ہے جب انہیں اپنی ہی سرزمین پر بڑے خواب دیکھنے کا کامل اعتماد حاصل ہوتا ہے۔”
اعلیٰ تعلیم کے بنیادی ڈھانچے میں ایک دہائی پر محیط بڑے پیمانے پر ہوئی توسیع کی خصوصیات کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیراعظم نے حیرت انگیز اعداد و شمار پیش کیے؛ انہوں نے بتایا کہ 650 سے زائد نئی یونیورسٹیاں، 14000 نئے کالجز، آئی آئی ایم اور آئی آئی ٹی جیسے متعدد ممتاز ادارے قائم کیے گئے ہیں، نیز طبی تعلیم کی صلاحیت کو تقریباً دوگنا کرتے ہوئے ایم بی بی ایس کی نشستیں 140000 تک پہنچا دی گئی ہیں۔ جناب مودی نے کہا کہ”مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ آج پورے ہندوستان میں تعلیمی اداروں کی کل تعداد مسلسل اور تیزی سے بڑھ رہی ہے۔”
تعلیمی ڈھانچے کی جامع جدید کاری کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے، وزیراعظم نے قومی تعلیمی پالیسی کی تعریف کی کہ اس نے تعلیمی نظام کو 21ویں صدی کے تقاضوں کے مطابق فعال طور پر ڈھالا ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ”ایک طرف ہم بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے جدید بنا رہے ہیں، تو دوسری طرف پورے تعلیمی نظام کو جدید ضروریات کے مطابق بھی ڈھال رہے ہیں۔”
ابتدائی اور ثانوی تعلیم کی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے، وزیراعظم نے 14000 سے زائد ‘پی ایم شری’ اسکولوں کی تعمیر اور ابتدائی سائنسی جدت طرازی کو فروغ دینے کے لیے قائم کی گئی 10000 ‘اٹل ٹنکرنگ لیبز’ کو اجاگر کیا۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ”تعلیم کو صرف کتابی علم تک محدود نہیں رہنا چاہیے؛ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ بچوں میں جدت طرازی اور سائنسی مزاج اور سوچ کا صحیح معنوں میں فروغ ہو۔”
سوامی وویکانند کے مساوات کے وژن کو جدید تعلیمی اصلاحات سے جوڑتے ہوئے، وزیراعظم نے امتیازی رکاوٹوں کے باضابطہ خاتمے کا ذکر کیا؛ انہوں نے ‘سینک اسکولوں’ اور ‘این ڈی اے’ میں بیٹیوں کے داخلے اور مادری زبانوں میں پیشہ ورانہ ڈگری کورسز کے انقلابی آغاز کو فخر کے ساتھ پیش کیا۔ جناب مودی نے کہا کہ “تعلیم اور مواقع میں کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیے، یہی بات آج پورے ملک کا متفقہ اور واحد وژن بن چکی ہے۔”
کردار سازی میں جسمانی لچک، تندرستی اور نظم و ضبط کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے، وزیراعظم نے ‘کھیلو انڈیا گیمز’ جیسے وسیع المیعاد اقدامات کے ذریعے قومی سطح پر کھیلوں کی ثقافت کے جارحانہ فروغ کی بھرپور حمایت کی۔ جناب مودی نے کہا کہ “آج کھیلوں کو قوم کی تعمیر کے ایک نہایت اہم شعبے کے طور پر باضابطہ طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور اسے فعال طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔”
کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی زمینی سطح تک وسیع پیمانے پر توسیع کو بین الاقوامی کامیابیوں سے جوڑتے ہوئے، وزیراعظم نے عالمی سطح پر ملک کی کارکردگی میں ایک واضح بہتری کی نشاندہی کی، جس کی بڑی وجہ چھوٹے شہروں سے ابھرتا ہوا نیا ٹیلنٹ ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ “ہمارے شاندار کھلاڑی نئے اور بہترین ریکارڈ قائم کر رہے ہیں، اور ہماری بیٹیاں مسلسل ملک کے وقار میں اضافہ کر رہی ہیں۔”
عظیم تر سماجی مقاصد کے حصول کے لیے نئی افتتاح شدہ یادگار سے براہِ راست رہنمائی حاصل کرتے ہوئے، وزیراعظم نے مقامی نوجوانوں کو شہری ذمہ داریوں کے سلسلے میں کئی اہم چیلنجز پر کام کرنے کی ترغیب دی۔ جناب مودی نے کہا کہ”سوامی وویکانند جی کی طرح، یہ ‘وویک اسمارک’ بھی ہمیں ایک بہت بڑے اور اعلیٰ مقصد کے لیے انتھک محنت کرنے کی گہری تحریک دیتا ہے۔”
ملک کے پاکیزہ اور صاف ستھرے شہروں کی فہرست میں مسلسل شامل رہنے پر میسورو کی تعریف کرتے ہوئے، وزیراعظم نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی تحفظ اور پانی کی بچت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سخت اقدامات کریں۔ جناب مودی نے کہا کہ”ہمیں قیمتی پانی کے ایک ایک قطرے کو بچانے کے لیے ہر صورت میں ایک مضبوط اور فعال مہم کے تحت کام کرنا ہوگا۔”
والمیکی رامائن کے کنڑ ترجمے کی اشاعت کا جشن مناتے ہوئے، وزیراعظم نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اسمارٹ فون کے دور کی لغویات سے دور رہیں اور ریاست کے عظیم ادبی ورثے سے دوبارہ ناطہ جوڑیں۔ جناب مودی نے پوچھا کہ “کیا ہم نئی نسل کو اسکرینز سے دوری اختیار کرنے اور ہمارے شاندار کنڑ ادب سے گہرا تعلق قائم کرنے کے لیے بھرپور طریقے سے راغب کر سکتے ہیں؟”
‘ووکل فار لوکل’ کے تصور کی حمایت کرتے ہوئے، وزیراعظم نے شہریوں سے زور دے کر کہا کہ وہ اپنے تحائف کی ضروریات کے لیے مقامی دستکاری، ریشم اور صندل کی لکڑی کی مصنوعات خرید کر مقامی دستکاروں کی فعال حمایت کریں۔ جناب مودی نے کہاکہ “اس بات کو یقینی بنانا کہ ہمارے تحائف کسی ہندوستانی کی محنت اور پسینے سے بنے ہوں، نہ صرف ہماری ثقافت کو خوبصورتی سے فروغ دے گا بلکہ مقامی خاندانوں کو اہم مالی مدد بھی فراہم کرے گا۔”
اپنے خطاب کا اختتام ایک پرعزم اور اثر انگیز پیغام کے ساتھ کرتے ہوئے، وزیراعظم نے موجودہ نسل کو سوامی وویکانند کے عظیم وژن کو سچ کر دکھانے کی حتمی ذمہ داری سونپی، اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے اس یادگار کے مستقبل کے کردار پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ جناب مودی نے کہا کہ “مجھے کامل یقین ہے کہ ‘وویک اسمارک’ موجودہ نسل کو اس عظیم ذمہ داری کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے مسلسل ایک توانائی بخش سرچشمے کے طور پر کام کرتا رہے گا۔”
Speaking at the inauguration of Viveka Smaraka at Sri Ramakrishna Ashrama in Mysuru.
https://t.co/IqVEAM1gy9— Narendra Modi (@narendramodi) August 1, 2026
Swami Vivekananda truly embodied the spirit of India. pic.twitter.com/gTNpyET9qX
— PMO India (@PMOIndia) August 1, 2026
India’s youth are driving global growth. pic.twitter.com/qhOcHyFI7U
— PMO India (@PMOIndia) August 1, 2026
It is for today’s generation to turn Swami Vivekananda’s vision of India into reality. pic.twitter.com/oK58ejuZpg
— PMO India (@PMOIndia) August 1, 2026
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ ف ا۔ن م۔
U- 1126