پی ایم انڈیا
نئی دہلی20 نومبر۔وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے لوک کلیان مارگ میں منعقد ایک تقریب میں ،’’ ایز آف ڈوئنگ بزنس گرینڈ چیلنج ‘‘ کا آغاز کیا ۔
اس چیلنج کا مقصد آرٹی فیشیل انٹیلی جنس ، انٹرنیٹ ، بگ ڈاٹا اینالیٹکس ، بلاک چین اور دیگر اقسام کی جدید ترین ٹکنالوجی پر مبنی جدت طراز نظریات کو سرکار کے عمل میں اصلاحات کے لئے زیر استعمال لایا جانا چاہئے ۔ واضح ہوکہ گرینڈ چیلنج کے لئے یہ پلیٹ فارم اسٹارٹ اپ انڈیا کا ایک پورٹل ہے ۔
اس موقع پر موجود حاضرین سے خطاب کرتے ہوئےوزیراعظم نے صنعتی دنیا کے نمائندوں اور دیگر حضرات کو خطاب کے دوران ، ایز آف ڈوئنگ بزنس (ای او ڈی بی ) کی درجہ بندی میں ہندوستان کے درجے میں بہتری کے لئے کوششوں کی ستائش کی ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب ہم نے ہندوستان کے لئے پہلی بار یہ تصور پیش کیا تھا ۔ جس کا مقصد ای او ڈی بی کے میدان کے 50 شرکا کے دائرے کو توڑنا تھا ، تو اس پر شکوک وشبہات کا اظہار کیا گیا تھا تاہم پچھلے چار برسوں کے مختصر عرصے میں ہی اس میں نمایاں بہتری نظر آنے لگی ہے اور ای او ڈی بی کی درجہ بندی میں ہندوستان نے اس مختصر مدت میں 65 مقامات سرکئے ہیں۔ مرکزی اور ریاستی سرکار وں نے مقابلہ جاتی وفاقیت کے جذبے سے اسے بہتر بنانے کے لئے مل کر کام کیا ہے ۔
وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں آگے کہا کہ مرکزی سرکار پالیسی سے چلنے والی حکمرانی اورقابل پیش گوئی کی پالیسی پر زور دیتی رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار جن اصلاحات پر کام کررہی ہے ، ان کا مقصد آئندہ نسلوں کے لئے ’’ ایز آف ڈوئنگ ‘‘کو بہتر بنانا ہے ۔ آج ایک چھوٹا کاروباری بھی آسانی کے ساتھ کاروبار کرسکتا ہے اور بجلی کا کنکشن حاصل کرنے جیسے عمل کو بھی سہل آسان بنادیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری تنازعات کو فیصل کرنے کے لئے صرف ہونےوالے وقت میں کمی کے نشانے کو حاصل کرنے کے لئے اور درآمد شدہ سامان کی منظوری حاصل کرنے کے لئے چار برس سے کم مدت کے اندر ہی 1400 سے زائد قدیمی قوانین کو نئی شکل دی گئی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی کاروباری تنازعات کے فیصلے میں صرف ہونےو الے وقت میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے۔
وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں ان دیگر میدانوں کا بھی ذکر کیا ،جہاں زبردست مثبت اقدام کئے گئے ہیں اور ایم ایس ایم ای سیکٹر کے لئے بھی محض 29 منٹ میں ایک کروڑروپے تک کے قرض کی فراہمی کے ذریعہ معاونتی اقدام کئے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ آج بین الاقوامی مالیتی فنڈ اور موڈی جیسی عالمی تنظیموں کو بھی ہندوستان کے مستقبل پر از حد بھروسہ پیدا ہوگیا ہے اور ان کا موقف بھی ہندوستان کے تئیں مثبت ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد ہندوستان کو مختصر ترین مدت میں پانچ کھرب ڈالر کی مالیت کی معیشت بنانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کے ہرشعبے میں بہتری پیدا کرنا ازحد ضروری ہے اور مرکزی سرکار بھی ایک ایسی صنعتی پالیسی کی تیاری پر کام کررہی ہے، جو موجودہ حقائق کی وسیع تر اور موثر عکا س ہوں ۔
وزیراعظم نے اس موقع پر اپنی تقریر کے آخر میں کہا کہ عمل آوری میں انسانی مداخلت کو کم سے کم کیا جانا چاہئے اور جدید اورڈجیٹل ٹکنالوجی کا استعمال کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس پر مبنی کام کی ثقافت ، پالیسی پر چلنے والی حکمرانی کو فرو ع دے گی۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
م ن ۔س ش ۔رم
U-5855
Had a fruitful interaction with industry representatives on a wide range of issues regarding the economy.
— Narendra Modi (@narendramodi) November 19, 2018
We talked at length about India's reform trajectory, strides in 'Ease of Doing Business' and steps taken for MSME sector. https://t.co/73DFKBt1XB
India's strides in 'Ease of Doing Business' have drawn the attention of the world. We are seen as a bright spot globally.
— Narendra Modi (@narendramodi) November 19, 2018
While our rankings have improved significantly, we want to better them even further. For that, we seek your views.
As a part of this effort, launched the 'Ease of Doing Business' Grand Challenge.
— Narendra Modi (@narendramodi) November 19, 2018
The power of your ideas and latest technology will make India an even more attractive place to do business. Here are the details. https://t.co/zKX8cWW5kB