پی ایم انڈیا
نئی دہلی،19؍فروری: وزیراعظم جناب نریندر مودی نے کہا ہے کہ ہماری صارفیت کے پیٹرن پر گہرائی سے نظر ڈالنے کی ضرورت ہے اور اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم اس کے ذریعے ماحولیاتی اثرات کو کس طرح کم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہمارے بہت سے چیلنجوں سے نمٹنے میں دوری معیشت (سرکلر اکانومی ) ایک کلیدی قدم ہوسکتا ہے۔ وہ آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے بھارت- آسٹریلیا دوری معیشت ہیکاتھون کے آخری سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔
Speaking at the India-Australia Circular Economy Hackathon Award Ceremony. https://t.co/nM1wYCQNQg
— Narendra Modi (@narendramodi) February 19, 2021
وزیراعظم نے کہا کہ چیزوں کو ری سائیکل اور دوبارہ استعمال کرنا ، کچرے کو کم کرنا اور ہمارے وسائل کی استعداد کو بڑھانا ہماری طرز زندگی کا اہم حصہ بن جانا چاہئے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہیکا تھون میں نمائش میں دکھائی گئی جدت طرازی کے نمونے دونوں ممالک کو دوری معیشت کے حل اختیار کرنے کی ترغیب دیں گے۔ انہوں نے ان خیالات کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے اور انہیں صنعتی پیمانے پر بڑھانے کے لئے راستے کھولنے پر بھی زور دیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ’’ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ مادر ارض کی ہر چیز کے ہم مالک نہیں ہیں، بلکہ ہم مستقبل کی نسلوں کے صرف امانتدار ہیں۔‘‘
وزیراعظم نے کہا کہ ہیکاتھون میں آج کے نوجوان شرکاء کی توانائی اور جوش بھارت اور آسٹریلیا کی ترقی پذیر شراکت داری کی علامت ہے۔ وزیراعظم نے آخر میں کہا کہ’’ بھارت آسٹریلیا کی شراکت داری ما بعد کووڈ دنیا کے خد وخال بنانے میں اہم رول ادا کرے گی اور ہمارے نوجوان ، ہمارے جدت طراز ، ہماری اسٹارٹ اپس کی شراکت داری میں صف اول میں کھڑے ہوں گے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح-ع ا- ق ر)
(19-02-2021)
U-1732
Speaking at the India-Australia Circular Economy Hackathon Award Ceremony. https://t.co/nM1wYCQNQg
— Narendra Modi (@narendramodi) February 19, 2021