پی ایم انڈیا
وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج جل شکتی کی وزارت کے زیراہتمام دو روزہ قومی محکمہ جاتی سربراہ اجلاس برائے آب کے اختتامی اجلاس کی صدارت کی۔ یہ سربراہ اجلاس وزیراعظم کے تصور کردہ محکمہ جاتی سربراہ اجلاسوں کے سلسلے کی پہلی کڑی ہے، جس کا مقصد ’ٹیم انڈیا‘ کے جذبے کو مضبوط بنانا، باہمی تعاون پر مبنی وفاقیت کو مزید گہرا کرنا اور مرکز و ریاستوں کے درمیان قریبی تعاون کے ذریعے قومی ترجیحات کے لیے اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو فروغ دینا ہے۔ اس اجلاس میں ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور ہندوستان کی آبی سلامتی کے مختلف پہلوؤں پر مرکوز تبادلۂ خیال کیا۔
وزیراعظم نے دو روزہ اجلاس کے دوران ہونے والے جامع غور و خوض کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ اجلاس سے سامنے آنے والے قابلِ عمل اور مقررہ مدت میں مکمل کیے جانے والے اقدامات پر مسلسل جائزے اور سیکھنے کے عمل کے ذریعے پیش رفت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ یہ سربراہ اجلاس محض ایک مرتبہ ہونے والی مشق تک محدود نہیں رہنا چاہیے اور اس کے لیے جائزے اور فالو اَپ کا ایک مسلسل عمل قائم کیا جانا چاہیے۔
وزیرِ اعظم نے شہری آبادی میں اضافے اور مستقبل میں پانی کی ضروریات سمیت شہری کاری سے پیدا ہونے والے چیلنجز کے بارے میں شہری مقامی اداروں (یو ایل بی) کو حساس اور باخبر بنانے پر زور دیا اور ان اداروں کے لیے بھی اسی نوعیت کے ’چنتن شِوِر‘ منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے پانی کی بچت کرنے والی ٹیکنالوجیز کو زیادہ سے زیادہ اپنانے پر زور دیا۔ انہوں نے عالمی سطح پر اختیار کیے جانے والے بہترین طریق کار سے آگاہی فراہم کرنے سمیت خصوصی نمائشوں اور ورکشاپس کے انعقاد کی بھی تجویز دی، تاکہ ہندوستانی صنعت کاروں اور متعلقہ فریقوں کو مؤثر حل تیار کرنے اور انہیں بڑے پیمانے پر متعارف کرانے میں مدد مل سکے۔
جن بھاگیداری (عوامی شراکت داری) پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے عوام میں پانی کے تحفظ کے حوالہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنے کے لیے ’جل اُتسو‘ کو فروغ دینے کی تجویز دی۔ وزیراعظم نے گاد کی صفائی(ڈی سلٹنگ)کو ایک باقاعدہ پروگرام بنانے اور اس کے لیے واضح معیارات اور معیاری عملی طریق کار (ایس او پیز) وضع کرنے پر زور دیا۔
ڈیموں کی سلامتی کے حوالہ سے انہوں نے ہر مون سون سے قبل بھرپور تیاری، مقررہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد اور اسکول کے طلبا میں آگاہی پیدا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس مقصد کے لیے مناسب مواد کو تعلیمی نصاب میں بھی شامل کیا جائے۔
وزیرِ اعظم نے مزید زور دیا کہ جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آبی انتظام اور آبی حکمرانی کے حوالے سے علم اور استعداد کو مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے عوامی نمائندوں، افسران اور کسانوں پر مشتمل منظم بین الریاستی مطالعاتی دوروں کی تجویز پیش کی، تاکہ عملی تجربات سے سیکھنے اور کامیاب اقدامات کو دیگر علاقوں میں بھی مؤثر انداز میں اپنانے میں سہولت حاصل ہو۔
وزیراعظم نے پانی سے متعلق اعداد و شمار کے مضبوط نظام حکمرانی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبی شعبہ سے متعلق ڈیٹا کو یکجا کیا جائے، اسے منظم طریقے سے محفوظ و منظم کیا جائے، اس کا تجزیہ کیا جائے اور مؤثر طور پر استعمال میں لایا جائے۔ انہوں نے یکساں فارمیٹ کے ذریعے ڈیٹا جمع کرنے اور اس کے تجزیے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کی سفارش کی۔ انہوں نے پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے پیشگی اور مربوط منصوبہ بندی کی اہمیت پر بھی زور دیا، جس کے تحت صاف کیے گئے یا ٹریٹ کیے گئے پانی کو زرعی اور صنعتی مقاصد کے لیے مناسب طور پر استعمال کیا جا سکے۔
گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ منظم منصوبہ بندی، عزم، مناسب وسائل کی فراہمی اور قابل افسران کی تعیناتی کے ذریعہ پانی کی قلت کے حالات کو مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
جل شکتی کے مرکزی وزیر جناب سی آر پاٹل نے سربراہ اجلاس کے چار اہم نتائج کو اجاگر کیا-آبی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی تکمیل میں تیزی لانا؛پانی کے تحفظ کو ایک مستقل عوامی تحریک کے طور پر مضبوط بنانا؛پینے کے پانی کے ذرائع کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانا اوردیہی پینے کے پانی کی اسکیموں کے مؤثر آپریشن اور دیکھ بھال کو ادارہ جاتی شکل دینا۔
*****
ش ح – ظ الف – ع د
UR No. 2965
Water security is vital for India and for our planet.
— Narendra Modi (@narendramodi) September 2, 2026
It calls for innovative ideas, technology and above all, Jan Bhagidari.
At the National Departmental Summit on Water, highlighted some key priorities:
Take Jal Utsav deeper among the people.
Harness AI and data to improve…