Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

وزیراعظم نے نئی دہلی میں سینٹرل انفارمیشن کمیشن کی نئی عمارت کا افتتاح کیا


نئی دہلی،  6 مارچ  2018،    وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی میں سینٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کی نئی عمارت کا افتتاح کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ عمارت متعین وقت سے پہلے مکمل ہوگئی ہے۔ انہوں نے اس کی تعمیر میں شامل تمام ایجنسیوں کو مبارکباد دی۔انہوں نے کہا کہ ماحول دوست گرہ۔IV درجہ بندی والی اس عمارت سے توانائی کی بچت کی جاسکے گی اور اس سے ماحولیات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ نئی عمارت سی آئی سی کے کام کاج میں بہتر تعاون اور اتحاد میں مددگار ثابت ہوگی۔

سی آئی سی کی موبائل ایپلی کیشن کی شروعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس سے شہریوں کو آسانی کے ساتھ اپیلیں داخل کرنے میں مدد ملے گی اور کمیشن کی طرف سے فراہم اطلاعات تک آسانی کے ساتھ رسائی حاصل ہوسکے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ جمہوری اور شمولیت والی حکمرانی کے لئے شفافیت اور جوابدہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سی آئی سی ایک اہم رول ادا کرتا ہے۔  انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ادارے اعتماد پر مبنی حکمرانی کے لئے مددگار کے طور پر کام کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک ‘‘بااختیار شہری’’ جمہوریت کا سب سے مضبوط ستون ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران مرکزی حکومت مختلف ذرائع سے لوگوں کو معلومات فراہم کررہی ہے اور انہیں بااختیار  بنارہی ہے۔انہوں نے موجودہ اطلاعاتی شاہراہ کے پانچ ستونوں کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ پہلا ستون سوال پوچھنا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے مائی گوو (MyGov) پلیٹ فارم ہے۔ دوسرا ستون تجاویز (سجھاؤ) پر کان دھرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سی پی جی آر اے ایم ایس یا سوشل میڈیا پر ملنے والی تجاویز کے سلسلے میں کھلا ذہن رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیسرا ستون بات چیت (سمواد) ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے حکومت  اور شہریوں کے درمیان رابطہ قائم ہوتا ہے۔چوتھا ستون سرگرمی (سکری یتا) ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جی ایس ٹی پر عمل درآمد کے دوران شکایات اور تجاویز پر سرگرمی سے غور کیا گیا اور ان کا ازالہ کیا گیا۔

پانچواں ستون   انفارمیشن   یعنی سوچنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ     یہ حکومت کی   ذمہ داری ہے کہ وہ   اپنے    عمل اور کارروائیوں کے بارے میں شہریوں کو مطلع کرے۔   انہوں نے کہا کہ حکومت نے   بروقت  اپ ڈیٹیڈ، آن لائن  ڈیش بورڈ  کے ذریعہ    معلومات فراہم کرنے کی   ایک نئی روایت   شروع کی ہے۔  انہوں نے کہا کہ     سوبھاگیہ    اور  اجالاجیسی اسکیموں کے بارے میں معلومات   دستیاب کرائی گئی ہیں۔  

وزیراعظم نے کہا کہ     عام طور پر چاہی گئی اطلاعات  متعلقہ محکموں اور وزارتوں   کے    ویب پورٹل پر   اپ لوڈیڈ   کی جاتی ہیںَ۔   انہوں نے کہا کہ     شفافیت اور  شہری   خدمات کی   کوالٹی کو    بہتر بنانے کے لئے  ڈیجیٹل ٹکنالوجی استعمال کی جارہی ہے۔      اسی طرح    ہر پروجیکٹ کی کیفیت کی پتہ لگایا جارہا ہے ۔    انہوں نے کہا کہ   پچھلے ہفتے     پرگتی کی ایک میٹنگ میں     کیدارناتھ میں   تعمیر نو کےکام کاج  کی پیش رفت کی  ایک ڈرون کیمرہ کے ذریعہ  مانیٹرنگ کی گئی تھی   ۔ انہوں نے کہا کہ    پرگتی میٹنگوں نے 9 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کےپروجیکٹوں کی رفتار بڑھانے میں مدد کی ہے۔

وزیراعظم نے     ڈائریکٹر جنرل آف سپلائیز  اینڈ ڈسپوزل کو بند کئے جانے کی مثال پیش کی ۔ انہوں نے کہا کہ      اب سرکاری خریداری    گورنمٹ ای مارکیٹ  یا   جی ای ایم  پلیٹ فارم کے ذریعہ  کی جارہی ہے۔    اس سے   حکومت کی خریداری میں  شفافیت آرہی ہے اور بدعنوانی کے خاتمہ میں مدد مل رہی ہے۔

 وزیراعظم نے کہا کہ   نظام میں  شفافیت  میں اضافہ ہور ہا ہے اور     حکومت پر    بھروسہ  بڑھ رہا ہے ۔

 انہوں نے کہا کہ  شہریوں  کو  اپنے حقوق اور فرائض کے  بارے میں بیزار ہونا چاہئے  انہوں نے کہا کہ  سی آئی سی     بھی    ایکٹنگ رائٹ  کی اہمیت کے بارے میں  عوام کو     باخبر یا وضاھت کرسکتی ہے۔  انہوں نے کہا کہ حقوق کے حصول کے لئے  ف ضروری ہے کہ فرائض کو فراموش نہ کیا جائے۔   انہوں نے کہا کہ   موجودہ حالات اور مستقبل کے چیلنجوں کو  ذہن میں رکھتے ہوئے ہر ذمہ دار ادارے کو     اپنے حقوق کےساتھ اپنے فرائض کو متوازن رکھنا چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

U- 1239