پی ایم انڈیا

نئی دہلی ،12ستمبر :وزیراعظم کی ملک بھرکی آشا، اے این ایم اور آنگن واڑی کارکنان سے ویڈیوکے ذریعہ ہوئی گفت وشنید کا متن درج ذیل ہے :
آپ سبھی سے ایک ساتھ گفت وشنید کرنے کی یہ اپنی طرح کی پہلی کوشش ہے ۔ اورمجھے بتایاگیاہے کہ ملک کے قریب قریب ہربلاک سے آپ لوگ سیدھے اس بات چیت میں جڑے ہیں ۔ چاہے آشاہو ، آنگن واڑی کارکنان ہویاپھراے این ایم آپ سبھی ملک کی تعمیر کے سرکردہ سپاہی ہیں ۔ آپ کے بغیرملک میں صحت مندممتاکا تصورکرنا بھی مشکل ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ سبھی ملک کی بنیاد کو ، ملک کے مستقبل کو مضبوط کرنے میں بہت ہی اہم کرداراداکررہے ہیں ۔ملک کی ہرماں ، ہربچے کی حفاظت کے دائرہ کو مضبوط کرنے کاذمہ آپ سب نے اپنے کاندھے پراٹھایاہے ۔ تحفظ کے اس دائرے کے تین پہلوہیں ۔ پہلاہے تغدیہ یعنی کھان پان ، دوسرے ہے ٹیکہ کاری اور تیسراہے صفائی ستھرائی ، ایسا نہیں ہے کہ پہلے لوگ اس بارے میں جانتے نہیں تھے یاپہلے منصوبے نہیں بنائے گئے ۔
ان تمام پہلوؤں کولے کر آزادی کے بعد سے ہی متعدد پروگرام شروع ہوئے ، لیکن بہت زیادہ کامیابی نہیں مل پائی ۔ ہم سے کم ترقی یافتہ ، کم وسائل والے ، چھوٹے چھوٹے ملک بھی ان موضوعات پر ہم سے کئی گناآگے نکل چکے ہیں ۔ بہت کچھ بہترکررہے ہیں ۔ اس صورت حال سے باہرنکلنے کے لئے 2014کے بعد سے ایک نئے منصوبے کے ساتھ ہم نے کام کرنا شروع کیا۔
آپ سبھی اندردھنش مشن سے بخوبی واقف ہیں۔ اس مشن اندردھنش کے تحت ملک کی ٹیکہ کاری مہم کے دوردراز اور پچھڑے علاقوں میں ہمارے ننھے منے بچے ہیں ۔ ان تک رسائی حاصل کرنے کا نصب العین طے کیاگیاہے ۔آپ سبھی نے اس مشن کو تیز رفتارسے آگے بڑھایااورملک میں تین کروڑسے زیادہ بچوں اور85لاکھ سے زیادہ حاملہ خواتین کی ٹیکہ کاری کروائی ۔ مشرقی اترپردیش ، مشرقی بھارت کے کارکنان بخوبی جانتے ہیں کہ انسیفلائٹس کس طرح سے ہمارے بچوں کے لئے خطرناک رہاہے ۔ ایسی سنگین بیماریوں سے لڑنے کے لئے مکمل ٹیکہ کاری پروگرام میں جاپانی انسیفلائٹس کے ٹیکے ہمیں پانچ نئے ٹیکے جوڑے گئے ہیں ۔
وہیں دو سال پہلے وزیراعظم تحفظ ممتا مہم شروع کی گئی ۔ اس میں بھی آپ کا تعاون بہت بہت اہمیت کا باعث رہاہے ۔ آپ سب میرے ساتھی ہیں ۔ پہلے کے زمانے میں کہتے تھے بھگوان ہزاربازو والاہوتاہے ۔ اب یہ ہزاربازو تھوڑے ہی ایسے لگائے جاتے ہیں ۔اس کا مطلب تھا کہ ان کی ٹیم میں ایسے پانچ سولوگ ہوتے تھے جن کے بازو تمام مسائل کاحل کرکے ان کا ساتھ دیتے ہیں ۔ آج ملک کا وزیراعظم کہہ سکتاہے کہ اس کے سیکڑوں بازو نہیں، نصب العین رکھنے والے بازو ہیں ۔ اوریہ بازو آپ سب میرے ساتھی ہیں ۔
ساتھیوصحت کا سیدھا تعلق تغذیہ سے ہے اورغذا بھی ہم کیاکھائیں ؟کیسے کھائیں ؟صرف اتنے تک محدود نہیں ہے ۔ صفائی ستھرائی ہو، ٹیکہ کاری ہو، آپ کو شاید حیرانی ہوگی ، کم عمرکی شادی بھی اس مسئلے کی بہت بڑی وجہ ہے ۔سہی عمرمیں شادی ہو۔ ماں بننے کی بھی صحیح عمرہونی چاہیئے اگروقت سے پہلے ماں بن جاتی ہے توسمجھ لیجئے ماں کی طبیعت اوربچے کی طبیعت دونوں کو خطرہ لاحق رہتاہے اورزندگی بھروہ پنپتے نہیں ہیں ۔
کھانے سے پہلے اور کھاناکھانے کے بعد ہاتھ کیسے دھوئے جائیں ؟ایسے متعدد پہلو بھی تغذیہ سے جڑے ہوئے ہیں ۔ اسی کو دھیان میں رکھتے ہوئے اسی سال راجستھان کے جھنجھنو سے ملک بھرمیں قومی تغذیہ مشن کی شروعات کی گئی ہے ۔ یہ بہت زبردست مہم ہے ۔ چنوتی بڑی ہے ، لیکن یہ چیلنج میں نے، میری ہی قوت پرہی نہیں لیا ہے ۔ یہ چیلنج میں نے آپ پرمیرابھروسہ ہے ، آپ نے کرکے دکھایاہے اوراب آپ کرکے دکھائیں گے ۔ اس یقین کی وجہ سے اتنے بڑے چیلنج کو ہم نے ہاتھ لگایاہے ۔ اگرہم صرف غذا کی تحریک کو ہرما ں ، ہربچے تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے تولاکھوں زندگیاں بچ جائیں گی ۔ ملک کی ترقی کو نئی رفتارملے گی ۔
کبھی کبھی ہم سنتے ہیں کہ پانی میں کوئی ڈوباجارہاتھا کسی نے بچالیا۔ تو اس گاوں میں زندگی بھر اس کے نام کا چرچاہوتا ہے کیوں ؟اس نے کسی کی زندگی بچادی ۔ ریل کی پٹری کے نیچے کوئی آرہاتھا لیکن کسی نے کھینچ کربچالیاتودنیا بھرکے ٹی وی میں آتا رہتاہے کہ دیکھو کیسے زندگی بچائی ۔ لیکن آپ تو وہ لوگ ہیں جو ہردن اپنی محنت سے ، اپنی قربانی اورایثار سے متعدد چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کی زندگی بچاتے ہیں ۔ ایک ڈاکٹراپنی زندگی میں جتنی زندگیاں بچاتاہے ۔کبھی کبھی لگتاہے کہ آپ آشاکارکنان ، آنگن واڑی کارکنان آپ چھوٹے چھوٹے کام کے ذریعہ اس سے بھی زیادہ زندگیاں بچالیتے ہیں ۔
ملک میں چل رہے تغذیہ ماہ کو کامیاب بنانے میں مصروف سبھی 24لاکھ سے زائد کارکنان کو ،آپ کے اس تعاون کے لئے ، آپ کے اس سخت کام کے لئے، میں دن رات ان لوگوں کو زندگی بچانے میں لگے رہنے کے لئے، میں سرکاری طورسے آپ سب کو احترام کے ساتھ سلام کرتاہوں ۔ اورمجھے آج آپ کو سلام کرنے کی خوش قسمتی نصیب ہوئی ہے ۔ اس مہم کے دوران آپ کے چیلنج رہے ہیں ۔ کیا مشورے ہیں ، کیاتجربہ ہے ، یہ میں جاننے کے لئے بہت مشتاق ہوں کیونکہ آپ کے ذریعہ جو باتیں آئیں گی ۔اگرپورے منصوبے میں کچھ کمی ہوگی تو یہاں ہم ایئرکنڈیشن میں بیٹھے ہوئے لوگ اس کا حل نہیں نکال پائیں گے جتنا کہ آپ اپنے روزمرہ کے معمول کی زندگی میں انجام دیتے ہیں ۔ اورآپ کی بات جب ملک سنے گا تو ملک کی اورلاکھوں ہماری ساتھی بہنیں ہیں ، کارکنان ہیں ۔ وہ بھی اس میں سیکھیں گے ۔ اوراس لئے میں آج آپ کو سننا چاہتاہوں ۔
**************
U-4701
From Jhunjhunu in Rajasthan, the Poshan Abhiyaan was launched. It is essential to involve maximum women and children with this movement: PM @narendramodi #PMSamvadWithHealthWorkers
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
एक नवजात शिशु को परिवार वालों ने मृत मान लिया था। नवजात केयर प्रशिक्षण का उपयोग कर मनीता देवी ने उपचार प्रारंभ किया, एंबुलेंस के माध्यम से स्वास्थ्य केंद्र ले गईं। #PMSamvadWithHealthWorkers
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
वाकई आपने जीवन बचाने का कार्य किया है: PM @narendramodi to Manita Devi
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
मैं देश के उन हजारों-लाखों डॉक्टरों का भी आभार व्यक्त करना चाहूंगा, जो बिना कोई फीस लिए, गर्भवती महिलाओं की जांच कर रहे हैं: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
जैसा कि दादरा और नगर हवेली की साथी कह रही थीं, निश्चित तौर पर एनीमिया एक बहुत बड़ी समस्या है। देश में काफी संख्या में लोग एनीमिया के शिकार हैं। ये बीमारी आयोडीन और आयरन जैसे तत्वों की कमी से होती है। हालांकि पिछले कुछ वर्षों में आयोडीन युक्त नमक का उपयोग बढ़ा है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
अब आप सभी कार्यकर्ताओं को आयोडीन और आयरन युक्त डबल फोर्टिफाइड नमक के इस्तेमाल के लिए लोगों को और जागरूक करना पड़ेगा ताकि एनीमिया जैसी बीमारियों को दूर किया जा सके: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
आपको ये भी जानकारी है कि होम बेस्ड न्यूबोर्न केयर के माध्यम से आप हर वर्ष देश के लगभग सवा करोड़ बच्चों की देखभाल कर रहे हैं। आपकी मेहनत से ये कार्यक्रम सफल हो रहा है, जिसके कारण इसको और विस्तार दिया गया है। अब इसको होम बेस्ड चाइल्ड केयर का नाम दिया गया है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
पहले जन्म के 42 दिन तक आशा वर्कर को 6 बार बच्चे के घर जाना होता था। अब 15 महीने तक 11 बार आपको बच्चे का हालचाल जानना ज़रूरी है। मुझे विश्वास है कि आपके स्नेह और अपनेपन से एक से एक बेहतरीन नागरिक देश को मिलेंगे: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
बच्चे की ही नहीं बल्कि प्रसूता माता के स्वास्थ्य की भी आप सभी चिंता कर रहे हैं। सुरक्षित मातृत्व अभियान जो सरकार ने चलाया है उसकी अधिक से अधिक जानकारी आपको लोगों तक पहुंचानी है : PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
Commendable work done by Gayatri Darapuri Ji from UP.
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
आंगनबाड़ी कार्यकर्ताओं के साथ मिलकर सुपोषण स्वास्थ्य मेले का आयोजन होता है। मेले के दौरान कार्यकर्ताओं को प्रशिक्षण, ग्राम स्तर पर सामुदायिक बैठकों का आयोजन और कुपोषित बच्चों के घर भ्रमण करते हुए परामर्श का काम।
हमारे पर्व तो वैसे ही संदेशों से भरपूर रहते हैं। मानवता के लिए कोई ना कोई संदेश उनमें रहता है। अब कमरछठ की पवित्रता को आप देश के भविष्य को सुरक्षित और सशक्त बनाने के लिए भी प्रभावी माध्यम बना रही हैं: PM @narendramodi #PMSamvadWithHealthWorkers
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
रक्षाबंध के रक्षा सूत्र से आप बच्चों को कुपोषण से बाहर लाने के काम से जनता को जोड़ रहे हैं। आपके इस प्रयास को मैं नमन करता हूं: PM @narendramodi #PMSamvadWithHealthWorkers
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
कमज़ोर नींव पर मज़बूत इमारत का निर्माण नहीं हो सकता। इसी प्रकार यदि देश का बचपन कमज़ोर रहेगा तो उसके विकास की गति धीमी हो जाएगी: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
किसी भी शिशु के लिए जीवन के पहले एक हज़ार दिन बहुत महत्वपूर्ण होते हैं। इस दौरान मिला पौष्टिक आहार, खान-पान की आदतें ये तय करती हैं कि उसका शरीर कैसा बनेगा, पढ़ने-लिखने में वो कैसा होगा, मानसिक रूप से कितना मजबूत होगा: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
यदि देश का नागरिक सही से पोषित होगा, विकसित होगा तो देश के विकास को कोई नहीं रोक सकता है। लिहाज़ा शुरुआती हज़ार दिनों में देश के भविष्य की सुरक्षा का एक मज़बूत तंत्र विकसित करने का प्रयास हो रहा है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
टेक्नॉलॉजी ने आज हमारी अनेक मुश्किलों को आसान कर दिया है। टेक्नॉलॉजी जीवन का महत्वपूर्ण हिस्सा बन चुकी है। हमारा फोन अनेक सवालों का जवाब है। सरकार तो फोन के माध्यम से ही अनेक प्रकार की सुविधाएं सभी देशवासियों तक पहुंचा रही है: PM @narendramodi #PMSamvadWithHealthWorkers
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
आप सभी के साथ ये चर्चा, ये संवाद, सच में एक रोचक अनुभव रहा। आपके अनुभवों को सुनकर मैं नई ऊर्जा का अहसास कर रहा हूं: PM @narendramodi #PMSamvadWithHealthWorkers
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
A little child, Karishma from Karnal in Haryana became the first beneficiary of Ayushman Bharat.
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
The Government of India is devoting topmost importance to the health sector: PM @narendramodi
The Government of India is taking numerous steps for the welfare of the ASHA, ANM and Anganwadi workers: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
स्वस्थ और सक्षम भारत के निर्माण में आप सभी की शक्ति पर मुझे, पूरे देश को पूरा भरोसा है। हमें मिलकर कुपोषण के खिलाफ, गंदगी के खिलाफ, मातृत्व की समस्याओं के खिलाफ सफलता हासिल होगी। तभी ट्रिपल A की हमारी ये ताकत देश को A ग्रेड में रखेगी, शीर्ष पर रखेगी: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) September 11, 2018
India is proud of the rich contribution of the ASHA, ANM and Anganwadi workers. Their role in the wellbeing of India’s Nari Shakti and Yuva Shakti is appreciable. Announced measures for their welfare earlier today. pic.twitter.com/x6ARHZ0sNl
— Narendra Modi (@narendramodi) September 11, 2018
Interacted with a team of women based in Dadra and Nagar Haveli. Their work in tribal dominated areas is truly commendable. pic.twitter.com/M9Ked5RAvj
— Narendra Modi (@narendramodi) September 11, 2018
Manita Devi’s presence of mind, persistence and spirit of compassion changed the life of a family! India is proud of citizens like her. pic.twitter.com/ItGjUrN5mA
— Narendra Modi (@narendramodi) September 11, 2018
A group of women based in Chhattisgarh are fighting malnutrition and have also used our festivals to mobilise more people in their movement. You would be happy to hear their story. pic.twitter.com/Rns3znUFCy
— Narendra Modi (@narendramodi) September 11, 2018