پی ایم انڈیا
نئی دہلی،18؍ دسمبر ، وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے پورے مدھیہ پردیش میں منعقدہ کسان سملین سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کیا۔ انھوں نے کولڈ اسٹوریج کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر سہولتوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا۔
اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیاکہ کسانوں کے اتنی سخت محنت کرنے کے باوجود اگر پھلوں، سبزیوں اور اناج کا ذخیرہ کرنے کی مناسب سہولت موجود نہیں ہے تو کسانوں کو یقیناً بڑا نقصان پہنچے گا۔ انھوں نے کاروباری دنیا پر زور دیا کہ وہ جدید اسٹوریج سہولتیں، کولڈ اسٹوریج قائم کرنے میں اور خوراک کی پروسیسنگ کی نئی سہولتیں قائم کرنے میں اپنا رول ادا کریں۔ انھوں نے کہا کہ صحیح معنی میں اس سے کسانوں کی اور ملک کی خدمت ہوگی۔
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیاکہ کہ بھارت کے کسانوں کی ان جدید سہولتوں تک رسائی ہونی چاہیے جو ترقی یافتہ ملکوں کے کسانوں کو حاصل ہیں، اس میں اب کوئی تاخیر نہیں کی جاسکتی۔ انھوں نے مزید کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں بھارت کی صورتحال کو قبول نہیں کیا جاسکتا کیونکہ سہولتوں اور جدید طریقوں کی کمی کے باعث کسان بے یارومددگار رہ جاتا ہے، اس کام میں پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے۔
زرعی قوانین پر حالیہ بحث ومباحثے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ ان زرعی اصلاحات کے لیے صلاح ومشورے پچھلے 20، 22 برسوں سے جاری تھے اور یہ قوانین ایک رات میں نافذ نہیں کیے گئے۔ہمارے ملک کے کسان، کسانوں کی تنظیمیں، زرعی ماہرین، زرعی اقتصادی ماہرین، زرعی سائنسداں اور ترقی پسند کسان زرعی سیکٹر میں بہتری کا مسلسل مطالبہ کرتے رہے ہیں۔وزیر اعظم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ان اصلاحات پر پوری سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا اگرچہ کہ پارٹی منشوروں میں بھی ان کا ذکر کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ جو زرعی اصلاحات اب نافذ کی گئی ہیں وہ اُن سے مختلف نہیں ہیں جن پر پہلے بات چیت کی گئی تھی۔
وزیر اعظم نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے 8 سال تک سوامی ناتھن کمیٹی کی رپورٹ پر عملدرآمد نہیں کیا۔ یہاں تک کہ کسانوں کے ایجی ٹیشن نے بھی ان لوگوں کے ضمیر کو نہیں جھنجھوڑا۔ ا نھوں نے کہا کہ ان لوگوں نے اس بات کو یقینی بنایا تھا کہ ان کی حکومت کو کسانوں پر زیادہ خرچ نہ کرنا پڑے۔ انھوں نے اپوزیشن پر نکتہ چینی کی کہ انھوں نے کسانوں کو سیاست کے لیے استعمال کیا ہے جبکہ ان کی حکومت کسانوں کے لیے عہد بند ہے۔ کسانوں کو اَ ن داتا سمجھتی ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ان کی حکومت نے سوامی ناتھن کمیٹی کی رپورٹ پر عملدرآمد کیا اور کسانوں کو ان کی لاگت سے ڈیڑھ گنا ایم ایس پی دی۔
قرضوں کی معافی کے سلسلےمیں وزیر اعظم نے کہا کہ یہ چھوٹے کسان تک نہیں پہنچتی جو بینک نہیں جاتے، جو قرض نہیں لیتے۔ انھوں نے کہا کہ پی ایم- کسان اسکیم میں ہر سال کسانوں کو تقریباً 75 ہزار کروڑ روپئے ملیں جو براہ راست کسانوں کے بینک کھاتے میں جائیں گے۔ کسی خوردبرد کا امکان نہیں ہے۔ کسی کو کمیشن نہیں دینا پڑے گا۔ انھوں نے بتایا کہ کس طرح نیم کی کوٹنگ کی وجہ سے اور کرپشن پر دھاوا بولنے کی وجہ سے یوریا کی فراہمی میں بہتری آئی ہے۔
وزیر اعظم نے نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اگر پچھلی حکومتیں کسانوں کے معاملات سے دلچسپی رکھتیں تو ملک میں تقریباً 100 بڑے آبپاشی پروجیکٹ دہائیوں سے التوا میں نہ پڑے رہتے۔ اب ہماری حکومت ان آبپاشی پروجیکٹوں کو ایک مشن کے طور پر مکمل کرنے پر ہزاروں کروڑ روپئے خرچ کر رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت ہر کسان کو پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت اناج اُگانے والے کسانوں کے ساتھ ساتھ شہد کی مکھیاں پالنے، مویشی پروری اور ماہی پروری کو بھی یکساں طور پر فروغ دے رہی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ماہی پروری کو فروغ دینے کے لیے نیلے انقلاب کی اسکیم پر کام ہو رہا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے وزیر اعظم کی متسیہ سمپدا یوجنا بھی شروع کی گئی ہے۔ ان کوششوں کی بدولت ملک میں مچھلی کی پیداوار کے تمام پچھلے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نے حال ہی میں جو زرعی اصلاحات کی ہیں ان پر بھروسہ نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور جھوٹ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انھوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ اگر حکومت ایم ایس پی کو ختم کرنا چاہتی تو سوامی ناتھن کمیٹی کی رپورٹ پر عملدرآمد کیوں ہوتا۔
وزیر اعظم نے رائے زنی کی کہ ایم ایس پی کا اعلان کسانوں کی آسانی کے لیے بوائی سے پہلے ہی کردیا جاتا ہے۔ انھوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ وبائی بیماری کورونا کے خلاف لڑائی کے دوران بھی ایم ایس پی پر خریداری معمول کے مطابق رہی۔ انھوں نے کسانوں کو یقینی دلایا کہ ایم ایس پی دینے کا سلسلہ پہلے کی طرح جاری رہے گا۔ انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے نہ صرف یہ کہ ایم ایس پی میں اضافہ کیا ہے بلکہ ایم ایس پی پر کہیں زیادہ خریداری کی ہے۔
وزیر اعظم نے اس وقت کی یاد دلائی جب ملک کو دالوں کے بحران کا سامنا تھا۔ ملک میں واویلا کے دوران دالیں بیرونی ملکوں سے درآمد کی جاتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے 2014 میں پالیسی تبدیل کی اور 112 لاکھ میٹرک ٹن دالیں کسانوں سے ایم ایس پی پر خریدیں جبکہ 2014 سے پہلے کے پانچ برسوں کے دوران صرف 1.5 لاکھ میٹرک ٹن دالیں خریدی گئی تھیں۔ آج دال اُگانے والے کسانوں کو بھی زیادہ روپیہ مل رہا ہے۔ کسانوں کی قیمتیں بھی کم ہوئی ہیں جس سے غریب لوگوں کو براہ راست فائدہ پہنچا ہے۔
وزیر اعظم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نئے قانون نے کسانوں کو یہ آزادی دی ہے کہ وہ چاہے منڈی میں اور چاہے وہ اس کے باہر اپنی فصلیں فروخت کریں۔ کسان اپنی فصل کو اس جگہ بیچے گا جہاں اسے زیادہ فائدہ ہوگا۔ نئے قانون کے بعد ایک بھی منڈی بند نہیں کی گئی۔ انھوں نے مزید کہا کہ حکومت اے پی ایم سیز کو جدید بنانے پر 500 کروڑ روپئے سے زیادہ خرچ کر رہی ہے۔
کنٹریکٹ پر کی جانے والی کھیتی باڑی کے بارے میں وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ اس کا سلسلہ ہمارے ملک میں برسوں سے جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ کنٹریکٹ کھیتی باڑی میں صرف فصلیں یا مصنوعات فروخت کی جاتی ہیں جبکہ زمین کسان کے پاس رہتی ہے۔ سمجھوتے میں زمین کا کوئی تعلق نہیں ہوتا اگر کوئی قدرتی آفت آجائے تو بھی کسان کو پوری رقم ملتی ہے۔ نئے قانون میں کسان کو بارآور منافع کے حصے کو یقینی بنایا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے مزید وعدہ کیاکہ وہ کسانوں کی تشویش پر توجہ دیں گے جنھیں ان کوششوں کے بعد خدشات لاحق ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت ہر ایک مسئلے پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس موضوع پر 25 دسمبر کو محترم اٹل جی کے یوم پیدائش پر تفصیل سے مزید بات چیت کریں گے۔اس دن ساتھ ہی ساتھ پی ایم- کسان سمان ندھی کی ایک اور قسط کروڑوں کسانوں کے بینک کھاتوں میں براہ راست منتقل کی جائے گی۔
***************
م ن۔ اج ۔ ر ا
U:8219
मध्य प्रदेश में किसान सम्मेलन को संबोधित करते हुए... https://t.co/Rli3e8o9xF
— Narendra Modi (@narendramodi) December 18, 2020
आज इस कार्यक्रम में भंडारण-कोल्ड स्टोरेज से जुड़े इंफ्रास्ट्रक्चर और अन्य सुविधाओं का लोकार्पण और शिलान्यास भी हुआ है।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
ये बात सही है कि किसान कितनी भी मेहनत कर ले, लेकिन फल-सब्जियां-अनाज का अगर सही भंडारण न हो, सही तरीके से न हो, तो उसका बहुत बड़ा नुकसान होता है: PM @narendramodi
मैं देश के व्यापारी जगत, उद्योग जगत से आग्रह करूंगा कि भंडारण की आधुनिक व्यवस्थाएं बनाने में, कोल्ड स्टोरेज बनाने में, फूड प्रोसेसिंग के नए उपक्रम लगाने में अपना योगदान, अपना निवेश और बढ़ाएं।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
ये सच्चे अर्थ में किसान की सेवा करना होगा, देश की सेवा करना होगा: PM @narendramodi
भारत की कृषि, भारत का किसान, अब और पिछड़ेपन में नहीं रह सकता: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
दुनिया के बड़े-बड़े देशों के किसानों को जो आधुनिक सुविधा उपलब्ध है, वो सुविधा भारत के भी किसानों को मिले, इसमें अब और देर नहीं की जा सकती: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
तेजी से बदलते हुए वैश्विक परिदृष्य में भारत का किसान, सुविधाओं के अभाव में, आधुनिक तौर तरीकों के अभाव में असहाय होता जाए, ये स्थिति स्वीकार नहीं की जा सकती।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
पहले ही बहुत देर हो चुकी है।
जो काम 25-30 साल पहले हो जाने चाहिए थे, वो अब हो रहे हैं: PM @narendramodi
पिछले 6 साल में हमारी सरकार ने किसानों की एक-एक जरूरत को ध्यान में रखते हुए काम किया है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
बीते कई दिनों से देश में किसानों के लिए जो नए कानून बने, उनकी बहुत चर्चा है।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
ये कृषि सुधार कानून रातों-रात नहीं आए।
पिछले 20-22 साल से हर सरकार ने इस पर व्यापक चर्चा की है।
कम-अधिक सभी संगठनों ने इन पर विमर्श किया है: PM @narendramodi
देश के किसान, किसानों के संगठन, कृषि एक्सपर्ट, कृषि अर्थशास्त्री, कृषि वैज्ञानिक, हमारे यहां के प्रोग्रेसिव किसान भी लगातार कृषि क्षेत्र में सुधार की मांग करते आए हैं: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
सचमुच में तो देश के किसानों को उन लोगों से जवाब मांगना चाहिए जो पहले अपने घोषणापत्रों में इन सुधारों की बात लिखते रहे, किसानों के वोट बटोरते रहे, लेकिन किया कुछ नहीं। सिर्फ इन मांगों को टालते रहे।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
और देश का किसान, इंतजार ही करता रहा: PM @narendramodi
अगर आज देश के सभी राजनीतिक दलों के पुराने घोषणापत्र देखे जाएं, उनके पुराने बयान सुने जाएं, पहले जो देश की कृषि व्यवस्था संभाल रहे थे उनकी चिट्ठियां देखीं जाएं, तो आज जो कृषि सुधार हुए हैं, वो उनसे अलग नहीं हैं: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
जबकि किसानों के लिए समर्पित हमारी सरकार किसानों को अन्नदाता मानती है।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
हमने फाइलों के ढेर में फेंक दी गई स्वामीनाथन कमेटी की रिपोर्ट बाहर निकाला और उसकी सिफारिशें लागू कीं, किसानों को लागत का डेढ़ गुना MSP दिया: PM @narendramodi
किसान आंदोलन करते थे, प्रदर्शन करते थे लेकिन इन लोगों के पेट का पानी नहीं हिला।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
इन लोगों ने ये सुनिश्चित किया कि इनकी सरकार को किसान पर ज्यादा खर्च न करना पड़े।
इनके लिए किसान देश की शान नहीं, इन्होंने अपनी राजनीति बढ़ाने के लिए किसान का इस्तेमाल किया है: PM @narendramodi
किसानों की बातें करने वाले लोग कितने निर्दयी हैं इसका बहुत बड़ा सबूत है स्वामीनाथन कमेटी की रिपोर्ट।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
रिपोर्ट आई, लेकिन ये लोग स्वामीनाथन कमेटी की सिफारिशों को आठ साल तक दबाकर बैठे रहे: PM @narendramodi
हर चुनाव से पहले ये लोग कर्जमाफी की बात करते हैं।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
और कर्जमाफी कितनी होती है?
सारे किसान इससे कवर हो जाते है क्या?
जो छोटा किसान बैंक नहीं गया, जिसने कर्ज नहीं लिया, उसके बारे में क्या कभी एक बार भी सोचा है इन लोगों ने: PM @narendramodi
जितने पैसे ये भेजने की बात करते रहे हैं, उतने पैसे किसानों तक कभी पहुंचते ही नहीं हैं।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
किसान सोचता था कि अब तो पूरा कर्ज माफ होगा।
और बदले में उसे मिलता था बैंकों का नोटिस और गिरफ्तारी का वॉरंट।
कर्जमाफी का सबसे बड़ा लाभ किसे मिलता था?
इन लोगों के करीबियों को: PM
हमारी सरकार ने जो पीएम-किसान योजना शुरू की है, उसमें हर साल किसानों को लगभग 75 हजार करोड़ रुपए मिलेंगे।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
यानि 10 साल में लगभग साढ़े 7 लाख करोड़ रुपए।
किसानों के बैंक खातों में सीधे ट्रांसफर।
कोई लीकेज नहीं, किसी को कोई कमीशन नहीं: PM @narendramodi
याद करिए, 7-8 साल पहले यूरिया का क्या हाल था?
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
रात-रात भर किसानों को यूरिया के लिए कतारों में खड़े रहना पड़ता था या नहीं?
कई स्थानों पर, यूरिया के लिए किसानों पर लाठीचार्ज की खबरें आती थीं या नहीं?
यूरिया की जमकर कालाबाजारी होती थी या नहीं: PM @narendramodi
आज यूरिया की किल्लत की खबरें नहीं आतीं, यूरिया के लिए किसानों को लाठी नहीं खानी पड़तीं।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
हमने किसानों की इस तकलीफ को दूर करने के लिए पूरी ईमानदारी से काम किया।
हमने कालाबाजारी रोकी, सख्त कदम उठाए, भ्रष्टाचार पर नकेल कसी।
हमने सुनिश्चित किया कि यूरिया किसान के खेत में ही जाए: PM
अगर पुरानी सरकारों को चिंता होती तो देश में 100 के करीब बड़े सिंचाई प्रोजेक्ट दशकों तक नहीं लटकते।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
सोचिए, बांध बनना शुरू हुआ तो पच्चीसों साल तक बन ही रहा है।
इसमें भी समय और पैसे, दोनों की जमकर बर्बादी की गई: PM @narendramodi
अब हमारी सरकार हजारों करोड़ रुपए खर्च करके इन सिंचाई परियोजनाओं को मिशन मोड में पूरा करने में जुटी है।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
हम हर खेत तक पानी पहुंचाने के लिए काम कर रहे हैं: PM @narendramodi
हमारी सरकार अनाज पैदा करने वाले किसानों के साथ ही मधुमक्खी पालन, पशुपालन और मछली पालन को भी उतना ही बढ़ावा दे रही है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
मछली पालन को बढ़ावा देने के लिए हमारी सरकार ब्लू रिवॉल्यूशन स्कीम चला रही है।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
कुछ समय पहले ही 20 हजार करोड़ रुपए की प्रधानमंत्री मत्स्य संपदा योजना भी शुरू की गई है।
इन्हीं प्रयासों का ही नतीजा है कि देश में मछली उत्पादन के पिछले सारे रिकॉर्ड टूट गए हैं: PM @narendramodi
मैं विश्वास से कहता हूं कि हमने हाल में जो कृषि सुधार किए हैं, उसमें अविश्वास का कारण ही नहीं है, झूठ के लिए कोई जगह ही नहीं है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
अगर हमें MSP हटानी ही होती तो स्वामीनाथन कमेटी की रिपोर्ट लागू ही क्यों करते?
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
दूसरा ये कि हमारी सरकार MSP को लेकर इतनी गंभीर है कि हर बार, बुवाई से पहले MSP की घोषणा करती है।
इससे किसान को भी आसानी होती है, उन्हें भी पहले पता चल जाता है कि इस फसल पर इतनी MSP मिलने वाली है: PM
6 महीने से ज्यादा का समय हो गया है, जब ये कानून लागू किए गए थे।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
कानून बनने के बाद भी वैसे ही MSP की घोषणा की गई, जैसे पहले की जाती थी।
कोरोना महामारी से लड़ाई के दौरान भी ये काम पहले की तरह किया गया।
MSP पर खरीद भी उन्हीं मंडियों में हुई, जिन में पहले होती थी: PM @narendramodi
मैं देश के प्रत्येक किसान को ये विश्वास दिलाता हूं कि पहले जैसे MSP दी जाती थी, वैसे ही दी जाती रहेगी, MSP न बंद होगी, न समाप्त होगी: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
पिछली सरकार के समय गेहूं पर MSP थी 1400 रुपए प्रति क्विंटल।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
हमारी सरकार प्रति क्विंटल गेहूं पर 1975 रुपए MSP दे रही है: PM @narendramodi
पिछली सरकार के समय धान पर MSP थी 1310 रुपए प्रति क्विंटल।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
हमारी सरकार प्रति क्विंटल धान पर करीब 1870 रुपए MSP दे रही है: PM @narendramodi
पिछली सरकार में ज्वार पर MSP थी 1520 रुपए प्रति क्विंटल।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
हमारी सरकार ज्वार पर प्रति क्विंटल 2640 रुपए MSP दे रही है: PM @narendramodi
पिछली सरकार के समय मसूर की दाल पर MSP थी 2950 रुपए।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
हमारी सरकार प्रति क्विंटल मसूर दाल पर 5100 रुपए MSP दे रही है: PM @narendramodi
पिछली सरकार के समय चने पर MSP थी 3100 रुपए।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
हमारी सरकार अब चने पर प्रति क्विंटल 5100 रुपए MSP दे रही है: PM @narendramodi
पिछली सरकार के समय तूर दाल पर MSP थी 4300 रुपए प्रति क्विंटल।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
हमारी सरकार तूर दाल पर प्रति क्विंटल 6000 रुपए MSP दे रही है: PM @narendramodi
पिछली सरकार के समय मूंग दाल पर MSP थी 4500 रुपए प्रति क्विंटल।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
हमारी सरकार मूंग दाल पर करीब 7200 रुपए MSP दे रही है: PM @narendramodi
ये इस बात का सबूत है कि हमारी सरकार MSP समय-समय पर बढ़ाने को कितनी तवज्जो देती है, कितनी गंभीरता से लेती है।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
MSP बढ़ाने के साथ ही सरकार का जोर इस बात पर भी रहा है कि ज्यादा से ज्यादा अनाज की खरीदारी MSP पर की जाए: PM @narendramodi
पिछली सरकार ने अपने पांच साल में किसानों से लगभग 1700 लाख मिट्रिक टन धान खरीदा था।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
हमारी सरकार ने अपने पांच साल में 3000 लाख मिट्रिक टन धान किसानों से MSP पर खरीदा है: PM @narendramodi
पिछली सरकार ने अपने पांच साल में करीब पौने चार लाख मिट्रिक टन तिलहन खरीदा था।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
हमारी सरकार ने अपने पांच साल में 56 लाख मिट्रिक टन से ज्यादा MSP पर खरीदा है।
कहां पौने चार लाख और कहां 56 लाख : PM @narendramodi
यानि हमारी सरकार ने न सिर्फ MSP में वृद्धि की, बल्कि ज्यादा मात्रा में किसानों से उनकी अपज को MSP पर खरीदा है।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
इसका सबसे बड़ा लाभ ये हुआ है कि किसानों के खाते में पहले के मुकाबले कहीं ज्यादा पैसा पहुंचा है: PM @narendramodi
पिछली सरकार के पांच साल में किसानों को धान और गेहूं की MSP पर खरीद के बदले 3 लाख 74 हजार करोड़ रुपए ही मिले थे।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
हमारी सरकार ने इतने ही साल में गेहूं और धान की खरीद करके किसानों को 8 लाख करोड़ रुपए से ज्यादा दिए हैं: PM @narendramodi
राजनीति के लिए किसानों का उपयोग करने वाले लोगों ने किसान के साथ क्या बर्ताव किया, इसका एक और उदाहरण है, दलहन की खेती: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
2014 के समय को याद कीजिए, किस प्रकार देश में दालों का संकट था।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
देश में मचे हाहाकार के बीच दाल विदेशों से मंगाई जाती थी: PM @narendramodi
2014 से पहले के 5 साल में उन्होंने सिर्फ डेढ़ लाख मीट्रिक टन दाल ही किसानों से खरीदी।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
जब साल 2014 में हमारी सरकार आई तो हमने नीति भी बदली और बड़े निर्णय भी लिए।
हमारी सरकार ने किसानों से पहले की तुलना में 112 लाख मीट्रिक टन दाल MSP पर खरीदी: PM @narendramodi
आज दाल के किसान को भी ज्यादा पैसा मिल रहा है, दाल की कीमतें भी कम हुई हैं, जिससे गरीब को सीधा फायदा हुआ है।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
जो लोग किसानों को न MSP दे सके, न MSP पर ढंग से खरीद सके, वो MSP पर किसानों को गुमराह कर रहे हैं: PM @narendramodi
कृषि सुधारों से जुड़ा एक और झूठ फैलाया जा रहा है APMC यानि हमारी मंडियों को लेकर।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
हमने कानून में क्या किया है?
हमने कानून में किसानों को आजादी दी है, नया विकल्प दिया है: PM @narendramodi
नए कानून में हमने सिर्फ इतना कहा है कि किसान चाहे मंडी में बेचे या फिर बाहर, ये उसकी मर्जी होगी।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
अब जहां किसान को लाभ मिलेगा, वहां वो अपनी उपज बेचेगा: PM @narendramodi
नए कानून के बाद एक भी मंडी बंद नहीं हुई है।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
फिर क्यों ये झूठ फैलाया जा रहा है?
सच्चाई तो ये है कि हमारी सरकार APMC को आधुनिक बनाने पर, उनके कंप्यूटरीकरण पर 500 करोड़ रुपए से ज्यादा खर्च कर रही है।
फिर ये APMC बंद किए जाने की बात कहां से आ गई: PM @narendramodi
नए कृषि सुधारों को लेकर तीसरा बहुत बड़ा झूठ चल रहा है फार्मिंग एग्रीमेंट को लेकर।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
देश में फार्मिंग एग्रीमेंट क्या कोई नई चीज है?
नहीं।
हमारे देश में बरसों से फार्मिंग एग्रीमेंट की व्यवस्था चल रही है: PM @narendramodi
अभी किसी ने मुझे एक अखबार की रिपोर्ट भेजी 8 मार्च 2019 की।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
इसमें पंजाब की कांग्रेस सरकार, किसानों और एक मल्टीनेशनल कंपनी के बीच 800 करोड़ रुपए के फार्मिंग एग्रीमेंट का जश्न मना रही है।
पंजाब के किसान की खेती में ज्यादा निवेश हो, ये हमारी सरकार के लिए खुशी की ही बात है: PM
फार्मिंग एग्रीमेंट में सिर्फ फसलों या उपज का समझौता होता है।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
जमीन किसान के ही पास रहती है, एग्रीमेंट और जमीन का कोई लेना-देना ही नहीं है: PM @narendramodi
प्राकृतिक आपदा आ जाए, तो भी किसान को पूरे पैसे मिलते हैं।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
नए कानूनों के अनुसार, अगर अचानक मुनाफा बढ़ जाता है, तो उस बढ़े हुए मुनाफे में भी किसान की हिस्सेदारी सुनिश्चित की गई है: PM @narendramodi
मेरी इस बातों के बाद भी, सरकार के इन प्रयासों के बाद भी, अगर किसी को कोई आशंका है तो हम सिर झुकाकर, हाथ जोड़कर, बहुत ही विनम्रता के साथ, देश के किसान के हित में, उनकी चिंता का निराकरण करने के लिए, हर मुददे पर बात करने के लिए तैयार हैं: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
अभी 25 दिसंबर को, श्रद्धेय अटल जी की जन्मजयंती पर एक बार फिर मैं इस विषय पर और विस्तार से बात करूंगा।
— PMO India (@PMOIndia) December 18, 2020
उस दिन पीएम किसान सम्मान निधि की एक और किस्त करोड़ों किसानों के बैंक खातों में एक साथ ट्रांसफर की जाएगी: PM @narendramodi
भारत की कृषि, भारत का किसान अब और पिछड़ेपन में नहीं रह सकता।
— Narendra Modi (@narendramodi) December 18, 2020
दुनिया के बड़े-बड़े देशों के किसानों को जो आधुनिक सुविधा उपलब्ध है, वह सुविधा भारत के किसानों को भी मिले, इसमें अब और देर नहीं की जा सकती।
जो काम 25-30 साल पहले हो जाने चाहिए थे, वे अब हो रहे हैं। pic.twitter.com/VBZkXwUe2X
किसानों की बातें करने वाले लोग कितने निर्दयी हैं, इसका बड़ा सबूत है स्वामीनाथन कमेटी की रिपोर्ट।
— Narendra Modi (@narendramodi) December 18, 2020
रिपोर्ट आई, लेकिन ये लोग सिफारिशों को आठ साल तक दबाकर बैठे रहे।
हमने स्वामीनाथन कमेटी की रिपोर्ट बाहर निकाली और उसकी सिफारिशें लागू कीं, किसानों को लागत का डेढ़ गुना MSP दिया। pic.twitter.com/ttFc0bA0if
देश हमारी नीयत में गंगाजल और मां नर्मदा के जल जैसी पवित्रता देख रहा है।
— Narendra Modi (@narendramodi) December 18, 2020
इन लोगों ने 10 साल में एक बार कर्जमाफी करके लगभग 50 हजार करोड़ रुपये देने की बात कही।
हमारी सरकार ने जो पीएम-किसान योजना शुरू की, उसमें हर साल किसानों को लगभग 75 हजार करोड़ रुपये मिल रहे हैं। pic.twitter.com/y24UdfQ15H
याद करिए, 7-8 साल पहले यूरिया का क्या हाल था? pic.twitter.com/4VVwoVQ5AR
— Narendra Modi (@narendramodi) December 18, 2020
हमारी सरकार ने जो कदम उठाए, वे पूरी तरह किसानों को समर्पित हैं।
— Narendra Modi (@narendramodi) December 18, 2020
अगर हमें MSP हटानी ही होती तो स्वामीनाथन कमेटी की रिपोर्ट लागू ही क्यों करते?
हमारी सरकार MSP को लेकर इतनी गंभीर है कि हर बार बुआई से पहले MSP की घोषणा करती है। pic.twitter.com/bI2AF7iScI
2014 से पहले के 5 सालों में उन्होंने सिर्फ डेढ़ लाख मीट्रिक टन दाल ही किसानों से खरीदी।
— Narendra Modi (@narendramodi) December 18, 2020
जब हमारी सरकार आई तो हमने नीति भी बदली और बड़े निर्णय भी लिए।
हमारी सरकार ने पहले की तुलना में MSP पर 112 लाख मीट्रिक टन दाल खरीदी। pic.twitter.com/1oce6IOdks
कृषि सुधारों से जुड़ा एक और झूठ फैलाया जा रहा है- APMC यानि हमारी मंडियों को लेकर।
— Narendra Modi (@narendramodi) December 18, 2020
किसान पहले चाहकर भी अपनी फसल मंडी के अलावा कहीं और नहीं बेच सकता था।
नए कानून के मुताबिक किसान चाहे मंडी में बेचे या फिर बाहर, यह उसकी मर्जी होगी। pic.twitter.com/nk9zUSXGp0
हमारे देश में वर्षों से फार्मिंग एग्रीमेंट की व्यवस्था चल रही है।
— Narendra Modi (@narendramodi) December 18, 2020
फार्मिंग एग्रीमेंट से जुड़े पहले जो भी तौर-तरीके चल रहे थे, उनमें किसानों के लिए बहुत जोखिम था।
नए कानून में हमारी सरकार ने किसानों को सुरक्षा देने के लिए कानूनी प्रावधान किए हैं। pic.twitter.com/6X9p5rdZEP