پی ایم انڈیا
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے وگیان بھون میں سابق صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کووند کی خودنوشت بعنوان ’’ ٹریئمف آف انڈین ریپبلک :مائی لائف، مائی اسٹرگلس‘‘ کا اجرا کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا، ’’آج ہمیں جناب رام ناتھ کووند جی کی خودنوشت کا اجراء کرنے کا موقع ملا ہے اور مجھے خوشی ہے کہ میں اس پروگرام کا حصہ بن سکا ہوں۔‘‘
سابق صدر جمہوریہ کے ساتھ اپنے گہرے ذاتی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے گزشتہ برسوں کے دوران جناب کووند کی رہنمائی اور شفقت کے لیے اپنی گہری عقیدت کا اظہار کیا۔ جناب مودی نے کہا، ’’کووند جی سے میری طویل عرصے سے شناسائی، انہیں قریب سے جاننے کا بہترین موقع، صدر جمہوریہ کی حیثیت سے ان کی رہنمائی اور سب سے بڑھ کر میرے تئیں ان کی خصوصی شفقت اور گرمجوشی،یہ سب میرے لیے سب سے بڑے اثاثے رہے ہیں۔‘‘
سابق صدرجمہوریہ کی شخصیت اور صلاحیتوں کی گہرائی کو سراہتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ تصنیف ملک کی جمہوری اقدار کی ایک دیرپا دستاویز ثابت ہوگی۔ جناب مودی نے کہا، ’’میں پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ رام ناتھ کووند جی کی خودنوشت اپنے آپ میں ہندوستانی جمہوریت اور ہندوستانی معاشرے کے لیے ایک ورثہ بن جائے گی۔‘‘
وزیر اعظم نے ملک کے لیے جناب کووند کی زندگی بھر کی وسیع خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے تفصیلات میں جانے سے گریز کیا اور سامعین کو اس کتاب کو پڑھ کر اس کے بیانیوں کو خود سمجھنے کیلئے حوصلہ افزائی کی۔ جناب مودی نے کہا کہ کتاب کا اجراء محض’ابتدائی تعارف‘ ہونا چاہیے اور بہتر یہی ہے کہ آپ سب کتاب پڑھ کر اس سے بھرپور استفادہ کریں۔‘‘
وزیراعظم نے نوجوان نسل کے لیے اِس خود نوشت کی تعلیمی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے سابق صدر جمہوریہ کے الفاظ سے آنے والی نسلوں کو ترغیب لینے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ جناب مودی نے کہا، ’’ملک کی نئی نسل کو بھی ان کی تحریریں اور ان کے تجربات پڑھنے چاہئیں، جن سے ہر شخص کو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔‘‘
کتاب کے عنوان ’’ ٹریئمف آف انڈین ریپبلک :مائی لائف، مائی اسٹرگلس‘‘ کا تجزیہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس میں ذاتی مشکلات اور ملک کی جمہوری کامیابی، دونوں کے پہلوؤں کی نشاندہی کی۔ جناب مودی نے کہا، ’’زندگی کی جدوجہد ان کی ذاتی ہے، لیکن ان جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کامیابی ہندوستانی جمہوریہ اور اس کی جمہوریت کی ہے۔‘‘
عام انسانی رویوں اور سابق صدرجمہوریہ کی وسیع القلبی کا موازنہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ جہاں بہت سے لوگ اپنی مشکلات کے لیے معاشرے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، وہیں جناب کووند کا ہندوستانی اقدار میں گہرا رچا بسا کشادہ دل مزاج ان کی کامیابی میں معاشرے کو برابر کا شریک سمجھتا ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’جب دل کشادہ ہو اور ہندوستانی اقدار موجود ہوں تو انسان معاشرے میں خامیاں تلاش کرنے میں وقت ضائع نہیں کرتا بلکہ اس کے مثبت پہلو پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔‘‘
خودنوشت میں بیان کیے گئے بچپن کے ایک انتہائی المناک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے جناب کووند کی والدہ کے اس دردناک واقعے کی داستان سنائی، جب کانپور دیہات میں ضروری گھریلو سامان بچانے کی کوشش کے دوران وہ ایک مکان میں لگنے والی آگ میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ جناب مودی نے کہا، ’’آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کم عمری میں ایسا حادثہ پیش آنا اور اس طرح ماں کو کھو دینا کس قدر تکلیف دہ رہا ہوگا!‘‘
اس سانحے سے پیدا ہونے والی ثابت قدمی کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ کس طرح ایک پڑوس کی ماں نے جناب کووند کی پرورش میں مدد کے لیے آگے بڑھ کر ساتھ دیا اور اس عمل نے معاشرتی ہم آہنگی کے بارے میں ان کی سمجھ کو گہرائی سے متاثر کیا۔ جناب مودی نے کہا، ’’اس واقعے سے انہوں نے معاشرے کے اتحاد اور ہم آہنگی کی طاقت کو سمجھااور انہی مشکلات نے کووند جی کو مزید مضبوط بنایا۔‘‘
اس سانحے کے بعد والد کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کس طرح جناب کووند کے والد نے قابلِ تحسین انداز میں خاندان کی ذمہ داری سنبھالی اور اپنی اولاد کو بہترین تربیت دی۔ جناب مودی نے کہا، ’’انہوں نے جس طرح اپنے خاندان کو سنبھالا اور بچوں میں اقدار پیدا کیں،یہی وجہ ہے کہ کووند جی اپنے والد کو اپنا ہیرو مانتے ہیں۔‘‘
وسائل کی کمی کو دور کرنے کیلئے جناب کووند کے تعلیم پر انحصار کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ملک کے اعلیٰ ترین منصب تک ان کے غیر معمولی سفر کو اجاگر کیا۔ جناب مودی نے کہا، ’’انہوں نے سخت محنت کی اور وسائل کی کمی کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا، بلکہ ایسے مقام تک پہنچے جس کا اس وقت لوگوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔‘‘
’’سابق صدر کی مستقل عاجزی و انکساری کو سراہتے ہوئے وزیر اعظم نے ایک انتہائی جذباتی عوامی موقع کو یاد کیا، جب جناب کووند اپنے گاؤں پرونکھ واپس آئے، مٹی کو جھک کر سلام کیا اور اپنے سابق اساتذہ کے پاؤں چھوئے۔ جناب مودی نے کہا، ’’ان کے اس طرزِ عمل نے دنیا کے سامنے ہندوستانی اقدار کی ایسی تصویر پیش کی، جس پر ہر ہندوستانی فخر محسوس کر سکتا ہے۔‘‘
صدیوں کی غلامی کے باعث پیدا ہونے والی تاریخی سماجی و معاشی پسماندگی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے مہاتما گاندھی، بابا صاحب امبیڈکر اور جیوتی با پھولے جیسی تاریخی شخصیات کی انتھک جدوجہد اور دوراندیش خوابوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ جناب مودی نے کہا، ’’ایسی کتنی عظیم شخصیات تھیں جنہوں نے ایک ایسے ہندوستان کی تعمیرِ نو کا خواب دیکھا تھا، جہاں غریب سے غریب شخص کو بھی بلندیوں تک پہنچنے کا موقع مل سکے۔‘‘
ان تاریخی آرزوؤں کو جدید کامیابیوں سے جوڑتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جناب کووند جیسی شخصیات نے اپنی محنت اور صلاحیت کے بل پر مساوات پر مبنی معاشرے کے صدیوں پرانے تصور کو عملی جامہ پہنانے میں فعال کردار ادا کیا۔ جناب مودی نے کہا، ’’کووند جی جیسی شخصیات نے اپنی محنت اور صلاحیت سے نہ صرف اپنی زندگی بدلی بلکہ صدیوں پرانے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں بھی اپنا اہم کردار ادا کیا۔‘‘
اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم نوجوانوں کی مسلسل ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے ایسی نسل کی ضرورت پر زور دیا جو رکاوٹوں سے پریشان نہ ہو اورملک کی خود انحصاری کی راہیں ہموار کرنے کا حوصلہ برقرار رکھے۔ جناب مودی نے کہا، ’’اسی تبدیلی کے ساتھ ایک بااختیار ہندوستان کی تعمیر کا عزم پورا ہوگا اور خود کفیل اور ترقی یافتہ ہندوستان کی راہ ہموار ہوگی۔‘‘
خودنوشت کو نوجوانوں کے لیے ایک اہم ترغیبی ذریعہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جناب کووند کی زندگی کی تفصیلی داستان اس ضروری نوجوان قوت کی تشکیل کے لیے ایک مؤثر رہنما ثابت ہوگی۔ جناب مودی نے کہا، ’’ایسی نوجوان قوت کی تشکیل کے لیے جس تحریک کی ضرورت ہے، کووند جی کی یہ خودنوشت اس کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔‘‘
جناب کووند کے سیاسی سفر کے آغاز کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ مورارجی دیسائی کے ساتھ کام کرنے سے ان کے اندر موجود ملک کی خدمت کے جذبے کو سیاست میں ایک وقف زندگی اختیار کرنے کی راہ ملی۔ جناب مودی نے کہا، ’’کووند جی کے اندر ملک کی خدمت کا جو جذبہ تھا، مورارجی کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہیں اس کے اظہار کی راہ مل گئی۔‘‘
خدمت کے مستقل ریکارڈ کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کے رکن، گورنر اور پھر صدر کی حیثیت سے مختلف ذمہ داریوں کے دوران جناب کووند کی فرض شناسی اور غیر متزلزل لگن کو سراہا۔ جناب مودی نے کہا، ’’انہوں نے خدمت کو اپنا مقصد بنا کر کام کیا اور پارلیمنٹ میں ان کی مدتِ کار اس کی گواہ ہے۔‘‘
صدر کے عہدے سے سبکدوشی کے بعد بھی جناب کووند کی انتھک خدمات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ’ون نیشن، ون الیکشن‘ جیسے اہم قومی امور پر ان کی مسلسل قیادت کو سراہا، جس میں ملک کے جمہوری نظام میں انقلابی تبدیلی لانے کی صلاحیت ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’میرا ماننا ہے کہ ملک کے عوام کو کووند جی کی فرض شناسی اور خدمت کے جذبے سے بہت کچھ سیکھنے کو مل سکتا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے عوامی زندگی میں انتہائی فعال رہتے ہوئے خودنوشت تحریر کرنے کے بے حد مشکل کام کا اعتراف کرتے ہوئے جناب کووند کا اس اہم سماجی خدمت کو مکمل کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ جناب مودی نے کہا، ’’کووند جی نے ہم سب کے لیے یہ کام کیا ہے، کیونکہ ان کی زندگی میں بہت کچھ ایسا ہے جس میں غریب اور محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے تمام لوگ اپنی زندگی کی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔‘‘
خود نوشت میں شامل وسیع تر اخلاقی اصولوں کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ سابق صدر کی داستان اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی پاکیزگی اور دیانت داری کو برقرار رکھنے کی طاقت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’کووند جی نے مسلسل معاشرے کو یہ ترغیب دی ہے کہ مختلف عہدوں کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے پاکیزگی ہمیں کس طرح ملک کی خدمت کے لیے طاقت عطا کرتی ہے۔‘‘
اپنے خطاب کے اختتام پرکتاب کی تاریخی اہمیت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یقین ظاہر کیا کہ یہ تصنیف ذاتی اور قومی دونوں اہم حصولیابیوں کے لیے ایک ضروری محفوظ دستاویز ثابت ہوگی۔ جناب مودی نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ کووند جی کی خودنوشت نہ صرف ان کی زندگی کی اہم یادوں بلکہ ہماری جمہوریت کی اہم یادوں کو بھی محفوظ رکھے گی۔‘‘
Speaking at the release of ‘Triumph of the Indian Republic: My Life, My Struggles,’ the autobiography of former President Shri Ram Nath Kovind Ji. His journey reflects a life dedicated to public service and the progress of our nation.@ramnathkovind
https://t.co/SCsPxznLG7— Narendra Modi (@narendramodi) August 12, 2026
आज हमें श्री रामनाथ कोविन्द जी की आत्मकथा के विमोचन का अवसर मिला है।
मुझे खुशी है कि मैं इस कार्यक्रम का हिस्सा बना हूँ: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) August 12, 2026
आज हमें श्री रामनाथ कोविन्द जी की आत्मकथा के विमोचन का अवसर मिला है।
मुझे खुशी है कि मैं इस कार्यक्रम का हिस्सा बना हूँ: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) August 12, 2026
महात्मा गांधी, बाबा साहब अंबेडकर, ज्योतिबा फुले, सावित्रबाई फुले… ऐसी कितनी ही महान विभूतियों ने भारत के नवनिर्माण का सपना देखा था।
एक ऐसा भारत…. जहां गरीब से गरीब, वंचित से वंचित को शिखर तक पहुँचने का अवसर मिल सके।
कोविन्द जी जैसे व्यक्तित्वों ने अपने श्रम और काबिलियत से…
— PMO India (@PMOIndia) August 12, 2026
राष्ट्रपति जैसे सर्वोच्च पद से सेवामुक्त होने के बाद भी उन्होंने विश्राम नहीं लिया है।
वो अभी भी ‘एक देश, एक चुनाव’ जैसे महत्वपूर्ण विषय पर काम कर रहे हैं।
ये एक ऐसा विषय है… जिसका समाधान देश के लोकतन्त्र का नया अध्याय शुरू कर सकता है!
मैं मानता हूँ… कोविन्द जी की इस…
— PMO India (@PMOIndia) August 12, 2026
*****
ش ح۔ م ش۔ ص ج
U.No. 1893
Speaking at the release of 'Triumph of the Indian Republic: My Life, My Struggles,' the autobiography of former President Shri Ram Nath Kovind Ji. His journey reflects a life dedicated to public service and the progress of our nation.@ramnathkovind
— Narendra Modi (@narendramodi) August 12, 2026
https://t.co/SCsPxznLG7
कोविन्द जी से मेरा लंबा परिचय... उन्हें करीब से जानने का सौभाग्य... राष्ट्रपति के रूप में उनका मार्गदर्शन... और, इस सबके साथ-साथ... उनका मेरे प्रति विशेष स्नेह, उनकी आत्मीयता... ये मेरी बहुत बड़ी पूंजी रही है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) August 12, 2026
आज हमें श्री रामनाथ कोविन्द जी की आत्मकथा के विमोचन का अवसर मिला है।
— PMO India (@PMOIndia) August 12, 2026
मुझे खुशी है कि मैं इस कार्यक्रम का हिस्सा बना हूँ: PM @narendramodi
महात्मा गांधी, बाबा साहब अंबेडकर, ज्योतिबा फुले, सावित्रबाई फुले... ऐसी कितनी ही महान विभूतियों ने भारत के नवनिर्माण का सपना देखा था।
— PMO India (@PMOIndia) August 12, 2026
एक ऐसा भारत…. जहां गरीब से गरीब, वंचित से वंचित को शिखर तक पहुँचने का अवसर मिल सके।
कोविन्द जी जैसे व्यक्तित्वों ने अपने श्रम और काबिलियत से…
राष्ट्रपति जैसे सर्वोच्च पद से सेवामुक्त होने के बाद भी उन्होंने विश्राम नहीं लिया है।
— PMO India (@PMOIndia) August 12, 2026
वो अभी भी ‘एक देश, एक चुनाव’ जैसे महत्वपूर्ण विषय पर काम कर रहे हैं।
ये एक ऐसा विषय है... जिसका समाधान देश के लोकतन्त्र का नया अध्याय शुरू कर सकता है!
मैं मानता हूँ... कोविन्द जी की इस…
Delighted to be a part of the release of former President Shri Ram Nath Kovind Ji’s autobiography, ‘Triumph of the Indian Republic: My Life, My Struggles.’ This book reflects the true strengths and possibilities of Indian democracy.@ramnathkovind pic.twitter.com/6Uqn3gYBiv
— Narendra Modi (@narendramodi) August 12, 2026
The book by former President Shri Ram Nath Kovind Ji is an inspiring read, wonderfully highlighting his struggles, service and rich contribution as MP, Governor and the President of India.@ramnathkovind pic.twitter.com/kSOOASCjgV
— Narendra Modi (@narendramodi) August 12, 2026
Shri Ram Nath Kovind Ji chose public service as the path of his life and remained deeply committed to his duties throughout. His dedication and spirit of service are an inspiration for every Indian.@ramnathkovind pic.twitter.com/FtLIYUDaV9
— Narendra Modi (@narendramodi) August 12, 2026