پی ایم انڈیا
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی میں سیمی کون انڈیا 2026 کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اور تقریب کے پانچویں ایڈیشن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے تمام شرکاء کو دلی مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے خاص طور پر ان بین الاقوامی شرکاء کا شکریہ ادا کیا جو اس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت آئے ہیں۔ جناب مودی نے کہاکہ‘‘میں بیرون ملک سے بھارت آنے والے مہمانوں کا خصوصی خیر مقدم کرتا ہوں۔’’
سیمی کون انڈیا کے آغاز اور وشوکرما دیوس کے درمیان شاندار مماثلت بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے تخلیق اور تعمیر کے ملک کے صدیوں پرانے ورثے کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ روایتی تخلیقی صلاحیت کو اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی اور وژن کے ساتھ جوڑنے کا یہ ایک خوبصورت اتفاق ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ‘‘یہی آتم نربھر بھارت اور وکست بھارت کے لیے ہماری تحریک ہے۔’’
گزشتہ 15 دنوں میں ملک کی تیز رفتار پیش رفت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے متعدد اہم کامیابیوں کا ذکر کیا، جن میں گلوبل فن ٹیک فیسٹ میں جامع مالی شمولیت پر تبادلہ خیال، 3000 کلومیٹر طویل خصوصی باربرداری کوریڈور کا کام کاج شروع ہونا اور سہ ماہی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی 7.8 فیصد کی مضبوط شرح نمو شامل ہیں۔ انہوں نے جاپان کی ایک کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کی جانب سے حال ہی میں بھارت کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا بھی ذکر کیا اور اسے ملک کی بڑھتی ہوئی اقتصادی ساکھ کا ثبوت قرار دیا۔ جناب مودی نے کہا‘‘یعنی ایک طرف بھارت کی معیشت ترقی کر رہی ہے اور دوسری طرف بھارت پر دنیا کا اعتماد بھی بڑھ رہا ہے۔’’
بھارت کی میزبانی میں حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والی برکس سربراہ کانفرنس کی سفارتی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ نئی دہلی اعلامیے کو متفقہ طور پر منظور کیا جانا بین الاقوامی اتفاق رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی سفارتی کامیابی بھارت پر عالمی برادری کے غیر متزلزل اعتماد کی توثیق کرتی ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ‘‘یہ بھارت پر دنیا کے اعتماد کا ایک اور بڑا ثبوت ہے۔’’
2022 میں سیمی کون انڈیا کے آغاز سے اب تک کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ یہ سفر ابتدائی پالیسی مباحث سے شروع ہوکر منصوبہ بندی، پائلٹ لائنز اور پھر تجارتی پیداوار کے آغاز تک پہنچا ہے۔ انہوں نے ان کوششوں کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اب بھارت میں تیار ہونے والی چپس عالمی صارفین تک پہنچ رہی ہیں۔ انہوں نے موہالی اور سورت میں دو نئے پلانٹس میں تجارتی پیداوار کے آغاز کا بھی ذکر کیا۔ جناب مودی نے کہا کہ‘‘اب بھارت کے پلانٹس سے تیار ہونے والی ہماری چپس ملک اور دنیا کے صارفین تک پہنچنا شروع ہوگئی ہیں۔’’
سیمی کنڈکٹر ایکو نظام کی تعمیر کی پیچیدگی کو تسلیم کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ریکارڈ وقت میں چپ ڈیزائن، آلات کی تیاری اور جانچ کی صلاحیتیں حاصل کرنے کے لیے درکار اجتماعی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے موجودہ صنعتی رہنماؤں کو اس کامیابی کے بنیادی ستون قرار دیا، جن کی شراکت داری نے اس تیز رفتار تکنیکی پیش رفت کو ممکن بنایا۔ جناب مودی نے کہاکہ‘‘آپ بھارت کی اس کامیابی کے ستون ہیں، آپ ہمارے شراکت دار ہیں۔’’
شعبے میں مسلسل تیزی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ‘ٹیپ آؤٹ’ کے تصور کی وضاحت کی اور بتایا کہ حکومت بغیر کسی وقفے کے اگلی سلسلے کی ٹیکنالوجی کی جانب پیش قدمی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے سیمی کنڈکٹر مشن کے دوسرے مرحلے کے لیے 13.5 ارب ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا اور ان نئی ضابطہ جاتی اصلاحات کو اجاگر کیا جو بین الاقوامی کمپنیوں، اسٹارٹ اپس اور ڈیزائن کمپنیوں کے درمیان تعاون کو آسان بناتی ہیں۔ جناب مودی نے کہاکہ‘‘حکومت ہند آپ کے پروجیکٹوں کی کامیابی کے لیے ہر ضروری قدم اٹھا رہی ہے۔’’
مستحکم گھریلو سپلائی چین کے وژن کی تفصیل بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے فیب لیس کمپنیوں کے ارتقا، دانشورانہ ملکیت تیار کرنے اور مصنوعی ذہانت کو فعال بنانے والے بنیادی ڈھانچے کے لیے سلیکان فوٹونکس کو مربوط کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے آلات، کیمیکلز، گیسوں اور مواد کے شعبے کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ منظور شدہ 12 پروجیکٹوں اور مسلسل بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر پیدا ہونے والے سنہری مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ جناب مودی نے کہاکہ‘‘ہم چاہتے ہیں کہ مکمل ایکو نظام مل کر ترقی کرے۔’’
بھارت کی کثیر آبادی سے حاصل ہونے والے اسٹریٹجک فائدے کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے انجینئرنگ کے باصلاحیت افراد کے وسیع ذخیرے اور خاص طور پر چپ ڈیزائننگ کے لیے تیار کیے گئے بڑے پیمانے پر ہنرمندی کے پروگراموں کا ذکر کیا۔ انہوں نے طلبہ کی جانب سے اپنی ضرورت کے مطابق تیار کی گئی چپس موصول ہونے پر فخر کا اظہار کیا اور انجینئرنگ کے ایک لاکھ طلبہ کو تربیت دینے کے حکومت کے پرعزم ہدف کا اعادہ کیا، جن میں سے 70 ہزار کو پہلے ہی تربیت دی جا چکی ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ ‘‘اتنی کثیر تعداد میں باصلاحیت افراد آپ سب کے لیے ایک طرح سے سونے کی کان سے کم نہیں ہے۔’’
ملک کے اندر اور بیرون ملک تحقیق میں مصروف باصلاحیت نوجوانوں سے اپیل کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے نوجوان ہنرمندوں پر زور دیا کہ وہ ملک میں جدید ٹیکنالوجیز کی تیاری میں فعال طور پر حصہ لیں۔ انہوں نے صنعت کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ گھریلو سطح پر تحقیق و ترقی کی قیادت کریں، تاکہ صنعت اور ملک کے نوجوانوں دونوں کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ جناب مودی نے کہاکہ ‘‘اس سے صنعت کو بھی فائدہ ہوگا اور بھارت کی نوجوان طاقت کو بھی تقویت ملے گی۔’’
سیمی کنڈکٹر مارکیٹ کی بدلتی ہوئی پیچیدگیوں کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث اب توجہ صرف ٹرانزسٹر کے حجم تک محدود نہیں رہی بلکہ میموری کی جگہ اور حرارت کے انتظام سمیت پورے نظام کے انضمام پر مرکوز ہو رہی ہے۔ انہوں نے بھارت کو ان نئے عالمی مینوفیکچرنگ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک قابل اعتماد اور مسلسل تیار رہنے والا مرکز قرار دیا۔ جناب مودی نے کہاکہ‘‘بھارت اس کے لیے مسلسل خود کو تیار کر رہا ہے۔’’
اعلیٰ کارکردگی والی کمپیوٹنگ کے لیے توانائی کی یقینی فراہمی کے اہم مسئلے پر بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹروں سے پیدا ہونے والی بجلی کی بھاری ضرورت اور مینوفیکچرنگ پلانٹس کے لیے بلارکاوٹ بجلی کی فراہمی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ملک میں بجلی کے شعبے کی تیز رفتار توسیع کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ شمسی توانائی کی صلاحیت بڑھ کر 160 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی ہے، جوہری توانائی کے شعبے کو نجی اداروں کے لیے کھولا جا رہا ہے اور چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹروں کی تیاری پر بھی زور شور سے کام ہو رہا ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ ‘‘اسی لیے بھارت آج بجلی کے شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔’’
بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار توسیع کو صنعتی ترقی سے جوڑتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ توانائی کی یقینی فراہمی سیمی کنڈکٹر ایکو نظام کی بنیادی طاقت ہے۔ انہوں نے سبھی متعلقہ فریقوں کو یقین دلایا کہ حکومت صنعتی ترقی کے لیے سازگار حالات کو بہتر بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ‘‘بھارت سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے ترجیحی مرکز بننے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھا رہا ہے۔’’
اپنے خطاب کے اختتام پر ملک کی تکنیکی ترقی کو اس کی جمہوری اقدار کے تناظر میں پیش کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے حاضرین کو بھارت کے آئین کی 75 سالہ شا ندار وراثت کی یاد دلائی۔ انہوں نے کہا کہ ‘مادر جمہوریت’ میں کسی اہم صنعت کی کامیابی مکمل عالمی سپلائی چین کو مضبوط بنانے میں بنیادی رول ادا کرتی ہے۔انہوں نے سبھی کو مستقبل کے بےپناہ مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیےگرمجوشی سے دعوت دی۔ جناب مودی نے کہاکہ ‘‘بھارت کے عزائم آپ کے سامنے ہیں اور بھارت میں فراہم ہونے وا لے نئے مواقع آپ کے استقبال کے لیے تیار ہیں۔’’
India’s semiconductor ecosystem is expanding rapidly. It is opening new opportunities for innovation, investment and growth. Addressing SEMICON India 2026 in Delhi. https://t.co/a7A2Rs89DI
— Narendra Modi (@narendramodi) September 17, 2026
India’s economy is growing…
The world’s trust in India is also growing. pic.twitter.com/oP0Q3JGdmD
— PMO India (@PMOIndia) September 17, 2026
PM @narendramodi has a request for India’s young talents and industry leaders… pic.twitter.com/Y8EFX5mJ3l
— PMO India (@PMOIndia) September 17, 2026
The world is looking for new and trusted manufacturing destinations. India is steadily preparing itself to meet this need. pic.twitter.com/RuwZAT6NZM
— PMO India (@PMOIndia) September 17, 2026
India is taking every step needed to become a preferred destination for the semiconductor industry. pic.twitter.com/djf4r1d2zS
— PMO India (@PMOIndia) September 17, 2026
*****
ش ح۔ م ع – ف ر
U-no-3716
India's semiconductor ecosystem is expanding rapidly. It is opening new opportunities for innovation, investment and growth. Addressing SEMICON India 2026 in Delhi. https://t.co/a7A2Rs89DI
— Narendra Modi (@narendramodi) September 17, 2026
India's economy is growing...
— PMO India (@PMOIndia) September 17, 2026
The world's trust in India is also growing. pic.twitter.com/oP0Q3JGdmD
PM @narendramodi has a request for India's young talents and industry leaders... pic.twitter.com/Y8EFX5mJ3l
— PMO India (@PMOIndia) September 17, 2026
The world is looking for new and trusted manufacturing destinations. India is steadily preparing itself to meet this need. pic.twitter.com/RuwZAT6NZM
— PMO India (@PMOIndia) September 17, 2026
India is taking every step needed to become a preferred destination for the semiconductor industry. pic.twitter.com/djf4r1d2zS
— PMO India (@PMOIndia) September 17, 2026