پی ایم انڈیا
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج چنڈی گڑھ میں صحت، تعلیم اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق 4,700 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا اور متعدد منصوبے قوم کے نام وقف کیے۔وزیر اعظم نے چنڈی گڑھ کو منظم قومی ترقی کی ایک مثالی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شہر بہتر طرزِ زندگی اور آسان شہری سہولیات کے لیے اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماں چنڈی کی خصوصی عنایت اس خطے پر ہمیشہ رہی ہے اور موجودہ حکومت چنڈی گڑھ کی مسلسل، منظم اور ہمہ جہت ترقی کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا، ’’چنڈی گڑھ کی ترقی ہمیشہ ہماری حکومت کی اولین ترجیح رہی ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے تقریباً ڈیڑھ سال قبل ملک کے نظامِ انصاف میں کی گئی تاریخی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے نوآبادیاتی دور کے تعزیری قوانین سے نکل کر انصاف پر مبنی جدید قانونی نظام کی طرف کامیاب پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’بھارتیہ نیائے سنہتا کا نفاذ سب سے پہلے چنڈی گڑھ سے ہی شروع ہوا تھا۔‘‘
وزیر اعظم نے شہر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کی گئی سرمایہ کاری کا ذکر کرتے ہوئے انٹیگریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، اسمارٹ ٹریفک مینجمنٹ اور ڈیجیٹل گورننس جیسے اہم منصوبوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق نئے منصوبوں کے افتتاح پر چنڈی گڑھ کے عوام کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ان جدید سہولتوں کی تکمیل کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’چنڈی گڑھ کو ہائی ٹیک شہر بنانے کے مشن پر ڈھائی ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے جا چکے ہیں۔‘‘
علاقا ئی ترقی کے ضمن میں اپنے یومیہ مصروف دوروں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ وہ اس سے قبل ہریانہ کے جند میں مختلف پروگراموں میں شریک ہوئے تھے اور اس کے بعد پنجاب کے جالندھر کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چنڈی گڑھ جغرافیائی اور انتظامی لحاظ سے ہریانہ اور پنجاب کے درمیان ایک اہم رابطے کا کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارا چنڈی گڑھ مؤثر طور پر ہریانہ اور پنجاب، دونوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ کسی شہر کی مقامی سطح پر ہونے والی ترقی کا مثبت اثر پورے خطے پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چنڈی گڑھ میں بنیادی سہولتوں کی بہتری سے نہ صرف شہر کے باشندوں بلکہ ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر کے عوام کے معیارِ زندگی میں بھی بہتری آتی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر صحت کی خدمات کے میدان میں چنڈی گڑھ کے اہم کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’طبی سہولتوں کے اعتبار سے چنڈی گڑھ پورے خطے کا ایک بڑا مرکز ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے مقامی طبی ادارے میں جدید طبی سہولتوں کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں نیورو سائنس سینٹر، مدر اینڈ چائلڈ سینٹر اور کریٹیکل کیئر ہاسپٹل بلاک جیسے اہم منصوبے قائم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ منصوبے لاکھوں افراد کو مزید بہتر اور جدید علاج کی سہولت فراہم کریں گے۔‘‘
انہوں نے 2015 میں ادارے کے جلسۂ تقسیمِ اسناد میں اپنی شرکت کو یاد کرتے ہوئے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ادارے کی نمایاں ترقی کو سراہا۔ وزیر اعظم نے انتظامیہ، اساتذہ اور ڈاکٹروں کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ’’میں یہاں کے پروفیسروں اور نوجوان ڈاکٹروں کی بھرپور ستائش کرتا ہوں جنہوں نے اس ادارے کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے مضبوط صحتِ عامہ اور صفائی کے اعلیٰ معیار کے درمیان گہرے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے سووچھ بھارت مشن کے آغاز کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کے تحت کروڑوں بیت الخلا تعمیر کیے گئے، کھلے میں رفع حاجت کے رجحان کا خاتمہ کیا گیا اور صفائی کو عوامی زندگی کا لازمی حصہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے شہر کی صفائی کے معیار کو بہتر بنانے کی کوششوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا، ’’مختلف اقدامات اس لیے شروع کیے گئے تاکہ صفائی ہماری روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ بن جائے۔‘‘
وزیر اعظم نے شہری ذمہ داری کے غیر معمولی جذبے کا مظاہرہ کرنے والے ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر جناب اندرجیت سنگھ سدھو، جو ’’بروم واریئر‘‘ کے نام سے مشہور ہیں، کو خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جناب سدھو نے صفائی سے متعلق عوامی بیداری کی ایک مؤثر عوامی تحریک کو جنم دیا۔ وزیر اعظم نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان کی اس قابلِ ستائش سماجی خدمت کے اعتراف میں انہیں اس سال باوقار پدم ایوارڈ سے نوازا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’صفائی کے بارے میں نئی بیداری پیدا کرنے پر ہماری حکومت نے انہیں اس سال پدم ایوارڈ سے سرفراز کیا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ صفائی کسی ایک دن کی سرگرمی نہیں بلکہ ایک مستقل طرزِ زندگی ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ آج کے پروگرام میں ’’سووچھتا سے سواگت‘‘ (صفائی سے استقبال) مہم کو بھی شامل کیا گیا۔ انہوں نے اس مہم میں عوام کی بھرپور شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں بیماریوں کی روک تھام میں نہایت مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ملک بھر میں صفائی کی مہمات نے متعدد بیماریوں کی روک تھام میں غیر معمولی مدد فراہم کی ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب عالمی سطح پر بھارت کی طبی صلاحیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا تھا، لیکن کورونا کی وبا کے دوران بھارت نے نہ صرف اپنی ضروریات پوری کیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کی بھی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھارت پیچیدہ طبی علاج کے لیے دنیا کے نمایاں مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا، ’’ہماری حکومت نے بھارت کی صلاحیتوں میں بنیادی تبدیلی پیدا کی اور دنیا میں بھارت کے بارے میں موجود تصور کو یکسر بدل دیا۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں میں حکومت کی مسلسل اور مؤثر پالیسیوں پر عمل درآمد کے نتیجے میں ملک کے صحت کے شعبے میں ایک بنیادی تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ کوئی بھی شہری علاج سے محروم نہ رہے اور ہر شخص کو معیاری اور کم خرچ والی طبی سہولتیں میسر ہوں۔ انہوں نے کہا، ’’گزشتہ بارہ برسوں میں ملک نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، وہ اسی عزم کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے ملک بھر میں طبی بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار توسیع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2014 کے بعد 15 نئے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کو منظوری دی گئی، سیکڑوں نئے میڈیکل کالج قائم کیے گئے اور مختلف شعبوں کے جدید اسپتالوں کا وسیع جال بچھایا گیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 میں انہوں نے چنڈی گڑھ میں ہومی بھابھا کینسر اسپتال کا افتتاح کیا تھا، جہاں آج ہزاروں مریضوں کو معیاری علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’گزشتہ برسوں میں بھارت نے صحت کے بنیادی ڈھانچے میں بے مثال اور تیز رفتار توسیع کی ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے بنیادی سطح پر صحت کی سہولتوں کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن کے تحت کریٹیکل کیئر بلاکس اور پبلک ہیلتھ لیبارٹریز کے قیام کے ذریعے بنیادی طبی نظام کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک بھر کے شہری، دیہی اور قبائلی علاقوں میں تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار آیوشمان آروگیہ مندروں کے ذریعے اسکریننگ اور جامع صحت خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ملک کے ہر گاؤں میں بنیادی طبی سہولتوں کی تیز رفتار ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے صحتِ عامہ کے شعبے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے انقلابی استعمال کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ای-سنجیونی مشن نے ماہر ڈاکٹروں تک عوام کی رسائی کو آسان اور ہمہ گیر بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد بھی طویل سفر کیے بغیر ملک کے ممتاز طبی ماہرین سے آسانی کے ساتھ آن لائن مشورہ حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا، ’’آج ملک بھر میں ای-سنجیونی کے ذریعے 48 کروڑ سے زائد ٹیلی میڈیسن مشورے کامیابی کے ساتھ فراہم کیے جا چکے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے صحت کے شعبے میں اصلاحات کے مثبت نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب ملک میں 90 فیصد سے زیادہ بچوں کی پیدائش محفوظ طبی اداروں میں ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برسوں میں زچگی کے دوران اموات کی شرح میں 86 فیصد نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ شیر خوار بچوں کی اموات میں بھی خاطر خواہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’صحت کی سہولتوں میں اس وسیع توسیع کے باعث بچوں کی اموات کی شرح میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے علاج کے ساتھ ساتھ احتیاطی صحت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بیماریوں کی روک تھام پر بھی یکساں توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے پوشن ابھیان، مشن اندردھنش، یوگا کے فروغ، ایچ پی وی ویکسینیشن مہم اور یو-ون پلیٹ فارم جیسے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان پروگراموں کے ذریعے کروڑوں افراد کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ایسے متعدد اہم اقدامات کی بدولت کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو مسلسل محفوظ بنایا جا رہا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے ملک گیر تپِ دق (ٹی بی) کے خاتمے کی مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ٹی بی مکت بھارت ابھیان‘‘ کے تحت بروقت جانچ، تشخیص اور علاج پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ایک دہائی میں ٹی بی کے مریضوں کی تعداد میں 21 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ علاج کی کامیابی کی شرح 90 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’عوامی شمولیت کے ذریعے ہر فرد میں اس بیماری کے بارے میں مؤثر بیداری پیدا کی جا رہی ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ صحت کے شعبے میں آنے والی اس انقلابی تبدیلی سے سب سے زیادہ فائدہ غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کو پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے صحت کی سہولتوں تک مساوی رسائی کے حوالے سے ملک کے نقطۂ نظر میں بنیادی تبدیلی لائی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’بھارت میں صحت کی خدمات اب کسی خاص طبقے کا استحقاق نہیں رہیں بلکہ ہر شہری کا حق بنتی جا رہی ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے طبی تعلیم کے شعبے میں ماضی کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب میڈیکل کالجوں میں نشستوں کی کمی کے باعث ہزاروں باصلاحیت نوجوانوں کے خواب ادھورے رہ جاتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ آج ملک میں میڈیکل کالجوں کی تعداد تقریباً دوگنی ہو چکی ہے، پوسٹ گریجویٹ نشستوں میں ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے اور مقامی طبی ادارے میں ایم بی بی ایس کالج کے قیام کو بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس بڑی توسیع سے باصلاحیت نوجوانوں کو ملک کے بہترین اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا اور بھارت کو بہترین ڈاکٹر میسر آئیں گے۔‘‘
وزیر اعظم نے چنڈی گڑھ میں تعلیمی، انجینئرنگ اور طبی تحقیق کے ممتاز اداروں کی موجودگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ شہر مستقبل میں اسٹارٹ اپس اور جدید ٹیکنالوجی کا ایک اہم مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے پنجاب انجینئرنگ کالج میں ’’کروکشیتر بوائز ہاسٹل‘‘ کے افتتاح اور تحقیقی اسکالرز کے لیے نئی رہائش گاہوں کا سنگِ بنیاد رکھنے کو نوجوانوں کی تعلیمی ترقی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری کوشش ہے کہ نوجوانوں کو اعلیٰ تحقیق کے لیے بہترین تجربہ گاہیں اور معیاری اساتذہ میسر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، سیمی کنڈکٹرز اور جدید گہری ٹیکنالوجیز (ڈیپ ٹیک) جیسے شعبوں میں تیز رفتار ترقی کے لیے مضبوط تحقیقی ماحول ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ چنڈی گڑھ کے اساتذہ اور طلبہ اس قومی مقصد کی تکمیل میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا، ’’تحقیق کا ماحول جتنا مضبوط ہوگا، اختراع کی رفتار بھی اتنی ہی تیز ہوگی۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ مضبوط بنیادی ڈھانچہ معاشی خوشحالی کی بنیاد ہوتا ہے، اسی لیے حکومت ترقی کے لیے ایک جامع اور ہمہ جہت حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے آئی ٹی سٹی سے کورالی تک چھ رویہ گرین فیلڈ شاہراہ کا افتتاح کیا، جس سے ہوائی اڈے کی جانب جانے والی سڑک پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ’’پی آر سیون اسپر‘‘ منصوبے کا سنگِ بنیاد بھی رکھا، جس سے خطے کے عوام کو مزید ہموار اور تیز رفتار سفری سہولت میسر آئے گی۔ انہوں نے کہا، ’’اس طرح کے تمام ترقیاتی منصوبوں سے صنعت اور تجارت کو نئی رفتار ملے گی۔‘‘
وزیر اعظم نے علاقائی رابطے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جالندھر میں مختلف ریلوے منصوبوں کے آغاز کا بھی اعلان کیا اور جند سے سونی پت کے درمیان ملک کی پہلی صاف ایندھن سے چلنے والی ہائیڈروجن ٹرین کی تاریخی شروعات کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس اہم قومی کامیابی پر عوام کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا، ’’مکمل طور پر صاف ایندھن سے چلنے والی اس ٹرین کا آغاز ملک کے لیے ایک تاریخی اور یادگار سنگِ میل ہے۔‘‘
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے ترقی یافتہ بھارت (وکست بھارت) کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی ٹیکنالوجی، جدید نقل و حمل کے نظام اور مضبوط صحت کے بنیادی ڈھانچے پر مسلسل توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے پنجاب، ہریانہ اور چنڈی گڑھ کے عوام کو یقین دلایا کہ موجودہ حکومت ایسے مضبوط اور دیرپا ادارے قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہے جو آنے والی نسلوں کی ضروریات پوری کریں گے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں ایسے جرأت مندانہ فیصلے کرنے ہوں گے جن کے زیادہ سے زیادہ فوائد ہماری آنے والی نسلوں تک پہنچیں۔‘‘
Chandigarh is witnessing a significant boost in healthcare, education and connectivity today. Delighted to launch projects that will benefit people here.
https://t.co/k5wxtsZ0Q8— Narendra Modi (@narendramodi) July 17, 2026
Cleanliness is not a one-day activity… it is a way of life. pic.twitter.com/aVgVkfh0tW
— PMO India (@PMOIndia) July 17, 2026
When the COVID-19 pandemic struck, India was not a nation seeking help… it was a nation extending help to the world. pic.twitter.com/RT7zRMQ4zb
— PMO India (@PMOIndia) July 17, 2026
In India, healthcare is no longer a privilege… it is becoming a right. pic.twitter.com/nO532dcORn
— PMO India (@PMOIndia) July 17, 2026
***
( ش ح ۔ م م ۔ م ا )
Urdu.No-89
Chandigarh is witnessing a significant boost in healthcare, education and connectivity today. Delighted to launch projects that will benefit people here.
— Narendra Modi (@narendramodi) July 17, 2026
https://t.co/k5wxtsZ0Q8
Cleanliness is not a one-day activity... it is a way of life. pic.twitter.com/aVgVkfh0tW
— PMO India (@PMOIndia) July 17, 2026
When the COVID-19 pandemic struck, India was not a nation seeking help... it was a nation extending help to the world. pic.twitter.com/RT7zRMQ4zb
— PMO India (@PMOIndia) July 17, 2026
In India, healthcare is no longer a privilege... it is becoming a right. pic.twitter.com/nO532dcORn
— PMO India (@PMOIndia) July 17, 2026