پی ایم انڈیا
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج صبح سیوا تیرتھ میں 20 خلائی اسٹارٹ اپس کے سی ای اوز اور بانیوں کے ساتھ بات چیت کی ۔
راکٹ بنانے اور دوبارہ قابل استعمال سیمی کریوجینک لانچ وہیکلز ، ایوینکس ، سیٹلائٹس ،جدید پروپلشن نظام، خلاء اور دفاعی خفیہ نظام ، خلائی ملبے کو ہٹانے ، اے آئی سے چلنے والے ہائپر لوکل آب وہوا اور موسم سے متعلق نظام سمیت مختلف شعبوں میں کام کرنے والی خلائی شعبے کی سرکردہ کمپنیوں کے سی ای اوز نے بات چیت میں حصہ لیا ۔ انہوں نے ہندوستان کی نجی خلائی صنعت کی طرف سے کی جانے والی تیز رفتار پیش رفت پر روشنی ڈالی اور اس شعبے کے مستقبل کے لیے اپنے وژن کا اشتراک کیا ۔ انہوں نے وزیر اعظم کی طرف سے موصولہ تعاون کے لیے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک میں مقامی طور پر اپنی صلاحیتوں اور مطلوبہ ٹیکنالوجیز کی تعمیر میں کافی وقت دیا ہے اور کوشش کی ہے ۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے مضبوط حمایت اور صنعت کے ساتھ تعاون کرنے پر بھی روشنی ڈالی ، اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے کہ ان کی ٹیمیں انتہائی حوصلہ افزا ہیں اور خلائی شعبے میں خلائی شعبے میں اہم اہداف کے حصول کے لیے عزم کے ساتھ کام کر رہی ہیں ۔
انہوں نے یاد دلایا کہ خلائی شعبے میں نجی شراکت داری کے مواقع شروع کرنے سے کافی جوش پیدا ہوا ہے اور صنعت کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی کمپنیوں نے ہندوستان کی ابھرتی ہوئی نجی خلائی صنعت کی تیار کردہ ٹیکنالوجیز کو اپنانے اور ان سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے ۔
وزیر اعظم نے خلائی شعبے کے قائدین کو ہمت کا مظاہرہ کرنے اور ایک نئے شعبے میں قیادت کرنے پر مبارکباد دی ۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے کی طرف سے دکھائے گئے اعتماد نے اس وژن کو مضبوط کیا ہے، جس کے ساتھ خلائی شعبے کو نجی شراکت داری کے لیے کھول دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک یا تو خلائی شعبے میں سرمایہ کاری نہیں کر سکتے یا اس میں سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتے ۔ اس سے ہندوستان کو عالمی خلائی شعبے میں اپنی پوزیشن کو تیزی سے مضبوط کرنے کا ایک بڑا موقع ملتا ہے ۔
وزیر اعظم نے خلائی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی ٹیکنالوجیز کی نئی ایپلی کیشنز تلاش کریں اور اس بات پر توجہ دیں کہ یہ کس طرح لوگوں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرسکتی ہیں ۔
وزیر اعظم نے خلائی شعبے کی کمپنیوں اور دیگر شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے درمیان مزید تعاون کی تجویز پیش کی ۔ خلائی ملبے پر کام کرنے والی کمپنیاں اپنی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے ماحولیاتی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر سکتی ہیں ۔ زرعی شعبے کے ساتھ کام کرنے والی خلائی ٹیکنالوجی کمپنیاں زرعی یونیورسٹیوں اور محکموں کے ساتھ تعاون کر سکتی ہیں، تاکہ کسانوں کو بہتر معلومات پر مبنی فیصلے کرنے اور اپنی پیداوار کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے میں مدد مل سکے ۔
وزیر اعظم نے ایک ایسا ماحولیاتی نظام اور ایسا ماحول بنانے پر زور دیا، جہاں جب دنیا خلاء کے بارے میں سوچے تو وہ ہندوستان کی طرف دیکھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا خلائی شعبہ ملک میں عالمی صلاحیتوں ، کمپنیوں اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک مقناطیس کی طرح پرکشش موقعے کے طور پر کام کر سکتا ہے ۔
انہوں نے اٹل ٹنکرنگ لیبز کے ساتھ قریبی تعاون پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کم عمری سے ہی چھوٹے بچوں میں خلائی شعبے میں تجسس اور دلچسپی پیدا ہو سکتی ہے ۔
اس بات چیت میں خلائی شعبے میں کام کرنے والے 20 اسٹارٹ اپس کے سی ای اوز اور بانیوں نے شرکت کی، جن میں اسکائی روٹ ایرو اسپیس ، اگنیکل کاسموس ، پکسل ، دھرووا اسپیس ، گیلیکس آئی ، پیئر سائٹ ، بیلٹریکس ایرو اسپیس ، دگنتارا ، سیٹ سیور ، سوہورا ٹیکنا لوجیز ، مانستو اسپیس ، آسٹرو بیس ، ٹیک می 2 اسپیس ، ویوم آئی سی ، کاسموسرو اسپیس ، آربیٹ ایڈ ایرو اسپیس ، اسکائی سرو (ہائی اسپیس) سیرینڈیپیٹی اسپیس ، وسار لیبز اور مسٹ ای او شامل ہیں۔
…………………………….
) ش ح –ش ب-ق ر)
U.No-2425
It was wonderful to meet the Yuva Urja of India’s space sector…young entrepreneurs and innovators who have shown remarkable courage by entering a new and demanding domain. They have taken risks, trusted the reform process and remained consistent in their efforts. Due to this,… pic.twitter.com/RV1Nd4dUKm
— Narendra Modi (@narendramodi) August 21, 2026
I also urged the StartUps to think about how space technology can contribute immensely to agriculture, livestock management, dairy, environment and many other areas that touch everyday lives. They can engage with Atal Tinkering Labs, spark curiosity among schoolchildren and… pic.twitter.com/943qLc6shR
— Narendra Modi (@narendramodi) August 21, 2026