Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

وزیر اعظم 11 اکتوبر کو چنئی کا دورہ کریں گے


وزیر اعظم جناب نریندر مودی 11 اکتوبر کو چنئی، تمل ناڈو کا دورہ کریں گے۔ تقریباً صبح 11:30 بجے، وہ چنئی میٹرو میں پورور بائی پاس اسٹیشن سے پونملی بائی پاس اسٹیشن تک اور وہاں سے واپسی کا سفر کریں گے۔ دوپہر تقریباً 12:15 بجے، وہ چنئی کے جلکندیشور مندر میں درشن اور پوجا کریں گے۔ بعد ازاں، وہ آئی آئی ٹی مدراس میں واقع ‘برین سینٹر’ کا معائنہ کریں گے۔

دوپہر تقریباً 1:30 بجے، وزیر اعظم 13,000 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھیں گے، افتتاح کریں گے اور انہیں قوم کے نام وقف کریں گے۔ وہ اس موقع پر اجتماع سے خطاب بھی کریں گے۔ دوپہر تقریباً 3:00 بجے، وہ چنئی میں جے گوپال گاروڈيا ہندو ودیالیہ میٹریکولیشن ہائر سیکنڈری اسکول کی گولڈن جوبلی  تقریبات میں شرکت کریں گے اور اجتماع سے خطاب کریں گے۔

وزیر اعظم چنئی میٹرو ریل پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کے پونملی-وڈا پلانی حصے کا افتتاح کریں گے، جو تقریباً 4,900 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس گلیارے کی خاص بات 3.7 کلومیٹر طویل منفرد ڈبل ڈیکر ڈھانچہ ہے۔ اس میں جدید ترین سگنلنگ سسٹم بھی نصب کیا گیا ہے جسے ڈرائیور کے بغیر ٹرین آپریشنز چلانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اس سے مسافروں کے روزمرہ کے سفر کا وقت کم ہوگا اور چنئی کے تیزی سے ابھرتے ہوئے مغربی مضافاتی علاقوں کا سٹی سینٹر کے ساتھ رابطہ مزید بہتر ہو جائے گا۔

وزیر اعظم تقریباً 3,700 کروڑ روپے مالیت کے اہم قومی شاہراہوں کے منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھیں گے اور افتتاح کریں گے۔ یہ منصوبے سڑکوں کے رابطے کو مضبوط کریں گے، سفر کے وقت کو کم کریں گے، ٹریفک بھیڑ بھاڑ کو کم کریں گے اور ریاست میں اقتصادی ترقی کو فروغ دیں گے۔

وزیر اعظم قومی شاہراہ – 744 کے 36 کلومیٹر طویل، چار لین والے وڈوگا پٹی-تھیرکووینگا نلور حصے کا افتتاح کریں گے۔ یہ منصوبہ خطے کے اہم مذہبی، صنعتی اور تجارتی مراکز کے لیے رابطے کو بہتر بنائے گا، جس سے لوگوں اور سامان کی آمد و رفت میں آسانی ہوگی۔ وہ قومی شاہراہ-744 اے  کے 30 کلومیٹر طویل، چار لین والے مدورائی رنگ روڈ حصے کا بھی افتتاح کریں گے۔ یہ منصوبہ مدورائی کے آس پاس ٹریفک کی نقل و حرکت کو بہتر بنائے گا اور شہر کے اندر ٹریفک بھیڑ بھاڑ کو کم کرنے میں مدد کرے گا۔

وزیر اعظم قومی شاہراہ – 83 کے ناگاپٹنم-تھنجاور حصے پر چار لین والے تھرووارور بائی پاس کا سنگِ بنیاد رکھیں گے۔ یہ منصوبہ تھرووارور میں سڑکوں کے رابطے کو مضبوط کرے گا اور شہر کے باہر سے ایک متبادل راستہ فراہم کر کے ٹریفک کی آمد و رفت کو مزید آسان بنائے گا۔

وزیر اعظم 750 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے ریلوے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو قوم کے نام وقف کریں گے اور ان کا افتتاح کریں گے۔ وہ کرائیکل-پیرالم ریلوے لائن کو وقف کریں گے، جس سے خطے میں ریل رابطے کو مزید مضبوطی ملے گی۔ وہ کوئمبٹور اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ریل کے تین فلائی اوورز بھی قوم کے نام وقف کریں گے۔ یہ فلائی اوورز مصروف ریلوے کراسنگز پر ٹریفک بھیڑ بھاڑ کو کم کریں گے، انتظار کا وقت بچائیں گے اور روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کے لیے سڑک سلامتی کو بہتر بنائیں گے۔ وزیر اعظم پلانی، ویلور چھاؤنی، امباسمودرم، پراماکوڑی اور نمکل میں پانچ ‘امرت اسٹیشنوں’ کا بھی افتتاح کریں گے، جنہیں امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت دوبارہ تیار کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم تمل ناڈو میں سمندری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے، کارگو مال برداری کی صلاحیت کو بڑھانے اور لاجسٹکس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے بندرگاہ سے متعلق کئی منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھیں گے۔

وزیر اعظم چنئی بندرگاہ پر بنیادی ڈھانچے کے چار منصوبوں کا افتتاح کریں گے، جن میں ایک پختہ اسٹوریج یارڈ، چار امپورٹ-ایکسپورٹ گودام، ایک اپ گریڈ شدہ کروز ٹرمینل اور ایک سی فیررز کلب شامل ہیں۔ یہ منصوبے کارگو کی اسٹوریج اور ہینڈلنگ کو بہتر بنائیں گے، گوداموں کی صلاحیت میں اضافہ کریں گے، مسافروں کی سہولیات کو جدید بنائیں گے تاکہ زیادہ کروز مسافر بیک وقت سوار اور اتر سکیں، اور یہاں آنے والے ملاحوں اور سمندری عملے کے لیے جدید ترین فلاحی، تفریحی اور امدادی سہولیات فراہم کریں گے۔ وزیر اعظم وی او چدمبرنار بندرگاہ پر آٹھ بڑے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھیں گے۔ یہ منصوبے کارگو اور کنٹینر کی گنجائش کو بڑھائیں گے، صاف ستھری سمندری توانائی کی منتقلی کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کریں گے، اور بندرگاہ کے پورے ایکو سسٹم کے اندر کارگو کی نقل و حرکت اور لاجسٹکس کی کارکردگی کو بہتر بنائیں گے۔ اس کے علاوہ، وزیر اعظم کاماراجار بندرگاہ پر ‘کول برتھ-3‘ پروجیکٹ کا افتتاح کریں گے اور کنٹینر ٹرمینل کے فیز- I، اسٹیج- II  کے لیے کیپٹل ڈریجنگ کے کاموں کا سنگِ بنیاد رکھیں گے۔

وزیر اعظم چنئی میں ‘چنئی پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ‘ (سی پی سی ایل) کی موجودہ منالی ریفائنری میں گروپ II/III لیوب آئل بیس اسٹاکس (ایل او بی ایس) پروجیکٹ کا سنگِ بنیاد رکھیں گے۔ تقریباً 1,620 کروڑ روپے کی کل لاگت اور 270 ہزار میٹرک ٹن سالانہ (ٹی ایم ٹی پی اے) کی صلاحیت کے ساتھ، اس منصوبے کا مقصد ہندوستان میں عالمی معیار کے اور اعلیٰ ترین کوالٹی کے لیوبریکنٹس کی تیاری کے لیے گروپ II/III لیوب آئل بیس اسٹاکس تیار کرنا ہے۔

وزیر اعظم آئی آئی ٹی مدراس میں واقع ‘سُدھا گوپال کرشنن برین سینٹر‘ (ایس جی بی سی) کو قوم کے نام وقف کریں گے۔ وہ اس کے اس منفرد اور اولین عالمی سائنسی مشن کا آغاز بھی کریں گے جس کے تحت انسانی زندگی کے تمام مراحل — یعنی جنین (ماں کے پیٹ) سے لے کر بڑھاپے تک — کے 100 سے زیادہ انسانی دماغوں کا سیلولر ریزولوشن (خلیاتی سطح کی باریکی) پر تھری ڈی نقشہ تیار کیا جائے گا۔ وزیر اعظم ‘سی اسٹروک‘ کو بھی لانچ کریں گے، جو اپنی نوعیت کا پہلا انسانی ‘اسکیمک اسٹروک’ نقشہ ہے۔ فالج سے متاثرہ دماغ کے 1,000 سے زیادہ خوردبینی حصوں پر مبنی یہ نقشہ دنیا بھر کے محققین کو علاج کے نئے طریقے دریافت کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

وزیر اعظم چنئی میں جے گوپال گروڈيا ہندو ودیالیہ میٹرکولیشن ہائر سندر سیکنڈری اسکول کی گولڈن جوبلی تقریبات میں شرکت کریں گے۔ یہ گولڈن جوبلی تعلیمی میدان میں اس ادارے کی پانچ دہائیوں کی خدمات اور تعلیمی فضیلت، نظم و ضبط، ثقافتی اقدار اور ہمہ جہت تعلیم کے ذریعے طالب علموں کی نسلوں کو پروان چڑھانے میں اس کے کردار کی عکاس ہے۔ اپنے نصب العین “سا ودیا یا ومکتئے” (علم وہ ہے جو آزاد کرے) سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے، یہ اسکول ایسے افراد تیار کرنے کی کوشش کرتا ہے جو معاشرے میں معنی خیز کردار ادا کریں۔ گزشتہ برسوں کے دوران، اس ادارے نے بدلتی ہوئی تعلیمی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالا ہے اور ساتھ ہی کردار سازی، علم اور ذمہ دارانہ شہریت پر اپنی مضبوط توجہ برقرار رکھی ہے۔

 

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:4947