پی ایم انڈیا
نئی دہلی،29؍اکتوبر،جاپان اور بھارت کے بڑی تعداد میں موجود تجارتی لیڈر ، سی ای اوز ، کے ڈائنڈرن ، جیٹرو ، نِکی ، سی آئی آئی اور نیسکوم کے سینئر عہدیدار۔
جاپان آکر یہاں کی تجارتی برادری سے بات کرنا مجھے ہمیشہ ہی بہت خوشی دیتا ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ قریب 10 سال سے میری یہاں کے صنعت کاروں سے تفصیلی بات چیت ہوتی رہی ہے۔ میں نے آپ کے ویژن کو سمجھا تھا اور بہت سی نئی نئی باتیں آپ سے سیکھی تھیں۔ پچھلی دہائی میں بھارت کے تئیں آپ کی قربت وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل بڑھتی رہی ہے۔
حکومت ہند کی ہر سطح پر یہ کوشش ہے کہ ملک میں کاروباری ماحول کو اس طرح بدلا جائے کہ وہاں پر آپ کو کاروبار کرنے میں آسانی اور رہنے میں آسانی کااحساس ہر قدم پر ہوسکے۔
ساتھیو!
کچھ سال پہلے میں نے بھارت میں منی جاپان بنانے کی بات کی تھی۔ میرے لئے بہت خوشی کی بات ہے کہ آج آپ اس سے بھی بڑے پیمانے پر بھارت میں کام کررہے ہیں۔
کئی دہائیوں سے جہاں قریب 1150 کمپنیاں بھارت میں تھیں،وہیں سال 2014 سے لے کر 2017 کے بعد جاپان کی 200 سے زیادہ نئی کمپنیوں نے بھارت میں کام کرنا شروع کیا۔ یہ تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ اس کے لئے آپ مبارک باد کے مستحق ہیں۔
آج جاپان کی کمپنیاں کار بنانے سے لے کر مواصلات ، بنیادی ڈھانچے سے لے کر سروسز تک میں ساتھ مل کر کام کررہی ہیں۔ بھارت اور جاپان کے درمیان یہ خوش کن سفر اور بھی بہتر اور مفید ثابت ہو اس کے لئے میری طرف سے آپ سبھی کو نیک خواہشات پیش ہیں۔
ساتھیو!
بھارت اور جاپان کے بقائے باہم کا احساس اور ہماری مشترکہ وراثت پر مبنی ہے۔ ہماری قربت پر مبنی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعلقات کی بنیاد میں یہی احساس اور روایات پنہاں ہیں۔یہی وجہ ہے سال 2014 میں وزیراعظم کے طور پر ہوئے میرے پہلے دورے کے دوران ہی ہم دونوں ملکوں نے طے کیا تھا کہ اپنے رشتوں کو ایک نئی اونچائی پر لے جائیں گے۔ اسے اپ گریڈ کرکے اسپیشل اسٹریٹجک اور گلوبل پارٹنر شپ کی سطح پر لے جائیں گے۔ اس کے بعد سے جاپان کے وزیراعظم آبے اور میرا مسلسل آپس میں ملنا جلنا ہوتا رہا ہے۔ وزیراعظم جناب آبے اور ہم نے مل کر دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی عمل میں آنے والی بہت سے رکاوٹوں کو دور کیا ہے۔
ساتھیو!
جاپان سرکار نے پچھلے کچھ برسوں میں ہمارے بہت سے اہم بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں میں مدد دی ہے۔ ہماری مخصوص مغربی خصوصی نقل وحمل کی راہداری اب پوری ہونے والی ہے ۔ یہ ایک سال بعد پوری طرح چالو ہونے کی حالت میں پہنچ جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہمارا دہلی- ممبئی صنعتی راہ داری کا جو پروجیکٹ ہے ، وہ بھی جاپان حکومت اور جاپان کی کمپنیوں کے اشتراک سے بخوبی آگے بڑھ رہا ہے۔
محترم آبے جی کے پچھلے بھارت دورے کے دوران ہم نے آئی اسپیڈ ریل پروجیکٹ پر ساتھ کام کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بھارت کا پہلا پروجیکٹ ممبئی- احمد آباد کے درمیان شروع ہوا ہے، اس پر بھی تیز رفتاری سے کام چل رہا ہے۔
ساتھیو!
بھارت میں میری حکومت کو تقریبا ساڑھے چا ر سال ہوچکے ہیں، اس دوران کاروبار سے جڑے جس کام کو میں نے اپنی ترجیحی فہرست میں سب سے اوپر رکھا ہے ، وہ ہے کاروبار کرنے میں آسانی۔ اس کا نتیجہ اب دنیا کے سامنے ہے۔ سال 2014 میں جب میں نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تھی اس وقت عالمی بینک کی ’’کاروبار کرنے میں آسانی‘‘ کی درجہ بندی میں بھارت کا 142 واں مقام تھا۔ اب ہم 100ویں رینک پر ہیں اور اب بھی رینکنگ میں سدھار کے لئے کئی سطحوں پر کام کررہے ہیں۔ وفاقی حکومت کی سطح پر ، ریاستی حکومت کی سطح پر ، مقامی حکومت کی سطح پر ہم ایک کے بدلے ایک قدم اٹھارہے ہیں۔ آنے والے برسوں میں ہمیں اس کے اور بھی اچھے نتائج حاصل ہوں گے۔
اتنا بڑا سدھار، تیز اور فیصلہ کن طریقے سے لئے گئے فیصلوں سے اور بے وجہ کے ضابطوں میں تبدیلی سے ممکن ہوا ہے۔
میں یہاں آپ کو ایک اور اہم بات بتانا چاہتا ہوں ۔ بھارت سرکار نے ’’کاروبار کرنے میں آسانی‘‘ کو اور زیادہ فروغ دینے کے لئے اپنی 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی درجہ بندی بھی کرنی شروع کردی ہے۔
اس کا ایک بڑا اثر یہ ہوا ہے کہ اب ریاستوں میں بھی سرمایہ کاری کو لے کر صحت مند مسابقت شروع ہوگئی ہے جس کے بہت نتائج نظر آنے لگے ہیں۔
ساتھیو!
سرمایہ کاری ہمارے ملک کی ضرورت ہے، کاروبار کرنے میں آسانے کے شعبے میں ہم اسی لئے پوری عقیدت کے ساتھ قدم اٹھارہے ہیں۔ سرمایہ کاری ہوگی تبھی بے روزگاروں کے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ملک کے بنیادی ڈھانچے میں سدھار ہوگا، زراعت ، معدنیات ، سمندری اثاثے اور دیگر تمام قدرتی وسائل کی قدر میں اضافہ ہوگا۔
اپنے شہریوں کو رہنے میں آسانی دینے کی ہماری کوشش ، کاروبار کرنے میں آسانی کا ہی ایک حصہ ہے۔ اس لئے ایک ماہ مہم چلاکر ہم لوگوں نے کاروبار میں آسانی کے شعبے میں کام کئے ہیں ۔ اس عظیم کوشش کی وجہ سے ہمیں کامیابیاں بھی ملی ہیں۔
گھریلو سطح پر ہم نے جس عہد بستگی کے ساتھ اصلاحات کی ہیں، ان کی وجہ سے بھارتی معیشت:
پالیسیوں میں استحکام اور شفافیت کی جو کاروباری شعبے کی مانگ ہوا کرتی تھی اب وہ بھارت سرکار کی پہچان بن چکی ہے۔
ساتھیو!
وزیراعظم کےطور پر اپنے پہلے دورے کے دوران ہی میں نے جاپان پلس نام کا ایک ادارہ بنانے کی بات کی تھی، مجھے یہ کہتے ہوئے بہت خوشی ہورہی ہے کہ جیٹرو نے اور آپ سب نے اس بندوبست کا فائدہ اٹھایا ہے۔
اس موقع پر میں ایک معلومات دینا چاہتا ہوں۔ جاپان پلس ہماری انویسٹ انڈیا کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ اس انویسٹ انڈیا کو کچھ دن پہلے ہی اپنی بہترین کارکردگی کے لئے اقوام متحدہ نے عالمی ایوارڈ سے سرفراز کیا ہے۔
ساتھیو!
بھارت میں تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت ، تیزی سے بڑھتا ہوا متوسط طبقہ ، تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور ہماری نوجوان آبادی ، جاپان کی کمپنیوں کے کام کرنے کے لئے بہت بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔
میں کچھ مثالیں پیش کروں تو،
بھارت میں ہم لوگ پچھلے چار سال سے میک ان انڈیا جیسے خصوصی پروگراموں کے تحت بھارت کو مینوفیکچرنگ اور تحقیق کے شعبے میں عالمی مرکز بنانے کی طرف آگے بڑھے ہیں۔
بھارت میں ، خاص طور پر جاپان کی ایم ایس ایم ای کمپنیوں کے کام کرنے کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ میں یہاں یہ کہنا چاہتاہوں کہ بھارت آنے والی ہر بڑی کمپنی کا تو خیر مقدم ہے لیکن ایم ایس ایم ای کے ذریعے بھی جاپانی بزنس لیڈر اپنے کاروبار کو نئی اونچائیوں تک لے جاسکتے ہیں۔ ایم ایس ایم ای آنے سے کم وقت میں اس کے نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔
بھارت میں کاروبار کرنے کا ایک فائدہ ’’کم لاگت پر مینوفیکچرنگ‘‘ بھی ہے۔ اس کے پیچھے بھارت میں مسابقتی مزدوری کی لاگت ایک بہت بڑی طاقت ہے۔
اسی طرح سے ہماری آئی ٹی صنعت ایک بہت بڑی قوت ہے۔ میں نے پہلے ہی یہاں آکر کہا ہے ، ہمارا سافٹ ویئر اور آپ کا ہارڈ ویئر مل جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہم دنیا کے اندر میریکل (معجزہ) کرسکتے ہیں۔
اتنا ہی نہیں بھارت ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی نئی دریافتوں، جیسے مصنوعی ذہانت ، اشیاء کا انٹرنیٹ ، تھری ڈی پرنٹنگ ، روبوٹکس ، وغیرہ کے ذریعے صنعت 4.0 کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
اسی طرح الیکٹرک موبلیٹی ایک ایسا شعبہ ہے جس میں جاپان اور بھارت کے درمیان تعاون دونوں ملکوں کے لئے بے حد مفید ثابت ہونے جارہا ہے۔
ساتھیو!
اس کے علاوہ بھارت میں ہم بنیادی ڈھانچے پر بھی بے مثال کام کررہے ہیں ۔ ہمارا زور جدید طرز کے بنیادی ڈھانے پر ہے۔ ہمارا ارادہ ہے کہ ہم ایک ایسی مسابقت والی معیشت کی تعمیر کریں، جس کا آدھار ، اسکل ، اسپیڈ اور اسکیل ایک ہوں۔ ان خیالات کو پورا کرنے کے لئے ہم انویسٹ منٹ کے ماحول کو لگاتار سدھارنے کی کوشش میں ہیں۔
آج اس فورم سے میں آپ سبھی کو بھارت میں بننے والے وسیع کاروباری مواقع کے لئے مدعو کرتا ہوں۔ اس کامیاب مواقع کی کچھ اور مثالیں دینا چاہتاہوں۔
ساتھیو!
بھارت اور جاپان دونوں ہی جمہوری اقدار اور آزادی کے زبردست حامی ہیں، ساتھ ہی ترقی کے لئے تعاون کے ہمارے نظریئے اور پالیسیوں میں بہت یکسانیت ہے۔
بنیادی ڈھانچہ اور صلاحیت سازی کے علاوہ صحت اور زراعت جیسے شعبوں میں جاپان اور بھارت کے درمیان تیسرے ملکوں میں تعاون کے لئے مستحکم امکان ہے۔
اس لئے چاہے بھارت –بحر الکاہل ہو یا جنوبی ایشیا ءیا افریقہ ، بھارت اور جاپان ہمارے ساجھیدار ملکوں کی ترجیحات کی بنیاد پر تیسرے ملکوں میں اعتماد کے لئے اپنی ساجھیداری کو اور مضبوط کریں گے۔
بین الاقوامی شمسی اتحاد میں جاپان کی شرکت سے شمسی توانائی آب وہوا جیسے معاملات پر ہمارے دونوں ملک کے درمیان تیسرے ملکوں کے ساتھ ساجھیداری کے نئے دروازے کھلے ہیں۔
مجھے خوشی ہے کہ آج انڈیا- جاپان بزنس لیڈر فورم کی میٹنگ میں فورم کے بہت سے ارکان نے افریقہ میں بھارت اور جاپان کے کاروباریوں کے بیچ ان شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لئے کئی اچھے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
ساتھیو!
میں ہمیشہ ہی مضبوط بھارت- مضبوط جاپان کی بات کرتا رہا ہوں۔
میں آج اس موقع پر جاپان کے صنعتی سیکٹر کا بھارت پر خاص اعتماد کرنے کے لئے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
میں آپ سبھی کو بھارت میں سرمایہ کاری کی رفتار بڑھانے کے لئے بھی مدعو کرنا چاہوں گا۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جاپان اور بھارت کے درمیان کاروباری رشتوں کو اور مضبوط کرنے کے لئے آپ کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔
ایک بار پھر اس تقریب سے جڑنے کے لئے آپ سبھی کا میں دل سے بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(م ن-وا- ق ر)
U-5533
भारत सरकार ने Ease of Doing business को और बढ़ावा देने के लिए अपने 36 राज्यों और Union Territories की Ranking भी करनी शुरू कर दी है।
— PMO India (@PMOIndia) October 29, 2018
इसका एक बड़ा प्रभाव ये हुआ है कि अब राज्यों में भी Investment को लेकर Healthy Competition शुरू हो गया है जिसके बहुत बेहतर परिणाम दिखने लगे हैं: PM
प्रधानमंत्री के तौर पर अपनी पहली यात्रा के दौरान ही मैंने Japan plus नाम की एक संस्था खड़ी करने की बात की थी।
— PMO India (@PMOIndia) October 29, 2018
Japan plus हमारी Invest India के साथ मिलकर काम करती है।
इस @investindia को अपने बेहतरीन कार्यों के लिए युनाइटेड नेशंस ने वैश्विक सम्मान से पुरस्कृत किया है: PM
भारत में व्यापार करने का एक फायदा Low cost manufacturing भी है। उसके पीछे भारत में Competitive Labour Cost एक बहुत बड़ी ताकत है।
— PMO India (@PMOIndia) October 29, 2018
उसी तरह से हमारी IT industry एक बहुत बड़ी शक्ति है। मैंने पहले भी यहां आकर कहा है, हमारा Software और आपका Hardware मिल जाए, तो कमाल हो सकता है: PM
भारत technology के क्षेत्र में होने वाले नए आविष्कारों जैसे AI, IoT, 3D Printing, Robotics आदि के जरिए Industry 4.0 की तरफ तेजी से आगे बढ़ रहा है।
— PMO India (@PMOIndia) October 29, 2018
Electric Mobility एक ऐसा क्षेत्र है जिसमें भारत और जापान के बीच का सहयोग दोनों देशों के लिए बेहद लाभदायक साबित होने जा रहा है: PM
मैं हमेशा ही Strong India – Strong Japan की बात करता रहा हूं।
— PMO India (@PMOIndia) October 29, 2018
मैं आज इस अवसर पर जापान के उद्यमी वर्ग का भारत पर विशेष विश्वास करने के लिए आभार व्यक्त करता हूं।
मैं आप सभी को भारत में निवेश की गति बढ़ाने के लिए भी आमंत्रित करना चाहूंगा: PM