وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات کی معاونت کی اسکیم‘ کو منظوری دے دی ہے، جس کے لیے پانچ سال کی مدت میں 2,814 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اہم معدنیات کی پروسیسنگ کا عمل اب بھی دنیا کے چند مخصوص جغرافیائی علاقوں تک محدود ہے۔یہ سپلائی چین کو جغرافیائی و سیاسی بحرانوں، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ممکنہ طور پر رسد پر عائد پابندیوں کے خطرات کو اُجاگر کرتے ہیں، جو سپلائی چین کے استحکام اور اقتصادی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہیں۔ اس کے قومی سلامتی، اقتصادی خودمختاری اور کاربن کے اخراج میں کمی کے اہداف کی بروقت تکمیل پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
فی الحال، ہندوستان اہم معدنیات، بشمول لیتھیم، نکل اور کوبالٹ کے مقامی افزودگی اور پروسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے کے ابتدائی مرحلے میں ہونے کے باعث، صاف شدہ درمیانی مصنوعات اور اعلیٰ خالص مواد کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ اہم معدنیات کی مقامی سطح پر پروسیسنگ کی صلاحیت اب بھی محدود ہے، جبکہ تجارتی پیمانے پر منصوبوں کو بھاری سرمایہ جاتی ضروریات، پائیدار ٹیکنالوجیز کی محدود دستیابی اور خام مال تک محدود رسائی جیسے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ لہٰذا، قدر میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنے، درآمدات کا متبادل فراہم کرنے اور خام مال سے لے کر تیار مصنوعات تک مضبوط پوری ویلیو چین قائم کرنے کے لیے مقامی سطح پر پروسیسنگ کی صلاحیت کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
اسی پس منظر میں، ’’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات کی معاونت کی اسکیم‘‘ تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد گھریلوسطح پروسیسنگ سہولیات کے قیام اور انہیں فعال بنانے کے لیے مخصوص سرمایہ جاتی معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس اسکیم کا مقصد ہندوستان میں گھریلو پروسیسنگ کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے، تاکہ ملک کے اندر قدر میں اضافہ کیا جا سکے، درآمدات پر انحصار کم ہو اور ویلیو چین کو ترقی دی جا سکے۔ اس اسکیم کے تحت لیتھیم اور نکل کی خام دھاتوں اور درمیانی مصنوعات کو اعلیٰ خالص مرکبات میں تبدیل کرنے کے لیے پروسیسنگ کا نشانہ رکھا گیا ہے۔ توقع ہے کہ نکل کی ضمنی پیداوار کے طور پر کوبالٹ بھی حاصل کیا جا سکے گا۔ اس سے برقی نقل و حرکت، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس)، الیکٹرانکس، دفاع، خصوصی نوعیت کے اسٹیل وغیرہ جیسے اہم شعبوں کو مدد ملے گی۔
مجوزہ اسکیم کے لیے مجموعی طور پر 2,814 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس اسکیم کی مدت مالی سال 27-2026سے 31-2030 تک ہوگی۔ اسکیم کے تحت چار اہم معدنیات کی پروسیسنگ کے پلانٹس قائم کرنے کے لیے اہل سرمایہ کاری پر 30 فیصد کی شرح سے سرمایہ جاتی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ ان میں لیتھیم کی پروسیسنگ کے دو پلانٹس (ہر ایک کی کم از کم صلاحیت 30 کلو ٹن) اور نکل کی پروسیسنگ کے دو پلانٹس (ہر ایک کی کم از کم صلاحیت 50 کلو ٹن) شامل ہوں گے۔ لیتھیم کی پروسیسنگ کے پلانٹ کے قیام کے لیے ہر مستفید ہونے والے ادارے کو فراہم کی جانے والی سرمایہ جاتی معاونت زیادہ سے زیادہ 500 کروڑ روپے تک محدود ہوگی، جبکہ نکل کی پروسیسنگ کے پلانٹ کے قیام کے لیے ہر مستفید ہونے والے ادارے کو زیادہ سے زیادہ 900 کروڑ روپے کی سرمایہ جاتی معاونت فراہم کی جائے گی۔
مستفیدین کا انتخاب دو مرحلوں پر مشتمل عمل کے ذریعے کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں درخواستوں کا تکنیکی اہلیت کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے گا اور صرف تکنیکی طور پر اہل قرار دیے گئے درخواست دہندگان ہی دوسرے مرحلے میں مالیاتی بولی کے عمل میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے۔ ہر معدنیات کے لیے کم ترین لاگت کے معیار کی بنیاد پر دو مستفیدین کا انتخاب کیا جائے گا، یعنی اسکیم کے تحت بولی دہندگان کی جانب سے طلب کردہ سب سے کم سرمایہ جاتی اخراجات کی معاونت کو بنیاد بنایا جائے گا۔ مراعات مخصوص سنگِ میل کے حصول سے منسلک تین قسطوں میں جاری کی جائیں گی۔
یہ اسکیم مضبوط مقامی پروسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں معاونت فراہم کرکے اور اہم معدنیات کی پوری ویلیو چین میں ہندوستان کی صلاحیتوں کو مستحکم بنا کر آتم نربھر بھارت کے مقاصد کو آگے بڑھانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
********
(ش ح ۔م ش ۔ص ج )
U. No.7209
Do you feel India should depend on other countries for processing the critical minerals that power our future? I certainly don’t! Lithium, nickel, cobalt…these are essential for EVs, batteries, electronics and defence. Yet, we remain heavily dependent on imports of refined materials. To address this, the Cabinet has approved a scheme to change this. Key highlights: New critical mineral processing plants. Capital subsidy to boost investment. Greater domestic value addition. Stronger supply chains. The principle is clear...India must have capabilities to build technologies of the future! https://t.co/deencvjivt
— Narendra Modi (@narendramodi) November 4, 2026