پی ایم انڈیا
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے آج ہڈا سٹی سنٹر سے سائبر سٹی تک دوارکا ایکسپریس وے، گروگرام کے لئے اسپر سمیت میٹرو کنکٹی وٹی کو منظوری دی جو کہ 28.50 کلومیٹر کے فاصلہ کا احاطہ کرے گی جس کے راستے میں 27 اسٹیشن ہیں۔
پروجیکٹ کی تکمیل کی کل لاگت 5,452 کروڑ روپے ہوگی۔ یہ 1435 ملی میٹر (5 فٹ 8.5 انچ) کی اسٹینڈرڈ گیج لائن ہوگی۔ پورا پروجیکٹ ایلیویٹیڈ ہوگا۔ بسائی گاؤں سے ڈپو تک کی کنکٹی وٹی کے لیے اسپر فراہم کریاگیا ہے۔
اس پروجیکٹ کو پروجیکٹ کی منظوری کی تاریخ سے چار برسوں میں مکمل کرنے کی تجویز ہے اور اسے ہریانہ ماس ریپڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ ایم آر ٹی سی)، جو ک منظوری آڈر جاری کئے جانے کے بعد حکومت ہند اور حکومت ہریانہ کی جانب سے 50:50 اسپیشل پرپز وہیکل (ایس پی وی) کے طور پر قائم کی جائے گی، کے ذریعہ لاگو کیا جانا ہے۔
|
ہڈا سٹی سینٹر سے سائبر سٹی تک- مین کوریڈور |
26.65 |
26 |
ایلیویٹیڈ |
|
بسائی گاؤں سے دوارکا ایکسپریس وے تک – اسپر |
1.85 |
01 |
ایلیویٹیڈ |
|
کل |
28.50 |
27 |
|
کوریڈور کا نام |
لمبائی
(کلومیٹر میں) |
اسٹیشنوں کی تعداد | ایلیویٹیڈ / انڈر گراؤنڈ |
|---|
فوائد:
پرانے گروگرام میں ابھی تک کوئی میٹرو لائن نہیں ہے۔ اس لائن کی اہم خصوصیت نئے گروگرام کو پرانے گروگرام سے جوڑنا ہے۔ یہ نیٹ ورک انڈین ریلوے اسٹیشن سے جڑے گا۔ اگلے مرحلے میں یہ آئی جی آئی ہوائی اڈے کے لئے کنکٹی وٹی فراہم کرے گا۔ اس سے علاقے میں مجموعی اقتصادی ترقی بھی ہوگی۔
منظور شدہ کوریڈور کی تفصیل درج ذیل ہے:
|
تفصیلات |
ہڈا سٹی سنٹر سے سائبر سٹی، گروگرام تک |
|
|
لمبائی |
28.50 کلومیٹر |
|
|
اسٹیشنوں کی تعداد |
27 اسٹیشن (سبھی ایلیویٹیڈ) |
|
|
الائنمنٹ نیو گروگرام علاقہ پرانا گروگرام علاقہ |
ہڈا سٹی سینٹر – سیکٹر 45 – سائبر پارک – سیکٹر 47 – سبھاش چوک – سیکٹر 48 – سیکٹر 72 اے – ہیرو ہونڈا چوک – ادیوگ وہار فیز 6 – سیکٹر 10 – سیکٹر 37 – بسائی گاؤں – سیکٹر 9 – سیکٹر 7 – سیکٹر 4 – سیکٹر 5 – اشوک وہار – سیکٹر 3 – باجگھیرا روڈ – پالم وہار ایکسٹینشن – پالم وہار – سیکٹر 23اے – سیکٹر 22 – ادیوگ وہار فیز 4 – ادیوگ وہار فیز 5 – سائبر سٹی دوارکا ایکسپریس وے تک کا اسپر تا (سیکٹر 101) |
|
|
ڈیزائن اسپیڈ |
80 کلومیٹر فی گھنٹہ |
|
|
اوسط اسپیڈ |
34 کلومیٹر فی گھنٹہ |
|
|
مجوزہ تکمیلی لاگت |
5,452.72 کروڑ روپے |
|
|
حکومت ہند کا حصہ |
896.19 کروڑ روپے |
|
|
حکومت ہریانہ کا حصہ |
1,432.49 کروڑ روپے |
|
|
لوکل باڈیز کا تعاون (ہڈا) |
300 کروڑ روپے |
|
|
پی ٹی اے ( پاس تھرو اسسٹنس لون کمپونینٹ ) |
2,688.57 کروڑ روپے |
|
|
پی پی پی (لفٹ اور ایسکیلیٹر) |
135.47 کروڑ روپے |
|
|
تکمیل کی مدت |
پروجیکٹ کی منظوری کی تاریخ سے 4 سال |
|
|
عمل درآمد کرنے والی ایجنسی |
ہریانہ ماس ریپڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن لمیٹڈ( ایچ ایم آر ٹی سی) |
|
|
فائننشیل انٹرنل ریٹ آف ریٹرن (ایف آئی آر آر) |
14.07فیصد |
|
|
اکنومک انٹرنل ریٹ آف ریٹرن (ای آئی آر آر) |
21.79 فیصد |
|
|
گروگرام کی تخمینہ آبادی |
تقریباً 25 لاکھ |
|
|
تخمینہ یومیہ سواری |
5.34 لاکھ – سال 2026 7.26 لاکھ – سال 2031 8.81 لاکھ – سال 2041 10.70 لاکھ – سال 2051 |
|
مجوزہ کوریڈور کا روٹ میپ ضمیمہ 1 کے مطابق ہے۔
یورپی سرمایہ کاری بورڈ (ای آئی بی) اور ورلڈ بینک (ڈبلیو بی) کے ساتھ قرض کا معاہدہ کیا جا رہا ہے۔
پس منظر:
گروگرام میں دیگر میٹرو لائنیں:
اے) ڈی ایم آر سی کی یلو لائن (لائن -2) – ضمیمہ 1 میں پیلے رنگ میں دکھائی گئی ہے۔
|
وشو ودیالیہ سے کشمیری گیٹ |
دسمبر 2004 |
|
کشمیری گیٹ سے سنٹرل سیکرٹریٹ |
جولائی 2005 |
|
وشو ودیالیہ سے جہانگیر پوری |
فروری 2009 |
|
قطب مینار سے ہدہ سٹی |
جون 2010 |
|
قطب مینار سے سنٹرل سیکرٹریٹ |
ستمبر 2010 |
|
جہانگیر پوری سے سمے پور بادلی |
نومبر 2015 |
یہ لائن براڈ گیج 1676 ملی میٹر (5 فٹ 6 انچ گیج) ہے۔
بی) ریپڈ میٹرو گروگرام (ضمیمہ 1 میں ہرے رنگ کے طور پر دکھایا گیا ہے)
ملٹی موڈل کنکٹی وٹی:
گروگرام کا سیکٹر وار نقشہ ضمیمہ 2 کے طور پر نیچے دیا گیا ہے۔
پروجیکٹ کی تیاری:
ضمیمہ -1

ضمیمہ-2

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ا گ۔ن ا۔
U-5915
Today’s Cabinet decision will help revolutionise transportation in Gurugram. It will improve connectivity with the Delhi airport as well. https://t.co/S22gZrRW7Q https://t.co/QW3ytSxB9Y
— Narendra Modi (@narendramodi) June 7, 2023