پی ایم انڈیا
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے 37500 کروڑ روپے کے مالی اخراجات کے ساتھ سرفیس کول/لگنائٹ گیسی فکیشن پروجیکٹوں کو فروغ دینے کی اسکیم کو منظوری دے دی ہے ۔
یہ اسکیم بھارت کے کوئلے/لگنائٹ گیسی فکیشن پروگرام کو تیز کرنے ، 2030 ء تک 100 ملین ٹن (ایم ٹی) کوئلے کو گیسیفائی کرنے کے ملک کے ہدف کو آگے بڑھانے ، توانائی کی یقینی فراہمی اور ایل این جی ( 50 فی صد سے زیادہ درآمد شدہ) ، یوریا (~20 فی صد درآمد شدہ) ، امونیا (~100 فی صد درآمد شدہ) اور میتھانول (~80-90 فی صد درآمد شدہ) جیسی اہم مصنوعات کی درآمد پر انحصار کو کم کرنے کی طرف ایک بڑا قدم ہے ۔
اس کے ساتھ ایک اہم اصلاح کے تحت ، حکومت نے غیر منضبط سیکٹر (این آر ایس) لنکج نیلامی فریم ورک میں ذیلی شعبے ’’ سِنگیس کی پیداوار ، جس سے کوئلہ گیسی فکیشن ہوتا ہے ‘‘ ،کے تحت کوئلے سے منسلک ہونے کی مدت کو 30 سال تک بڑھا دیا گیا ہے ، جو کوئلے کے گیسی فکیشن کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے طویل مدتی پالیسی کی یقین دہانی فراہم کرتا ہے ۔
اسکیم کی نمایاں خصوصیات:
کلیدی اور اقتصادی فوائد:
پس منظر:
بھارت میں ، دنیا کے سب سے بڑے کوئلے کے ذخائر (~ 401 بلین ٹن) اور لگنائٹ کے ذخائر (~ 47 بلین ٹن) موجود ہیں ۔ ملک کی توانائی کے مرکب میں کوئلے کا حصہ 55 فی صد سے زیادہ ہے ۔ گیسی فکیشن کوئلے/لگنائٹ کو ’ سنتھیسز گیس ‘ (سنِگیس) میں تبدیل کرتا ہے ، جو گھریلو طور پر ایندھن اور کیمیکل تیار کرنے کے لیے ایک وسیع تر وسیلہ ہے ، جو بھارت کو اعلیٰ قیمت کی درآمدات کا متبادل بنانے اور عالمی سپلائی میں رکاوٹوں اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے خود کو محفوظ رکھنے کے قابل بناتا ہے ۔
مالی سال 2025 ء میں ، بھارت کا متبادل مصنوعات ، جن میں ایل این جی، یوریا، امونیم نائٹریٹ، امونیا، کوکنگ کول، میتھانول، ڈی ایم ای اور دیگر شامل ہیں ، اس کی در آمدتی لاگت تقریباً 2.77 لاکھ کروڑ روپے رہی، جب کہ مغربی ایشیا کی جاری جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال نے اس کمزوری کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
نیشنل کول گیسی فکیشن مشن (2021 ء ) اور جنوری ، 2024 ء میں منظور شدہ 8500 کروڑ روپے کی اسکیم ، جس کے تحت 6233 کروڑ روپے مالیت کے 8 منصوبوں پر عمل درآمد جاری ہے ، اس کی بنیاد پر، نئی اسکیم اسی پیش رفت کو مزید مستحکم بناتے ہوئے اشتراک میں نمایاں اضافہ کرے گی۔
…
) ش ح –ا ع خ -ع ا )
U.No. 7020