پی ایم انڈیا



وزیراعظم جناب نریندر مودی نے کنفرڈیشن آف ریئل اسٹیٹ ڈیولپرز ایسوسی ایشن آف انڈیا (سی آر ای ڈی اے آئی) کی یوتھ کان 2019 میں جو تقریر کی تھی، اس کا متن حسب ذیل ہے:
‘‘سی آر ای ڈی اے آئی سے جڑے ہوئے آپ تمام نوجوان ساتھیوں اور سینئر حضرات کا بہت بہت خیرمقدم، اس یوتھ کان کا اہتمام ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب نیو انڈیا کی طرف بڑھتے ہمارے قدم نئے پڑاؤ کی طرف چل پڑے ہیں، ابھی پارلیمنٹ سیشن تمام ہوا ہے اور میں آپ کے بیچ آیا ہوں، آپ سبھی ساتھی نئے بھارت کا نئے اور بلند سپنوں کی ایک اہم کڑی ہیں۔ آپ عام آدمی کے اپنے گھر کے خواب کو پورا کرنے میں مصروف ہیں’’۔
ساتھیو! گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہمارے ہر اہل وطن نے سی آر ای ڈی اے آئی سے اپنے گھر کی جو امیدیں وابستہ کررکھی ہیں، جو خواب دیکھ رکھے ہیں، انہیں عملی تعبیر دینے میں مصروف ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ 23 ریاستوں کے 205 شہروں میں آپ کی تنظیم کی توسیع ہوئی ہے،آپ کے 12 ہزار سے زائد ممبران ہیں۔جس رفتار سے ملک میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں توسیع ہورہی ہے، اسی طرح آپ کی تنظیم بھی آگے بڑھی ہے، مجھے خوشی ہے کہ آپ نے محترم اٹل بہاری واجپئی جی کے آشیرواد سے اپنا سفر شروع کیا تھا اور ان کے مبارک دعاؤں سے آج آپ اس ترقی کے اس اعلی مقام پر پہنچ سکے ہیں۔
ساتھیو! محترم اٹل بہاری واجپئی جی نے سب سے پہلے شہروں میں غریبوں اور درمیانہ درجے کے کنبوں کے گھروں کا سپنا پورا کرنے کا ایک بیڑا اٹھایا تھا۔ اٹل جی نے ان شہروں میں جھگیوں میں رہنے والوں کو گھر دینے کے لیے 2001 میں لکھنؤ میں بالمیکی امبیڈکر آواس یوجنا شروع کی تھی۔ یہی نہیں بلکہ یہ اٹل جی کی ہی سرکار تھی جس نے ملک میں گھروں کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے ہاؤسنگ اور اربن ڈیولپمنٹ سیکٹر کو پرائیویٹ سیکٹر کے لیے کھول دیا تھا۔ آپ حضرات کو یاد ہو یا نہ ہو، مجھے معلوم نہیں۔
ساتھیو! مرکز کی موجودہ قومی جمہوری اتحاد سرکار اٹل جی کی کوششوں کو توسیع دینے میں مصروف ہے۔ دیش کا غریب ہو، درمیانہ درجے کا ہو، اس کا اپنے گھر کا خواب پورا ہو،اس کے لیے ہم نے منصوبہ بندی کی ہے کہ 2022 میں جب ہم آزادی کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہوں گے، اس سال تک ہر بے گھر کو اس کا اپنا گھر یقینی طور پر ملے، اس سمت میں تیزی سے کام کیا جارہا ہے۔ پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت آج ملک کے گاؤں اور شہروں میں تقریبا ڈیڑھ کروڑ مکانات غریبوں کے لیے تعمیر کیے جاچکے ہیں، جس میں سے تقریبا 15 لاکھ شہری غریبوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔
ساتھیو! میں جب بھی مکانات کی تعمیر کا اعداد وشمار دیتا ہوں تو مخالف سیاستداں اور میڈیا میں میرے کچھ زیادہ ہی چاہنے والے کچھ زیادہ ہی ہیں، مجھ پر ان کے پیار کی برسات ہوتی رہتی ہے، وہ پوچھتے ہیں کہ اس میں نیا کیا کیا ہے؟ یہ اسکیم تو پہلے بھی جاری تھی، ہاں ضرور چلتی تھی، سچائی ہے کہ پردھان منتری آواس یوجنا اور سابقہ رہائشی اسکیموں میں سب سے بڑا فرق تو نیت کا ہے۔
ساتھیو! یہ اسکیم ایسی ہے کہ جس میں کسی نام کو امر بنانے کی کوشش نہیں ہے۔ سکہ مارنے کی کوشش نہیں ہے، جو بھی وزیراعظم بنے گا چلتا رہے گا۔ کسی نامدار کی پبلسٹی کے لیے یہ اسکیم نہیں ہے۔ جب آپ کسی اسکیم سے نام کا یا وفات کا جذبہ نکال دیتے ہیں، تو آپ کی پالیسی واضح ہوجاتی ہے اور کرپشن اپنے پرائے میرا تیرا کا سارا جذبہ ختم ہوجاتا ہے۔
اب سائنسی طریقے سے تکنیک کا استعمال کرکے استفادہ کنندگان کا انتخاب کیا جاتاہے، کسی کے کہنے پر لسٹ میں نام کاٹنے یا جوڑنے کا جو کام ہوتا تھا،اس کی ایک بڑی دکان چلتی تھی، بڑے مشہور کھلاڑی ہوتے تھے۔ دراصل مکان بنانے والوں سے زیادہ مکان دلانے والے کما لیتے تھے۔ اب یہ دکانیں بند ہوگئی ہیں۔ ممکن ہے کہ آپ کو بھی اس سے کوئی تکلیف ہو، لیکن اب آپ نے وزیراعظم ہی ایسا بنایا تو کیا کیا جائے۔
ساتھیو!تیسرا کام محاسن کا ہے، خوبیوں کا ہے، پہلے جو گھر بنتے تھے، ان کا نشانہ اس میں رہنے والوں کی سہولت نہیں، بلکہ بڑے نامداروں کی تشہیر اور پبلسٹی ہی ہوتی رہتی تھی۔ اس لیے صرف چہار دیواریں کھڑی کی جاتی تھیں۔ ابھی میں کچھ دنوں پہلے میں ٹی وی رپورٹ دیکھ رہا تھا، مجھے معلوم نہیں کہ آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا یا نہیں۔ یوپی میں امیٹھی نام کا ایک مقام ہے، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ ملک میں نامدار کنبے کے کسی نہ کسی رکن کو وہاں کے لوگوں نے بھرپور پیار دیا ہے، آنکھیں بند کرکے پیار کیا ہے، کبھی کوئی سوال نہیں پوچھا ہے۔ اسی امیٹھی کی رپورٹ میں ایک دلت بستی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو دس برس قبل جو ممبر پارلیمنٹ کے مکانات دلوائے گئے،اس نے اپنا نام بھی ہرجگہ جوڑ دیا، لیکن آج صورتحال ایسی ہے کہ جن دیواروں پر نام لٹکائے گیے تھے، دس سال کی مدت میں وہ دیواریں بھی نہیں بچیں۔
ساتھیو! اب انہیں بستیوں میں پردھان منتری آواس یوجنا کے مکانات تعمیر کیے جارہے ہیں۔ یہ گھر پہلے سے بھی بڑے ہیں۔ ان میں ٹوائلٹ بھی ہے، کچن میں ایل پی جی گیس کا کنکشن بھی ہے اور بجلی کا کنکشن بھی ہے۔ سرکار کی متعدد اسکیموں کی شمولیت ہے اس میں۔اب غریب کو ادھر ادھر بھاگنے کی ضرورت نہیں۔
ساتھیو! چوتھی تبدیلی جو پہلے کے مقابلے میں کی گئی ہے، وہ فرق ہے رفتار کا۔ اسکیل کا۔ پچھلی سرکار کے دس برسوں میں شہری غریبوں کے لیے 13 لاکھ گھر منظور ہوئے تھے۔ لیکن گزشتہ ساڑھے چار برسوں کی مدت میں 73 لاکھ، یعنی چھ گنا زیادہ مکانات تعمیر کیے گئے ہیں۔ پچھلی سرکار کے دس برسوں میں شہری غریبوں کے گھروں کے لیے تقریبا 38 ہزار کروڑ روپے منظور ہوئے تھے۔ لیکن گزشتہ ساڑھے چار برسوں کی مدت میں چار لاکھ کروڑ روپے کی منظوری دی جاچکی ہے، یعنی پچھلی سرکار کے مقابلے دس گنا زیادہ۔ پچھلی سرکار کے دس برسوں کے دوراقتدار میں غریبوں کے لیے 10 لاکھ مکان تیار ہوئے تھے، جبکہ گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں تقریبا 15 لاکھ مکان تعمیر کئے جاچکے ہیں۔ یعنی تقریبا دوگنا زیادہ مکانات تعمیر کیے جاچکے ہیں۔ یہی وہ رفتار ہے جس کے دم پر ہم 2022 تک ہر بے گھر کو چھت دینے کی بات کررہے ہیں۔ ہواہوائی دعوؤں والا کام ہمارا نہیں ہے۔
ساتھیو! غریبوں کے گھر وں کے سپنوں کو پورا کرکے ہی ہم دم لیں گے۔ ملک کے درمیانہ درجے کے زمروں کی خاطر گھر کے لیے بھی کسی سرکار نے پہلی بار سوچا ہے۔ ہم نے اس کے لیے کریڈٹ لنکس اسکیم یعنی سی ایل ایس ایس میں توسیع کی ہے۔
پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت درمیانہ درجے کے ان کنبوں کو جن کی آمدنی 18 لاکھ روپے سالانہ ہے، انہیں ہوم لون کی شرح سود میں رعایت دی جارہی ہے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے۔اس اسکیم کے تحت گھر خریدنے والوں کو پانچ ساڑھے پانچ لاکھ روپیہ ، اور جیسا کہ ابھی مجھے بتایا گیا ہے کہ چھ ساڑھے چھ لاکھ روپے تک بچت ہونے والی ہے۔ اب یہ ایک درمیانہ درجے کے کنبے کا گھر بنےاور اس کے بجٹ میں چھ ساڑھے چھ لاکھ روپیہ بچ جائے،یہ درمیانہ درجے کے کنبے کی بہت بڑی طاقت ہوتی ہے۔ ہم نے پچھلے سال ہی ایل آئی جی اور ایم آئی جی کے تحت آنے والے گھروں کا سائز بھی بڑھا دیا ہے۔
ساتھیو! درمیانہ زمرے کے بہن بھائی، خاص طور پر ہمارے نوجوان ساتھی اپنے گھر کے سپنے کو پورا کریں، اس کے لیے موجودہ بجٹ میں کچھ خاص ایلوکیشنز کئے گیے ہیں، سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ پانچ لاکھ روپے تک کے ٹیکس سلیب پر انکم ٹیکس زیرو کردیے گئے ہیں، اس سے نوجوان ساتھی اپنے کیرئیر کے ابتدائی دور میں ہی اپنا گھر خریدنے کے لیے اور زیادہ پرجوش ہوجائیں گے۔ٹیکس معافی کا نقصان سرکار کو ہوا، لیکن فائدہ آپ کو ہوا۔ لیکن تالی آپ کے دم والی نہیں ہے۔ یہ دم والی کیوں نہیں تھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ پانچ لاکھ والے رینج سے باہر ہیں۔ آپ سمجھ نہیں سکے کہ پانچ لاکھ روپے جانے سے جو پیسہ بچا ہے، وہ گھر خریدنے میں کام آنے والا ہے، وہ آپ کی جھولی بھرنے والا ہے۔
پہلے ایک لاکھ 80 ہزار روپے تک کے کرایے پر ٹیکس نہیں کٹتا تھا، لیکن اب یہ حد بڑھا کر دو لاکھ چالیس ہزار کردی گئی ہے، پھر آپ کی تالی میں دم نہیں ہے۔ کیونکہ آپ سمجھ ہی نہیں سکے، آپ کو کسی نے سمجھایا ہی نہیں کہ اس بجٹ سے ہاؤسنگ اسکیم میں کتنا فائدہ ہوا ہے؟اس کے لیے وزیراعظم کو خود سمجھانا پڑ رہا ہے۔ اچھا اب سمجھ آیا کیا کیا، اگر اس کو ٹیکس فری کرایا گنا جائے گا تو اس کا نیا مکان بنانا، زیادہ مکان بنانا، کرایے پر دینا، اس کے لیے کاروبار کا حصہ بن جائے گا۔ تو مکان کون بنائے گا، وہ مکان کس سے خریدے گا مودی سے، اچھا ہوا کہ میں آپ لوگوں سے مل لیا، ورنہ میں تو یہی سمجھتا تھا کہ میرا بجٹ سب کی سمجھ میں آ گیا ہے۔ پارلیمنٹ میں ہمیں سمجھانے میں تکلیف ہوتی تھی،اس کے علاوہ جو کنبے اپنی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے دو گھر خریدتے تھے، ان کو کرایے کے تخمینے پر انکم ٹیکس دینا پڑتا تھا، اب انکم ٹیکس نہیں دینا ہوگا۔ اس کا مطلب کیا ہے،معلوم نہیں۔ آپ کو تو بس اتنا معلوم ہے کہ جی ایس ٹی کا کیا ہوا، آپ کا کانٹا تو جی ایس ٹی میں ہی اٹکا ہوا ہے۔
اسی طرح جو لوگ پرانے گھر کے بدلے پرانا گھر بیچ دیتے ہیں، ان کو لگتا ہے کہ اب اس جگہ پر اچھے پیسے مل جائیں گے، تھوڑی دور جائیں گے تو سستے میں گھر مل جائے گا۔ لیکن اب وہ سوچتے ہیں کہ بچے بڑے ہورہے ہیں،ایک گھر سے کام نہیں چلے گا، تو دو چاہیے، ایک گھر زیادہ قیمت پر بیچ کر بدلے میں دو چھوٹے گھر بناتے ہیں۔ خریدنا چاہتے تھے، اب ان کو بھی ٹیکس میں بڑی راحت دی گئی ہے، اب کیپٹل گینس ٹیکس بچانے کے لیے لوگ گھر کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم ایک کی جگہ دو گھروں میں لگا سکتے ہیں۔ اب تک گھرکی فروخت سے ملی رقم کو سال بھر کے اندر دوسرے گھر کو خریدنے پر کیپٹل گینس ٹیکس چھوٹ پہلے ایک گھر پر ملتی تھی، وہ دو گھروں کو ملنے والے ہی، اب یہ آپ کا کام ہے کہ جہاں پر آپ پرانا بنگلوں کو لے کر فلیٹ کی اسکیم رکھتے ہو اس کو سمجھاؤ، مجھے اس ایڈوائز کا کوئی ٹیکس نہیں لگے گا، فکر مت کیجیے۔
ساتھیو!ہر بھارتی کے اپنے گھر کے تئیں ہمارے اسی جوش میں آپ سے وابستہ سیکٹر کا روشن مستقبل بھی چھپا ہوا ہے۔ ہندوستان میں تیزی سے نیو میڈل کلاس کا دائرہ بڑھ رہا ہے۔ اہلیان وطن کا خواب اور عزائم غیرمعمولی بلندیوں پر ہیں، ان انتخابوں کا آغاز اپنے ہی گھر سے ہوتا ہے۔
ساری دنیا کی رپورٹیں آپ نے پڑھی ہوں گی کہ ہندوستان میں لوگ بہت تیزی سے غریبی کے دائرے سے باہر آرہے ہیں اور یہ جو نیو میڈل کلاس ہے، اس کے اسپریشنس بھی بہت ہیں۔ آپ اس کی نفسیات اور حالات کو سمجھ کر اپنی اسکیم لے کر جاؤ، آپ کو معلوم ہو گی نرما کی مثال، بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں تھیں، اس نے سائیکل پر سستا بیچ کر ایساصابن پاؤڈر بنا دیا کہ سارے مڈل کلاس اور لوور مڈل کلاس کے مارکیٹ پر قبضہ کرلیا۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کو چیلنج کردیا تھا۔ آپ کےلیے وقت ہے کہ آپ کی اسکیم کا ٹارگیٹ نیو مڈل کلاس ہونا چاہیے۔ اگر میرا بزنس ایڈوائس غلط ہو، تو میرے بینک کھاتے میں جو کچھ بھی ہے، وہ آپ کا۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ کو کوئی انٹریسٹ نہیں ہے، کیونکہ آپ کو معلوم ہے کہ اس میں کچھ ہے ہی نہیں۔
آپ اس نیو مڈل کلاس کے اسپریشنس کو سمجھئے، اپنی مارکیٹ اور اسٹریٹجی کو اور بزنس اسٹریٹجی کو اس سے جوڑیے۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ آپ کی کمپنی کو خواہ دو سال یا پانچ سال پرانی ہی کیوں نہ ہو۔ آپ دس بیس سال بعد اس سے آگے نکل جائیں گے۔
ساتھیو! مرکزی سرکار گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران ریئل اسٹریٹ سیکٹر میں بدلاؤ کے لیے مسلسل کوشش کررہی ہے۔ ایز آف ڈوئنگ بزنس کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ کچھ غلط روایات کو روکنے کے لیے بھی کوششیں کی جارہی ہیں۔ رئیل اسٹیٹ کو گزشتہ دہائیوں میں سب سے زیادہ مسئلہ اعتماد میں کمی رہی ہے۔ ساڑھے چار برس پہلے تک صورتحال یہ تھی کہ درمیانہ درجے کا کنبہ گھر میں پیسہ لگانے سے پہلے 100 بار سوچتا تھا۔ ہم نے خود دیکھا ہے کہ لاکھوں لوگوں کو اپنے گھر کے لیے کورٹ کچہری کے کتنے چکر لگانے پڑتے تھے۔ خون پسینے کی کمائی کچھ لوگوں کی بے ایمانی کی وجہ سے پھنس گئی تھی۔ اسی بھروسے کو لوٹانے کے لیے مختلف طریقوں سے سلسلے وار متعدد کوششیں کی گئی ہیں۔ نوٹ بندی کے فیصلے سے سب سے زیادہ فائدہ رئیل اسٹیٹ کو ہوا، جو لوگ غلط پیسے سے، بدعنوانی کی کمائی سے پھلنے پھولنے کی سوچ رہے تھے، ان کے لیے راستے بند ہوگئے، اب اس سیکٹر میں وہی لوگ کامیاب ہوپائیں گے، جو ایمانداری سے منافع کو اوپررکھیں گے۔
ساتھیو! رئیل اسٹیٹ ریگولیشن ایکٹ کے وسیلے سے خریدار اور آپ کے درمیان کا بھروسہ مضبوط بنانے میں اس سرکار نے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اگر آپ گہرائی سے اس مقصد کو دیکھیں گے تو آپ اسے محسوس کرسکیں گے۔ میں چاہوں گا کہ آپ کے ہاتھ میں ان ساری چیزوں کی ورک شاپ ہو، آپ کو ایجوکیٹ کیا جائے۔ کہ آخر فیصلوں نے آپ کی طاقت اور آپ کی حیثیت کتنی بڑھا دی ہے۔
آج آپ دنیا کے کسی بھی ملک میں جاتے ہیں، پہلے بھی جاتے ہوں گے، آپ تو چھٹیا باہر ہی مناتے ہو، آپ تھوڑ یہ وہائٹ پیپر ہیں، جو ٹورازم ہیں اس میں آپ جاتے ہوں گے، پہلے جو ملتا ہوگا، آپ ہاتھ ملاتے ہوں گے، آپ کی بات میں جانتا ہوں، آپ فکر مت کیجیے، پہلے آپ غیرملکوں میں کہیں جاتے ہوں گے، کسی سے ہاتھ ملاتے ہوں گے، ذرا اچھی سی پرسنالٹی، خوبصورت جیکٹ ویکٹ پہنا ہوگا، ٹائی اچھی ہوگی، وہ بھی پہنی اور جیسے ہی کہاں سے آئے ہو، تو دھیرے دیھرے ہاتھ ڈھیلا پڑ جاتھ ہوگا۔ اور آپ آج جیسے ہی کہہ دوگے انڈیا، وہ ہاتھ چھوڑ تا نہیں ہے آپ کا،ایسا ہوتا ہے کہ نہیں ہوتا ہے دنیں میں جہاں جاتے ہیں ، آپ کا کا ماتھا اونچا رک سکتے ہیں کہ نہیں رکھ سکتے ہیں۔ دنیا آپ سے آنکھ ملا کرکے بات کرنے میں بے چین ہیں کہ نہیں ہیں۔ کیسے ہوا۔ فیصلے کا عمل ہوتا ہے، ایک طریقہ کار ہوتا ہے، جس کا سیدھا تعلق آپ سے نہیں۔ لیکن اس کا ایگو ایسا ہوتا ہے جیسے ہر ہندوستانی آن بان شان بڑھ جاتی ہے۔
آج رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی یعنی ریرا والا قانون،یہ سب ریرا کی قانون کی پابندی کرنے والے لوگ ہیں، آپ ہنس رہے ہیں، مجھے آپ کی ہنسی سے کچھ سمجھ میں آرہا ہے۔ لیکن مجھے یہ یقین ہے کہ آپ کے دل میں کچھ ارادہ ہے، اس مشن میں جانے کا۔ میں مانتا ہوں کہ ابھی آپ لوگوں میں سے کچھ کے پیر کچے ہوں گے، لیکن اب آپ کا دل پکا ہوگیا ہوگا۔ پختہ زمین پر پیر رکھنے کا ۔ میں گزشتہ کل پر گزارا کرنے والا انسان نہیں ہوں۔آنے والے کل پر یقین رکھتا ہوں، نئی عمارت کھڑی کرنے پر یقین کرتا ہوں۔ یعنی ریرا 28 ریاستوں میں نوٹیفائی کیا جا چکا ہے۔ 21 ریاستوں میں تو ٹریبونل بھی کام کررہے ہیں۔ آج ملک میں تقریبا 35 ہزار رئیل اسٹیٹ پروجیکٹ اور 27 ہزار رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کا اندراج کیا جاچکا ہے۔ ان پروجیکٹ کے تحت لاکھوں نئے مکانات تعمیر کیے جارہے ہیں۔ اس سے بہت بڑا فائدہ ہوگا۔ میں آپ کو ایڈوائز نہیں دے رہا ہوں لیکن اگر آپ مجھے اپنا دوست مانتے ہیں تو کڑوی بات بولنا چاہتا ہوں۔ دیکھئے یہ ایک ایسا میدان ہے جو انسان کی زندگی کے ایک انتہائی بلند عزم سے جڑا ہوا ہے، یعنی گھر بنانا۔ یہ بات انسان کے دل میں آخر تک رہتی ہے۔ پہلے یہ گھر بنے، پھر یہ ہے تو اچھا بنے،یہ ایک ایسا نظام ہے جس کا کوئی آخری سرا نہیں ہے۔ آپ اس سے جڑے ہوئے ہیں۔
میں مانتا ہوں کہ آپ کی یہ جو کوششیں ہیں، میں جکسے کو بچپن سے جانتا ہوں اور مجھے بھروسہ بھی ہے۔میں اس کے لوگوں سے بہت باتیں کرتا تھا، تب میں سیاست میں نہیں تھا۔لیکن میں ان سے کہتا تھا کہ اپنی چھوٹی عمر میں ڈائمنڈ کٹنگ اور پالیسنگ کے لیے آئے، اب ایکسپورٹر بن گئے، کمپنی کے مالک بن گئے،پانچ پانچ دس دس ہزارکروڑ کا آپ کا ایکسپورٹ ہوتا ہے،آپ کا بڑا کاروبار چل رہاہے لیکن آپ کی شبیہ کیوں بدلتی نہیں ہے۔یہ میں ان سے لگاتار پوچھتا تھامیں آج سے بیس پچیس سال پہلے کی بات بتا رہا ہوں، یہ بات میں لگاتار کہتے کہتے اور آپ دیکھئے پچیس سال پہلے ڈائمنڈ سے جڑے لوگوں کی جو یعنی کوئی مکان کرایے پر نہیں دیتا تھا میں بتاؤں، آپ مانو گے نہیں، اس بات کو پچیس تیس سال پہلے ماکھن کرایے پر دینے سے پہلے لگوں کو لگتا تھا کہ پتہ نہیں وہ آج کوئی بھی فنکشن ہوگا تو منچ پر جو خاص ہوں گے تین ڈائمنڈ والے ہوتے ہیں، عزت کیسے بنی انہوں نے بالکل سسٹمیٹک کوشش کیں۔ میں بھی ان کے ساتھ جوجھتا رہا۔میں مانتا ہوں آپ کا علاقہ ایسا ہے ، آپ پڑھے لکھے ہیں یہ بھی ضروری نہیں ہے، آپ بہت پیسے والے ہوں یہ بھی ضروری نہیں ہے۔آپ ایک ایسی نوجوان نسل سے ہو۔ آپ کی ترجیح ہونی چاہیے ، آپ کا وقار زیادہ اہم ہے۔ آپ جو بھی مکان بناتے ہو،ہوسکتا ہے کہ آپ کی پہچان ہوجائے۔
ساتھیو! اسی طرح کنسٹریکشن پرمٹ سمیت تمام دوسری پرمیشن اب پہلے کے مقابلے تیزی سے مل رہی ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ایز آف ڈوئنگ بزنس کی درجہ بندی میں ملک نے 67 رینک کی چھلانگ لگائی ہے۔
دنیا کے لیے یہ بات بہت بڑی حیرت ناک ہے کہ اتنا بڑا ڈیولپمنگ کنٹری اتنی بڑی جمپ کیسے لگا سکتا ہے۔مجھے عالمی بینک کے پرسیڈنٹ نے فون کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ تصور نہیں کرسکتے تھے کہ اتنا بڑا ڈیولپمنگ کنٹری اپنے معینہ نشانے سے اس قدر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے ٹیم کو یہاں مجھے میری ستائش کے لیے بھیجا تھا۔عالمی بینک کی پوری ٹیم آئی تھی، ان چیزوں کا فائدہ اگر آپ نہیں لیتے ہیں تو ملک کا بہت نقصان ہوگا اور اس لیے میں چاہتا ہوں کہ موقع مت چھوڑیے۔
جی ایس ٹی نے بھی ریئل اسٹیٹ کے کاروبار کوڈیولپرس اور خریدار دونوں کے لیے بہت آسان کردیا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ پہلے کنسٹریشن سیکٹر میں 15 سے 18 فیصد ٹیکس لگتا تھا، اوپر سے پینٹ، ٹائلس، ہوتی تھی، ٹوائلٹ ہوتا تھا، ساور ہوتا تھا، کیبل ہوتا تھا، وائر ہوتا تھا۔ایسی تمام چیزوں پر 30 فیصد سے زیادہ ٹیکس لگا کرتا تھا۔
ساتھیو! جی ایس ٹی کے نافذ ہونے کے بعد درمیانہ درجہ کے گھروں کے لیے تو ٹیکس 8 فیصد اور دوسرے گھروں کے لیے 12 فیصد کمرشیل پراپرٹی پر بھی ٹیکس بہت کم ہوا ہے۔ اسی طرح کنسٹرکشن میٹریل پر بھی جی ایس ٹی کو بہت کم کیا گیا ہے۔ پینٹ، وائر، الیکٹریکل فٹنگ سے جڑا سامان، سینیٹری ویئر، پلائی ووڈ، ٹائل جیسے بہت سے سامان پر جی ایس ٹی 28 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد لایا گیا ہے، وہیں اینٹوں پر جی ایس ٹی 12 فیصد سے گھٹا کر 5 فیصد کیا گیا ہے۔مجھے معلوم ہے کہ اب لوگ تالی نہیں بجائیں گے۔ مجھے معلوم ہے ۔ میں سنانے نہیں آیا ہوں، میں آپ کو سمجھانے آیا ہوں اور مجھے اتنا کافی ہے کہ کیا چل رہا ہے۔
ساتھیو! آج سبھی درمیانہ درجہ کے لیے صحیح قیمت پر اچھے گھر بنا پانا۔ اس کے لیے انکم ٹیکس میں بھی چھوٹ دی گئی ہے۔ سال 2016 میں سیکشن 80 آئی بی اے جوڑا گیا تھا، جس کے تحت افرڈیبل ہاؤسنگ پروجیکٹ کے منافع میں صد فیصد ڈیڈیکشن کا ضابطہ وضع کیا گیا ہے۔ اب ایسے پروجیکٹ کو پورا کرنے کا وقت تین برس سے پانچ برس کیا گیا ہے۔ اسی سال افرڈیبل ہاؤسنگ پروجیکٹ کے اپروول کے لیے ٹائم پیریڈ کو 31 مارچ 2019 کے بجائے ایک سال یعنی 31 مارچ 2020 تک کردیا گیا ہے۔ انسولڈ انوینٹری کو ذہن میں رکھتے ہوئے نیشنل رینٹل انکم پر اب دو سال تک ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔
ساتھیو! ریئل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے دھن کی کمی نہ ہو، اس کے لیے بھی مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔ یہ تمام کوششیں درمیانہ درجے کے کنبوں کے گھروں کی انفراسٹراکچر کو رفتار دینے کے لیے کی جارہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اس سیکٹر میں کروڑوں ساتھی کام کررہے ہیں جن میں بیشتر غیرمنظم سیکٹر کا حصہ ہیں۔ گھر کی تعمیر میں مصروف ان کنبوں کے لیے سرکار ایک بہت بڑی اسکیم بھی اس بجٹ میں لائی ہے۔ اب 15 ہزار روپے مہینے سے کم کمانے والے ان ساتھیوں کو 60 سال بعد تین ہزار روپے مہینے پنشن دیا جانا طے کیا گیا ہے۔ اس اسکیم سے جڑنے کے لیے ان مزدور ساتھیوں کو اوسطا 100 روپے ماہانہ جمع کرانے ہوں گے اور اتنی ہی رقم مرکزی سرکار ان کے پنشن کھاتے میں جمع کرے گی۔
ساتھیو! میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ اپنے بزنس میں ملک کے درمیانہ درجے کے سپنے کو پورا کرنے کو بھی ذہن میں رکھیں۔ ان کو اس پنشن اسکیم سے جوڑنے کے لیے اپنی طرف سے بھی تعاون کریں۔ اگر آپ اپنے ساتھیوں کے لیے اتنا سا کام کرلیں، اگر اس کی زندگی میں کوئی بحران آئے گا تو دو دو لاکھ روپے کے انسورنش سے ا س کے کنبے کو کتنی بڑی طاقت ملے گی۔ ایسے پرواروں کو اب تک ہزاروں کروڑ روپے پہنچ چکے ہیں اور کروڑوں لوگ اس سے جڑ چکے ہیں۔
ساتھیو! آپ جیسے نیکسٹ جنریشن لیڈر ہی نیو انڈیا کو محفوظ کریں گے، آپ کے نئیے نظریات اور آپ کی طاقت کے بل پر ہی میں بڑے اور مشکل نشانے معین کرپاتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ یہ مضبوطی ملک کو اور مضبوط بنانے میں کام آنے والی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ گھروں کو اور افورٹیبل کیسے بنایا جاسکتا ہے۔ اس پروگرام میں گہری غوروخوض کی جائے گی اور نئے آئیڈیاز سامنے آئیں گے۔ خاص طور سے ہاؤسنگ کے سیکٹر میں پائیدار ترقی اور جدت طراز ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے، اس پر یہاں گفتگو کی جائے گی۔
گرین اور کلین انرجی، انرجی افینشی، واٹر کنزرویشن، کنسٹریکشن میٹریل کا ریوز اور اپارٹمنٹس میں جدید ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کو بڑھاوا دینا بھی آپ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی کنسٹریکشن کے لیے نئی ٹیکنالوجی کا موثر اوروسیع تر ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے۔
پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت تقریبا 12 لاکھ گھروں کی تعمیر نئی ٹیکنالوجی کے وسیلے سے کی جارہی ہے۔ ہاؤسنگ سیکٹر میں اس ٹیکنالوجی کو توسیع دینے سے کنسٹریکشن کاسٹ تو کم ہوگی ہی، گھروں کی تعمیر بھی تیزی سے ہوسکے گی۔ دنیا کی بیسٹ ہاؤسنگ ٹیکنالوجی کی شناخت کرنے کے لیے گلوبل ہاؤسنگ ٹیکنالوجی چیلنج سے وابستہ کانفرنس بھی اگلے ماہ نئی دلی میں ہونے جارہی ہے، آپ سبھی اس چیلنج کا حصہ بن سکتے ہیں۔
ساتھیو! آپ سے ملک کو اپنے گھر کا خواب سجوئے ہر عام آدمی کو بڑی امیدیں ہیں۔ آپ ان امیدوں پر کھرے اتریں گے، اسی یقین کے ساتھ میں آج آپ کو بہت کچھ بتاتارہا تھا۔ لیکن میں کچھ اور باتیں بھی جوڑنا چاہتا ہوں۔میں ابھی جکسے سے پوچھ رہا تھا کہ آپ کے یہاں اتنے سارے نوجوان ہیں، کوئی کمپٹیشن وغیرہ ہوتا ہے کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم نے سوچا نہیں ہے، میں آپ کو ایک تجویز دیتا ہوں کیا سی آر ای ڈی اے آئی کی تنظیم کنسٹریکشن کی دنیا کی ٹیکنالوجی میں جو انوویشن کرے، ایسا انوویشن کرنے والے کچھ اسٹارٹ اپس ہوں، آپ کے یہاں کو لوگ کام کرنے والے ہیں، انہوں نے اپنے طریقے سے کچھ نیا کیا ہو، کوئی کلائمٹ کے حوالے سے اپنے کنسٹریکشن کی دنیا کو آگے بڑھاتا ہو، کچھ پروانوائرنمنٹ ہو،آپ کے یہاں ایسے لوگ ہوں جو ویسٹ میں بیسٹ بنانے کی تکنیک استعمال کرتے ہوں اور ایسے ویسٹ کو استعمال کرکے کنسٹریکشن کے کام میں لاتے ہوں، ویسٹ میں سے ویلتھ کریٹ کرتے ہوں، ایسے طریقے جو آپ کے ہی علاقے سے جڑے ہوئے ہوں، ان کو جوڑنے کی انوویشن کی نئی پریکٹسس کا کمپٹیشن کرکے آپ اپنی ایونٹ میں ایک جیوری بناکر ایسے لوگوں کو پرائز دینے کی منصوبہ بندی کی جانی چاہیے۔
دوسرا ایک کام ، میں سمجھتا ہوں کہ شاید آپ کو اچھا لگے گا کیونکہ آپ کے یہاں جو ویمن آرگنائزیشن ہیں، وہ اس میدان میں کام کرنے والی خواتین ہیں، ان کی تنظیم ہے، لیکن زیادہ تر ایسی تنظیمیں ہوں تو ان کی بیویاں یا کنبے کے لوگ کچھ تنظیموں میں ہوتے ہیں، ہوسکے تو ایسی ایک اور تنظیم بنائی جانی چاہیے، جس میں آپ کے کنبے کی خواتین ہوں، وہ خواتین جو بزنس میں نہیں ہیں، گھر کا کام کرتی ہیں۔ گھر سنبھالتی ہیں۔ میں نے ایک تجربہ کیا تھا، جب میں گجرات میں وزیراعلی تھا، ہم نے جھگی جھونپڑی کی جگہ پر فلیٹ بنائے، زبردست کام کیا، لیکن میں تجربہ کررہا تھا۔ میں نے ایک مووی دیکھی تھی، کمل ہاسن اس میں کلاکار تھے اور وہ کہیں جھونپڑی میں رہتے تھے، بغل میں ریل جاتی تھی، تو ان کو گاڑی کی آواز سے ہی نیند آتی تھی، جب ان کا گھر بدل گیا تو اور گاڑی کی آواز آنی بند ہوگئی، تو ان کو نیند نہیں آرہی تھی۔ انہوں نے گاڑی کی آواز ٹیپ کی، وہ اسی ٹیپ کو آن کرکے سوتے تھے۔ انہیں گاڑی کی آواز سے نیند آتی تھی۔
کہنے کا مطلب ہے کہ جو غریبی میں زندگی گزارتا ہے، وہ نئے مکان میں جاتا ہے، تو وہ اپنے آپ کو ایڈجسٹ نہیں کرپاتا ہے، اگر اس کو مناسب وقت پر رہنمائی مل جائے،اس کی تربیت ہوجائے تواس کی زندگی بدل جائے گی۔ دیواریں بدلنے سے زندگی نہیں بدلتیں۔ اس کے لیے میں نے ایک این جی او سے بات کی اور کیا کیا۔ یہ جو غریب خاندان کے لوگوں کو جو پکے گھر ملے، تو میں نے ان کے خاندانوں کی تربیت شروع کروائی۔ ٹوائلٹ کا استعمال کیسے کریں، ان کو معلوم نہیں تھا۔ وہ سوچتے تھے کہ یہ ہے کیا۔ پہلے تو وہیں سے پوچھتے تھے کہ دیکھا نہیں تھااور میں بتاؤں، ہمارے ملک میں ایسی بہت سی باتیں ہیں جو ہمیں سننے میں بھی حیرت ہوتی ہے۔ کیونکہ ہم نے اس زندگی کو جیا نہیں ہے جی، ہمیں پتہ نہیں ہے، تو ان کو سکھایا گیا یہ ٹوائلٹ ہوتا ہے۔ ایسے استعمال کرتے ہیں۔ نل کو ایسے کرنا، بند کرنا، ڈھنگنا کرنا، کھڑکی ہے،ایک تو شیشے والی کھڑکی ہے تو کیا کروگے، پرانی ساڑی ہے، چلو پردہ بنا لیتے ہیں۔ آپ کے گھر میں کوئی آئے گا، تو پیر پونچھ کر آنا چاہیے۔ اچھا چلو پرانے گھر میں کوئی تھیلی ویلی ہے، تو اس میں سے اپنا کوئی بنا دیتے ہیں۔ ایسی چیزوں کا ایک این جی او کے ذریعے میں نے تربیت شروع کرائی۔ تین ہفتے وہ لگاتے تھے، ان کا اعتماد اتنا بدل گیا کہ پھر وہ پیسے بچانے لگے۔ پھر ایک آدھ پلاسٹک کی چیئر لے آئے، پھر ایک دری لے آئے، پردہ ٹھیک کرنے، ان کو زندگی جینے کا مزہ آنے لگا۔ پھر ان کا من کر گیا، ریڈیو لائیں گے، ٹی وی لائیں گے۔
اگر آپ مکان بنانے کے اسکیم کے ساتھ ساتھ اپنے ہی اہل خانہ کا کوئی این جی او بناکرکے یہ بعد میں جیناکیسے جینا کہاں ہوگیا،اب جینا کیسے، یہ ایک آپ اگر ایک قدم آگے چلیں جائیں، ان خاندانوں کی تربیت کریں، جینا سکھائیں ان کو، آپ دیکھئے ان کو اس مکان بنانے سے زیادہ اس کی بدلتی ہوئی زندگی، آپ کی زندگی کو سب سے زیادہ اطمینان دے گی۔ سب سے زیادہ خوشی دے گی۔
ایسا کچھ اختراعی کام آپ کریں گے اور آپ نوجوان ہیں، چیزوں کو رسیو کرنے کی آپ کی طاقت زیادہ ہوتی ہے اور میرا دماغ بڑھ نوجوان ہے، میں بہت تیزی سے دوڑنے والا اور کرنے والا انسان ہوں اور اس لیے میرا آپ کا میچنگ بہت جلدی ہوجاتا ہے۔ مجھے کچھ دوری محسوس نہیں ہوتی ہے، نہ مجھے عہدے کی دوری ہوتی ہے، نہ ہی عمر کی دوری ہوتی ہے، نہ میرے بیک گراؤنڈ کی دوری ہوتی ہے، دل میں ایک ہی آگ ہوتی ہے آپ سے ملوں، آپ سے بات کروں، آپ کے لیے سوچوں، آپ کے ساتھ کام کروں، مل کرکے ملک کے لیے کام کروں۔
اسی ایک جذبے کے ساتھ میں پھر ایک بار آپ سب کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں اور جس کلاکار نے مجھ سے بھی زیادہ مجھے خوبصورت بنا کرکے تصویر بنائی ہے، اس کلاکار کو بہت بہت مبارکباد۔ میں نے جکسے سے کہا ہے کہ اس کا مجھے ایڈریس دینا، میں ضرور اس ساتھی کو چٹھی لکھوں گا، جس نے اس طرح سے اپنا کام کیا۔
میں پھر ایک بار آپ کو بہت بہت نیک خواہشات پیش کرتا ہوں، میں نے جو باتیں بتائی ہیں ،ملک کے ضمن میں بتائی ہیں۔ آپ کو اچھی لگیں تو لے جانا، بری لگیں میرے لیے چھوڑ جانا۔ میں ٹھیک سے اس کو ٹھیک ٹھاک کروں گا، پھر پروسنے آؤں گا۔
بہت بہت شکریہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
م ن۔س ش ۔ ت ع۔
U-1008
देश का गरीब के घर का सपना पूरा हो, 2022 तक हर बेघर को अपना पक्का घर मिले, इस दिशा में तेज़ी से काम किया जा रहा है।
— PMO India (@PMOIndia) February 13, 2019
प्रधानमंत्री आवास योजना के तहत देश के गांव और शहरों में लगभग 1.5 करोड़ गरीबों के घर बनाए जा चुके हैं, जिसमें से लगभग 15 लाख घर शहरी गरीबों के बनाए जा चुके हैं: PM
जब किसी योजना से नाम का या स्वार्थ का भाव निकाल देते हैं तो नीति स्पष्ट हो जाती है
— PMO India (@PMOIndia) February 13, 2019
इसलिए करप्शन का, अपने-पराए का भाव भी निकाल दिया।
अब तकनीक का उपयोग कर लाभार्थियों का चयन होता है, किसी के कहने पर लिस्ट में नाम कटने या जोड़ने का काम जो होता था उसको बंद कर दिया है: PM
RERA के माध्यम से ग्राहक और आप सभी के बीच का भरोसा और मजबूत हुआ है।
— PMO India (@PMOIndia) February 13, 2019
आज RERA 28 राज्यों में नोटिफाई किया जा चुका है।
आज देशभर में करीब 35 हजार रियल एस्टेट प्रोजेक्ट्स और 27 हजार रियल एस्टेट एजेंट्स इससे रजिस्टर हो चुके हैं और लाखों नए फ्लैट्स का निर्माण किया जा रहा है: PM
इसी तरह कंस्ट्रक्शन परमिट सहित तमाम दूसरी परमिशन अब पहले की तुलना में तेज़ी से मिल रही हैं।
— PMO India (@PMOIndia) February 13, 2019
जिसका परिणाम ये हुआ कि ईज़ ऑफ डूइंग बिजनेस रैंकिंग में देश ने बड़ी छलांग बीते साढ़े 4 वर्षों में लगाई: PM
पहले कंस्ट्रक्शन सेक्टर पर 15-18% का टैक्स लगता था। जो सामान है, जैसे पेन्ट, टाइलें, टॉयलेट का सामान, केबल, वायर ऐसी तमाम चीजों पर 30% से ज्यादा टैक्स लगा करता था।
— PMO India (@PMOIndia) February 13, 2019
GST के बाद मध्यम वर्ग के घरों के लिए टैक्स कम हुआ है। इसी तरह कंस्ट्रक्शन मटीरियल पर भी GST को कम किया गया है: PM
पेन्ट, वायर, इलेक्ट्रिकल फिटिंग से जुड़ा सामान, सेनिटरीवेयर, प्लायवुड, टाइल जैसे अनेक सामान पर GST 28 प्रतिशत से घटाकर 18 प्रतिशत लाया गया है।
— PMO India (@PMOIndia) February 13, 2019
वहीं ईंटों पर GST 12 प्रतिशत से घटाकर 5 प्रतिशत किया गया है: PM