Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

گنا کاشتکاورں کے ساتھ وزیر اعظم کی گفت و شنید


خریف کی کم از کم امدادی قیمت اِن پُٹ لاگت کی 150 فیصد ہوگی جس کا اعلان آئندہ ہفتے کیا جائے گا: وزیر اعظم
ریاستوں کو چینی ملوں کے ذریعہ گنے کے بقایہ جات کی ادائیگی کو یقینی بنانے کی ہدایت

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی میں لوک کلیان مارگ پر ،140سے زائد گنا کاشتکاروں کے ایک گروپ سے ملاقات کرکے گفت و شنید کی۔

یہ کاشتکار اتر پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، مہاراشٹر اور کرناٹک سے آئے تھے۔

وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ مرکزی کابینہ اپنی آئندہ منعقد ہونے والی میٹنگ میں، خریف کے سیزن2018-19. کی مشتہر کردہ فصلوں کے لئے  اِن پُٹ لاگت کی 150 فیصد کے لحاظ سے کم از کم امدادی قیمت کے نفاذ کو اپنی منظوری دے گی۔  اس سے کاشتکاروں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران 2018-19 کے شوگر سیزن کے لئے معقول اور منفعت بخش قیمت (ایف آر پی) کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قیمت 2017-18 کی قیمت سے زیادہ ہوگی۔ اس کے ذریعہ ایسے کاشتکاروں کو ترغیب فراہم ہوگی جن کو گنے سے ملنے والی بھرپائی 9.5 فیصد سے زائد ہوگی۔

وزیر اعظم  نے کاشتکاروں کو گنا کاشتکاروں کے سلسلے میں بقایہ جات کی ادائیگی کی غرض سے لئے گئے مختلف فیصلوں سے بھی آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ سات سے دس برسوں کے دوران ہی 4000 کروڑ سے زائد کے بقایہ جات کاشتکاروں کو نئی پالیسی اقدا مات کے تحت ادا کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کاشتکاروں کو مزید یقین دہانی کرائی کہ ریاستی حکومتوں سے گذارش کی گئی ہے کہ وہ گنا کے بقایہ جات کی ادائیگی کے لئے مؤثر اقدامات کریں۔

وزیر اعظم نے کاشتکاروں کو تلقین کی کہ وہ چھڑکاؤ والی اور ڈرِپ آبپاشی پر مبنی طریقہ کار کا استعمال کریں، جدید ترین کاشتکاری تکنیکات اور شمسی پمپوں کو استعمال کریں۔ انہوں نے کاشتکاروں سے کہا کہ وہ اپنے کھیتوں میں بجلی کے وسیلے کے طور پر نیز اضافی آمدنی کے لئے شمسی پینلوں کی تنصیب کریں ۔ انہوں نے اضافی فصلوں کی قدر و قیمت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کاشت سے حاصل ہونے والے فضلے کا دانش مندانہ استعمال ہونا چاہئے اور اسے اضافی آمدنی کے لئے تغذیہ کے طور پر بروئے کار لایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کاشتکاروں کو تلقین کی کہ وہ 2022 تک کیمیاوی کھادوں کے استعمال میں 10 فیصد تک کی تخفیف لانے کا ہدف مقرر کریں۔

 

وزیر اعظم نے کاشتکاروں کو کارپوریٹ اداروں کے ساتھ اپنی حالیہ گفت و شنید سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ انہوں نے قدر و قیمت میں اضافے، گوداموں کی سہولت، ذخیرے کی سہولت، بہتر کوالٹی والے بیجوں کی فراہمی اور کاشتکاروں کی آمدنی بڑھانے کے لئے بہتر منڈی روابط کے سلسلے میں افزوں طور پر نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی تلقین کی ہے ۔

گفت و شنید کے دوران وزیر اعظم نے 2014-15 اور 2015-16 کے دوران، مرکزی حکومت کی اس سے قبل کی دخل اندازیوں کا ذکر کیا جن کا مقصد گنا کاشتکاروں کے وزن کو کم کرنا تھا جو 21,000 کروڑ روپئے سے زائد کے بقایہ جات کی رقم کی وصولی کے لئے نبردآزما تھے۔اس امر کو یقنی بنایا گیا تھا کہ کاشتکاروں کو یہ ادائیگی گنا ملوں کے توسط سے کی جائے۔

کاشتکاروں نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور چینی پر درآمداتی  محصول50 فیصد سے بڑھا کر  100 فیصد کرنے، کاشتکاروں کی ادائیگی کے لئے گنا ملوں کو فی کوئنٹل 5.50 روپئے کی کارکردگی پر مبنی گرانٹ کی شکل میں 1540کروڑ روپئے کی رقم کی فراہمی سمیت  ماضی قریب میں حکومت کی جانب سے کیے گئے مختلف اقدامات سے آگاہ کیا۔ کاشتکاروں نے مرکزی حکومت کی 1175 کروڑ روپئے کی رقم کی شکل میں اس دخل اندازی کا بھی ذکر کیا جو ملوں کے ذریعہ 30 لاکھ میٹرک ٹن کے بفر اسٹاک پر سود کی تحلیل کے لئے فراہم کی گئی ہےتاکہ  کاشتکاروں کو ادائیگی کی جا سکے۔

وزیر اعظم نے شکر کی صنعت  کو استحکام بخشنے کے لئے پیٹرول میں 10 فیصد ایتھنول کی آمیزش کے حکومت کے نظریے کی بھی وضاحت کی۔

*****

 ( م ن ۔اذ)      ( 29 – 06 – 2018 )

U. No. 3429