Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

گھوگھا- دھیج رو- رو فیری خدمت اور مویشیوں کے چارے کے پلانٹ واقع گھوگھا گجرات میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں وزیر اعظم کی تقریر

گھوگھا- دھیج رو- رو فیری خدمت اور مویشیوں کے چارے کے پلانٹ واقع گھوگھا گجرات میں منعقدہ  افتتاحی تقریب  میں وزیر اعظم کی تقریر

گھوگھا- دھیج رو- رو فیری خدمت اور مویشیوں کے چارے کے پلانٹ واقع گھوگھا گجرات میں منعقدہ  افتتاحی تقریب  میں وزیر اعظم کی تقریر

گھوگھا- دھیج رو- رو فیری خدمت اور مویشیوں کے چارے کے پلانٹ واقع گھوگھا گجرات میں منعقدہ  افتتاحی تقریب  میں وزیر اعظم کی تقریر


نئی دہلی۔23 اکتوبر؛

یہاں موجود بڑی تعداد میں آئے ہوئے میرے پیارے بھائیو اور بہنو،

آپ سب کو دیپاولی اور سال نو کی نیک تمناؤں کے ساتھ ابھی ہم لوگوں نے بھائی دوج کا تیوہار منایا۔  ناگ پنچمی کے تیوہار کا انتظار کررہے ہیں اور نئے عہد کے ساتھ نئے بھارت، نئے گجرات کی سمت میں آج ایک انمول تحفہ گھوگھا کی سرزمین سے پورے بھارت کو مل رہا ہے۔ آج گھوگھا- دھیج کے درمیان رو- رو فیری خدمت کے پہلے مرحلے کا مبارک آغاز کیا جارہا ہے۔ یہ بھارت میں اپنی نوعیت کا اولین پروجیکٹ ہے۔ یہ جنوب مشرقی ایشیا کا بھی اتنا بڑا اولین پروجیکٹ ہے۔ میں گجرات کے لوگوں کو ، یہاں کی حکومت کو، 650 کروڑ روپوں کا  یہ پروجیکٹ،  متعدد جدید تکنیک کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس پروجیکٹ کے  آغاز کے ساتھ ساڑھے چھ کروڑ گجراتیوں کا ایک بہت بڑا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ہے۔

بھائیو اور بہنو،

ابھی اسی ڈائس سے مجھے سرووتم ڈیری، مویشیوں کے چارے کے پلانٹ کے افتتاح کا موقع فراہم ہوا۔

میرے پیارے بھائیو، بہنو،  ایک تنازعہ کا موضوع ہے۔ کیا ؟ بنی نوع انسان نے سب سے پہلے تیرنا سیکھا تھا یا پہیے بنانا سیکھا تھا۔ کوئی طے نہیں کرپاتا تھا کہ پہلے پہیہ بنا  کہ پہلے انسان  نےتیرنا سیکھا۔  لیکن یہ صحیح ہے کہ بنی نوع انسان صدیوں سے تیراکی کرکے، کشتی کے ذریعے ندی پار کرنا، اس نے ہمیشہ سہل مانا، آسان مانا۔ گجرات کے ہزاروں سال کی بحری سفر کی  تاریخ  رہی ہے۔ ناؤ بنتی تھی یہاں۔ ناؤ لے کر دنیا بھر میں جاکر لوگوں کی روایت تھی۔ لوتھل، 84 ممالک کے پرچم یہاں لہراتے تھے۔ فلفی یونیورسٹی، 1700 سال پہلے متعدد ملکوں کے بچے ہمارے یہاں فلفی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔ لیکن پتہ نہیں کیا ہو اکہ سب کچھ تاریخ کی طرح نیچے زمین میں دب گیا۔ وہ بھی تو ایک زمانہ تھا۔

 بھائیو اور بہنو، آج کا یہ پروگرام ، آج کا یہ آغاز گھوگھا، بھاؤ نگر، گجرات کے ساحلی سمندر تک کے وہ پرانے شاندار دنوں کو واپس لانے کا موقع ہے۔ گھوگھا- دھیج کے مابین فیری خدمات سوا سو جنوبی گجرات کے کروڑوں لوگوں کی زندگی کو نہ صرف آسان بنائے گی بلکہ انہیں اور نزدیک لے آئے گی۔  جس سفر میں  سات آٹھ گھنٹے لگتے تھے، وہ سفر سوا- ایک گھنٹے میں پورا کیا جاسکے گا۔ ہمارے یہاں کہا جاتا ہے کہ سب سے قیمتی شے وقت ہوتا ہے۔  وقت ، دولت ہے، یہ کہا جاتا ہے۔ آج دنیا میں کوئی 24 گھنٹے کے 25 گھنٹے نہیں کرسکتا۔ لیکن یہ حکومت ہند اور گجرات کی حکومت ہے کہ آپ کے 24 گھنٹوں میں سے ایک گھنٹے کا سفر کرکے ، سات گھنٹے کی سوغات دے سکتا ہے۔ ایک مطالعہ کہتا ہے  کہ سامان کو لے جانے میں اگر سڑک کے راستے ڈیڑھ روپے کا خرچ ہوتا ہے ، تو اُتنا ہی سامان لے جانے کے لیے ریل کے ذریعے ایک روپیہ لگتا ہے۔ لیکن وہی سامان اگر ہم آبی راستے سے لے جائیں، تو صرف 20 سے 25 پیسے میں لے جاسکتے ہیں۔  آپ سوچ سکتے ہیں کہ آپ کا کتنا وقت بچنے جارہا ہے۔  ملک  کا کتنا پٹرول اور ڈیزل بچنے والا ہے۔ ورنہ لاکھوں لیٹر ایندھن تو جب ٹریفک جام ہوتا ہے تو وہیں پر برباد ہوجاتا ہے۔

بھائیواور بہنوں، سوراشٹر اور جنوبی گجرات کے مابین   ہر روزتقریباً 12  ہزار لوگ سفر کرتے ہیں، پانچ ہزار سے زائد گاڑیاں ہر روز ان دو علاقوں کو مربوط کرنے کے لیے سڑکوں پر دوڑتی ہیں۔ جب یہی رابطہ کاری سڑک کی بجائے سمندر سے ہوگی، تو 307 کلومیٹر کی دوری 31 کلومیٹر میں بدل جائے گی۔  ایک فیری اپنے ساتھ 500 سے زیادہ افراد، تقریباً 100 کاریں اور تقریباً 100 ٹرک اپنے ساتھ لے کر جاسکتی ہے۔ ساتھیوں  جب ٹریفک کا بڑا حصہ  اس فیری خدمت پر منحصر ہوجائے گا۔ یا  جب اپنی اپنی گاڑیاں ادھر سے اُدھر لے جائیں گے تو اس کا اثر دلی اور ممبئی کو  جوڑنے والے راستوں پر بھی پڑنے والا ہے۔ گجرات کے سب سے زیادہ صنعتی علاقے جیسے دھیج، بڑودرہ اور اس کے قرب و جوار کے راستوں پر گاڑیوں کی تعداد کم ہوجائے گی، گاڑیوں کی رفتار بڑھے گی اور تیزی یہاں کے پورےمعیشت کے نظام کو  مہمیز کردے گی ۔

ساتھیو، ہم پرانے طریقہ کار  کے ساتھ نئے نتائج حاصل نہیں کرسکتے۔ نہ ہی پرانی سوچ کے ساتھ نئے  تجربے کیے جاسکتے ہیں۔  گھوگھا- دھیج رو- رو فیری خدمت ، اس کی بھی بہت بڑی مثال ہے۔

جب میں وزیراعلیٰ بنا اور کھوج خبر لی اس تذکرے کی ، تو کئی دہائیوں سے ہوکر رہے تھے۔ لیکن یہ منصوبہ پتہ نہیں، کس کونے میں پڑا تھا، جب میں اس میں جانے لگا، آگے بڑھنے لگا، میرے آنے کے بعد میں چاہتا، فوراً شروع ہو، آپ حیران رہ جائیں گے کہ حکومت نے ایسی ڈھانچہ جاتی غلطیاں کی تھیں کہ کبھی رو- رو فیری خدمت ہوہی نہیں سکتی۔  پرانے زمانے میں کیا کام کیا تھاانھوں نے؟ مسئلہ یہ تھا کہ جسے فیری چلانی تھی، اسی سے اصرار کیا جاتا تھا، کہ تم ہی ٹرمنل تعمیر کرو۔ کیا مجھے بتائیے، سڑک کے اوپر کوئی بس دوڑاتا ہے، تو بس والے کو ہم کہتے ہیں کہ روڈ بناؤ۔ بس والے کو کہتے ہیں کہ بس اسٹیشن بناؤ، ہوائی اڈے پر طیارہ آتا ہے، کیا میں طیارہ والے کو کہتا ہوں کہ ہوائی اڈہ بناؤ۔ ہوائی اڈہ سرکار بناتی، بس اسٹیشن سرکار بناتی، سڑک سرکار بناتی ہے۔ اس پر دوڑنے کے لیے نجی لوگ کاروبار کے لیے آتے ہیں۔ رو- رو فیری خدمت میں انھوں نے کہہ دیا، ایک جیٹٹی بنانی ہے، اس کا کوڈ بنانا ہے، آپ کو کرنا ہے تو کرو۔ یہ ساحل سمندر ہے، یہ پانی ہے، آگے بڑھو، کو ن بڑھے گا بھائی؟ آخر کار ہم نے پالیسیاں بدلیں، پرانی حکومتو ں کے اس طریقہ کار کو ہم نے بدل دیا۔ ہم نے طے کیا کہ فیری سروس کے لیے ٹرمنل بنانے کا کام حکومت کرے گی۔  ٹرمنل بن جانے کے بعد اسے چلانے اور فیری چلانے کا کام پرائیوٹ ایجنسی کو دیا جائے گا۔ یہاں کے رب بحری علاقے میں تلہٹی میں زمین مٹی بھی بڑا مسئلہ ہوتا ہے، اس وجہ سے فیری کو کنارے تک آنے میں بڑی دقت ہوتی ہے۔ بدلی ہوئی حکمت عملی کے تحت حکومت نے  یہ بھی طے  کیا کہ مٹی نکالنے کے لیے پتھر ہٹانے کے لیے ڈریجنگ یعنی گاد نکالنے کا کام بھی حکومت ، اس کا خرچہ اٹھائے گی۔ ہم نے یہ بھی انتظام کیا کہ اس خدمت کے بعد نجی ایجنسی کو جو فائدہ حاصل ہوگا، اس میں سرکاری شراکت داری بھی ہوگی۔  یہ نئی حکمت عملی کامیاب رہی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ گھوگھا- دھیج کے مابین رو- رو فیری خدمت شرو ہورہی ہے۔

2012 میں، میں آیا تھا، اس کا سنگ بنیاد میں نے رکھا تھا، لیکن تب سمندر میں کچھ کام کرنا ہے، تو ہم ذرا حکومت ہند پر منحصر رہتے تھے اور حکومت ہند میں ایسے لوگ بیٹھے تھے  اس وقت، جب میں گجرات کا وزیر اعلیٰ تھا، واپی  سےلے کر کے کچھ کے مانڈوی تک گجرات کے ساحل سمندر پر ترقیاتی عمل پر پوری بندش عائد کردی گئی۔ ہماری تمام صنعتوں کو ماحولیات کے نام پر تالے لگانے کی دھمکیاں دی گئیں۔ میں جانتا ہوں کہ اتنی مشکلات سے ہم نے گجرات کو آگے بڑھانے  میں کامیابی حاصل کی تھی۔ لیکن جب دلی میں آپ سب نے مجھے خدمت کرنے کا موقع دیا۔ ایک کے بعد ایک مسائل  حل ہوتے گئے اور آج رو- رو فیری سروس کو قوم کے نام وقف کرنے کے پہلے مرحلے کا  اور یہ پروجیکٹ مشکل تھا۔ ورون دیو جی، ہمارے امتحان لیتے رہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب پل کی تعمیر میں کسی طرح کی روکاوٹ پیش آئی تو سمندر منتھن سے ہی امرت بھی نکل کر آیا۔

ساتھیو، آج ہمیں ورون دیو کی مہربانی سے یہ امرت حاصل ہوا ہے۔  جو آبی ذخیرہ ملا ہے، میں سر جھکاکر یہ تمنا کرتا ہوں کہ ورون دیو کی نوازش ہمیشہ کی طرح گجرات کے لوگوں کے ساتھ رہے اور آج  جب ہم آج یہ رو- رو فیری خدمت کا آغاز کررہے ہیں، تب، میں ویر موکھراجی دادا کو بھی سلام عقیدت پیش کرتا ہوں اور جیسے میرے مچھوارے بھائی بہن ویر موکھراجی دادا کو ناریل کراکے ، کرکے آگے بڑھتے ہیں، میں بھی ان کی روایت پر آج عمل کروں گا اور بہادر موکھرا جی کے آشیرواد سے ہمارے مسافروں کی سلامتی قائم و دائم رہے۔ بھاؤ نگر اور سوراشٹر، جنوبی گجرات کے حصے کی طرح آگے بڑھ جائیں۔ اتنی ترقی ہو اور بہادر موکھرا جی کی مہربانی ہم پر قائم رہے گی یہ مجھے پورا یقین ہے۔

یہ پروجیکٹ انجینئروں اور گجرات کی حکومت ، دونوں کے لیے ایک بہت بڑی چنوتی تھی۔ اس لیے جو بھی لوگ اس منصوبے سے جڑے ہیں، وہ سب کے سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔

بھائیو، اور بہنو، گجرات میں ملک کا سب سے بڑا سی فرنٹ موجود ہے۔ 1600 کلومیٹر سے بھی زیادہ  ہمارا ساحل سمندر ہے۔ سینکڑوں برسوں سے گجرات اپنی طاقت اور اہلیت سے پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف  کھینچتا رہا ہے۔ لوتھل پورٹ سے نکلی معلومات آج بھی بڑے بڑے سمندری  علوم کے ماہرین کو متحیر کرتی ہیں۔  جس جگہ  پر ہم سبھی  موجود ہیں، وہاں پر سینکڑوں برسوں سے دنیا کے الگ الگ علاقوں سے جہاز آتے رہےہیں۔  اس سمندر کو وراثت سمجھتے ہوئے ، دیکھتے ہوئے میں اسی وقت سے گجرات میں  بندرگاہوں سے تحریک پانے والی ترقی کی بات کررہا ہوں۔ جب آپ نے مجھے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر بٹھایا اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے گجرات کے ساحلی علاقے میں بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے دوسرے پروجیکٹوں پر خصوصی توجہ دی۔  ہم نے   شپ بلڈنگ کی نئی پالیسی ترتیب دی، شپ بلڈنگ پارک بنائے، خصوصی اقتصادی زون  میں چھوٹے بندرگاہ کو فروغ دیا جائے۔ شپ بریکنگ کے قوانین میں بھی بڑی تبدیلیا ں کی گئیں۔ حکومت نے مخصوص ٹرمنلز کی تعمیر پر بھی خصوصی زور دیا۔ جیسے دھیج میں سالڈ کارگو، کیمیکل اور ایل این جی ٹرمنل، مندرا میں کول ٹرمنل ایسے مخصوص ٹرمنل سے  گجرات کے پورٹ سیکٹر کو ایک نئی سمت، نئی توانائی اور نیا شعور حاصل ہوا ہے۔

اس کے ساتھ ہی حکومت نے ویسل ٹریفک منیجمنٹ سسٹم  اور گراؤنڈ بریکنگ کنیکٹی وٹی پروجیکٹ کو بھی خاص طور سے فروغ دیا۔  حکومت آنے والے دنوں میں میری ٹائم یونیورسٹی  بنانے اور لوتھل میں میری ٹائم میوزیم بنانے پر بھی بہت تیزی سے کام ان دنوں چل رہا ہے۔ ان سارے کاموں کے ساتھ ہی  یہاں رہنے والے میرے مچھوارے بھائیوں اور مقامی لوگوں کی ترقی ہو، اس کے لیے ساگر – کھیڑو ترقیاتی پروگرام جیسے منصوبے بھی ہم مسلسل چلا رہے ہیں۔ اس بات پر بھی زور دیا کہ جہاز رانی کی صنعت میں مقامی نوجوانوں کو تربیت دے کر انہیں ہی روزگار مہیا کرایا جائے گا۔ ان کی تعلیم ، صحت ، پینے کے پانی، بجلی کے ساتھ ہی  ہم نے ساحلی   سماجی سلامتی کا بھی پورا  بنیادی ڈھانچہ تیار کیا ہے۔

بھائیو اور بہنو، ابھی حال ہی میں جاپان کے وزیر اعظم آئے تھے،  اُس وقت ہم نے جاپان کے ساتھ جہاز رانی کے شعبے کو لے کر کے  ایک اہم سمجھوتہ کیا۔ اس سمجھوتے کے تحت حکومت جاپان اور وہاں کے ایک مالیاتی ادارے جیکا الناگ شپ یارڈ میں اپ- گریڈیشن کے لیے  اس کی جدید کاری کے لیے ہمیں مالی تعاون دیں گے، ہمیں رقم فراہم کرائیں گے، اس کے لیے وہ تیار ہوئے ہیں۔

ساتھیو، حکومت بھاؤ نگر سے الانگ –سوسیا شپ ری سائیکلنگ یارڈ تک کے لیے ایک متبادل سڑک بھی ، اس پر بھی کام کررہی ہے۔ ایشیا کے سب سے بڑے شپ ری سائیکلنگ یارڈ میں  15 سے 25 ہزار ملازمین کام کرتے ہیں۔ الانگ- سوسیا شپ ری سائیکلنگ یارڈ، بھاؤ نگر سے تقریباً 50 کلومیٹر دور ہے۔  ابھی جو روٹ  ہے، اس پر  کافی جام کی  کتنی دقت رہتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت نے یہ طے کیا ہے کہ الانگ –سوسیا شپ ری سائیکلنگ یارڈ اور موّا ، پیپا واؤ اور جعفرآباد، ویراول کو جوڑنے والا ،جو ایک متبادل روٹ ہے اسے چوڑا کیا جائے گا، اپ گریڈ کیا جائے گا۔ مستقبل میں الانگ یارڈ کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے اور اسے پیش نظر رکھتےہوئے بیچ سڑک  کی جدید کاری ضروری ہوگئی ہے۔ اس روٹ سے گھوگھا- دھیج فیر ی خدمت کے لیے آرہی گاڑیوں کو بھی فائدہ ہونے والا ہے۔

 ساتھیو، حکومت کی لگاتار کوششوں کا نتیجہ ہے کہ گجرات کے ساحل   کی آج اتنی تیزی سے ترقی ہورہی ہے۔ آج گجرات پورے ملک میں چھوٹے پورٹ کے ذریعے ہونے والے  مجموعی کارگو کی آمد و رفت کا 32 فیصد اکیلا گجرات ہینڈل کرتا ہے۔ یعنی ایک تہائی گجرات میں ہوتا ہے۔  اتنا ہی نہیں اس کام میں گذشتہ 15 برسوں میں  کئی گنا  اضافہ ہوا ہے۔ مجھے امید ہے کہ جس طرح گذشتہ 15 سال میں گجرات  نے اپنے بندرگاہوں کی صلاحیت کو بھی چار گنا بڑھایا ہے،  کارگو ہینڈلنگ کی رفتار بھی مزید تیز ہوگی۔

 بھائیو اور بہنو،  گجرات  راستے  کے اعتبار سے  بہت ہی اسٹریٹجک مقام پر واقع ہے۔  یہاں سے دنیا کے کسی بھی حصے تک سمندری راستے سے پہنچنا بہت ہی آسان ، سستا اور  سہل  ہے۔ ہمیں گجرات کی طاقت کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ گجرات کی میری ٹائم ترقی پورے ملک کے لئے ایک ماڈل ہے۔ مجھے امید ہے کہ رو- رو فیری خدمت  کا پورا پروجیکٹ بھی دوسری ریاستوں  کے لیے ایک ماڈل پروجیکٹ کی طرح کام کرے گا۔

 ہم نے جس طرح برسوں کی محنت کے بعد اس طرح کے پروجیکٹ میں آنے والی دقتوں کو سمجھا ہے، انہیں دور کیا ہے، وہ دقتیں کم سے کم اسے دوہرانے والی ریاستوں کو کبھی پیش نہیں آئیں گی۔  اس فیری سروس سے پورے علاقے میں سماجی، اقتصادی ترقی کا ایک نیا دو رشروع ہوگا۔  روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔  ساحلی جہاز رانی اور ساحلی سیاحت کا بھی نیا باب شروع ہوگا۔  آئندہ دنوں میں جب دلی اور ممبئی کے درمیان   ڈیڈی  کیٹڈ فریٹ کوریڈور بن جائے گا اور ساتھ ہی دلی ممبئی صنعتی کوریڈور کا کام پورا ہوجائے گا تو  اس سروس سمیت گجرات سے جڑے سمندری راستے کی اہمیت بھی کئی گنا  بڑھ جائے گی۔   یہ پروجیکٹ احمدآباد اور بھاؤ نگر کے درمیان کے علاقوں میں صنعتی ترقی کو ایک کرنے کے لیے بنائے گئے  ڈھولرا خصوصی سرمایہ کاری خطہ (ایس آئی آر)   کو بھی  ایک نئی مضبوطی دینے والا ہے۔  ڈھولرا ایس آئی آر ، ہندوستان ہی نہیں دنیا کے نقشے پر فروغ پانے والا یہ سب سے بڑا صنعتی مرکز  بننے والا ہے۔ اس سے لاکھوں لوگوں کے لیے نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔  گجرات حکومت کی کوشش سے ڈھولرا میں بنیادی ڈھانچے سے جڑے کام تیز رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ کچھ ہی برسوں میں ڈھولرا پوری دنیا میں اپنی دھاک جمائے گا اور اس میں  ایک ہی زمین کا  گھوگھا- دھیج فیری خدمت کا بھی تعاون شامل ہوگا۔

ساتھیو، مستقبل میں ہم اس فیری سروس کو یہ صرف گھوگھا- دھیج تک رکنے والا نہیں ہے۔ مستقبل میں ہم فیری خدمت کو ہزیرا، پیپا واؤ، جعفرآباد، دمن- دیو، ان سبھی مقامات کو جوڑنے کی سمت میں  آگے بڑھنے والے ہیں، مجھے بتایا گیا ہے کہ  حکومت کی تیاری آنے والے برسوں میں اس فیری خدمت کو سورت سے آگے ہزیرا اور پھر ممبئی تک   بھی لے جانے کے لیے  چل رہی ہے۔ کچھ  کی خلیج میں  بھی اسی طرح کا پروجیکٹ شروع کیے جانے کی بات چیت ابھی ابتدا ئی مرحلے میں ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ کچھ کے وایو اور جام نگر کے روزی بندر گاہ کے درمیان  ایسی خدمت شروع کرنے کے لیے  ابتدائی قابل عمل ہونے سے متعلق رپورٹ پہلے ہی تیار ہوچکی ہے۔ اتنا ہی نہیں جب فیری خدمت کا استعمال بڑھے گا تو تمام صنعتوں کو دریائے نرمدا کے ذریعے سے بھی جوڑا جاسکتا ہے۔

ساتھیو، ہندوستان کی  وسیع سمندری سرحد 7 ہزار 500 کلومیٹر طویل ہے۔  سرمایہ کاری کے یہاں بہت زیادہ امکانات ہیں۔  مجھے یقین ہے کہ ہمارے سمندری ساحل ، ملک کی ترقی کے داخلی دروازے ہیں۔   ہندوستان کی خوشحالی کے داخلی دروازے ہماری بندرگاہیں ہوتی ہیں۔ لیکن گذشتہ دہائیوں میں مرکزی سطح سے ان پر کم ہی توجہ دی گئی ہے۔  ملک کے جہاز رانی اور بندرگاہوں کے شعبے کو  بھی طویل مدت تک  نظر انداز کیا گیا۔ اس شعبے کی اصلاح کے لیے اسے جدید بنانے کے لیے حکومت نے ساگر مالا پروگرام بھی شروع کیا ہے۔

ساگر مالا پروجیکٹ کے تحت ملک میں موجودہ بندرگاہیں ، ان کی جدید کاری اور نئے بندرگاہوں کو تیار کرنے کا کام کیا جارہا ہے۔  سڑک، ریلوے، بین ریاستی واٹر ویز اور ساحلی ٹرانسپورٹ کو مربوط کیا جارہا ہے۔  یہ پروجیکٹ ساحلی ٹرانسپورٹ کے ذریعے مال کی ڈھلائی کو فروغ دینے میں  بہت اہم کردار ادا کررہا ہے۔

 ساتھیو۔ حکومت کی کوششوں کا یہ نتیجہ ہے کہ پچھلے تین برسوں میں بندرگاہ سیکٹر میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے اور ابھی تک کا سب سے زیادہ صلاحیت میں اضافہ گزشتہ دو یا تین برس میں ہوا ہے۔  جو بندرگاہ اور سرکاری کمپنیاں خسارے میں چل رہی تھیں، ان میں بھی حالات بدل رہے ہیں۔ سرکار کی توجہ  ساحلی خدمات سے تعلق رکھنے والی ہنرمند ترقی پر بھی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اکیلے ساگر مالا پروجیکٹ سے آنے والے وقت میں  ایک کروڑ  جتنی نئی نوکریوں کے ہندوستان میں مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔  ہم اس جذبے کے ساتھ کام کررہے ہیں  کہ نقل و حمل کا پورا فریم ورک جدید اور مربوط ہو۔

 ہمارے ملک میں ٹرانسپورٹ کی پالیسیوں میں جو عدم توازن تھا، اسے بھی دور کیا جارہا ہے۔ یہ عدم توازن اتنا زیادہ تھا۔ وہ آپ اسی سے سمجھ سکتے ہیں کہ آزادی کے اتنے برسوں بعد بھی ہمارے یہاں صرف پانچ نیشنل واٹر ویز تھے۔ آبی ٹرانسپورٹ میں  اتنا سستا ہونا  اور ملک کے دریاؤں میں پانی ہونے کے باوجود اسے نظرانداز کردیا گیا۔ اب اس حکومت نے 106 نیشنل واٹر ویز کی تشکیل کی ہے اور اس پر تیزی سے کام چل رہا ہے۔  اس نیشنل واٹرویز کی کل لمبائی 17 ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے۔ یہ واٹر ویز، ملک کے  ٹرانسپورٹ کے شعبے کے عدم توازن کو دور کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوئے ہیں۔

ہماری سمندری املاک، ہمارے دیہی اور  سمندری ساحل کو  ایک نئی جہت  دے سکتی ہے۔ ماہی گیر بھائی، اس املاک کا پورا استعمال کرپائیں، اس کے لیے حکومت نے بلیو ریوولیوشن اسکیم شروع کی ہے۔ انہیں جدید تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے مچھلی پکڑنے اور ماہی پروری میں زیادہ منافع حاصل کرنے کے بارے میں تربیت دی جارہی ہے۔

بلیو ریوولیوشن اسکیم کے تحت آج ماہی گیروں کو لانگ لائنر ٹرالرز کے لیے مالی مدد فراہم کرانے کی بھی اسکیم بنائی گئی ہے۔   ایک ویسل پر مرکزی حکومت کی طرف سے 40 لاکھ روپے کی سبسڈ دی جائے گی۔  لانگ لائنر ٹرالرز  سے نہ صرف ماہی گیروں کی زندگی آسان بنے گی بلکہ اس سے ان کے کاروبار کو بھی نئی اقتصادی مضبوطی حاصل ہوگی۔  ابھی جس طرح ٹرالرز کا استعمال کیا جاتا ہے وہ کم پانی میں مچھلی پکڑنے کے کام آتے ہیں۔ تکنیک کے معاملے میں بھی یہ بہت پرانے ہیں، رسکی ہیں۔ اس لیے جب ان پرانے ٹرالرز کو  لے  کر کے وہ سمندر  میں جاتے ہیں تو اکثر راستہ  بھٹک جاتے ہیں۔  انہیں پتہ تک نہیں چلتا کہ ہندوستان کی سمندری سرحد چھوڑکر دوسری ملک کی سمندری حدود میں پہنچ گئے۔  اس کے بعد ماہی گیروں کو کئی طرح کی دقتیں اٹھانی پڑتی ہیں۔ تکنیک کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرکے ہم ان دقتوں کو کم کرسکتے ہیں۔ اور اس لیے ہم نے یہ لانگ لائنر ٹرالرز کی مدد سے ماہی گیر بھائی سمندر میں صحیح سمت میں دور تک گہرے پانی میں مچھلی پکڑنے کے لیے جاسکیں اس کے لیے حکومت نے مدد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔  جدید لانگ لائنر ٹرالرز ایندھن کے معاملے میں بھی کافی کفایتی ہوتے ہیں۔ یعنی ماہی گیروں کی حفاظت بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کے کاروبار اور منافع، دونوں میں اضافہ کریں گے۔

 ساتھیو، ملک میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہماری سب سے بڑی ترجیحات میں سے ایک ہے۔ پچھلے تین برسوں میں  شاہراہوں، ریلوے، واٹر ویز اور ائیر ویز  پر جتنی سرمایہ کاری کی گئی ہے، اتنی اس سے پہلے اتنی کم مدت میں کبھی نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ نئی ہوابازی کی پالیسی بناکر علاقائی ائیر سروس کو بہت بنایا جارہا ہے۔ چھوٹے چھوٹے ہوائی اڈوں کی جدید کاری کی جارہی ہے۔  کچھ ہفتے قبل ہیں احمدآباد سے  ممبئی کے درمیان چلنے والی ملک کی  پہلی بلٹ ٹرین کاکام بھی شروع کیا جاچکا ہے۔ یہ ساری کوششیں ملک کو 21ویں صدی کا ٹرانسپورٹ کا نظام دینے کی بنیاد بنیں گی۔ ایک ایسا نظام ، جو نیو انڈیا کی ضرورت ہو اور نیو انڈیا کی امیدوں کے مطابق ہو۔ ساتھیو، آج یہاں گھوگھا سے میں  فیری کے ذریعے ہی دھیج تک جاؤں گا۔ میرے ساتھ  میرے کچھ ننھے ساتھی، دیویانگ بچے بھی ہوں گے۔ ان کے چہرے کی خوشی ہی میرا معاوضہ ہوگا۔

 بھائیو، بہنو،  میں نے بچپن سے جس کام کا خواب دیکھا تھا، وہ پورا ہونے کے بعد میں نے ایسا محسوس کیا  ہے کہ شاید ہی کوئی اس کا تصور کرسکے۔ بچپن میں جس بات کو سنا تھا، اور ہو نہیں رہا تھا، آج جب اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں، خود کو اس کام کو کرنے کا موقع ملا، میں سمجھتا ہوں کہ میری زندگی کا بہت مبارک لمحہ ہے۔  میں اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں، دھیج میں جاؤں گا اور اپنے تجربات سے انہیں آگاہ کراؤں گا۔ لیکن میں آج  آپ سے اصرار کروں گا کہ اس اہم کام میں آپ ہمارے ساتھ جڑیں اور یہ مانئے کہ یہ فیری سروس تو شروعات ہے، یہ پہلا مرحلہ ہے، بعد میں پرائیوٹ کمپنیاں آئیں گی، بہت سی فیریاں چلیں گی، روٹ چلیں گے، سیاحت کو فروغ ملے گا اور سورت کے ہمارے دولت مند لوگ اس کو کرائے پر لے کر جنم دن منانے کے لئے بھی سمندر میں جائیں گے۔ ترقی کے بہت زیادہ امکانات ہیں اور اس لیے میں نے کہا کہ گھوگھا کی قسمت ایک بار پھر بدلنے والی ہے۔  گھوگھا کی قسمت پھر ایک بار بدل رہی ہے اور ایک بار پھر آپ سبھی  کو گھوگھا- دھیج رو- رو فیری سروس اور سرووتم ڈیری کے کیٹل فیڈ پلانٹ کے لیے میں بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔

 بھارت ماتا کی جے،

بھارت ماتا کی جے،

 جے ویر موکھرا جی دادا

 جے ویر موکھرا جی دادا

 جے ویر موکھرا جی دادا۔

************

(م ن ۔ ۔ ن ر۔ 23.10.2017 )

U – 5285