پی ایم انڈیا
عزت مآب
معززسربراہان،
نمسکار!
میں صدر لولا کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے 17ویں برکس سربراہ اجلاس کی بہترین تنظیم کی۔ برازیل کی متحرک قیادت میں، ہمارے برکس تعاون کو نئی توانائی اور جذبہ ملا ہے۔ اور مجھے یہ کہتےہوئے خوشی ہورہی ہے کہ جوتوانائی ہم نے حاصل کی ہے وہ صرف ایک اسپریسو نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایک ڈبل اسپریسو کا شاٹ ہے! اس کے لئے میں صدر لولا کی بصیرت اور ان کی ثابت قدمی کو سراہتا ہوں۔ بھارت کی جانب سے، میں اپنے دوست صدر پربوو کو برکس خاندان میں انڈونیشیا کی شمولیت پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔
دوستوں،
گلوبل ساؤتھ کو اکثر دوہرے معیار کا سامنا رہا ہے۔ چاہے وہ ترقی، وسائل کی تقسیم، یا سلامتی سے متعلق امور ہوں، گلوبل ساؤتھ کے مفادات کو صحیح اہمیت نہیں دی گئی۔ گلوبل ساؤتھ کو اکثر ان مسائل پر صرف رسمی اشارے ملے ہیں جیسے موسمیاتی مالیات، پائیدار ترقی، اور ٹیکنالوجی تک رسائی۔
دوستوں،
انسانیت کا دو تہائی حصہ ابھی تک 20ویں صدی میں قائم عالمی اداروں میں مناسب نمائندگی سے محروم ہے۔ کئی ایسے ممالک جو آج کی عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، انہیں ابھی تک فیصلہ سازی کے عمل میں شامل نہیں کیا گیا۔ یہ صرف نمائندگی کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ اداروں کی ساکھ اور مؤثریت کا بھی مسئلہ ہے۔ گلوبل ساؤتھ کے بغیر یہ ادارے ایسے ہیں جیسے ایک موبائل فون جس میں سِم کارڈ تو ہو، مگر نیٹ ورک نہ ہو۔ ایسے ادارے نہ تو مؤثر طریقے سے کام کر سکتے ہیں، نہ ہی 21ویں صدی کے نئے چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ چاہے یہ دنیا بھر میں جاری تنازعات ہوں، عالمی وبائیں، اقتصادی بحران، یا سائبر اور خلائی چیلنجز، ان اداروں نے کبھی بھی کسی مؤثر حل کی پیشکش نہیں کی۔
آج دنیا کو ایک نئے ملٹی پولر اور شمولیتی عالمی نظام کی ضرورت ہے۔اس کا آغاز عالمی اداروں میں جامع اصلاحات سے ہونا چاہیے۔ یہ اصلاحات محض علامتی نہیں ہونی چاہئیں، بلکہ ان کا حقیقی اثر بھی نظر آنا چاہیے۔ حکومتی ڈھانچوں، ووٹنگ کے حقوق، اور قیادت کی پوزیشنز میں تبدیلیاں ضروری ہیں۔ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو جو چیلنجز درپیش ہیں، ان کو پالیسی سازی میں اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
دوستوں،
برکس کی توسیع اور نئے شراکت داروں کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ گروپ وقت کے ساتھ اپنی ترقی اور ہم آہنگی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب ہمیں وہی عزم دکھانا ہوگا جو ہم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، ڈبلیو ٹی او اور کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں میں اصلاحات لانے کے لیے دکھایا تھا۔ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں، جہاں ٹیکنالوجی ہر ہفتے نئی شکل اختیار کر رہی ہے، یہ ناقابل قبول ہے کہ عالمی ادارے 82 سال گزارنے کے بعد بھی اصلاحات سے عاری ہوں۔ آپ 21ویں صدی کے جدید سافٹ ویئر کو 20ویں صدی کی مشینوں پر نہیں چلا سکتے!
دوستوں،
بھارت نے ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر انسانیت کے مفاد کے لیے کام کرنا اپنے فرض کے طور پر سمجھا ہے۔ ہم برکس کے تمام ممالک کے ساتھ تمام معاملات میں کام کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں اور اپنی تعمیری خدمات فراہم کریں گے۔ بہت شکریہ۔
تردید: یہ وزیرِ اعظم کے بیانات کا تخمینی ترجمہ ہے۔ اصل بیانات ہندی زبان میں دیے گئے تھے۔
*******
ش ح۔ ش ت۔م ش
U.NO.2514
Prime Minister @narendramodi joined fellow BRICS leaders at the Summit in Rio de Janeiro, Brazil. pic.twitter.com/NkpAzm080z
— PMO India (@PMOIndia) July 6, 2025
With fellow BRICS leaders at the Summit in Rio de Janeiro, Brazil, reaffirming our commitment to closer cooperation and shared growth.
— Narendra Modi (@narendramodi) July 6, 2025
BRICS holds immense potential to shape a more inclusive and equitable global future. pic.twitter.com/ftnyp8Irm7
Ao lado dos demais líderes do BRICS, na Cúpula realizada no Rio de Janeiro, Brasil, reafirmamos nosso compromisso com uma cooperação mais estreita e com o crescimento compartilhado.
— Narendra Modi (@narendramodi) July 6, 2025
O BRICS tem um enorme potencial para contribuir na construção de um futuro global mais inclusivo… pic.twitter.com/OZWlDhkmbY
The expansion of BRICS clearly shows that BRICS is an organization capable of changing itself with the times. Now, we need to show the same resolve for reforms in institutions like the UN Security Council, WTO, and multilateral development banks.
— Narendra Modi (@narendramodi) July 6, 2025
In this era of AI, where technology updates on a weekly basis, it is unacceptable that global institutions haven’t undergone an update even once in eighty years.
— Narendra Modi (@narendramodi) July 6, 2025
21st-century software can’t run on a 20th-century typewriter!