پی ایم انڈیا
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے آج گجرات کے وڈودرا میں سرداردھام ہاسٹل کا افتتاح کیا۔ اسی روز جب سومناتھ مندر اپنی 75ویں سالگرۂ تقدیس منا رہا تھا، وزیرِ اعظم نے وڈودرا میں سردار دھام کے ایک معزز اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کے افتتاح اور روحانی یادگار تقریب کے اس خوشگوار اتفاق کو اجاگر کیا۔ ڈاکٹر دشینت اور دکشا پٹیل کمپلیکس کا افتتاح کرنے، تدریس سے متعلق ٹیچنگ اسسٹنس اسکیم کا آغاز کرنے اور متعدد تعلیمی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھنے کے دوران وزیرِ اعظم نے ان اقدامات کو نوجوانوں کے مستقبل کے کیریئر کے لیے لانچنگ پیڈ قرار دیا۔ جناب مودی نے کہا، “چند گھنٹے قبل میں پربھاس پٹن میں سومناتھ امرت مہوتسو منا رہا تھا، اور اب ہم یہاں تبدیلی لانے والے تعلیمی اداروں کا افتتاح کر رہے ہیں۔ یہ ہم آہنگی اس بات کی علامت ہے کہ تاریخی ورثہ اور ترقی ساتھ ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔”
سردار دھام کے 75 سالہ تعلیمی مشن کا ذکر کرتے ہوئے اور ملک بھر میں تنظیم کے بڑھتے ہوئے ادارہ جاتی نیٹ ورک کو بیان کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے 2021 کے اپنے دورے کو یاد کیا، جب طالبات کے ہاسٹل کا سنگِ بنیاد رکھا گیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے سورت، راجکوٹ، بھوج، مہسانہ اور دہلی میں ادارے کی موجودگی کا بھی ذکر کیا۔ احمد آباد کے نیکول علاقے میں ایک ہزار طالبات کی گنجائش والے نئے ہاسٹل کے آغاز پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے نمایاں تبدیلیوں کو اجاگر کیا۔ جناب مودی نے کہا، “گزشتہ سال کے افتتاح کے بعد ہزاروں بیٹیاں وہاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور اپنے مستقبل کے لیے نئی راہیں متعین کر رہی ہیں، جبکہ آج اس ہاسٹل کا سنگِ بنیاد یہ ظاہر کرتا ہے کہ سردار دھام ملک بھر کی بیٹیوں کے لیے تعلیمی مواقع میں توسیع کے اپنے عزم پر قائم ہے۔”
تعلیمی تبدیلی کو سماجی ارتقا کے وسیع تر تناظر میں بیان کرتے ہوئے اور اصلاحات کو زمینی حقائق سے جوڑتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہمہ گیر تبدیلی کے لیے حکومت اور سماج دونوں کی مشترکہ کوشش ضروری ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی کو نظامی تبدیلی کے لیے شواہد پر مبنی حکمتِ عملی کی مثال قرار دیتے ہوئے انہوں نے اس پالیسی کی مختلف جہتوں پر روشنی ڈالی، جن میں زبان کی بنیاد پر امتیاز کا خاتمہ، نصاب میں ہنرمندی کی ترقی اور اختراع کو شامل کرنا نمایاں ہیں۔ جناب مودی نے کہا، “تبدیلی کو جامع اور نتائج کو دیرپا بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سماج اور حکومت مل کر کام کریں، اور ہمارے نوجوان اپنی ڈگری مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ اپرنٹس شپ کے مواقع بھی حاصل کریں تاکہ گریجویشن کے بعد انہیں بے سمتی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔”
تعلیمی سرمایہ کاری سے پیدا ہونے والے آبادیاتی فائدے کو اجاگر کرتے ہوئے اور گجرات کی منفرد کاروباری ثقافت کی ستائش کرتے ہوئے وزیرِ اعظم جناب نریندر مودیi نے کہا کہ ریاست کے نوجوان فطری کاروباری صلاحیتوں کے حامل ہیں، جنہیں اب اسٹارٹ اپ انڈیا مشن کے ذریعے مزید فروغ دیا جا رہا ہے۔ چھوٹے شہروں میں اسٹارٹ اپس کے تیزی سے ابھرنے اور کاروباری سرگرمیوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ شعبے جنہیں پہلے پرخطریا غیریقینی سمجھا جاتا تھا، اب نوجوان اختراع کاروں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔ جناب مودی نے کہا، “آنے والے وقت میں ملک کے پاس اتنی بڑی ہنرمند افرادی قوت ہوگی کہ قومی مینوفیکچرنگ سیکٹر بے مثال رفتار سے ترقی کرے گا، اور گزشتہ ایک دہائی میں کھیلوں سے لے کر خلائی ٹیکنالوجی تک اس تبدیلی کا مشاہدہ کیا جا چکا ہے۔”
خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت کو تہذیبی ترقی کا بنیادی پیمانہ قرار دیتے ہوئے اور اس سلسلے میں دو دہائیوں قبل گجرات کی دوراندیشی کو سراہتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ریاست کے صنفی شمولیت پر مبنی ترقیاتی ماڈل کا ذکر کیا۔ خواتین کے لیے کروڑوں بینک کھاتے کھولنے، صفائی، پانی اور توانائی کی سہولتوں کی فراہمی، مدرا اسکیم کے ذریعے مالی خودانحصاری اور آیوشمان بھارت کے حفاظتی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب یہ فوائد پورے ملک تک پہنچ چکے ہیں۔ جناب مودی نے کہا، “گجرات نے یہ حقیقت بہت پہلے سمجھ لی تھی کہ سماجی ترقی بنیادی طور پر خواتین کی شمولیت پر منحصر ہے، اور اسی بنیاد پر مضبوط اقدامات کیے گئے، جن کے ثمرات آج پورا ملک حاصل کر رہا ہے۔”
تاریخی طور پر مردوں کے زیرِ تسلط شعبوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کا ذکر کرتے ہوئے اور بیٹیوں کے ان قیادتی کرداروں میں ابھرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے، جو پہلے ان کے لیے بند تھے، وزیرِ اعظم نے فوج، ہوا بازی اور سیاست میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کو سراہا۔ پارلیمنٹ میں ناری شکتی وندن ترمیم کی منظوری میں ناکامی اور سیاسی رکاوٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے صنفی مساوات کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ جناب مودی نے کہا، “خواتین کیڈٹس نیشنل ڈیفنس اکیڈمی میں تربیت حاصل کر رہی ہیں، ہماری بیٹیاں فائٹر پائلٹ بن رہی ہیں، اور خواتین کی سیاسی شمولیت بڑھانے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ اگرچہ سیاسی وجوہات کی بنا پر ترمیم منظور نہ ہو سکی، لیکن ہمارا عزم کمزور نہیں پڑے گا۔”
حکومت کے دائرۂ کار سے آگے بڑھتے ہوئے معاشرے کے مختلف شعبوں میں صنفی شمولیت پر مبنی مواقع کی توسیع کی ذمہ داری سماجی تنظیموں پر بھی عائد ہوتی ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے سردار دھام کی خصوصی وابستگی کو ایک مثالی ادارہ جاتی نمونہ قرار دیا۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے مختلف شعبوں میں تنظیم کی جامع کوششوں کو سراہتے ہوئے انہوں نے ادارے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ جناب مودی نے کہا، “مجھے خوشی ہے کہ سردار دھام اس ذمہ داری کو مکمل لگن کے ساتھ نبھا رہا ہے اور اپنے عمل سے یہ ثابت کر رہا ہے کہ سماجی تبدیلی کے لیے مسلسل ادارہ جاتی عزم ضروری ہے۔”
گجرات کی نمایاں ثقافتی خصوصیت کو وقت کے تقاضوں کو فوری طور پر سمجھنے کی صلاحیت قرار دیتے ہوئے اور تبدیلی کو مواقع میں بدلنے کی تنظیمی اہلیت کو ریاست کا مسابقتی فائدہ بتاتے ہوئے وزیرِ اعظم نے جدید منوفیکچرنگ کی تبدیلی کو تاریخی تسلسل کا حصہ قرار دیا۔ سیمی کنڈکٹر، ایرو اسپیس، ایڈوانس انجینئرنگ، گرین انرجی اور مالیاتی خدمات جیسے جدید شعبوں میں تنوع کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ریاست کی ادارہ جاتی مطابقت پذیری کو اجاگر کیا۔ جناب مودی نے کہا، “تبدیلی کو موقع میں بدلنا، نئی امکانات کو اپنانا اور مستقبل کے لیے بروقت تیاری کرنا گجرات کے ورک کلچر کا حصہ رہا ہے، جس کی بدولت ریاست نے ہر ابھرتے ہوئے شعبے میں نئی شناخت قائم کی ہے۔”
ملک میں سیمی کنڈکٹر کی مقامی پیداوار کی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے اور موجودہ مینوفیکچرنگ تبدیلی کو اہم بنیادی ڈھانچے کی ترقی قرار دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ میڈ اِن انڈیا سیمی کنڈکٹرز کی پیداوارسنند میں شروع ہو چکی ہے، جہاں کینس سیمی کنڈکٹر پلانٹ میں مینوفیکچرنگ جاری ہے۔ ڈھولیرا اور سورت میں نئے سیمی کنڈکٹر منصوبوں کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے اور عالمی سپلائی چین میں بھارت کے مرکزی کردار کے عزم کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے علاقائی مراکز کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ جناب مودی نے کہا، “گجرات خود کو عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کے ایک اہم مرکز کے طور پر قائم کر رہا ہے، جبکہ وڈودرا بھی اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، کیونکہ یہاں تیار ہونے والے میٹرو کوچز پہلے ہی بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچ رہے ہیں۔”
وڈودرا کی مختلف صنعتی شعبوں میں مہارت کا ذکر کرتے ہوئے اور شہر کو انجینئرنگ، بھاری مشینری، کیمیکل، فارماسیوٹیکل اور توانائی سے وابستہ آلات کے مضبوط مرکز کے طور پر اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے پیشہ ورانہ ترقی کے بنیادی ڈھانچے کا بھی حوالہ دیا۔ گتی شکتی یونیورسٹی کی جانب سے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے ماہرین کی تیاری اور ایرو اسپیس منصوبوں کے ذریعے وڈودرا کو فضائی صنعت کے مرکز کے طور پر ابھرتا دیکھتے ہوئے انہوں نے وسیع اقتصادی تبدیلی کی پیش گوئی کی۔ جناب مودی نے کہا، “وڈودرا متعدد شعبوں میں مینوفیکچرنگ کا اہم مرکز بن چکا ہے، جبکہ ابھرتی ہوئی ایرو اسپیس صلاحیتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ شہر مستقبل میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہوابازی کامرکز بن سکتا ہے۔”
متعدد عالمی بحرانوں سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے اور موجودہ چیلنجز کو تاریخی تناظر میں بیان کرتے ہوئے وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے وبا، اقتصادی بے یقینی اور مغربی ایشیا کے تنازعے کو مسلسل دباؤ کے اہم عوامل قرار دیا۔ مغربی ایشیا کے تنازعے کو اس دہائی کا نمایاں بحران قرار دیتے ہوئے اور کووِڈ کے دوران اجتماعی کوششوں کی مثال پیش کرتے ہوئے انہوں نے حکومتی اقدامات کو سماجی ذمہ داری کے وسیع تر دائرے سے جوڑا۔ جناب مودی نے کہا، “کورونا بحران سے لے کر عالمی اقتصادی بے ترتیبی اور مغربی ایشیا کی کشیدگی تک، دنیا ایک غیر معمولی عدم استحکام سے گزر رہی ہے جو ہر ملک کو متاثر کر رہا ہے، لیکن جس طرح ہم نے متحد ہو کر کورونا پر قابو پایا، اسی طرح مسلسل حکومتی کوششوں اور اجتماعی تعاون سے ہم اس بحران پر بھی قابو پا لیں گے۔”
قومی دباؤ کے وقت میں عوامی شمولیت کو ایک لازمی قوت قرار دیتے ہوئے اور قومی استحکام کے لیے اجتماعی عزم کی اپیل کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ شہریوں کو اپنے فرائض کو ترجیح دینی ہوگی اور قومی وسائل پر بوجھ کم کرنا ہوگا۔ خام تیل کی درآمدات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بھارت کے درآمدی انحصار کو اجاگر کیا اور توانائی کے تحفظ کو ایک حساس کمزوری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تنازعات نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔ جناب مودی نے کہا، “ملک کو اس وقت عوامی شمولیت کی طاقت کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ بھارت کی درآمدات کا ایک بڑا حصہ خام تیل پر مشتمل ہے جو ان علاقوں سے آتا ہے جہاں آج تنازعات جاری ہیں، جس کے نتیجے میں قلت اور قیمتوں میں اضافے دونوں کے بحران پیدا ہو رہے ہیں۔”
اجتماعی اقدامات اور چھوٹے انفرادی عزائم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے پٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں کمی کی حکمتِ عملی بیان کی۔ انہوں نے عوامی ٹرانسپورٹ کے زیادہ استعمال، کار پولنگ اور میٹرو و الیکٹرک بسوں کو ترجیح دینے کی اپیل کی۔ دفاتر میں ڈیجیٹل نظام اپنانے، ورچوئل میٹنگز اور ورک فرام ہوم کے انتظامات کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے ٹیکنالوجی پر مبنی حل کو مؤثر ذریعہ قرار دیا۔ جناب مودی نے کہا، “جہاں بھی ممکن ہو، میٹرو، الیکٹرک بسوں اور عوامی ٹرانسپورٹ کے استعمال کے ذریعے پٹرول اور ڈیزل کی کھپت کم کریں؛ سرکاری اور نجی دفاتر کو بھی ورچوئل میٹنگز اور ورک فرام ہوم کے انتظامات کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ غیر ضروری ایندھن کے استعمال میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔”
زرمبادلہ کے تحفظ کی ضرورت کو خوراک، سونے اور تفریحی اخراجات تک وسعت دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کھانے کے تیل کے استعمال میں کمی اور صحت کے فوائد کے ساتھ ساتھ بحران کے دور میں سونے کی خریداری مؤخر کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے بیرونِ ملک تعطیلات اور ڈیسٹینیشن ویڈنگز کے بڑھتے ہوئے رجحان سے زرمبادلہ کے اخراج کی جانب اشارہ کیا۔ جناب مودی نے کہا، “ملک کھانے کے تیل اور سونے کی درآمدات پر بھاری زرمبادلہ خرچ کرتا ہے، جبکہ ڈیسٹینیشن ویڈنگز بھی ایسے وسائل استعمال کرتی ہیں جو قومی استحکام کو مضبوط بنانے میں مددگار ہو سکتے ہیں، اس لیے عالمی غیر یقینی صورتحال کے اس دور میں ضبط اور احتیاط ضروری ہے۔”
چھٹیوں کے لیے ملکی مقامات کو ترجیح دینے کی اپیل کرتے ہوئے اور اسٹیچو آف یونٹی کو ایک اہم سیاحتی متبادل کے طور پر پیش کرتے ہوئے وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے بھارت کے اندر سیاحت کو فروغ دینے اور اس یادگار کو ایک شاندار ڈیسٹینیشن ویڈنگ مقام کے طور پر اجاگر کیا۔ بہترین سہولیات، ثقافتی اہمیت اور اقتصادی فوائد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سیاحت کی ترقی کو زرمبادلہ کے تحفظ سے جوڑا۔ جناب مودی نے کہا، “یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی تعطیلات بھارت میں گزاریں اور شادیوں کے لیے بھی بھارتی مقامات کا انتخاب کریں۔ صرف گجرات ہی میں بے شمار شاندار مقامات موجود ہیں، جبکہ اسٹیچو آف یونٹی ایسی بہترین سہولیات فراہم کرتا ہے جو ڈیسٹینیشن ویڈنگز کے لیے نہایت موزوں ہیں اور اس کے ذریعے زرمبادلہ بھی ملک کے اندر رہتا ہے۔”
تحفظ اور کفایت شعاری کی اپیلوں کو “ووکل فار لوکل” کے جامع قومی تصور کے تحت یکجا کرتے ہوئے اور زراعت کے شعبے میں مقامی کھادوں اور قدرتی کاشتکاری کے فروغ پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے مختلف معاشی شعبوں میں مقامی پیداوار کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ شمسی توانائی سے چلنے والے پمپوں کے استعمال اور ڈیزل پر انحصار کم کرنے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے ماحولیاتی تحفظ اور زرمبادلہ کی بچت کو ایک دوسرے سے مربوط قرار دیا۔ جناب مودی نے کہا، “غیر ملکی اشیا کے بجائے مقامی مصنوعات اپنائیں اور اپنے دیہات، شہروں اور ملک کے کاروباری افراد کو مضبوط بنائیں۔ خاص طور پر زراعت میں مقامی کھادوں اور قدرتی کاشتکاری کو فروغ دیں، جبکہ شمسی پمپوں کے استعمال میں اضافہ کریں تاکہ زرمبادلہ کے اخراج اور ماحولیاتی دباؤ دونوں میں کمی لائی جا سکے۔”
اجتماعی عزم اور قومی یکجہتی کو ایک عوامی تحریک کی شکل دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے 140 کروڑ بھارتیوں کے مشترکہ عہد کو تبدیلی کی سب سے بڑی طاقت قرار دیا۔ متحدہ قومی ردِعمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اور قوم کی اجتماعی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے سماج کے ہر طبقے سے بھرپور تعاون کی اپیل کی۔ جناب مودی نے کہا، “یہ کوششیں بظاہر چھوٹی محسوس ہو سکتی ہیں، لیکن جب 140 کروڑ لوگ مل کر عہد کرتے ہیں تو یہی چھوٹی کوششیں قوم کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہیں۔ ایک بار پھر ہمیں متحد ہونا ہوگا تاکہ یہ بحران ہماری ترقی اور پیش رفت کو متاثر نہ کر سکے، اور مجھے یقین ہے کہ ہم سب مل کر ان عزائم کو پورا کریں گے اور اپنے پیارے وطن کو مزید مضبوط بنائیں گے۔”
سردار گورو رتن ایوارڈ عطا کیے جانے پر تہ دل سے تشکر کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے کہا کہ سردار پٹیل کے نام سے منسوب کسی بھی اعزاز کے ساتھ ایک عظیم ذمہ داری وابستہ ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنے مخصوص اندازِ مزاح میں کہا کہ گگاجی بھائی نے بڑی ہوشیاری سے انہیں اس مقصد کے ساتھ مزید مضبوطی سے جوڑ دیا ہے۔ اپنی زندگی کے مقصد کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ سردار صاحب کے ادھورے خوابوں کو پورا کرنا اور ان کے شروع کیے گئے کام کو آگے بڑھانا اب ان کی زندگی کا مشن بن چکا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ عوام کی دعائیں، حاصل کردہ اقدار اور گجرات کی سرزمین سے سیکھے گئے اسباق ان کے عزم کو ہمیشہ مضبوطی سے برقرار رکھیں گے۔
جنرل کریپاّ سے منسوب ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے، جنہوں نے کبھی کہا تھا کہ عالمی اعزازات خوشی کا باعث ہوتے ہیں، لیکن اپنے گھر اور اپنی سرزمین سے ملنے والی عزت کی خوشی منفرد ہوتی ہے، وزیرِ اعظم نے کہا کہ اگرچہ بھارت کی بڑھتی ہوئی طاقت دنیا بھر میں احترام حاصل کر رہی ہے، لیکن اپنے لوگوں کی دعائیں اور محبت خدمت کی صلاحیت کو کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔
تقریب کے اختتام پر سردار دھام کی تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے اور ادارے کی جانب سے انجام دیے گئے تبدیلی لانے والے کاموں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے میں تنظیم کے کردار کو قوم سازی کا اہم حصہ قرار دیا۔ آج افتتاح کیے گئے منصوبوں کو سماج کے اس مشترکہ عزم کی علامت قرار دیتے ہوئے، جو تعلیم اور مواقع کے ذریعے قوم کا مستقبل تعمیر کرنا چاہتا ہے، جناب مودی نے کہا، “میں آج کے ان منصوبوں پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، جو تعلیم اور مواقع کے ذریعے ملک کے مستقبل کی تعمیر کے لیے سماج کے اجتماعی عزم کی نمائندگی کرتے ہیں۔”
Speaking at the inauguration of Sardardham Hostel in Vadodara. https://t.co/n6YSMRiWyq
— Narendra Modi (@narendramodi) May 11, 2026
बदलाव व्यापक हो, और परिणाम स्थायी हों… इसके लिए समाज और सरकार को मिलकर काम करना आवश्यक होता है।
इसलिए, आज शिक्षा के क्षेत्र में जमीनी हकीकतों के आधार पर काम हो रहा है।
राष्ट्रीय शिक्षा नीति इसका बहुत बड़ा उदाहरण है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 11, 2026
अगर कोरोना महामारी इस सदी का सबसे बड़ा संकट थी… तो पश्चिम एशिया में युद्ध से बनी परिस्थितियां…इस दशक के बड़े संकटों में से एक है।
जब हमने मिलकर कोरोना का मुकाबला कर लिया तो इस संकट से भी अवश्य पार पा जाएंगे।
सरकार भी लगातार ये प्रयास कर रही है, कि देश के लोगों पर इसका कम से…
— PMO India (@PMOIndia) May 11, 2026
हमें भारत के नागरिक के तौर पर अपने कर्तव्य को प्राथमिकता देनी होगी।
इससे पहले के दशकों में भी जब-जब देश युद्ध या किसी और अन्य बड़े संकट से गुजरा है, सरकार की अपील पर हर नागरिक ने ऐसे ही अपना दायित्व निभाया है।
आज भी जरूरत है कि हम सब मिलकर अपना दायित्व निभाएं… देश के संसाधनों…
— PMO India (@PMOIndia) May 11, 2026
हमें भारत के नागरिक के तौर पर अपने कर्तव्य को प्राथमिकता देनी होगी।
इससे पहले के दशकों में भी जब-जब देश युद्ध या किसी और अन्य बड़े संकट से गुजरा है, सरकार की अपील पर हर नागरिक ने ऐसे ही अपना दायित्व निभाया है।
आज भी जरूरत है कि हम सब मिलकर अपना दायित्व निभाएं… देश के संसाधनों…
— PMO India (@PMOIndia) May 11, 2026
हमें हर छोटे-बड़े प्रयास से ऐसे उत्पादों का उपयोग कम करना है जो विदेश से आते हैं… और ऐसे व्यक्तिगत कामों से भी बचना है जिसमें विदेशी मुद्रा खर्च होती हो: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 11, 2026
आज समय की मांग है… कि हम “वोकल फॉर लोकल” को एक जन-आंदोलन बनाएं।
विदेशी सामान की जगह…लोकल उत्पादों को अपनाएं।
अपने गांव, अपने शहर, अपने देश के उद्यमियों को ताकत दें: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 11, 2026
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ش ب۔ف ر
U- 6943
Speaking at the inauguration of Sardardham Hostel in Vadodara. https://t.co/n6YSMRiWyq
— Narendra Modi (@narendramodi) May 11, 2026
बदलाव व्यापक हो, और परिणाम स्थायी हों... इसके लिए समाज और सरकार को मिलकर काम करना आवश्यक होता है।
— PMO India (@PMOIndia) May 11, 2026
इसलिए, आज शिक्षा के क्षेत्र में जमीनी हकीकतों के आधार पर काम हो रहा है।
राष्ट्रीय शिक्षा नीति इसका बहुत बड़ा उदाहरण है: PM @narendramodi
छोटे शहरों से बड़े-बड़े StartUps सामने आ रहे हैं।
— PMO India (@PMOIndia) May 11, 2026
StartUps में महिलाओं की भागीदारी भी लगातार बढ़ रही है।
पहले जिन sectors को risky माना जाता था... वो अब युवाओं की पहली पसंद बन रहे हैं: PM @narendramodi
अगर कोरोना महामारी इस सदी का सबसे बड़ा संकट थी... तो पश्चिम एशिया में युद्ध से बनी परिस्थितियां...इस दशक के बड़े संकटों में से एक है।
— PMO India (@PMOIndia) May 11, 2026
जब हमने मिलकर कोरोना का मुकाबला कर लिया तो इस संकट से भी अवश्य पार पा जाएंगे।
सरकार भी लगातार ये प्रयास कर रही है, कि देश के लोगों पर इसका कम से…
हमें भारत के नागरिक के तौर पर अपने कर्तव्य को प्राथमिकता देनी होगी।
— PMO India (@PMOIndia) May 11, 2026
इससे पहले के दशकों में भी जब-जब देश युद्ध या किसी और अन्य बड़े संकट से गुजरा है, सरकार की अपील पर हर नागरिक ने ऐसे ही अपना दायित्व निभाया है।
आज भी जरूरत है कि हम सब मिलकर अपना दायित्व निभाएं... देश के संसाधनों…
हमें हर छोटे-बड़े प्रयास से ऐसे उत्पादों का उपयोग कम करना है जो विदेश से आते हैं… और ऐसे व्यक्तिगत कामों से भी बचना है जिसमें विदेशी मुद्रा खर्च होती हो: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) May 11, 2026
आज समय की मांग है… कि हम “वोकल फॉर लोकल” को एक जन-आंदोलन बनाएं।
— PMO India (@PMOIndia) May 11, 2026
विदेशी सामान की जगह…लोकल उत्पादों को अपनाएं।
अपने गांव, अपने शहर, अपने देश के उद्यमियों को ताकत दें: PM @narendramodi
वडोदरा में सरदारधाम छात्रावास का उद्घाटन कर अत्यंत संतोष और गर्व की अनुभूति हुई है। pic.twitter.com/bdG5XyHGG7
— Narendra Modi (@narendramodi) May 11, 2026
बड़े बदलाव और बेहतर परिणाम के लिए समाज और सरकार का साथ मिलकर काम करना बहुत जरूरी है। राष्ट्रीय शिक्षा नीति इसका एक बड़ा उदाहरण है। pic.twitter.com/O7J6sbPXaU
— Narendra Modi (@narendramodi) May 11, 2026
हमारे बेटे-बेटियों के लिए सभी क्षेत्रों में संभावनाओं के नए-नए द्वार खुलें, ये सरकार के साथ-साथ समाज की भी जिम्मेदारी है। मुझे खुशी है कि सरदारधाम इस दायित्व को पूरी निष्ठा से निभा रहा है। pic.twitter.com/NXG2R0FTqG
— Narendra Modi (@narendramodi) May 11, 2026
गुजरात के साथ ही पूरा देश ग्लोबल सप्लाई चेन का बड़ा केंद्र बने, इस दिशा में हम लगातार काम कर रहे हैं। आने वाले समय में वडोदरा की भी इसमें महत्वपूर्ण भूमिका होने वाली है। pic.twitter.com/jPgSfsWkHH
— Narendra Modi (@narendramodi) May 11, 2026
140 करोड़ लोग एक कदम आगे बढ़ते हैं, तो देश भी 140 करोड़ कदम आगे बढ़ता है। इसलिए वैश्विक संकट के मौजूदा दौर में देशवासियों से मेरे कुछ विशेष आग्रह… pic.twitter.com/uO5xFHSEUL
— Narendra Modi (@narendramodi) May 11, 2026