Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

وزیراعظم کا متحدہ عرب امارات کا دورہ

وزیراعظم کا متحدہ عرب امارات کا دورہ


وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج متحدہ عرب امارات کا سرکاری دورہ کیا۔ ہوائی اڈے پر متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان نے انہیں خوش آمدید کہا اور انہیں باقاعدہ رسمی استقبال پیش کیا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان تفصیلی مذاکرات ہوئے، جن میں وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کا اعادہ کیا اور امارات کی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ آمد و رفت اور بلا رکاوٹ بحری نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے بھارت کے واضح مؤقف کا بھی اظہار کیا، جو خطے میں دیرپا امن و استحکام کے ساتھ ساتھ توانائی اور غذائی تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے۔

دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور مختلف شعبوں بشمول توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، سلامتی، فِن ٹیک، بنیادی ڈھانچہ، تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط میں جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی مزید مضبوطی کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے بھارت–متحدہ عرب امارات جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے) کی کامیابی کا اعتراف کیا ، جس کے نتیجے میں دو طرفہ تجارت نے نئی بلندیاں حاصل کی ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے توانائی کے شعبے میں دو طرفہ تعلقات کی متحرک اور بڑھتی ہوئی شراکت کو سراہا، جس میں متحدہ عرب امارات بھارت کی توانائی کے تحفظ خصوصاً خام تیل، ایل این جی اور ایل پی جی کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم شراکت دار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہے۔ دونوں رہنماؤں نے توانائی کے شعبے میں ایک جامع شراکت داری کے لیے نئی پہلوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ اس تناظر میں انہوں نے انڈین اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز لمیٹڈ اور ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کے معاہدے کی تکمیل کا خیرمقدم کیا، جس کے تحت بھارت کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر میں متحدہ عرب امارات کی شمولیت کو 30 ملین بیرل تک بڑھایا جائے گا اور بھارت میں اسٹریٹجک گیس ذخائر قائم کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کیا جائے گا۔ انہوں نے انڈین آئل لمیٹڈ (آئی او سی ایل) اور ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (اے ڈی این او سی) کے درمیان طویل مدتی ایل پی جی سپلائی کے معاہدے کا بھی خیرمقدم کیا۔

دونوں رہنماؤں نے بھارت میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 5 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔ اس میں ایمریٹس نیو ڈیولپمنٹ بینک (ای این ڈی بی) کی جانب سے بھارت کے آر بی ایل بینک میں 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی (اے ڈی آئی اے) کی جانب سے نیشنل انفراسٹرکچر اینڈ انویسٹمنٹ فنڈ آف انڈیا (این آئی آئی ایف) کے ساتھ بھارت کے ترجیحی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں 1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی کی جانب سے بھارت کی سمان کیپٹل میں 1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ یہ سرمایہ کاریاں بھارت کی ترقی کے سفر کے لیے متحدہ عرب امارات کے پائیدار اور طویل مدتی عزم کو ظاہر کرتی ہیں اور دو طرفہ اسٹریٹجک سرمایہ کاری شراکت داری کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے ایک اہم ستون کے طور پر دفاع کے شعبے میں دو طرفہ تعاون میں مسلسل اور مضبوط پیش رفت کو سراہا۔ انہوں نے اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے فریم ورک پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ اس کے تحت دونوں ملکوں نے دفاعی صنعتی تعاون کو مزید گہرا کرنے اور اختراع و جدید ٹیکنالوجی، تربیت، مشترکہ مشقوں، بحری سلامتی، سائبر دفاع، محفوظ مواصلات اور معلومات کے تبادلے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس دورے کے دوران درج ذیل اضافی دستاویزات کی تکمیل کا بھی مشاہدہ کیا، جو دو طرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے:

  • کوچی شپ یارڈ لمیٹڈ اور ڈرائی ڈاکس ورلڈ، دبئی کے درمیان واڈینار میں جہازوں کی مرمت کے کلسٹر کے قیام سے متعلق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ، جس میں ساحلی تعمیرات بھی شامل ہے، جو حکومت ہند کے میری ٹائم ڈیولپمنٹ فنڈ اسکیم کے تحت ہے۔
  • کوچی شپ یارڈ لمیٹڈ، ڈرائی ڈاکس ورلڈ دبئی اور سینٹر آف ایکسیلنس ان میری ٹائم اینڈ شپ بلڈنگ (سی ای ایم ایس) کے درمیان سہ فریقی مفاہمتی یادداشت، جو جہازوں کی مرمت میں اسکل ڈیولپمنٹ سے متعلق ہے۔ اس کے تحت ایک ایسا فریم ورک قائم کیا گیا ہے جس کے ذریعے ہنر مند بحری افرادی قوت کو تیار، تربیت اور روزگار فراہم کیا جائے گا، بھارتی بحری افرادی قوت کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا اور بھارت کو شپ بلڈنگ اور شپ ریپئر کے ماہرین کے مرکز کے طور پر مستحکم کیا جائے گا۔
  • بھارت کے سی ڈی اے سی  اور متحدہ عرب امارات کے جی- 42 کے درمیان اشتراک سے 8 ایکسا فلاپ سپر کمپیوٹ کلسٹر کے قیام کے لیے ٹرم شیٹ(سرمایہ کاری یا پیشہ ور سودے کیلئے اہم قواعد اور شرائط ) پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے میتری (ماسٹر ایپلیکیشن فار انٹرنیشنل ٹریڈ اینڈ ریگولیٹری انٹرفیس) کے ذریعے ورچوئل ٹریڈ کوریڈور کے آغاز کا بھی خیرمقدم کیا۔ یہ ڈیجیٹل نظام دونوں طرف کسٹمز اور پورٹ اتھارٹیز کو جوڑتا ہے، جس سے کارگو کی نقل و حرکت میں آسانی، لاگت میں کمی اور ٹرانزٹ وقت میں کمی آئے گی اور تجارت کا بہاؤ مزید مؤثر ہوسکے گا۔

وزیر اعظم نے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کا پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور انہیں جلد از جلد بھارت کے دورے کیلئے مدعو کیا۔

 

**************

 

ش ح ۔ م ش ۔ م الف

U. No.7118