Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

یورپی گول میز صنعتی کانفرنس میں وزیراعظم کا پریس بیان

یورپی گول میز صنعتی کانفرنس میں وزیراعظم کا پریس بیان


عزت مآب وزیراعظم کریسٹرسن،

عزت مآب محترمہ ارسولا،

دونوں ممالک کے وفود کے ارکان،

میڈیا کے  ساتھیو،

نمسکار!

سب سے پہلے، میں وزیراعظم کریسٹرسن کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے پرتپاک خیر مقدم کیا۔

کچھ دیر قبل، مجھے سویڈن کا سب سے بڑا اعزاز، “رائل آرڈر آف دی پولر اسٹار” عطا کیا گیا۔ یہ اعزاز صرف میرا نہیں ہے؛ یہ 1.4 ارب ہندوستانیوں کا اعزاز ہے۔ یہ ان تمام ساتھیو کو بھی خراجِ تحسین ہے جنہوں نے بھارت اور سویڈن کے تعلقات کو مضبوط بنایا ہے اور انہیں ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔

میں ارسولا جی کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ آج کے پروگرام میں شریک ہوئیں، جس نے میرے گوتھنبرگ کے دورے کو خاص اہمیت دی ہے، جو سویڈن اور یورپ کا صنعتی مرکز ہے۔

ساتھیو،

بھارت اور سویڈن کے تعلقات جمہوری اقدار، قانون کی بالادستی اور انسان مرکز ترقی کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ ہمارے دونوں ممالک ترقی کے محرک کے طور پر اختراع  کو دیکھتے ہیں، پائیداری کو مشترکہ ذمہ داری سمجھتے ہیں اور جمہوریت کو اپنی طاقت قرار دیتے ہیں۔

آج کی ملاقات میں ہم نے ان مشترکہ اقدار اور باہمی مفادات کی بنیاد پر اپنے تعاون کو آگے بڑھانے پر گفتگو کی۔ چونکہ ہماری شراکت داری تمام شعبوں میں بڑھ رہی ہے، اس لیے ہم نے اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی سطح تک بلند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس شراکت داری کے تحت ہم کلیدی شعبوں جیسے گرین ٹرانزیشن، دفاع، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور عوامی روابط میں آگے بڑھیں گے۔

ساتھیو،

ہم دونوں کے درمیان ہائی ٹیک شعبوں جیسے مصنوعی ذہانت ( اے آئی)، ہیلتھ ٹیک اور گرین موبیلیٹی میں تعاون کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ اس سال بھارت میں منعقد ہونے والے  اے آئی امپیکٹ سمٹ میں سویڈن کا ایک بڑا کاروباری وفد بھی شریک ہوا تھا۔ ہم “سوئیڈن–انڈیا ٹیکنالوجی اور  اے آئی کوریڈور” کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں گے۔

دونوں ممالک کے اسٹارٹ اپس اور ریسرچ ایکو سسٹمز کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ہم بھارت-سویڈن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر قائم کرنے جا رہے ہیں۔

بھارت اور سویڈن کے درمیان ماحولیاتی تبدیلی اور پائیداری کے حوالے سے سوچ میں بھی مضبوط ہم آہنگی موجود ہے۔ لیڈرشپ گروپ فار انڈسٹری ٹرانزیشن، یا لیڈ آئی ٹی، ہمارا مشترکہ عالمی اقدام ہے جس کے تحت ہم کم کاربن صنعتی تبدیلی پر کام کر رہے ہیں۔ آج ہم نے اس کے تیسرے مرحلے پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارت گرین ہائیڈروجن، سرکولر اکانومی اور پائیدار انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں بڑا کام کر رہا ہے۔ سویڈن کی ٹیکنالوجی اور بھارت کے پیمانے کو یکجا کر کے ہم ایسے موسمیاتی حل تیار کر سکتے ہیں جو پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہوں۔ آرکٹک خطے میں بھارت اور سویڈن کا تعاون بھی عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی کی بہتر تفہیم میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ساتھیو،

دفاعی شعبے میں ہمارا تعاون مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔ سویڈن کی کمپنیوں کی جانب سے بھارت میں مینوفیکچرنگ سہولیات کا قیام اس بات کی علامت ہے کہ ہماری شراکت داری اب صرف خریدار اور فروخت کنندہ کے تعلق سے آگے بڑھ کر ایک طویل مدتی صنعتی تعاون میں تبدیل ہو رہی ہے۔

ساتھیو،

ارسولا جی کی آج کی موجودگی اس موقع کو مزید خاص بنا دیتی ہے۔ اس سال جنوری میں ان کے بھارت کے دورے کے دوران ہم نے بھارت-یورپی یونین تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کئی تاریخی فیصلے کیے تھے۔ مجھے خوشی ہے کہ ان تمام فیصلوں پر اچھی پیش رفت ہو رہی ہے۔

بھارت-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) صنعتوں، سرمایہ کاروں اور اختراع کرنے والوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ جیسا کہ ارسولا جی نے کہا، یہ “تمام معاہدوں کی ماں” ہے۔

سکیورٹی اور ڈیفنس پارٹنرشپ اور موبیلیٹی معاہدے نے ہماری اسٹریٹجک اور عوامی مرکوز شراکت داری کو نئی طاقت دی ہے۔ بھارت-یورپی یونین ٹریڈ اینڈ ٹیکنالوجی کونسل نے ہمارے تعاون کو مزید گہرا کیا ہے۔ ہم ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، کلین انرجی، سیمی کنڈکٹرز، لچکدار سپلائی چینز اور اختراع جیسے شعبوں میں مل کر کام کر رہے ہیں۔

دنیا میں امن اور استحکام کے لیے بھارت اور یورپ کے درمیان سیاسی، معاشی اور اسٹریٹجک ہم آہنگی بہت اہم ہے۔

ساتھیو،

آج کے کشیدہ عالمی ماحول میں بھارت اور سویڈن جیسے جمہوری ممالک کے درمیان قریبی تعاون کی خاص اہمیت ہے۔ ہم ہمیشہ مختلف کشیدگیوں اور چیلنجوں کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری پر زور دیتے آئے ہیں۔

بھارت اور سویڈن اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی پوری انسانیت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ میں وزیراعظم کریسٹرسن کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ گزشتہ سال پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سویڈن نے ہماری حمایت کی۔ ہم دہشت گردی اور اس کی حمایت کرنے والوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

محترم معززین،

ایک بار پھر، میں آج کی بامعنی گفتگو کے لیے آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہماری مشترکہ کوششوں کے ذریعے بھارت-سویڈن اور بھارت-یورپ کی شراکت داریاں اسی طرح آگے بڑھتی رہیں گی، اور ہم مل کر عالمی امن، سلامتی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

آپ کا بہت شکریہ۔

**********

ش ح۔ ش ت ۔ش ب ن

U-7178