Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس 2026 کے آغاز پر وزیرِ اعظم کے خیالات کا اردو ترجمہ

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس  2026 کے آغاز پر وزیرِ اعظم کے خیالات  کا اردو ترجمہ


آپ سب کا تہہِ دل سے استقبال۔

مانسون اپنے مثبت اثرات دکھانے لگا ہے  اور پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس بھی شروع ہو رہا ہے۔ مانسون ہو یا مانسون سیشن، جب یہ دونوں سرگرم ہوں تو انتہائی نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں  اور جب یہ دونوں نتیجہ خیز ہوں، تو یہ ملک اور تمام جانداروں کی فلاح و بہبود میں تعاون دیتے ہیں۔ اسی امید کے ساتھ، ہم دعا کرتے ہیں کہ مانسون بھی سرگرم رہے اور مانسون اجلاس  بھی اتنا ہی نتیجہ خیز ثابت ہو۔

دوستو،

گزشتہ ایک ماہ کے دوران، ملک نے کئی سنگِ میل عبور کیے ہیں، جنہوں نے شہریوں کو فخر کے جذبات سے  بھر دیا ہے۔ یہ کامیابیاں قومی، بین الاقوامی اور حتیٰ کہ خلائی شعبوں پر محیط ہیں۔ ہندوستان کے لیے یہ عظمت اور سرخروئی کے لمحات رہے ہیں۔ گزشتہ سال مانسون اجلاس سے ٹھیک پہلے، ایک ہندوستانی شہری نے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن (بین الاقوامی خلائی اسٹیشن) تک رسائی حاصل کی تھی  اور ابھی پرسوں ہی، ہندوستان کے ایک نئے اسٹارٹ اپ نے ایک غیر معمولی کارنامہ انجام دیا ہے۔ دنیا میں صرف چند ہی ایسے ممالک ہیں جہاں نجی اداروں نے ایسی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہمارے نوجوان اختراع کاروں  نے خلا میں ہندوستان کی امنگوں کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے  اور یہ واقعی ایک انتہائی شاندار کامیابی ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ ‘اسکائی روٹ’ اسٹارٹ اپ میں کام کرنے والی ٹیم کی اوسط عمر محض 28 سال ہے۔ یہ انہی نوجوان ذہنوں کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ میں کسی 56 سالہ نوجوان کی بات نہیں کر رہا؛ میں ایک ایسے اسٹارٹ اپ کی بات کر رہا ہوں جس کی ٹیم نے، جس کی اوسط عمر محض 28 سال ہے، خلا کی دنیا میں ہندوستان کا پرچم نصب کر دیا ہے۔ وہ یقیناً ہماری دلی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ایسی کامیابیاں ہمارے ملک میں بے پناہ اعتماد پیدا کرتی ہیں اور دنیا میں ایک معزز اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر ہندوستان کے وقار کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

دوستو،

یہ کوئی محض اتفاق نہیں ہے؛ یہ ایک طاقتور پیغام ہے—ایک ایسا پیغام کہ ہندوستان کے نوجوانوں کی صلاحیتیں اور امنگیں اتنی ہی لامحدود ہیں جتنا کہ خود یہ خلا ہے۔ ملک کے لیے اس سے بڑی کوئی اور ترغیب نہیں ہو سکتی۔

دوستو،

یہ اس ‘ریفارم ایکسپریس’  کا نتیجہ ہے جس پر ملک سوار ہو چکا ہے، جو ہمارے نوجوانوں کو اتنے جرأت مندانہ قدم اٹھانے اور کامیابی حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے۔

دوستو،

حال ہی میں، راجستھان میں ایک بڑی آئل ریفائنری ملک  کے نام وقف کی گئی ہے۔ چند ہفتے پہلے، ملک کے تیسرے سیمی کنڈکٹر پلانٹ کا افتتاح کیا گیا۔ ابھی کچھ ہی دن پہلے، ایک گرین ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین کا آغاز کیا گیا ہے ۔ یہ ایک ایسی سہولت ہے جو دنیا کے بہت کم ممالک میں دستیاب ہے۔ لیکن جو ہائیڈروجن ٹرین ہندوستان نے اپنے شہریوں کے نام وقف کی ہے، وہ دنیا کی سب سے طاقتور انجن والی اور سب سے طویل ٹرین ہے۔ یہ ہندوستان کے سائنسدانوں، انجینئروں، اختراع کاروں، کاروباری شخصیات اور کارکنوں کی لگن کا نتیجہ ہے، جو سب ملک کے لیے ایک مشن کے تحت کام کر رہے ہیں۔

دوستو،

ہم اچھی طرح جانتے ہیں اور دنیا بھی اس پر فکرمند ہے

 کہ جنگ جیسی صورتحال بار بار پیدا ہوتی رہتی ہے۔ مغربی ایشیا کی جنگ نے ہندوستان جیسے ممالک کے لیے ایک بڑا بحران کھڑا کر دیا ہے جو توانائی کے لیے دوسروں پر منحصر ہیں۔ پٹرول، ڈیزل، ایل پی جی، کھادیں، کیمیکلز ،  ان سب کی سپلائی میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود، ہندوستان 7.7 فیصد کی شرح سے ترقی کرتا رہا اور دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی بڑی معیشت بن گیا۔ یہ ہندوستان کی طاقت اور جوش و جذبے کے ساتھ نئی بلندیوں کو چھونے کے اس کے پختہ ارادے کی عکاسی کرتا ہے۔ جیسے ہی مانسون سیشن شروع ہو رہا ہے، ملک نے رفتار پکڑ لی ہے اور پارلیمنٹ کا جذبہ اس رفتار کو نئی توانائی بخش سکتا ہے۔ قومی اہداف حاصل کرنے کے لیے ایک مثبت جذبہ انتہائی ضروری ہے۔ ہمارے ایوان میں پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر کئی تجربہ کار پارلیمنٹیرینز موجود ہیں، جن کے علم اور بصیرت کی پارلیمنٹ اور ملک کو ضرورت ہے۔ اس لیے، پارلیمنٹ کا چلنا، با معنی بحث و مباحثہ ہونا اور ملک کو آگے لے جانے کے لیے اجتماعی قراردادیں منظور کیا جانا وقت کا تقاضا اور نوجوانوں کی امنگ ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حب الوطنی اور قومی جذبے سے سرشار آوازوں کو پارلیمنٹ میں ایک مناسب پلیٹ فارم ملے، تاکہ وہ اپنی آواز بلند کر سکیں اور ملک کی رہنمائی کر سکیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ جہاں حقائق اور منطق غالب ہوں، وہاں ہنگامہ آرائی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ مضبوط دلائل اور ٹھوس حقائق آواز کو پرسکون لیکن پر اثر انداز میں اٹھانے کا موقع دیتے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ کے مباحثے حقائق اور منطق سے بھرپور ہوں گے، ہر آواز کو موقع ملے گا اور ہر نظریے کا احترام کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ میں یہی ہمارا کردار ہے۔ میں تمام اراکینِ پارلیمنٹ  کو اس  اجلاس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی دعوت دیتا ہوں۔ آج صبح، اسپیکر صاحب نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اراکینِ پارلیمنٹ کا استقبال کیا ہے۔ میں بھی ان کی آواز میں اپنی آواز ملا رہا ہوں۔

آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔

نمسکار۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔م م۔ن م۔

U- 159