Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

’من کی بات‘ کی 136ویں قسط میں وزیرِ اعظم کے خطاب  کا   اردو  ترجمہ


میرے پیارے ہم وطنو، نمسکار۔

ہماری زندگی میں کچھ ایسے دن ہوتے ہیں جنھیں یاد رکھنے کے لیے کیلنڈر کی ضرورت نہیں پڑتی۔ آج، 26 جولائی، ایسی ہی ایک تاریخ ہے۔ آج ’کرگل وجے دیوس‘ ہے۔ یہ دن ہمیں فخر سے بھر دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں ہمارے بہادر سپاہیوں کی غیر معمولی بہادری کی یاد دلاتا ہے۔ کرگل کی بلند چوٹیاں، سخت موسم، دشمن کا چیلنج-ہمارے سپاہیوں نے ہر حالات کا سامنا کیا، پھر بھی ان کا جذبہ ہر چیلنج سے بڑھ کر تھا۔ انھوں نے ماں بھارتی کے دفاع کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ آج ’کرگل وجے دیوس‘ پر، میں تمام بہادر شہیدوں اور سپاہیوں کو نہایت احترام سے سلام پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو،

آج کا بھارت نہ صرف اپنے جانبازوں کو یاد کرتا ہے بلکہ ان کی داستان نئی نسل تک بھی پہنچاتا ہے۔ اسی جذبے کے ساتھ، اس سال ایک خصوصی ’شوریہ وجے یاترا‘ کا انعقاد کیا گیا ہے۔ 14 جولائی کو دہلی میں نیشنل وار میموریل سے شروع ہونے والی یہ موٹر سائیکل ریلی دراس میں کارگل وار میموریل تک پہنچے گی۔

اس کا پیغام ہے – ”ون رائیڈ، ون نیشن، ون سلوٹ۔“ یہ سفر ہمیں یاد دلائے گا کہ قوم کے لیے دی گئی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

ساتھیو،

آج، اپنے فوجیوں کی ہمت کے ساتھ ساتھ، بھارت اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو بھی مسلسل مضبوط کر رہا ہے۔ کچھ دن پہلے، آئی این ایس مہندراگری کو بھارتی بحریہ میں شامل کیا گیا تھا۔ اس جدید جنگی جہاز کو خود بھارت میں ڈیزائن اور تعمیر کیا گیا ہے۔ اس میں استعمال ہونے والا 75 فیصد سے زیادہ مواد مقامی ہے۔ یہ ’آتم نربھر بھارت‘ کی بڑھتی ہوئی طاقت کی علامت ہے۔ اسی مہینے، ڈی آر ڈی او نے پناکا لانگ رینج گائیڈڈ راکٹ کا بھی کام یاب تجربہ کیا۔ اس کام یابی کے پیچھے ہمارے سائنس دانوں اور انجینئروں کی اجتماعی استقامت کارفرما ہے۔ صرف دو تین دن پہلے، ڈی آر ڈی او نے کشا میزائل کا بھی کام یاب تجربہ کیا ہے۔

ساتھیو،

خواہ وہ ڈفینس پروڈکشن ہو، دفاعی برآمدات ہوں، یا دوست ممالک کے ساتھ سیاسی تعاون – بھارت مسلسل نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں، میں انڈونیشیا میں تھا، جہاں برہموس اور آسٹرا میزائلوں سے متعلق ایک اہم معاہدہ طے پایا۔ بھارت کے دفاعی آلات اور ٹیکنالوجی پر عالمی اعتماد بڑھ رہا ہے۔

اس ’کارگل وجے دیوس‘ پر، آئیے ہم اپنے لازوال شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کریں اور ایک محفوظ، باصلاحیت اور آتم نربھر بھارت کی تعمیر کے اپنے عزم کو مزید مضبوط کریں۔

میرے پیارے ہم وطنو،

’من کی بات‘ کی پچھلی قسط میں، میں نے آپ سے ’کیچ دی رین‘ مہم کے بارے میں بات کی تھی۔ میں نے اپیل کی تھی کہ بارش کے ہر قطرے کو محفوظ کرنے کی اس مہم کو ایک عوامی تحریک میں تبدیل کیا جائے۔ ’کیچ دی رین‘ کا پیغام بہت سادہ ہے: بارش جہاں اور جب ہو، وہیں پانی کو محفوظ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ 4 جولائی سے ملک گیر سطح پر ایک خصوصی مہم جاری ہے۔ اس پہل کے تحت، بارش کے پانی کو جمع کرنے، زیرِ زمین پانی کو ریچارج کرنے، آبی ذخائر کی بحالی اور شجرکاری کو نئی تحریک دی جا رہی ہے۔ مجھے ہر جگہ لوگوں کی زبردست شرکت دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے، چاہے وہ گاؤں ہوں یا شہر، پنچایتیں ہوں یا سماجی تنظیمیں۔

کچھ مقامات پر پرانے تالابوں سے گاد نکالی جا رہی ہے، جب کہ دیگر مقامات پر کنوؤں اور باؤلیوں کو بحال کیا جا رہا ہے۔ وہ بورویل جو اب استعمال میں نہیں ہیں، اب زیرِ زمین پانی کو ریچارج کرنے کے ذرائع کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

ساتھیو،

مدھیہ پردیش کے سیدھی ضلع میں تقریباً 1,500 تالاب تعمیر کیے گئے ہیں۔ نرسنگھ پور میں ’امرت سروور‘ بحال کیے گئے ہیں۔ مہاراشٹر کے ناسک میں پانی ذخیرہ کرنے کی نمایاں صلاحیت تیار کی گئی ہے۔ آندھرا پردیش کے نندیال میں، تمام گرام پنچایتیں اس مہم میں شامل ہو گئی ہیں، اور پرانے تالابوں کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ ہمارے شہر بھی پیچھے نہیں ہیں؛ اس مہم کے حوصلہ افزا نتائج کوربا (چھتیس گڑھ)، بھونیشور (اڈیشہ) اور وجے نگرم (آندھرا پردیش) میں نظر آ رہے ہیں۔ آئیے، ہم بھی اپنے آس پاس کے کسی تالاب، کنویں یا باؤلی کی ذمہ داری لیں اور پانی کا ہر قطرہ بچائیں۔ آج بچایا گیا ہر قطرہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ میرے پیارے ہم وطنو، گلاسگو میں دولتِ مشترکہ کھیل چند روز قبل ہی شروع ہوئے ہیں۔ ہر بھارتی مسلسل بھارتی دستے کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کر رہا ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ تمام کھلاڑی اور ایتھلیٹس غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کریں اور لوگوں کے دل جیت لیں۔

ساتھیو،

ہمارے نوجوانوں نے حال ہی میں کھیلوں میں شاندار کارنامے انجام دیے ہیں۔ پی وی سندھو بیڈمنٹن میں جاپان اوپن کا خطاب جیتنے والی پہلی بھارتی بن گئی ہیں؛ پوری قوم کو ان کی اس کام یابی پر فخر ہے۔ بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم نے بھی لندن کے لارڈز اسٹیڈیم میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ جیتا۔ یہ ایک تاریخی فتح ہے؛ ہماری ٹیم نے یہ میچ 270 رنز کے بڑے فرق سے جیتا۔ لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی، لارڈز کی طویل تاریخ میں، یہ خواتین کی ٹیم کی طرف سے کھیلا جانے والا پہلا ٹیسٹ میچ تھا۔ اسی میدان پر بھارت نے 1983 میں اپنا پہلا کرکٹ عالمی کپ جیتا تھا۔ اب، ہماری ’ناری شکتی‘ نے وہاں ملک کا نام روشن کیا ہے۔

ساتھیو،

کچھ چھوٹی پہل بھی ہوتی ہیں جو بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ مجھے کیرالہ کے ایرناکولم میں واقع ساؤتھ چتور میں کھیلوں سے متعلق ایک ایسی ہی پہل کے بارے میں معلوم ہوا۔ وہاں کے ایک اس کول میں سنسکرت کلب ہے جہاں ایک استاد، جناب ابھیلاش، سنسکرت کو ایک منفرد انداز میں مقبول بنا رہے ہیں۔ اس پروجیکٹ کا نام ’اکشرکَندُک‘ رکھا گیا ہے؛ یہ سنسکرت کے حروف کو فٹ بال میں استعمال ہونے والی اصطلاحات سے جوڑ کر آسان انداز میں بیان کرتا ہے۔ اس سے سیکھنے کا عمل خوشگوار ہو جاتا ہے اور لوگوں اور کھیلوں کے درمیان گہرا تعلق بھی استوار ہوتا ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو،

گذشتہ اتوار کو ’وکرم-1‘ کے کام یاب آغاز کے بعد ہر بھارتی فخر سے سرشار ہے۔ ہم تمام بھارتی، بھارت کے خلائی شعبے کے لیے اس تاریخی لمحے کے گواہ تھے۔ یہ نجی شعبے کے ذریعے تیار کردہ بھارت کا پہلا راکٹ ہے۔ ہمارے نوجوان جدت طرازوں نے وہ کارنامہ انجام دیا جس کا کبھی تصور کرنا بھی مشکل تھا، انھوں نے شاندار مہارت، جذبے اور صبر کا مظاہرہ کیا۔ ایک طویل عرصے تک، ہمارا خلائی شعبہ نجی شعبے کے لیے بند رہا، جس کی وجہ سے بہت سے دل چسپی رکھنے والے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے موقع سے محروم رکھا گیا۔ نوجوانوں کے مفادات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ہم نے خلائی شعبے کو نجی کاروباری اداروں کے لیے کھول دیا، اور آج دنیا اس کے نتائج دیکھ رہی ہے۔

ساتھیو،

ہمارے نوجوان ساتھی سائنس کے میدان میں بھی بھارت کا نام روشن کر رہے ہیں۔ سائنس اولمپیاڈز کا شمار دنیا کے اہم ترین مقابلوں میں ہوتا ہے۔ ان تقریباًًًت میں طلبہ کی ایک بڑی تعداد حصہ لیتی ہے۔ فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی اور ریاضی کے اولمپیاڈز اسی ماہ منعقد کیے گئے۔ بھارتی دستے نے ان مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ فزکس اولمپیاڈ میں، ہمارے پانچوں طلبہ نے طلائی تمغے جیتے، اور بھارت نے پہلا مقام حاصل کیا۔

گذشتہ ایک دہائی کے دوران، ہمارے ملک کے طلبہ نے ہر فزکس اولمپیاڈ میں طلائی یا چاندی کا تمغہ جیتا ہے۔ کیمسٹری اولمپیاڈ میں بھی، ہمارے تمام طلبہ نے طلائی تمغے جیتے ہیں۔ یہ اب تک کی ہماری بہترین کارکردگی ہے۔ ہمارے تمام طلبہ نے بائیولوجی اولمپیاڈ میں بھی تمغے جیتے، جن میں ایک طلائی تمغہ بھی شامل ہے۔ دوسری جانب، ریاضی کے اولمپیاڈ میں، ہمارے طلبہ نے دو طلائی اور چار چاندی کے تمغے حاصل کیے۔ مجھے قوم کی نوجوان طاقت پر بے حد فخر ہے۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ بھارت میں اولمپیاڈز اور ہیکاتھون کا کلچر تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ملک بھر میں زیادہ سے زیادہ نوجوان ایسے فورمز میں دل چسپی دکھائیں گے اور بھارت کا پرچم بلند رکھیں گے۔

میرے پیارے ہم وطنو،

جب کسی میں کچھ حاصل کرنے کی صلاحیت اور جذبہ دونوں موجود ہوں، تو ہر راستہ آسان ہو جاتا ہے۔ اس کی ایک جھلک کشمیر کی روایتی ’واگو‘ چٹائی کے حوالے سے کی جانے والی موجودہ کوششوں میں نمایاں ہے۔ اسے سرکنڈوں اور دھان کے بھوسے سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس چٹائی کو بنانے کی روایت کئی سال پرانی ہے۔ اس عمل کا آغاز کشمیر کے دلدلی علاقوں سے گھاس اور سرکنڈے کاٹنے سے ہوتا ہے۔ انھیں دھوپ میں سکھانے اور مواد کو چھانٹنے کے بعد، ہاتھ سے بُننے کا عمل شروع ہوتا ہے۔

دو دستکاروں کو ایک چٹائی مکمل کرنے میں تقریباً چار دن لگتے ہیں۔ یہ چٹائی منفرد ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول دوست بھی ہے۔ اس کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ گرمیوں میں ٹھنڈک اور سردیوں میں گرمی فراہم کرتی ہے۔ اگرچہ یہ کبھی ہر کشمیری گھرانے میں پائی جاتی تھی، لیکن گذشتہ چند برسوں میں اس کا استعمال کم ہو گیا تھا۔ اس صورت حال کے درمیان، سری نگر کے جناب غلام حسین اور ان کی بیٹی، محترمہ تنزیلہ نے ایک عہد کیا۔ دونوں نے خود کو ’واگو‘ ہنر کی روایت کو بحال کرنے کے لیے وقف کر دیا۔ جناب غلام حسین کا تعلق ایک انتہائی غریب گھرانے سے ہے۔ انھیں اس کوشش میں بے شمار چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، ’واگو‘ کو محفوظ رکھنے کا ان کا عزم غیر متزلزل رہا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے، بہت سے لوگ اس پہل میں شامل ہونے لگے۔ جناب غلام حسین نے اس ہنر کو نمایاں طور پر آگے بڑھایا۔ انھیں اپنے مشن کے لیے مقامی حکومت کی حمایت بھی حاصل ہوئی۔

آج، ’واگو‘ تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے اور ملک کے دیگر حصوں تک پہنچ رہا ہے۔ مجھے اس کوشش سے وابستہ ہر فرد پر بے حد فخر ہے۔ آج، ہم سب مقامی مصنوعات پر زور دے رہے ہیں؛ ہم ’ووکل فار لوکل‘ کے منتر کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس تناظر میں، کشمیر کے ’واگو‘ کو بھی اپنے گھر کا حصہ بنانے پر ضرور غور کریں۔

ساتھیو،

ہمارے ملک میں چائے صرف ایک مشروب نہیں ہے بلکہ یہ یکجہتی کے احساس کو مجسم کرتی ہے۔ خواہ دن کا آغاز ہو، دوستوں سے ملاقات ہو یا اہلِ خانہ کے ساتھ قیمتی وقت گزارنا ہو، چائے ہر موقع کا لازمی جزو بن جاتی ہے۔ درحقیقت آپ چائے سے میرے ذاتی تعلق سے بخوبی واقف ہیں۔

تاہم، جس چائے کو میں آج زیرِ بحث لا رہا ہوں اس نے نہ صرف ذائقہ پیش کیا ہے بلکہ بہت سی خواتین کی زندگیوں میں خود انحصاری کی تازہ خوشبو بھی بکھیر دی ہے۔ اتر پردیش کے ضلع بجنور کے لکھی والا گاؤں میں سیلف ہیلپ گروپ سے وابستہ خواتین نے ’ودر پریرنا سودیشی ہربل ٹی‘ تیار کی ہے۔ اس میں لیمن گراس، گلوئے، ملیٹھی، تلسی، کچی ہلدی، دار چینی، الائچی اور سونف جیسے قدرتی اجزا شامل ہیں۔ اپنے منفرد ذائقے اور خوبیوں کی وجہ سے، اس چائے نے تیزی سے لوگوں کے درمیان اپنی جگہ بنا لی ہے۔ اس ہربل چائے کو پریاگ راج میں مہاکمبھ اور دہلی میں بین الاقوامی فوڈ فیسٹیول میں بے حد سراہا گیا ہے؛ یہاں تک کہ بیرون ملک سے آنے والے زائرین نے بھی اس میں دل چسپی ظاہر کی ہے۔

ساتھیو،

سب سے زیادہ متاثر کن پہلو یہ ہے کہ اس سب کا آغاز کیسے ہوا۔ یہ پورا منصوبہ صرف ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری سے شروع ہوا تھا۔ آج، یہ برانڈ ملک بھر کے بڑے اداروں تک پہنچ چکا ہے۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ جب مقامی علم، فطرت اور خواتین کا خود اعتماد ایک ساتھ ملتے ہیں، تو ایک چھوٹی سی کوشش بھی اہم تبدیلی کا آغاز کر سکتی ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو،

ملک بھر میں لوگ ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کے ذریعے فطرت کے تئیں اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ جب معاشرہ اس جذبے سے جڑتا ہے تو خوب صورت اور متاثر کن مثالیں سامنے آتی ہیں۔ ساتھیو، احمد آباد میں عوامی شرکت کی ناقابلِ یقین طاقت دیکھنے کو ملی۔ بھڈج علاقے میں ایک گھنٹے کے اندر ساڑھے تین لاکھ سے زائد پودے لگائے گئے، جس میں پچیس ہزار سے زیادہ افراد نے حصہ لیا۔ اس کولی طلبہ، این سی سی کیڈٹس، رضاکار اور عام شہری-سب نے اس مہم میں شرکت کی۔ آنے والے برسوں میں یہ پودے ایک گھنے شہری جنگل کی شکل اختیار کریں گے۔ یہ کام یابی گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں درج کر لی گئی ہے۔

ساتھیو،

لوگوں کا شاندار عزم اتر پردیش میں بھی ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کے تحت واضح تھا، جہاں ایک ہی دن، 12 جولائی کو 35 کروڑ سے زیادہ پودے لگائے گئے۔ یوپی میں ایک حلقے کی نمائندگی کرنے والے رکن پارلیمنٹ کے طور پر، یہ میرے لیے خاص فخر کی بات ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو،

درخت صرف انسانوں کے لیے نہیں ہیں بلکہ یہ بے شمار جانداروں کا گھر بھی ہیں۔ تقریباً 60 سال کے بعد، بھارتی سرمئی طوطا (انڈین گرے ہارن بل) ایک بار پھر گجرات کے گیر جنگلات میں اپنا مسکن بنا رہا ہے۔ یہ گیر میں برسوں کی تحفظ اور بحالی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ہارن بل کو اکثر ’جنگل کا کسان‘ کہا جاتا ہے۔ یہ پھل کھاتے ہیں اور بیجوں کو دور دور تک پھیلا دیتے ہیں؛ انھی بیجوں سے جنگل میں نئے درخت اگتے ہیں۔ اس طرح ایک پرندہ جنگل کو سرسبز و شاداب بنانے میں مدد کرتا ہے۔ میں آپ سب سے گزارش کروں گا کہ اپنی زندگی کے کسی خاص موقع کو فطرت سے جوڑیں-اپنی والدہ کے نام پر ایک درخت لگائیں۔ آج لگایا گیا ایک چھوٹا سا پودا آنے والی نسلوں کے لیے ہریالی، صاف ہوا اور ایک خوب صورت مستقبل کی میراث بن سکتا ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو،

ہم سب جانتے ہیں کہ پلاسٹک کی آلودگی آج عالمی ماحولیات کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ سنگل یوز پلاسٹک کا فضلہ برسوں تک فطرت کو نقصان پہنچاتا رہتا ہے؛ اس لیے، پلاسٹک کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا بہت ضروری ہے۔ ساتھیو، بہار کے سیتامڑھی سے ’ویسٹ ٹو ویلتھ‘ کی ایک شاندار مثال سامنے آئی ہے۔ یہاں، پرکشش بینچ بنانے کے لیے کچرے کو ری سائیکل کیا جا رہا ہے۔ ایک بینچ بنانے میں تقریباً 40 کلوگرام سنگل یوز پلاسٹک استعمال ہوتا ہے۔ یہ بینچ نہ صرف مضبوط، پائیدار اور آرام دہ ہیں بلکہ ماحول دوست بھی ہیں۔ انھیں سرکاری اس کولوں، پارکوں اور عوامی مقامات پر نصب کیا گیا ہے۔

یہ اقدام لوگوں میں ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں بیداری بھی پیدا کر رہا ہے۔ مقامی بلدیات اور ضلعی انتظامیہ دونوں اس کوشش میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس سے روزگار کے مقامی مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ سیتامڑھی میں یہ اقدام ہمیں دکھاتا ہے کہ ’ریڈیوس، ری یوز اور ری سائیکل‘ اب محض ایک نعرہ نہیں رہا بلکہ ہماری زندگی کا حصہ بن رہا ہے۔

ساتھیو،

آپ کو یاد ہوگا کہ ’من کی بات‘ کی پچھلی قسط میں، میں نے ’گنیش اتسو‘ کے بارے میں بات کی تھی۔ میں نے سب پر زور دیا تھا کہ وہ ہمارے ملک کی اپنی مٹی سے بنی گنیش جی کی مورتیوں کی پوجا کریں۔

پی او پی سے بنے یا بیرون ملک سے درآمد کیے گئے گنیش جی کے بجائے، ہمیں اپنے گھروں میں مقامی مٹی سے بنے گنیش جی کو نصب کرنا چاہیے۔ بہت سے لوگوں نے مجھے پیغامات بھیجے ہیں اور اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ لوگوں نے مجھے بتایا ہے کہ انھوں نے میری گزارش پر عمل کیا ہے۔ انھوں نے مقامی مٹی سے بنی گنیش جی کی مورتیاں نصب کرنے کا عزم کیا ہے۔ لوگوں نے لکھ کر بتایا ہے کہ اس موضوع پر پہلے ’من کی بات‘ میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا، اور اس سے انھیں صحیح وقت پر صحیح اقدامات کرنے میں مدد ملی۔ میں اپنی اپیل دہراتا ہوں: اس بار، گنپتی پوجا کے لیے، اپنے گھر میں اپنی ہی زمین کی مٹی سے بنی گنیش جی کی مورتی نصب کریں اور اس کی پوجا کریں۔ آپ کی یہ کوشش، ایک طرح سے، خود فطرت کی پوجا کرنے کی ایک شکل ہوگی۔

میرے پیارے ہم وطنو،

اب میں آپ کو ایک ایسے شخص کے بارے میں بتاؤں گا جس پر آپ کو بہت فخر محسوس ہوگا۔ وہ ایک ایسے شخص ہیں جو سائنس اور جدت طرازی کے شعبوں میں سرگرمی سے کام کر رہے ہیں اور عالمی شناخت حاصل کر رہے ہیں؛ تاہم، اس کے باوجود، وہ اپنی جڑوں سے گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے اپنے وطن کا احترام کرنا کبھی نہیں بھولتے۔ وہ شخص منی پور کے ڈاکٹر رونالڈو لیشرام ہیں۔ ان کا نام ڈاکٹر رونالڈو ہے، لیکن پیشہ ورانہ طور پر، وہ ایک ماہرِ فلکی طبیعیات ہیں۔ وہ جاپان میں کام کرتے ہیں اور اس ٹیم کا حصہ رہے ہیں جس نے نوجوان کہکشاؤں کا ایک بہت بڑا جھرمٹ دریافت کیا ہے۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر انھوں نے کیا کیا ہے۔ دراصل، انھوں نے اس پورے جھرمٹ کا نام منی پور کی ایک خوب صورت جھیل سے منسوب کرتے ہوئے ’لوکتک پروٹو کلسٹر‘ رکھا ہے۔ لوکتک میٹھے پانی کی ایک وسیع جھیل ہے۔ لوکتک جھیل میں نباتات کے تیرتے ہوئے جزیرے ’فومڈیز‘ ایک منفرد منظر پیش کرتے ہیں؛ ایسا لگتا ہے جیسے ایک وسیع سمندر میں چھوٹے جزیرے تیر رہے ہوں۔ اسی طرح، کائنات میں یہ نوجوان کہکشائیں ایک بہت بڑا ڈھانچہ بناتی ہیں۔ آج، منی پور کا لوکتک نہ صرف ملک کے نقشے پر بلکہ وسیع کائنات میں بھی چمک رہا ہے۔ یہ کام یابی ہر بھارتی کے لیے باعثِ فخر ہے۔ یہ ہمارے نوجوان ساتھیوں کو سکھاتا ہے کہ وہ اپنی روایات سے جڑے رہتے ہوئے نئی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں۔ یہ وہ جڑیں ہیں جو ستاروں کی دنیا کو بھی روشن کر سکتی ہیں۔

میرے پیارے ہم وطنو،

صرف چند دنوں میں، 7 اگست کو، ہمارا ملک ’قومی یومِ ہتھ کرگھا‘ منائے گا۔ اس موقع پر، ہم اپنے بُنکر بھائیوں اور بہنوں کی مہارت اور تخلیقی صلاحیتوں کا جشن مناتے ہیں۔ ہمارے یہ ساتھی ان روایات کو آگے بڑھا رہے ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوتی آ رہی ہیں۔

ساتھیو،

ہتھ کرگھے کا ہر لباس ایک مخصوص خطے، ایک برادری اور اس سے وابستہ بے شمار لوگوں کی کہانی بیان کرتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بھارت کے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے فخر کے ساتھ وقف ہیں۔

آج، میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ ہتھ کرگھے کی دستکاریوں کی حوصلہ افزائی کرکے اپنے بُنکر ساتھیوں کا احترام کریں۔ آئیے، ہم ’ووکل فار لوکل‘ کے جذبے کو مزید مضبوط کریں۔

ساتھیو،

آج ملک میں جس طرح ہتھ کرگھے کو فروغ دیا جا رہا ہے، اس سے بڑی تعداد میں لوگوں کی زندگیاں بہتر ہو رہی ہیں۔ ہم پوچم پلی سے پٹنہ تک اور کوتھم پلی سے کچھ تک اس کی بہت سی مثالیں دیکھتے ہیں۔ آج، بہت سے افراد اور گروہ ہماری شاندار ہتھ کرگھا روایت میں نئی توانائی اور شناخت پیدا کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ ’پوچم پلی اِکت‘ کی خوب صورت روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں، جب کہ دیگر خواتین بُنکروں کو اونی مصنوعات تیار کرنے میں شامل کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ کیرلم کی روایتی ’کساؤ کلا‘ کو محفوظ کر رہے ہیں۔ اس سے ہماری ماؤں اور بہنوں کو روزگار بھی مل رہا ہے۔

ساتھیو،

ایک اور موضوع جس کا میں خاص طور پر ذکر کرنا چاہوں گا وہ ’کھادی‘ ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ’کھادی‘ مہاتما گاندھی کو بہت عزیز تھی۔ حالیہ برسوں کے دوران، ’کھادی‘ کافی مقبول ہو گئی ہے۔ گذشتہ 12 برسوں میں اس کی فروخت میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے۔ فروخت کا یہ ہندسہ اب تقریباً 8,000 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ میں آپ سب سے گزارش کرتا ہوں کہ آئندہ تہواروں کے موسم میں کھادی، ہتھ کرگھے یا دستکاری سے بنی کم از کم ایک نہ ایک مصنوعات ضرور خریدیں۔

میرے پیارے ہم وطنو،

اگر آپ سے پوچھا جائے کہ بھارت میں کتنی اقسام کے ساز موجود ہیں، تو آپ شاید سوچ میں پڑ جائیں گے! اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس موسیقی کے آلات اور ان سے وابستہ روایات کا ایک وسیع سلسلہ موجود ہے۔ ایسا ہی ایک ساز تریپورہ کا ’چونگ پرینگ‘ ہے؛ یہ وہاں کی قبائلی برادریوں میں کافی مقبول ہے۔ بانس سے بنے اس ساز میں تین تار ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسی سریلی دھن پیدا کرتا ہے جو سرود سے مشابہت رکھتی ہے۔ کچھ وجوہات کی بنا پر، نوجوانوں میں اس کی مقبولیت کم ہونا شروع ہو گئی تھی۔ اس کے درمیان، سورج کمار دیب برما جی نے اس کی مقبولیت کو بحال کرنے کا عزم کیا۔ آج، ان کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں؛ وہ چونگ پرینگ کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگر روایتی سازوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انھیں کوکبوروک لوک گیتوں، باؤل گیتوں اور بنگالی لوک موسیقی سے گہرا لگاؤ ہے۔ اب، میں آپ کے لیے ایک مختصر کلپ چلانا چاہوں گا؛ یہ موسیقی کا ایک ایسا ٹکڑا ہے جسے آپ کبھی نہیں بھولیں گے۔

— موسیقی —

ساتھیو،

مجھے یقین ہے کہ اسے سن کر آپ کو اچھا لگا ہوگا۔ مجھے دیب برما جی پر بہت فخر ہے؛ روایتی موسیقی کو مقبول بنانے کے لیے ان کی کوششیں واقعی قابلِ ستائش ہیں۔ میں آپ سب سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ اپنے آس پاس پائے جانے والے روایتی آلاتِ موسیقی کے بارے میں معلومات سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ آپ کی اس طرح کی کوششیں یقینی طور پر دوسروں کو روایتی بھارتی موسیقی سے جوڑیں گی۔

میرے پیارے ہم وطنو،

کل، 27 جولائی کو بھارت رتن ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام جی کی برسی ہے۔ ڈاکٹر کلام کی شخصیت میں کئی متاثر کن پہلو شامل تھے، لیکن ایک استاد کا کردار ان کے دل کے سب سے زیادہ قریب تھا۔ انھوں نے بچوں اور نوجوانوں کو بڑے خواب دیکھنے کی تحریک دی۔ اتفاق سے، اس ہفتے ہم ’گرو پورنیما‘ کا مقدس تہوار بھی منائیں گے۔ ہمارے والدین ہمارے پہلے استاد ہوتے ہیں، جب کہ اس کول کے اساتذہ حروف اور علم کی تعلیم دیتے ہیں۔ گرو پورنیما ایسے تمام اساتذہ کے تئیں اظہارِ تشکر کا موقع ہے۔ میں ملک بھر کے تمام اساتذہ اور سرپرستوں کو احترام کے ساتھ پرنام کرتا ہوں۔ ساتھیو، اب سے چند ہفتوں میں، ہم اپنی آزادی کا عظیم تہوار منائیں گے۔ 15 اگست ہر بھارتی کے لیے فخر کا دن ہے۔ یہ ان بے شمار جانبازوں کو یاد کرنے کا دن ہے جنھوں نے ’بھارت ماتا‘ کی آزادی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔

ان کی قربانی اور لگن کی بدولت ہی آج ہمارے ہاتھوں میں ترنگا ہے؛ یہ ترنگا ہمارے آئین کے اصولوں کا مظہر ہے۔

ساتھیو،

گذشتہ چند برسوں کے دوران، ’ہر گھر ترنگا‘ مہم نے پوری قوم کو ایک شاندار جذبے کے ساتھ متحد کیا ہے۔ ترنگے کا جشن ہر گھر اور ہر گلی میں نظر آتا ہے۔ اس سال بھی، ہمیں ’ہر گھر ترنگا‘ مہم کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں پر انتہائی احترام کے ساتھ ترنگا لہرانا چاہیے۔

ساتھیو،

ہر سال 15 اگست سے پہلے، آپ مجھے بے شمار خیالات اور تجاویز بھیجتے ہیں۔ اس سال بھی، براہِ کرم مائی گوو پر اپنے خیالات شیئر کریں۔ مجھے آپ کی تجاویز کا بے صبری سے انتظار رہے گا۔

ساتھیو،

آج کی ’من کی بات‘ میں بس اتنا ہی۔ ہم اگلے ماہ اپنے ہم وطنوں کی کئی نئی کام یابیوں اور متاثر کن کوششوں کی کہانیوں کے ساتھ دوبارہ ملیں گے؛ تب تک کے لیے، میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔

آپ کا بہت بہت شکریہ؛ نمسکار۔

 

(ش ح – ع ا)

U.No. 609