Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ’نشہ مکت یوا فار وکست بھارت سنکلپ ابھیان‘ کا آغاز کیا

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ’نشہ مکت یوا فار وکست بھارت سنکلپ ابھیان‘ کا آغاز کیا


وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ’نشہ مکت یوا فار وکست بھارت سنکلپ ابھیان‘ کا آغاز کیا۔ ملک گیر وسیع ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے 28,000 سے زائد مقامات سے جڑنے والے ایک کروڑ سے زیادہ نوجوان شہریوں سمیت متنوع اجتماع کو باقاعدہ طور پر مبارک باد پیش کی۔ اس موقع کی اجتماعی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے اس اجتماع کو ایک گہرے قومی عزم کی علامت قرار دیا۔ جناب مودی نے کہا، ”آج ہم سب اہل وطن ایک عظیم اور اہم عزم کے لیے متحد ہوئے ہیں۔“

اس پہل کی ہمہ گیر نوعیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ یہ مہم صرف انفرادی صحت و تندرستی تک محدود نہیں ہے بلکہ بیک وقت خاندانوں، معاشرے اور پوری قوم کے وسیع تر مفادات کی خدمت کرتی ہے۔ ’نشہ مُکت یوا فار وکست بھارت سنکلپ ابھیان‘ کے بنیادی مقصد کو واضح کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ وکست بھارت کے حصول کے لیے بنیادی طور پر ایسی نوجوان نسل ضروری ہے جو جسمانی طور پر صحت مند، ذہنی طور پر مضبوط، پُراعتماد اور خود کو تباہ کرنے والی عادات سے مکمل طور پر پاک ہو۔ جناب مودی نے کہا، ”آج جب ملک نے وکست بھارت کا ہدف مقرر کیا ہے، یہ ناگزیر ہے کہ ملک کے نوجوان جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند رہیں، خود اعتمادی سے سرشار ہوں اور منشیات جیسی تباہ کن عادات سے مستقل طور پر دور رہیں۔“

مہم کے آغاز کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر گہری مسرت کا اظہار کیا کہ یہ پہل گزشتہ سال مقدس سرزمین کاشی سے ایک پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی وضاحت، روحانی توانائی اور گہری ثقافتی وابستگی کے منفرد امتزاج سے تقویت پانے والی یہ تحریک اب بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہے۔ جناب مودی نے کہا، ”کاشی اعلامیے کے تحت 125 سے زائد روحانی تنظیموں اور متعدد غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) کی حمایت سے شروع ہونے والا فلاح پر مبنی یہ تصور اب کامیابی کے ساتھ ایک قومی منصوبہ بن چکا ہے۔“

منشیات کے خلاف حلف لینے والے لاکھوں نوجوانوں کی ستائش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ذاتی طور پر نشے سے پاک رہنے اور ساتھ ہی اپنے اسکولوں، کالجوں اور برادریوں میں نشے سے پاک زندگی کا پیغام پھیلانے کے ان کے پختہ عزم کو سراہا۔ مہم کے 100 ہفتوں کے پرجوش لائحۂ عمل کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آنے والے ہر اتوار کو فن، ثقافت، کھیل اور مراقبے سے متعلق خصوصی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ نئے شرکا کو مسلسل اس مہم سے جوڑا جا سکے۔ جناب مودی نے کہا، ”آنے والے 100 اتوار یقینی طور پر مکمل طور پر نشے سے پاک بھارت کی سمت میں 100 مضبوط قدم ثابت ہوں گے۔“

طلبہ، نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) کے ارکان اور ’مائی بھارت‘ رضاکاروں کے وسیع آن لائن اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ملک کے نوجوانوں کی بیداری، حساسیت اور سنجیدہ عزم پر بے حد فخر کا اظہار کیا۔ نوجوانوں کو بھارت کی ’امرت نسل‘ قرار دیتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ ملک کو 2047 کے ترقیاتی اہداف کی طرف لے جانے کے لیے ان کی توانائی، تخیل اور صلاحیت نہایت اہم ہیں۔ جناب مودی نے کہا، ”ملک کے روشن مستقبل اور آپ کی اپنی زندگیوں کے لیے یہ بالکل ضروری ہے کہ آپ خود کو نشے کی لت سے پاک رکھیں۔“

اسٹارٹ اپ، مصنوعی ذہانت، کھیلوں اور خلائی تحقیق کے شعبوں میں آج کے نوجوانوں کی شاندار کامیابیوں کا منشیات کے استعمال کے تباہ کن اثرات سے موازنہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے نشے کی لت کے توجہ کو منتشر کرنے اور خوابوں کو تباہ کرنے والے اثرات کے بارے میں سخت انتباہ دیا۔ خاندانوں کو پہنچنے والے گہرے نقصانات کی مثال دیتے ہوئے، جن میں والدین کے خواب چکنا چور ہونے اور بزرگوں کو روزانہ کی اذیت کا سامنا کرنے جیسے حالات شامل ہیں، انہوں نے معاشرے پر پڑنے والے وسیع تر منفی اثرات کو بھی اجاگر کیا۔ جناب مودی نے کہا، ”جب یہ تباہی کسی خاندان یا معاشرے میں ہوتی ہے تو پوری قوم کی مجموعی طاقت بھی بنیادی طور پر کمزور ہو جاتی ہے۔“

نوجوانوں کو منشیات کی فریب پر مبنی نوعیت سے خبردار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے زور دیا کہ منشیات سے حاصل ہونے والی عارضی سرشاری بالآخر ان کے کیریئر اور خاندانی زندگی کے لیے مستقل زوال کا باعث بنتی ہے۔ بھارتی ثقافت اور روحانی رہنماؤں کی گہری دانش، بشمول سری گرو گرنتھ صاحب کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے نشہ آور اشیا کے استعمال کو تاریخی طور پر معاشرے کی جانب سے مسترد کیے جانے کی طرف توجہ دلائی۔ جناب مودی نے کہا، ”ہمیں کسی بھی صورت حال میں نشے کو کسی بھی قسم کی سماجی قبولیت ہرگز نہیں دینی چاہیے۔“

نشے کی لت سے نجات کے لیے دستیاب جامع معاونتی نظاموں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے نشے سے چھٹکارا پانے میں معاشرے کے تعاون، یوگا، مراقبے اور جدید بحالی مراکز کی مؤثریت کو اجاگر کیا۔ خاندانوں پر زور دیتے ہوئے کہ وہ سماجی وقار سے متعلق غلط فہمیوں کے بجائے طبی مداخلت کو ترجیح دیں، انہوں نے بچوں کو اس جال میں پھنسنے سے روکنے کے لیے گھر میں کھلے دل سے بات چیت کا ماحول پیدا کرنے کی وکالت کی۔ جناب مودی نے کہا، ”اگر کوئی نوجوان غلطی سے نشے کی لت میں مبتلا ہو گیا ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کے تمام راستے ہمیشہ کے لیے بند ہو گئے ہیں۔“

تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد سے خصوصی اپیل کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے پروفیسروں پر زور دیا کہ وہ اپنے باقاعدہ نصاب میں منشیات کے خطرات پر گفتگو کو فعال طور پر شامل کریں اور اپنے کیمپس میں نشے کے خلاف خصوصی تحریکیں شروع کریں۔ نشے کی لت سے نجات حاصل کرنے والے افراد کی طرف توجہ مرکوز کرتے ہوئے انہوں نے معاشرے سے اپیل کی کہ وہ ایسے افراد کو عزت اور دوسرا موقع فراہم کرے اور ان کے ماضی سے وابستہ بدنامی کو مکمل طور پر مسترد کرے۔ جناب مودی نے کہا، ”نشے کی لت سے لڑ کر باہر آنے والے نوجوان کمزور نہیں ہیں؛ وہ حقیقی جانباز ہیں اور ان کی بے مثال ہمت ہی ان کی اصل شناخت ہے۔“

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے نوجو انوں کو یقین دلایا کہ حکومت اس اہم جدوجہد میں پوری مضبوطی کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں منشیات کے خلاف کی جانے والی بے مثال کارروائیوں، ہزاروں کروڑ روپے مالیت کی بڑی مقدار میں منشیات کی ضبطی اور منشیات فروشوں و اسمگلروں کی گرفتاریوں میں نمایاں اضافے کا حوالہ دیا۔ نوجوان نسل کی ثابت قدمی پر اپنے غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے قومی مہم کی شاندار کامیابی کی پیش گوئی کی۔ جناب مودی نے کہا، ”مجھے یقین ہے کہ ہمارے نوجوان نشے سے آزاد رہ کر اپنی توانائی کی حفاظت کریں گے اور وکِسِت بھارت کے عزم کو آگے بڑھائیں گے۔“

*************

ش ح۔ ف ش ع

                                                                                                                                       U: 1152