پی ایم انڈیا
تسلیمات!
آج ہم سبھی ہم وطن ایک عظیم اور اہم عہد کے لیے متحد ہوئے ہیں۔ اس عہد کے حوالے سے اس پروگرام سے وابستہ سبھی محترم سنتوں ، مختلف ریاستوں کی نمائندگی کرنے والے تمام گورنرز، سبھی وزرائے اعلیٰ، دیگر تمام عوامی نمائندے اور 28 ہزار سے زائد مقامات سے جڑے ایک کروڑ سے زیادہ نوجوان ساتھی، میں آج اس مبارک گھڑی پر، اس نیک عہد کے لیے کروڑوں کروڑوں نوجوانوں کا خاص طور پر خیرمقدم کرتا ہوں۔ آج ہم سب جس مہم کے گواہ بن رہے ہیں، وہ مہم فرد کے لیے ہے، خاندان کے لیے ہے، معاشرے کے لیے بھی ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ ملک کے لیے ہے۔
ساتھیو،
وکست بھارت سنکلپ ابھیان کے لئے ’ نشہ مکت یووا‘ اس تحریک کا نام ہی اس کے عزم کو واضح کرتا ہے، کیونکہ آج جب ملک نے وکست بھارت کا ہدف مقرر کیا ہے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک کا نوجوان جسمانی طور پر صحت مند ہو، ذہنی طور پر تندرست ہو، خود اعتمادی سے بھرپور ہو اور منشیات جیسی مہلک عادت سے ہمیشہ ہمیشہ دور ہی رہے، دور ہو۔ یہی اس مہم کا مقصد ہے۔ اس لیے ہم سب کو یہ عزم کرنا ہے کہ ہمارے نوجوان نشے او رمنشیات کے خطرات کو سمجھیں، ہر طرح سے بیدار رہیں اور اس سے دور رہیں اور اس عزم میں اب ’راشٹریہ نشہ مکت یوا‘ مہم کا بڑا کردار ہے۔
ساتھیو،
کاشی کا رکنِ پارلیمنٹ ہونے کے ناطے مجھے خوشی ہے کہ یہ مہم پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر پچھلے سال کاشی کی مقدس سرزمین سے شروع ہوئی تھی۔ اس لیے سائنسی وضاحت کے ساتھ ساتھ اس میں روحانی توانائی بھی ہے، سنتوں کے آشیرواد بھی ہیں اور عظیم ثقافتی ورثہ بھی ہے۔ اس میں وہ ثقافتی لگن بھی ہے جس نے صدیوں سے نشے کو مسترد کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی 125 سے زیادہ روحانی تنظیمیں کروڑوں کروڑوں ہم وطنوں کے فائدے کے لیے آج ہمارے ساتھ جڑ چکی ہیں۔ سماجی تنظیموں اور این جی اوز نے اس سمت میں عزم کیا ہے۔ سب نے مل کر ‘کاشی ڈیکلریشن’ کے ذریعے روڈ میپ تیار کیا ہے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ کاشی سے اٹھنے والا وہ بہبودی خیال اب ایک نیشنل پروجیکٹ بن گیا ہے۔ آج سے ملک بھر میں ‘نشہ مکت یوا‘ مہم کا آغاز ہو رہا ہے۔
ساتھیو،
کچھ کام ایسے ہوتے ہیں، جو انفرادی طور پر کوئی کوشش کرے، تو کبھی کبھی مایوس ہو جاتا ہے، تھکن محسوس کرتا ہے، طویل مسافت طے کرنے کے لیے دل تیار نہیں ہوتا ہے، لیکن جب اجتماعی مہم بن جاتی ہے، کندھے سے کندھا ملا کر کروڑوں لوگ چل پڑتے ہیں، تو ایسے سبھی لوگ جو انفرادی طور پر اپنے آپ کچھ نہیں کر پاتے، ان کو بھی ایک نئی توانائی مل جاتی ہے۔ اجتماعیت کی ایک طاقت ہوتی ہے اور آج اس طاقت کو لے کر یہ مہم ہر نوجوان کے دل کو چھونے والی ہے۔ تھوڑی دیر پہلے ملک کے لاکھوں نوجوانوں نے نشے سے پاک رہنے کا حلف لیا ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کو نشے سے دور رکھنے کا عزم کیا ہے۔ آپ نے اپنے اسکول، اپنے کالج اور اپنے معاشرے میں نشہ مکتی کا پیغام پہنچانے کا عزم کیا ہے۔
ساتھیو،
آج کیا گیا یہ عزم آنے والے 100 ہفتوں تک لگاتار ایسے ہی آگے بڑھے گا۔ ہر اتوار، فن، ثقافت، کھیل، مراقبہ ، روحانیت اور خدمت سے وابستہ سرگرمیاں ہوں گی۔ نشہ مکتی کا پیغام نئے لوگوں تک پہنچے گا۔ آنے والے 100 اتوار نشہ مکت بھارت کی سمت میں 100 مضبوط قدم ہوں گے، ہنڈریڈ مضبوط اسٹیپس۔
ساتھیو،
آج ہزاروں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے لاکھوں طلبہ اس پروگرام سے آن لائن جڑے ہیں۔ مائی بھارت کے رضاکار بھی لاکھوں کی تعداد میں آج اس سے جڑے ہیں۔ میرے این ایس ایس کے نوجوان بھی آج ہمارے ساتھ شامل ہیں۔ ملک کے الگ الگ خطوں سے، الگ الگ اداروں سے، الگ الگ پس منظر سے تعلق رکھنے والے ایک کروڑ سے زیادہ نوجوان آج ایک ساتھ ہیں۔ میری آپ سبھی سے گزارش ہے، آپ سب اس بڑی موومنٹ کے لیڈر ہیں۔ آپ نے میرے اس بھروسے کو اور مضبوط کیا ہے کہ بھارت کا نوجوان کتنا بیدار ہے، کتنا سمجھدار ہے اور اپنے فرائض کے تئیں کتنا سنجیدہ ہے۔ میں آپ سبھی کو اس مہم کے لیے بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
میرے نوجوان ساتھیو،
آپ بھارت کی امرت پیڑھی ہیں۔ آپ اگلے 20-25 برسوں میں اپنی زندگی کو بھی سمت دیں گے اور آپ ہی 2047 میں ملک کو ایک ترقی یافتہ بھارت کی منزل تک لے کر جائیں گے اور اس کی بلندی پر آپ ہی براجمان ہوں گے، اس کا سارا لطف اٹھانے کا موقع آپ ہی کو ملنے والا ہے۔ ملک کو آپ کی توانائی، آپ کے تخیل اور آپ کے ٹیلنٹ کی ضرورت ہے۔ اس لیے ملک کے لیے اور اپنی زندگی کے لیے، خود کو نشے سے پاک رکھنا بہت ضروری ہے۔ نشہ توجہ کو بھٹکاتا ہے اور رفتہ رفتہ نوجوان کو اس کے اپنے خوابوں سے دور لے جاتا ہے۔ ابھی جن نوجوانوں نے ڈراما پیش کیا، بہت کم وقت میں، بہت اچھے طریقے سے انہوں نے ڈرامے کے ذریعے وہ مسئلہ بھی بتایا، مسئلے کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران سے بھی آگاہ کیا اور باہر نکلنے کی اجتماعی کوشش کا راستہ بھی دکھایا۔ ڈراما مختصر تھا، لیکن جیسا کہ انہوں نے کہا، ‘آؤ ہم ناٹک دیکھیں!’ یہ صرف ایک ناٹک نہیں تھا، یہ ہم لوگوں کے لیے ایک بہت بڑا پیغام تھا۔ یہ ہمیں بیدار کر رہا تھا، ہمیں جدوجہد کرنے کے لیے آمادہ کر رہا تھا۔
ساتھیو،
آج کل ہم دیکھتے ہیں، آج کے نوجوان اسٹارٹ اپ کی دنیا میں چھائے ہوئے ہیں، اے آئی کی قیادت کر رہے ہیں، کھیلوں میں ترنگا لہرا رہے ہیں، اسپیس سے لے کر سائنس تک نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔ لیکن ساتھیو! جب کوئی نوجوان، اگر منشیات کی لت میں پھنس جائے، تو صرف ایک نوجوان نہیں ہارتا، ایک خواب ہار جاتا ہے، ایک خواب کی بچپن میں ہی موت ہو جاتی ہے، ایک خاندان ہار جاتا ہے، پورا کا پورا خاندان ٹوٹ جاتا ہے اور وہ معاشرے میں بھی نفرت کا شکار بن جاتا ہے۔ نشہ صرف جسم کو نقصان نہیں پہنچاتا، نشہ ایک ماں کی مسکراہٹ چھین لیتا ہے۔ نشہ ایک باپ کے خوابوں کو چور چور کر دیتا ہے۔ ایک بہن کی راکھی کی امید کو کمزور کر دیتا ہے۔ ایک چھوٹے بھائی کا آدرش چھین لیتا ہے۔ گھر کے بزرگ ہر دن اس درد کو جیتے ہیں کہ ان کا اپنا بچہ رفتہ رفتہ خود کو کھو رہا ہے، خود کو گلا رہا ہے، تل تل گھل رہا ہے اور وہ اسے اپنی آنکھوں کے سامنے برباد ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ اور جب خاندان میں، معاشرے میں ایسا ہوتا ہے تو کہیں نہ کہیں، قوم کی طاقت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اور اسی لیے دشمن ممالک بھی سازشیں رچ کر ہمارے ملک کے نوجوانوں کو اس نشے کی لت میں دھکیلنے کی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔ ڈرگز سپلائی کر کر کے کمائی کرنا اور ہمارے جیسے ملک کو تباہ کرنا، یہ بھی ان کی دہشت گردانہ سازش کا حصہ ہوتا ہے اور اسی لیے ہمیں ہر ایک نوجوان کو نشے کے چنگل میں پھنسنے سے بچانا ہے۔
ساتھیو،
نشے سے پاک رہ کر آپ کو اپنی صلاحیتوں کی حفاظت کرنی ہے! آپ کو یاد رکھنا ہے کہ ڈرگز کچھ وقت کے لیے ‘ہائی‘ دیتا ہے، لیکن آپ کے کیریئر اور خاندانی زندگی کو ’لو‘ کر دیتا ہے۔ ہمیں نشے کو کسی بھی طرح کی قبولیت نہیں دینی ہے۔
ساتھیو،
ہمارے معاشرے میں بھی ہمیشہ نشہ کو ایک برائی کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ ہمارے سنتوں نے، گروؤں نے ہمیں اس سے بچنے کے لیے خبردار کیا ہے۔ شری گرو گرنتھ صاحب میں بھی کہا گیا ہے: “जितु पीतै मति दूरि होइ बरलु पवै विचि आइ। आपणा पराइआ न पछाणई खसमहु धके खाइ॥” یعنی، جس چیز کے استعمال سے عقل اور شعور ساتھ چھوڑ دیں، انسان اپنے اور پرائے کی پہچان بھول جائے، ایسا نشہ اسے زوال کی طرف لے جاتا ہے۔
ساتھیو،
ہماری ثقافت میں بچاؤ کے لیے خبردار بھی کیا گیا ہے اور نشے کی لت لگنے پر اس سے نکلنے کے راستے بھی بتائے گئے ہیں۔ معاشرے کا تعاون، یوگا اور مراقبے کی طاقت، یہ نشے کے خلاف ہمارے باطن کو مضبوط کرتے ہیں اور آج تو ہمارے پاس نشہ چھوڑنے کے لیے بحالی مراکز جیسی سہولیات بھی موجود ہیں۔ اس لیے، اگر کوئی نوجوان غلطی سے نشے کی دلدل میں پھنس بھی گیا ہے، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس کے سارے راستے بند ہو گئے ہیں۔ ہمیں ہمیشہ اس بات کا دھیان رکھنا ہے کہ گھر کا کوئی بچہ اگر نشے کا شکار بن گیا ہے، تو اسے سماجی عزت اور وقار کی آڑ میں چھپائیں نہیں۔ جس کی ضرورت ہو، اس کا تعاون مانگیں، دل کھول کر اس سے بات کریں اور جو ماہرین ہیں، ان کی مدد لیں۔ طبی امداد سے اپنے بچے کو نشے سے پاک کرنے کی کوشش کریں۔ ہمیں خاندان میں بچوں کے ساتھ کھل کر بات چیت کا کلچر بھی تیار کرنا چاہئے ، تاکہ ایسے بھنور میں پھنسنے سے پہلے ہی آپ اس کا ہاتھ تھام سکیں۔ آپ کو بھنک لگ جائے گی، تھوڑا دھیان رکھیے پتہ چل جائے گا کہ اس میں تبدیلی آ رہی ہے، وہ کھویا کھویا لگ رہا ہے، وہ منہ چھپا رہا ہے، کمرے میں بند ہو جا رہا ہے، دیر رات گھر آ رہا ہے، بے حساب پیسے مانگ رہا ہے؛ ان سب چیزوں سے پتہ چل جاتا ہے، بھنک لگ جاتی ہے کہ کچھ معاملہ گڑبڑ ہے۔
ساتھیو،
ایک اپیل میں کالج اور یونیورسٹیوں کے ہمارے پروفیسر ساتھیوں سے بھی کرنا چاہتا ہوں؛ آپ بھی کورس کی تدریس کے ساتھ ساتھ طلبہ کے ساتھ منشیات کے خطرات پر بات کریں۔ نشے کے خلاف اپنے کیمپس میں ایک تحریک چلائیں۔ آپ کی کوششیں بڑے بڑے نتائج لا سکتی ہیں۔ اور ساتھیو! ہمیں ایک اور بات پیش نظر رکھنا ہے کہ جو نوجوان نشے سے لڑ کر باہر نکلتے ہیں، وہ کمزور نہیں ہوتے؛ جو نشے کو شکست دے کر نکلا ہے نہ ، وہ اصل جانباز ہوتا ہے۔ معاشرے کو ان کا احترام کرنا چاہیے، اپنائیت دینی چاہیے اور انہیں دوسرا موقع دینا چاہیے، کیونکہ منشیات سے جڑا کسی کا ماضی اس کی پہچان نہیں ہو سکتا، اس کا حوصلہ اور ہمت اس کی پہچان ہوتا ہے۔
ساتھیو،
منشیات کے خلاف مہم میں آج حکومت بھی مضبوطی سے نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ملک میں نشے کے کاروباریوں اور اسمگلروں پر سختی کے ساتھ کارروائی ہو رہی ہے۔ پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ ہزاروں کروڑ روپئے کی منشیات ضبط بھی کی گئی ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ منشیات کے خلاف ہماری حکومت کس قدر سخت ہے۔ مجھے یقین ہے، مرکزی حکومت، صوبائی حکومتیں ، ہر کوئی اسے مشن موڈ میں کریں گی۔ مجھے یقین ہے، ہمارے ملک کا نوجوان نشے سے پاک رہ کر اپنی نوجوان توانائی کو نہ صرف محفوظ کرے گا، بلکہ وکست بھارت کے عزائم کو بھی آگے بڑھائے گا اور جب میں آج کئی عظیم سنتوں کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں، دور سے میں دل سے انہیں سلام کرتا ہوں۔
میں ان تمام سماجی اداروں، روحانی اداروں، روحانی گرووں، آپ کا ملک کے کونے کونے میں تنظیمیں ہیں، آپ کے نوجوان ساتھی اور عقیدت مند ہیں۔ آنے والے 100 دنوں میں ہر ایک تنظیم، ایک ہفتہ اپنے ذمے لے سکتی ہے، پورا ہفتہ پورے ملک میں وہ تنظیم قیادت کرے، باقی تمام طاقتیں اس کے ساتھ جڑیں اور اتوار کو ایک بہت بڑا پروگرام کریں۔ دوسرے ہفتے، دوسری تنظیم، دوسری طاقت، ہفتہ بھر تجربہ کرے ، پروگرام کرے اور اتوار کو بڑا پروگرام کرے۔ اگر 100 ہفتے ہمارے ملک کی ایسی روحانی، سماجی تنظیمیں، نوجوانوں کی تنظیمیں ایک ایک ہفتہ اپنے ذمے لے لیں اور باقی تمام طاقتیں ان کے ساتھ جڑیں اور اتوار کو سب مل کر کام کریں تو آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ملک میں کتنی بڑی تحریک کھڑی ہو جائے گی۔ میں ایک بار پھر آپ سب نے وقت نکالا، اس پاکیزہ کام میں ہم سب کو آشیرواد دیں، اس کے لیے سنتوں کا، آچاریوں کا، تنظیم کے قائدین کاتہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں ان ایک کروڑ سے زیادہ جمع ہوئے نوجوانوں کا خاص طور پر خیر مقدم کرتا ہوں، آپ نے یہ بہت بڑا کام کیا ہے۔ میں ‘مائی بھارت’ کے رضاکاروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، وہ جو بھی عزم کر لیتے ہیں، آج کل کر کے دکھاتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں مجھے ‘مائی بھارت’ کے رضاکاروں سے ملنے کا موقع ملا، وہ ہندوستان کے سرحدی گاوَں میں جا کر ایک ایک ہفتہ رک کر آئے ہیں۔ جسے کبھی ملک کا آخری گاؤں کہا جاتا تھا، جس کو آج ہم ملک کا پہلا گاؤں کہتے ہیں، وہاں جا کر آئے۔ ان کے تجربات بہت متاثر کن تھے اور آج اتنا بڑا پروگرام ’مائی بھارت‘ کے رضارکار کر پاتے ہیں، یہ اپنے آپ میں ان کے ملک کے تئیں بیدار اور وقف جذبے کی علامت ہے، میں ان کو مبارکباد دیتا ہوں، ان کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ اور مجھے پورا یقین ہے کہ آپ سب کی اجتماعی کوششوں سے یہ ہماری تحریک گھر گھر پہنچے گی، ہر نوجوان کے دل میں پہنچے گی اور یہ منشیات کے کاروباریوں کے لیے بہت بڑا خوف بھی بن جائے گی۔ آئیے، ہم سب مل کر آگے بڑھیں، میری آپ سب کو بہت بہت نیک خواہشات!
بہت بہت شکریہ
***
(ش ح– ن ا)
U.N:1149
Speaking at the launch of 'Nasha Mukt Yuva for Viksit Bharat Sankalp Abhiyan', a 100-week campaign against substance abuse. I urge every citizen, especially our youth, to join this movement. https://t.co/ucvrcAyK4C
— Narendra Modi (@narendramodi) August 2, 2026
आज जब देश ने विकसित भारत का लक्ष्य तय किया है... तो इसके लिए आवश्यक है... देश का युवा, तन से स्वस्थ हो, मन स्वस्थ हो, आत्मविश्वास से भरपूर हो और ड्रग्स जैसी घातक आदत से हमेशा दूर हो: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) August 2, 2026
हमें हर एक युवा को नशे के चंगुल में फंसने से बचाना है: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) August 2, 2026
समाज का सहयोग, योग और ध्यान की ताकत... ये नशे के खिलाफ हमारे अन्तर्मन को ताकत देते हैं।
— PMO India (@PMOIndia) August 2, 2026
और आज तो हमारे पास... नशा छोड़ने के लिए rehabilitation center जैसी सुविधाएं भी हैं: PM @narendramodi
अगर कोई युवा गलती से नशे में फंस भी गया है तो इसका ये मतलब बिल्कुल नहीं है कि उसके सारे रास्ते बंद हो गए हैं!
— PMO India (@PMOIndia) August 2, 2026
हमें हमेशा इस बात का ध्यान रखना है... घर का कोई बच्चा अगर नशे का शिकार बन गया है... तो इसे सामाजिक प्रतिष्ठा की आड़ में छिपाएं नहीं।
जिसकी जरूरत हो, उसका सहयोग लें।…
एक आवाहन मैं कॉलेज और यूनिवर्सिटीज़ के हमारे प्रोफेसर्स से भी करना चाहता हूँ...
— PMO India (@PMOIndia) August 2, 2026
आप भी कोर्स की पढ़ाई के साथ-साथ स्टूडेंट्स के साथ ड्रग्स के खतरों पर बात करें।
नशे के खिलाफ अपने कैम्पस में एक मूवमेंट चलाएं।
आपके प्रयास बड़े परिणाम ला सकते हैं: PM @narendramodi