پی ایم انڈیا
مجھے ’من کی بات‘ کے ستمبر ایڈیشن کے لیے ایک بار پھر آپ سے ملنے کا موقع مل رہا ہے۔ میں ملک کے تمام لوگوں کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ ’من کی بات‘ میں، ہم اپنے ہم وطنوں کی مثبت کوششوں کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں… قوم کی کام یابیوں پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ بھارت کی ایسی ہی ایک بڑی، تاریخی کام یابی صرف ایک دن میں اپنی 10ویں سالگرہ منانے والی ہے – یہ کام یابی ’سرجیکل اسٹرائیک‘ ہے۔ دس سال پہلے، 28-29 ستمبر 2016 کو، بھارتی فوج نے پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر سرجیکل اسٹرائیک کی تھی۔ دنیا یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ ہمارے بہادر فوجیوں نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کو کس طرح عبور کیا۔
سرجیکل اسٹرائیک نے پوری دنیا کے سامنے بھارت کی انسدادِ دہشت گردی پالیسی کی ایک نئی مثال جرات مندی سے پیش کی۔ ’سرجیکل اسٹرائیک‘ دہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے بھارت کو برداشت ہونے والے دیرینہ درد کا ہمارا فیصلہ کن جواب تھا۔ گذشتہ دہائی کے دوران – بالاکوٹ فضائی حملے سے لے کر ’آپریشن سندور‘ تک – بھارت نے بار بار ایک واضح پیغام دیا ہے: اگر دہشت گرد بھارت پر بری نظر ڈالنے کی ہمت کریں گے، تو انھیں منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔
ساتھیو،
بھارت طویل عرصے سے دہشت گردانہ حملوں سے ملنے والے زخموں سے دوچار رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب ملک میں سیریل دھماکے عام ہو گئے تھے۔ یہ ستمبر کا یہی مہینہ تھا – خاص طور پر 13 ستمبر 2008 کو – جب دہلی میں سیریل دھماکوں میں بہت سی معصوم جانیں ضائع ہوئیں۔ صرف چند ہفتوں بعد، ممبئی میں 26/11 کا بڑا حملہ ہوا۔ ساتھیو، ماضی میں بھی، ہر دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان کے خلاف کارروائی پر زور دیا جاتا تھا، لیکن ایسی اپیلوں پر اکثر مناسب توجہ نہیں دی جاتی تھی؛ وقت گزرنے کا صرف انتظار کیا جاتا تھا۔ آج، بھارت دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اور ہم اس کے نتائج دیکھ رہے ہیں۔
ساتھیو،
اس سال 9/11 کے دہشت گردانہ حملوں کو بھی 25 سال ہو گئے ہیں۔ امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں ضائع ہونے والی بے گناہ جانوں میں، امریکیوں کے بعد سب سے زیادہ متاثرین بھارتی تھے۔ مجھے یاد ہے کہ 2014 میں وزیرِ اعظم بننے کے بعد، جب میں امریکہ گیا تھا، تو میں ان بے گناہ شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے نیویارک پہنچا تھا۔ آج، ایک بار پھر، میں کروڑوں بھارتی شہریوں کے ذریعے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔
میرے پیارے ہم وطنو،
قوم کی ایک عظیم تصویر اس وقت ابھر رہی ہے۔ اس تصویر میں آپ، آپ کا خاندان اور یہاں تک کہ آپ کے پڑوسی بھی شامل ہیں۔ میں بھارت کی مردم شماری کا حوالہ دے رہا ہوں۔ اس مشق کا پہلا مرحلہ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقریباًًً مکمل ہو چکا ہے؛
32 کروڑ سے زیادہ خاندانوں کا ڈیٹا پہلے ہی ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔ لداخ، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، اور اتراکھنڈ کے دور دراز، برف پوش علاقوں میں بھی کام جاری ہے۔ ان علاقوں سے کئی متاثر کن تجربات سامنے آئے ہیں۔ اتراکھنڈ میں، چمولی کے مانا گاؤں میں مردم شماری کا عمل شروع ہوا؛ مانا کو ملک کا پہلا گاؤں کہا جاتا ہے۔ وہاں یہ عمل 83 سالہ پورنیما راوت جی سے شروع ہوا۔ اترا کاشی کے باگوری گاؤں میں، ہردیو سنگھ رانا جی – جو ہوم اسٹے چلاتے ہیں – نے ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے اپنی تفصیلات خود درج کیں۔
ساتھیو،
مردم شماری ہم سب کے لیے ایک قومی ذمہ داری ہے۔ 15 اگست کو بھی، میں نے اپنے ہم وطنوں سے اس کے لیے وقت نکالنے کی اپیل کی تھی۔ اپنی مردم شماری کی تفصیلات کو خود رجسٹر کرنے کی سہولت بہت آسان ہے۔ آپ اپنے موبائل سے ہی اپنی اور اپنے خاندان کی معلومات رجسٹر کر سکتے ہیں۔ ہندی کے ساتھ، یہ سہولت 16 زبانوں میں دستیاب ہے۔
ساتھیو،
اس کے لیے، آپ کو مردم شماری کے آن لائن پورٹل پر جانا ہوگا۔ پورٹل se.census.gov.in ہے… اپنے موبائل نمبر کا استعمال کرتے ہوئے لاگ اِن کریں، اپنا مقام درج کریں، اپنے خاندان سے متعلق تفصیلات پُر کریں اور معلومات جمع کرائیں۔ پورے عمل میں تقریباًًً 15 سے 20 منٹ لگتے ہیں۔ اور اس کے لیے آپ کو کوئی دستاویز اپ لوڈ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ معلومات جمع کرانے کے بعد، آپ کو ایک خصوصی آئی ڈی ملے گی۔ جب مردم شماری کرنے والا آپ کے گھر آئے تو آپ یہ آئی ڈی اس کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ آپ کی فراہم کردہ معلومات کی تصدیق کے بعد، یہ مردم شماری کے ریکارڈ کا حصہ بن جائے گی۔
ساتھیو،
اب تک، 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ لوگ پہلے ہی موبائل کے ذریعے مردم شماری پورٹل پر اپنی تفصیلات درج کر چکے ہیں – خود شماری مکمل کر چکے ہیں۔ اس میں آپ کا تھوڑا وقت لگے گا، لیکن یہ قوم کے لیے اہم ہے، کیوں کہ آپ کے خاندان کے بارے میں درست معلومات ملک کے مستقبل کی ایک درست تصویر بنانے میں مدد کرتی ہیں۔
میرے پیارے ہم وطنو،
آج – 27 ستمبر کی تاریخ – ایک خاص وجہ سے اور بھی خاص ہو گئی ہے۔ آج ایک عظیم شخصیت کی 100ویں جینتی ہے جنھوں نے اپنی پوری زندگی ثقافت، معاشرے اور قوم کے لیے وقف کر دی تھی۔ میں وشو ہندو پریشد کے سابق بین الاقوامی کارگزار صدر، قابلِ احترام آنجہانی اشوک سنگھل جی کی بات کر رہا ہوں۔ وہ اسی دن – 27 ستمبر 1926 کو – آگرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ معاشرے کے درمیان رہتے ہوئے، انھوں نے ایک سنیاسی کی طرح زندگی گزاری۔ رام جنم بھومی تحریک کو انھوں نے جو سمت اور توانائی دی، اس کے نتیجے میں آج ہم ایودھیا میں شاندار مندر دیکھ رہے ہیں۔ میں بہت خوش قسمت رہا ہوں… میں نے نہ صرف ان کی زندگی کو قریب سے دیکھا ہے بلکہ اس مشن میں ان کے ساتھ شامل ہونے کا موقع بھی ملا ہے۔ رام مندر میں پران پرتیشٹھا کی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے مجھے بار بار اشوک جی کی یاد آنا فطری تھا۔
ساتھیو،
اشوک جی کے بارے میں بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ رام مندر تحریک کے ساتھ ساتھ، انھوں نے سماجی امتیاز اور عدم مساوات کے خلاف بھی ایک بڑی جنگ لڑی۔ وہ ایک بہت ہی خوشحال خاندان میں پیدا ہوئے تھے؛ ان کے والد ایک سول سروسز اہلکار تھے، اور ان کے زیادہ تر بہن بھائی اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ وہ خود آئی آئی ٹی بی ایچ یو کے گریجویٹ تھے۔ پھر بھی، ان سب کے باوجود، انھوں نے اپنی زندگی معاشرے اور ثقافت کے لیے وقف کر دی – یہ عظیم افراد کی پہچان ہے۔ آج، ان کی یومِ پیدائش کی صد سالہ تقریب کے موقع پر، میں ان کے لاکھوں مداحوں کے ذریعے انھیں خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں… میں اپنی طرف سے انھیں دلی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
میرے پیارے ہم وطنو،
ہم نے اس سال کا آغاز قومی فخر کی ایک عظیم الشان تقریب کے ساتھ کیا – یہ تہوار ”سومناتھ سوابھیمان پرو“ تھا۔ ایک ہزار سال پہلے، 1026 میں، محمود غزنوی نے پہلی بار سومناتھ مندر کو منھدم کیا تھا۔ تاہم، جو لوگ سومناتھ کو تباہ کرنے اور بھارت کی شناخت کو مٹانے آئے تھے، آج ان کا کوئی وجود نہیں ہے، جب کہ سومناتھ مندر وسیع سمندر کے کنارے اپنی تمام شان و شوکت کے ساتھ کھڑا ہے، جو بھارت کو لافانیت کے آشیرباد عطا کر رہا ہے۔ اسی لیے ہم نے اس سال ’سومناتھ سوابھیمان پرو‘ کو بے پناہ فخر کے ساتھ منایا۔
ساتھیو،
میں آج ’من کی بات‘ میں یہ بات دوبارہ کیوں اٹھا رہا ہوں – اس کی ایک خاص وجہ ہے۔ 1026 عیسوی میں جب سومناتھ کو غزنوی نے تاراج کیا تھا؛ اسی سال، گجرات میں مشہور سورج مندر موڈھیرا پر بھی حملہ کیا گیا اور اسے تباہ کر دیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ موڈھیرا مندر کی تباہی کو بھی ایک ہزار سال گزر چکے ہیں، جب کہ یہ مندر اس وقت صرف ایک سال پہلے ہی بنایا گیا تھا۔ راجہ بھیم دیو نے اسے 1025 میں بنوایا تھا۔
ساتھیو،
اس دور کا تصور کریں؛ ایک بڑا حملہ ہوا تھا، سومناتھ مندر جیسے عقیدے کے ایک بڑے مرکز کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا تھا، اور کئی مقامات پر حملے ہو رہے تھے – کسی بھی معاشرے یا انتظامیہ کا حوصلہ ٹوٹ سکتا تھا۔ پھر بھی، راجہ بھیم دیو اول نے نہ صرف غزنوی کی افواج کا مقابلہ کیا بلکہ موڈھیرا سورج مندر کو بھی تھوڑے ہی وقت میں دوبارہ تعمیر کروایا۔ اسی لچک کی وجہ سے سومناتھ مندر بھی بار بار تباہی کا سامنا کرنے کے باوجود ہر بار دوبارہ تعمیر کیا گیا۔
ساتھیو،
موڈھیرا سورج مندر پر حملے بعد کے ادوار میں بھی نہیں رکے۔ علاؤالدین خلجی نے بعد میں اس مندر، اس شاندار تعمیراتی شاہ کار کو ایک بار پھر تباہ کیا۔ تاہم، ساتھیو، ہم، بھارت کے لوگ، سورج کی پوجا صرف فنِ تعمیر اور مندروں کے ذریعے نہیں کرتے؛ ہمارے لیے، سورج کی پوجا روشنی، توانائی، سائنس، اور تسلسل کی تحریک کی بھی علامت ہے۔ اسی لیے موڈھیرا آج صرف اپنے سورج مندر کے لیے نہیں جانا جاتا؛ گجرات کا یہ گاؤں ملک کا پہلا ’سوریا گرام‘ ’سولر گاؤں‘ بن گیا ہے۔
موڈھیرا اب مکمل طور پر شمسی توانائی پر چلتا ہے، جو ملک کے لیے پائیداری کی ایک مثال قائم کر رہا ہے۔ موڈھیرا میں سیاحوں کے لیے کئی پرکشش مقامات اور سہولیات بھی متعارف کروائی گئی ہیں۔ مکر سنکرانتی کے بعد جنوری میں وہاں موڈھیرا ڈانس فیسٹیول منعقد ہوتا ہے، جس میں بھارت کے ثقافتی اور کلاسیکی رقص کی شاندار پرفارمنس پیش کی جاتی ہے۔ میں آپ سب سے گزارش کروں گا کہ کم از کم ایک بار موڈھیرا کا دورہ کریں اور اس شاندار بھارتی ورثے کا مشاہدہ کریں۔
ساتھیو،
ماضی کے ساتھ ہمارا رشتہ آج بھی بہت گہرا ہے۔ یہ ان افراد کی لگن اور محنت سے ممکن ہوا ہے جو اس رشتے کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔ اس طرح کی ایک منفرد پہل تمل ناڈو کے تروچراپلی کے منپپارائی میں جاری ہے۔ کالج کے شعبہ تمل مطالعات سے وابستہ جناب اے سیلواراجو اس کوشش کی قیادت کر رہے ہیں۔ ایک لیکچر کے دوران، انھیں ایک طالب علم سے کچھ قدیم مجسموں کے بارے میں معلوم ہوا۔ اس موضوع پر تبادلہ خیال کے بعد، انھوں نے ایک فیلڈ وزٹ کا منصوبہ بنایا۔ اس دورے کے دوران، انھوں نے مختلف مقامات پر کئی مجسمے اور قدیم مندر دریافت کیے۔ یہ ماضی سے جڑنے کا ایک دل کش طریقہ ہے؛ اس طرح، ہم اپنے ورثے کو اور بھی بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں۔ اسی طرح کی پہل ملک کے دیگر حصوں میں بھی کی جا سکتی ہے… یہ ہمیں اپنی تاریخ کو مزید قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
میرے پیارے ہم وطنو،
صرف چند دنوں میں، 2 اکتوبر ہے – جو قابل احترام باپو کی یوم پیدائش ہے۔ باپو نے ہمیں زندگی کے لیے بہت سے رہ نما اصول دیے ہیں… صفائی ان میں سے ایک ہے۔ ہم اکثر اپنے ارد گرد صفائی سے متعلق متعدد کوششیں دیکھتے ہیں۔ یہ کوششیں بہت متاثر کن اور حوصلہ افزا ہیں۔ ایسی تصاویر، ویڈیوز اور ریلز بھی اکثر سوشل میڈیا پر ہماری توجہ حاصل کرتی ہیں۔ میں نے حال ہی میں ایسی کئی پہل دیکھی ہیں۔ مدھیہ پردیش میں ایک جگہ پر، نوجوان ایک ندی کو صاف کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں؛ پوری کمیونٹی ان کی چھوٹی سی کوشش میں شامل ہو رہی ہے۔ اسی طرح، آندھرا پردیش میں، نوجوان پرانے باؤلیوں اور کنوؤں کو صاف کر رہے ہیں، اس طرح ہمارے قدیم ورثے کو بحال کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔ ممبئی میں، کچھ نوجوان ساحلوں کو صاف رکھنے کی پہل کر رہے ہیں؛ ہر ہفتے، سینکڑوں نوجوان دوست صفائی مہم کے ذریعے خدمت کرنے کے لیے کسی نہ کسی ساحل پر جمع ہوتے ہیں… سوچھتا سے سیوا۔ یہاں دہلی میں، بچے اور نوجوان اپنے ارد گرد کچرے کو الگ کرنے اور صفائی برقرار رکھنے کے بارے میں بیداری پیدا کر رہے ہیں۔ مغربی بنگال میں، نوجوان طلبہ مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر پکنک کے مقامات پر بازار کے علاقوں کو صاف کر رہے ہیں۔
ساتھیو،
ان تمام کوششوں میں، ایک پہلو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے… کہیں یہ ایک فرد سے شروع ہوتا ہے، دوسرے لوگ اس میں شامل ہوتے ہیں، اور تحریک بڑھتی ہے – یہی ’جن بھاگیداری‘ کا مطلب ہے۔ درحقیقت، صفائی سب سے خوب صورت خراج تحسین ہے جو ہم باپو کو پیش کر سکتے ہیں۔
میرے پیارے ہم وطنو،
جب ہم ماحولیات کا تحفظ کرتے ہیں، تو ہم صرف پودوں یا جانوروں کو نہیں بچاتے؛ ہم اس پورے ایکو سسٹم کو مضبوط کرتے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں جاری کچھ پہل اس جذبے کو خوب صورتی سے اجاگر کر رہی ہیں۔
ساتھیو،
آسام میں سونائی روپائی وائلڈ لائف سینکچری ہے۔ ایک وقت تھا جب ہاتھی اس علاقے میں رہتے تھے، لیکن جیسے جیسے جنگلاتی زمین پر انسانی مداخلت بڑھی، ہاتھی وہاں سے چلے گئے۔ تین سال پہلے، اس زمین کو تجاوزات سے پاک کیا گیا، اور اس کے نتائج شاندار رہے ہیں – ہاتھی دوبارہ یہاں واپس آ گئے ہیں۔ ہاتھیوں کے جھنڈ ایک بار پھر ان علاقوں میں دیکھے جا رہے ہیں جہاں وہ کئی برسوں سے سرگرم نہیں تھے۔ ساتھیو، آسام میں ہی ایک اور شاندار پہل ہوئی ہے – یہ کوشش ایک چھوٹی مخلوق، پگمی ہاگ کو بچانے کی ہے۔ ایک وقت تھا، اس کا وجود ہی خطرے میں تھا؛ اس وقت، صرف چھ پگمی ہاگ کے ساتھ ایک تحفظ پروگرام شروع کیا گیا، اور انھیں جنگل میں دوبارہ متعارف کرایا گیا۔ ان کے رہنے کے لیے گھاس کے میدان بھی تیار کیے گئے۔ آج، اس پروگرام کی بدولت، پگمی ہاگ کی آبادی 190 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
ساتھیو،
فطرت کے ساتھ ہمارا رشتہ صرف اس کے تحفظ تک محدود نہیں ہے؛ اکثر، جب ہم فطرت کی دیکھ بھال کرتے ہیں، تو یہ ہماری اپنی زندگیوں کے لیے روزی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ مغربی بنگال کے سندر بن میں، کچھ خواتین اسی رشتے کی ایک متاثر کن مثال پیش کر رہی ہیں۔ جھارکھالی کی یہ خواتین مینگروو کے جنگلات بنا رہی ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر وہ خواتین ہیں جنھوں نے اپنے شوہروں کو شیروں کے حملوں میں کھو دیا تھا۔ اپنے شوہروں کو کھونے کے بعد، انھوں نے سندر بن میں ہی روزی کا ایک ذریعہ تلاش کیا۔ جو مینگروو انھوں نے لگائے ہیں وہ اب ان کے گاؤں کے لیے ایک قدرتی حفاظتی ڈھال کا کام کر رہے ہیں، جب کہ انھیں آمدنی بھی فراہم کر رہے ہیں۔ ساتھیو، آئیے ہم ماحولیات کا تحفظ کریں، فطرت کے توازن کا احترام کریں، اور اس کے تنوع کو محفوظ رکھیں۔ ہماری ہر ایسی کوشش ایک ذمہ داری ہے جو ہم آنے والی نسلوں کے لیے ادا کرتے ہیں۔
میرے پیارے ہم وطنو،
ملک بھر کے لاکھوں نوجوانوں نے حال ہی میں نشے اور منشیات کے خلاف ایک اہم عزم کیا ہے۔ انھوں نے خود کو منشیات سے دور رکھنے کا عہد کیا ہے اور دوسروں تک یہ پیغام پھیلانے کی ذمہ داری بھی لی ہے – یہ سب ’نشہ مُکت یوا ابھیان‘ کے تحت ہے۔ یہ مہم 100 ہفتوں تک چلے گی… اس میں ’مائی بھارت‘ کے رضاکار شامل ہیں۔ این ایس ایس سے وابستہ ہمارے نوجوان اس کا حصہ ہیں؛ اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں اس میں شامل ہو چکی ہیں؛ اور متعدد سماجی اور روحانی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ صرف پچھلے چند دنوں میں، ملک بھر میں ہزاروں عہد کی تقریباًًت اور بیداری کے پروگرام منعقد ہوئے ہیں۔ ساتھیو، اس مہم کا ایک پہلو جو مجھے خاص طور پر پسند ہے: ’نشہ مُکتی کا سندیش‘ ہے۔ ہمارے نوجوان اس پیغام کو اپنی زبان میں اور اپنے طریقے سے پھیلا رہے ہیں۔
میں نے ’من کی بات‘ میں بھی نوجوانوں سے اس مہم میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے شامل ہونے کی اپیل کی تھی، اور مجھے خوشی ہے کہ ہزاروں نوجوانوں نے اس پکار کے جواب میں آگے بڑھ کر حصہ لیا ہے۔ ’مائی بھارت‘ پلیٹ فارم پر مختلف مقابلے – جیسے ترانہ – نعرہ نویسی، اور اسٹریٹ پلے – منعقد کیے گئے ہیں۔ اسی طرح، نوجوان ہیش ٹیگ ’#نشہ_مُکت_یوا‘ کا استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر تخلیقی مواد شیئر کر رہے ہیں؛ درحقیقت، پیغام، ذریعہ، اور اس سب کے پیچھے کی محرک توانائی خود نوجوانوں کی طرف سے ہے۔ آنے والے دنوں میں، اس مہم کے حصے کے طور پر صحت کی جانچ اور مراقبہ کیمپ جیسی سرگرمیاں بھی منعقد کی جائیں گی۔
ساتھیو،
ہمارے کئی تہوار جلد ہی آنے والے ہیں۔ اس بار تہوار کی تقریباًًت کے درمیان، آئیے ہم اپنے ارد گرد بھی دیکھیں۔ اگر کوئی نوجوان کسی نقصان دہ عادت کی طرف بڑھ رہا ہے، تو ان سے بات کریں۔ اگر کوئی نشے سے چھٹکارا پانے کی کوشش کر رہا ہے، تو ان کی حمایت کریں۔ آئیے ہم سب مل کر منشیات سے پاک نوجوانوں اور ایک وِکست بھارت کے عزم کو آگے بڑھانے کے لیے کام کریں۔
میرے پیارے ہم وطنو،
میں نے اس بار لال قلعہ سے کھیلوں کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ مہم کا اعلان کیا تھا۔ یہ یقینی بنانے کے لیے کہ بھارت بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتا رہے، کھیلوں کے ٹیلنٹ کو دریافت کرنے کے لیے دیہاتوں اور قصبوں تک پہنچنا ضروری ہے۔ اسی وقت، بہت سے افراد ایسے ہیں جنھوں نے خود کو اسی مقصد کے لیے وقف کر دیا ہے۔ ان کا واحد جنون ٹیلنٹ کو دریافت کرنا اور اسے شکل دینا ہے۔
ہمارے پنجاب میں، جناب راجندر سنگھ بالکل یہی کام کر رہے ہیں۔ جناب راجندر سنگھ ایک ایسے فرد ہیں جو اپنے نام کے حصے کے طور پر ’سینئر‘ کا لقب بھی رکھتے ہیں۔ وہ اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے 1980 کے اولمپکس میں ہاکی میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ انھوں نے 1982 کے ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ 2001 میں، بھارت نے پہلی بار مردوں کا جونیئر ورلڈ کپ کا خطاب جیتا، جب کہ 2003 میں، ملک نے سینئر ایشیا کپ کا خطاب حاصل کیا۔ انھوں نے ان دونوں ٹورنامنٹس میں کوچ کا کردار ادا کیا۔ اب، وہ راؤنڈ گلاس ہاکی اکیڈمی کے ذریعے اپنے جنون کو پورا کر رہے ہیں۔ ان کی کوششوں کی بدولت، دیہاتوں میں نئے ہاکی ایسٹرو ٹرف بچھائے جا رہے ہیں۔ راجندر جی کا ایک بہت واضح مقصد ہے: دیہاتوں میں ایسے بچوں کی نشان دہی کرنا جنھیں بہترین کوچنگ کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ ایسی پہل کے ذریعے، بہت سے کھلاڑی بھارت کے جونیئر اور سینئر سطح پر جگہ حاصل کر رہے ہیں۔ جناب راجندر سنگھ کی لگن کی جتنی بھی ستائش کی جائے، وہ کم ہے۔
میرے پیارے ہم وطنو،
آملہ، یعنی انڈین گوزبیری ہم سب کے لیے بہت جانا پہچانا ہے۔ اس سے بنے اچار اور مربے زیادہ تر گھروں میں استعمال ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ آملہ کا جوس پسند کرتے ہیں اور چوون پراش سردیوں کے دوران ہماری روزمرہ کی روٹین کا ایک لازمی حصہ بن جاتا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے نسلوں سے آملہ کی خوبیوں کے بارے میں بات کی ہے۔ ساتھیو، یہی آملہ اب اتر پردیش کے پرتاپ گڑھ میں نئی امکانات کا ذریعہ بن رہا ہے۔ پرتاپ گڑھ اور آملہ کا رشتہ بہت پرانا ہے؛ یہاں کے کسان نسلوں سے اسے اگا رہے ہیں۔
آملہ نے پرتاپ گڑھ کو ایک مضبوط شناخت دی ہے، اور اب، یہ دیرینہ شناخت مقامی کسانوں اور خواتین کے لیے نئے مواقع لا رہی ہے۔ ’ون ڈسٹرکٹ ون پروڈکٹ‘ (او ڈی او پی) نے وہاں آملہ کی تجارت میں شامل مقامی کاروباریوں کو فروغ دیا ہے۔ آج، پرتاپ گڑھ میں آملہ پروسیسنگ سے متعلق تقریباًًً 100 یونٹس کام کر رہے ہیں، جس میں خود امدادی گروپوں سے منسلک خواتین اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ایسا ہی ایک گروپ دیوگڑھ کاماسی گاؤں سے ہے؛ ساوتری پھولے خود امدادی گروپ سے منسلک خواتین آملہ کینڈی، مربے اور جوس تیار کر رہی ہیں۔ او ڈی او پی اسکیم کے ذریعے نئی منڈیوں تک رسائی نے ان کی آمدنی میں بھی اضافہ کیا ہے۔
اسی طرح، ایک گاؤں میں ’وندھیاواسینی خود امدادی گروپ‘ ہے۔ اس گروپ کی خواتین آملہ اچار اور ہاضمے کا پاؤڈر جیسی کئی چیزیں تیار کر رہی ہیں۔ ان خواتین کو پروسیسنگ کے لیے مشینری اور قرض کی سہولیات تک رسائی حاصل ہوئی۔ انھیں مقامی تجارتی میلوں میں حصہ لینے کا موقع بھی ملا، اور بہت کم وقت میں، ان کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ساتھیو،
ہمارے ملک کے ہر علاقے میں یقیناً کوئی نہ کوئی ایسی منفرد خصوصیت موجود ہے – چاہے وہ کوئی خاص پھل ہو، کوئی روایتی فن ہو، یا کوئی منفرد ہنر ہو۔ ’ون ڈسٹرکٹ، ون پروڈکٹ‘ مہم کا مقصد انھی خصوصیات کو فروغ دینا ہے۔
ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہمارے دیہاتوں اور چھوٹے شہروں کی شناخت صرف مقامی منڈیوں تک محدود نہ رہے؛ یہ مصنوعات ملک کے دیگر حصوں اور یہاں تک کہ عالمی منڈیوں تک پہنچیں۔ یہ ’ووکل فار لوکل‘ مہم کو بھی مضبوط کرتا ہے… یہ قوم کو خود انحصاری کی ترغیب دیتا ہے۔ آنے والے تہواروں کے موسم میں بھی، ہمیں ’ووکل فار لوکل‘ کے منتر کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔
میرے پیارے ہم وطنو،
ستمبر کا مہینہ غذائی قلت کے خلاف جنگ کے لیے وقف ہے۔ غذائی مہینے کے دوران، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور تنظیمیں اس نیک مقصد کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔
غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے اس سال کئی قابل ستائش اقدامات شروع کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر، چھتیس گڑھ نے ’ہر گھر مونگا – گھر گھر مونگا‘ مہم شروع کی ہے… اس کے ذریعے، لوگوں کو غذائیت سے بھرپور مونگا یعنی مورنگا کو اپنی خوراک میں شامل کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ گجرات نے ’وانگی اسپردھا‘ بھی شروع کی ہے – جو باجرے سے بنے پکوانوں کا ایک مقابلہ ہے۔ یہ پہل سستی اور غذائیت سے بھرپور مقامی پکوانوں کو فروغ دیتی ہے۔ اب تک، دو لاکھ سے زیادہ افراد اس مقابلے میں حصہ لے چکے ہیں۔ مہاراشٹر بھی اس سمت میں قابل ستائش کوششیں کر رہا ہے؛ وہاں اساتذہ، آنگن واڑی کارکنان، اور والدین بیداری مہم میں شامل ہو رہے ہیں۔ میزورم میں بھی، لوگوں نے اس سال ’پوشن واٹیکاس‘ کی دیکھ بھال کے لیے ایک مہم شروع کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ یہ میزورم کی روایت ’تالو-مد-یانا‘ سے ہم آہنگ ہے، جو بے لوث خدمت اور دوسروں کی مدد میں ہمیشہ پیش پیش رہنے کی علامت ہے۔
ایسی کوششیں واقعی قابل ستائش ہیں۔ مجھے آنگن واڑی مراکز سے وابستہ ہر اس شخص پر بھی فخر ہے جو ایسی پہل کا حصہ رہا ہے۔ یہ آنگن واڑی مراکز اب ’پوشن ٹریکر‘ کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر منسلک ہیں، جس میں تقریباًًً نو کروڑ مستفیدین پلیٹ فارم پر رجسٹر شدہ ہیں۔ اس سے بچوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کی بہتر دیکھ بھال ممکن ہوئی ہے۔ ہمیں اسی جذبے کے ساتھ غذائی قلت کے خلاف یہ جنگ جاری رکھنی ہے؛ ہمیں اپنے معاشرے کو غذائی قلت سے مکمل طور پر آزاد کرنا ہے۔
ساتھیو،
ہم سب نے اس ماہ گنیش اُتسو کو بڑی عقیدت اور جوش و خروش کے ساتھ منایا ہے۔ گنپتی باپّا کا پورے ملک میں گہرے احترام کے ساتھ استقبال کیا گیا۔ یہ مقدس موقع پورے ماحول کو خوشی اور جوش سے بھر دیتا ہے۔ ساتھیو، وِگھن ہرتا بھگوان شری گنیش علم، حکمت اور کسی بھی کام کے نیک آغاز کی علامت ہیں۔ ان کے لیے گہرا احترام صرف بھارت میں ہی نہیں ہے؛ شریمان پنتھون تھرکانون جی کی مثال لیجیے – وہ تھائی لینڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہاں، بھگوان شری گنیش کی پوجا ’پھرا پِکانٹ‘ کے طور پر کی جاتی ہے۔ جب وہ 19 سال کے تھے، تو ان کے والد نے انھیں بھگوان شری گنیش کی ایک تصویر تحفے میں دی۔ تبھی ان کے اندر عقیدت کا گہرا احساس بیدار ہوا۔ انھوں نے بھگوان شری گنیش سے وابستہ روایات کا مطالعہ کرنے میں چار دہائیوں سے زیادہ کا وقت گزارا ہے۔ انھوں نے بھارت اور نیپال سمیت کئی ایشیائی ممالک کا سفر کیا ہے۔ انھیں مہاراشٹر سے خاص لگاؤ رہا ہے۔
اشٹ وِنایک روایت کے بارے میں جاننے کے بعد، انھوں نے کئی بار اس علاقے کا دورہ کیا ہے۔ ان کی کوششوں کے ذریعے، اشٹ وِنایک یاترا نے تھائی لینڈ میں بھی عقیدت مندوں کے درمیان مقبولیت حاصل کی ہے۔ 2002 میں، انھوں نے شمالی تھائی لینڈ کے چیانگ مائی میں گنیش ہمال میوزیم قائم کیا۔ آج، اس میں گنیش کے 10,000 سے زیادہ بت موجود ہیں۔ میوزیم میں ان عقیدت مندوں کے لیے اشٹ وِنایک بت بھی ہیں جو بھارت کا سفر نہیں کر سکتے۔ گنیش جی کے لیے پوجا کی رسومات ہر اتوار کی صبح تقریباًًً 10 بجے یہاں منعقد کی جاتی ہیں۔ نیز، گنیش سے جڑے خاص مواقع پر تقریباًًت منعقد کی جاتی ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کے عقیدے، فن اور ثقافتی روایات دوسرے ممالک میں بھی کس طرح مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔ میری خواہش ہے کہ گنپتی باپّا کی آشیرباد ہمیشہ سب کے ساتھ رہے۔
ساتھیو،
’من کی بات‘ کے ہر ایپی سوڈ کے بعد، مجھے آپ کی طرف سے بے شمار موضوعات پر پیغامات موصول ہوتے ہیں۔ ایسی متاثر کن کہانیاں شیئر کرتے رہیں۔ جب آپ اپنے ارد گرد ہونے والے اقدامات کی تعریف کرتے ہیں، تو اس میں شامل افراد کا جوش و خروش مزید بڑھ جاتا ہے۔ ’من کی بات‘ کے ذریعے ان کوششوں کے بارے میں جاننا ملک کے دیگر حصوں میں بھی لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ سفر آپ کے تعاون سے آگے بڑھتا رہے۔ آنے والے تہواروں کو اپنے اہلِ خانہ اور ساتھیو کے ساتھ بڑی خوشی اور جوش و خروش کے ساتھ منائیں۔ میں آپ سب کو ایک بار پھر اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔
بہت بہت شکریہ۔
نمسکار۔
***
(ش ح – ع ا)
U.No. 4173
Do listen to this month's #MannKiBaat as we discuss a range of subjects. https://t.co/uNlANtGly7
— Narendra Modi (@narendramodi) September 27, 2026
India has made it clear that terrorism will be met with a strong and decisive response.#MannKiBaat pic.twitter.com/xwDUFCAGZs
— PMO India (@PMOIndia) September 27, 2026
The Census is a national responsibility and every citizen has a role to play.#MannKiBaat pic.twitter.com/DikrJ8RimG
— PMO India (@PMOIndia) September 27, 2026
Tributes to Shri Ashok Singhal Ji on his birth centenary. His lifelong dedication to society and the nation continues to inspire generations.#MannKiBaat pic.twitter.com/rWa6GJaNyL
— PMO India (@PMOIndia) September 27, 2026
From the historic Sun Temple to becoming a solar village, Modhera beautifully connects our rich heritage with a sustainable future.#MannKiBaat pic.twitter.com/QAY9ynzcwI
— PMO India (@PMOIndia) September 27, 2026
Tamil Nadu's A. Selvaraju Ji's efforts are helping people discover ancient idols and temples. Such initiatives help us connect with and better understand our heritage.#MannKiBaat pic.twitter.com/gMUU959cih
— PMO India (@PMOIndia) September 27, 2026
Nature conservation is bringing positive change in Assam.#MannKiBaat pic.twitter.com/Xmi5Ft1ncy
— PMO India (@PMOIndia) September 27, 2026
In the Sundarbans, women are planting mangroves that protect villages and support their livelihoods. pic.twitter.com/1Hyh0nX8PM
— PMO India (@PMOIndia) September 27, 2026
India's youth are coming together against drugs. Through the Nasha Mukt Yuva Abhiyan, they are spreading awareness through creative campaigns and activities.#MannKiBaat pic.twitter.com/iL0Rqd5MR3
— PMO India (@PMOIndia) September 27, 2026
Rajinder Singh Senior Ji is helping discover and train young hockey talent. His efforts are giving children in villages better opportunities to pursue the sport.#MannKiBaat pic.twitter.com/xZmiA246mW
— PMO India (@PMOIndia) September 27, 2026
Pratapgarh's famous Amla is creating new opportunities for farmers and women working in Self-Help Groups.#MannKiBaat pic.twitter.com/iVggcTUp5q
— PMO India (@PMOIndia) September 27, 2026
Across India, people are coming together to promote better nutrition and support healthier communities.#MannKiBaat pic.twitter.com/pmiG3ueyo6
— PMO India (@PMOIndia) September 27, 2026
Bhagwan Shri Ganesh's devotion goes beyond India... In Thailand, the Ganesh Himal Museum has over 10,000 Ganesh idols, reflecting the deep cultural ties shared between the two countries.#MannKiBaat pic.twitter.com/RSSGBGqwYB
— PMO India (@PMOIndia) September 27, 2026