Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

جئے گوپال گڑودیا ہندو ودیالیہ کی گولڈن جوبلی تقریبات کے دوران وزیرِ اعظم کے خطاب کا  ترجمہ


تامل ناڈو کے گورنر جناب راجندر آرلے کر جی، ڈاکٹر ایل مروگن جی، تھیرو راج موہن جی، تھیرو نینار ناگیندرن جی، ڈاکٹر گِریجا سیشادری اَمّا جی، تھیرو آر آر گوپال جی، میرے نوجوان ساتھیو، اساتذہ اور والدین، میرے تمل بھائیو اور بہنو، ونکّم۔

ساتھیو،

آج نوراتری کا پہلا دن ہے۔ شیو اور شکتی کی مقدس سرزمین تمل ناڈو آنے کی سعادت حاصل کرنا اور دیوی سرسوتی کے عقیدت مندوں سے ملنے کا موقع ملنا میرے لیے نوراتری کا ایک واقعی شاندار آغاز ہے۔ میں اپنے نوجوان ساتھیوں کا جوش و خروش بھی دیکھ سکتا ہوں۔ میں اس مثبت توانائی، اس جوش کو محسوس کر سکتا ہوں۔ میں آپ کی آنکھوں میں بھارت کا مستقبل دیکھ سکتا ہوں۔

اس سے پہلے کہ میں اپنی بات شروع کروں، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ آج میں چنئی میں مقررہ وقت سے دس منٹ پہلے پہنچا تھا۔ تاہم، جس طرح سے پروگرام ترتیب دیے گئے تھے اور کچھ ناگزیر تاخیر کی وجہ سے، مجھے آپ تک پہنچنے میں دیر ہو گئی۔ میں توقع سے زیادہ دیر سے پہنچا، اور اس سے آپ سب کو تکلیف ہوئی۔ اس کے لیے، میں تہہ دل سے آپ سے معافی چاہتا ہوں۔

ساتھیو،

آج کے نوجوان وِکست بھارت کے وژن کے پیچھے کی طاقت بننا چاہتے ہیں۔ وِکست بھارت کے لیے درکار نئے خیالات اور نئے حل نہ صرف بھارت کے مستقبل بلکہ دنیا کے مستقبل کا بھی تعین کریں گے۔

آج، دنیا حل تلاش کر رہی ہے۔ اور آپ میں ان حلوں کو فراہم کرنے کی صلاحیت ہے۔

ساتھیو،

آج، بھارت لامحدود مواقع فراہم کرتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر نوجوان اس بڑے کینوس پر اپنا مستقبل دیکھے۔ کیوں کہ یہ آپ کا وقت ہے۔ یہ آپ کا وقت ہے۔ یہ آپ کا موقع ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہم اس خواب کو پورا کریں گے۔ مل کر، ہم یہ کریں گے!

مل کر، ہم یہ کریں گے!

مل کر، ہم یہ کریں گے!

مل کر، ہم یہ کریں گے!

ساتھیو،

آج میرے یہاں آنے کے پیچھے ایک دل چسپ تحریک بھی ہے۔ کچھ ماہ قبل، ہماری گِریجا اَمّا نے ناگرکوئل میں کچھ بچوں کے ساتھ مجھ سے ملاقات کی۔ ان کی لگن، ان کا خود اعتمادی، اور ملک کے مستقبل کے لیے ان کی عقیدت نے میرے ذہن پر ایک غیر معمولی تاثر چھوڑا۔ اس ملاقات کے دوران، انھوں نے مجھے اس گولڈن جوبلی تقریب میں مدعو کیا۔ اول، ان کی محبت تھی؛ دوم، اس تاریخی ادارے کے لیے میرا اپنا احترام تھا۔ اسی لمحے، میں نے پختہ ارادہ کیا کہ میں اس پروگرام میں ضرور شرکت کروں گا۔ اس موقع پر، میں وشو ہندو ودیا کیندر اور پورے ہندو ودیالیہ خاندان کو پچاس سال کے اس قابل ذکر سفر کے لیے تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو،

آج، وشو ہندو ودیا کیندر اپنی گولڈن جوبلی منا رہا ہے۔ یہ سنگ میل عظیم ہے، اور اس کا سفر بھی اتنا ہی متاثر کن ہے۔ 1975 میں، یہ ادارہ چنئی کے مغربی مامبلم میں ایک چھوٹے سے اسکول کے طور پر شروع ہوا۔ اس وقت، اس میں صرف سات طلبہ تھے۔ آج جیسی سہولیات موجود نہیں تھیں۔ کوئی مستقل عمارت نہیں تھی۔ وسائل محدود تھے۔ لیکن ایک چیز تھی: پختہ عزم اور خدمت کا غیر متزلزل جذبہ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر چیلنج کے باوجود، یہ ادارہ آگے بڑھتا رہا۔ وقت کے ساتھ، یہ چھوٹی سی کوشش ایک بڑی تعلیمی تحریک میں بدل گئی۔ آج، آپ کے تامل ناڈو کے مختلف حصوں میں پندرہ ادارے ہیں۔

ساتھیو،

اس موقع پر، میں جناب جئے گوپال گڑودیا جی کے تعاون کو بھی احترام کے ساتھ یاد کرتا ہوں۔ انھوں نے اسکول کی عمارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔ آج، میں ان تمام اساتذہ، عملے کے ارکان، والدین اور سابق طلبہ کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں جنھوں نے ہندو ودیالیہ کے سفر کو کام یاب بنایا ہے۔ پچاس سال کی لگن۔ پچاس سال کا عزم۔ پچاس سال نوجوان زندگیوں کو سنوارنے کا۔

ساتھیو،

یہ ادارہ اس بات کی بھی ایک مثال ہے کہ کس طرح ایک تعلیمی ادارہ تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ محب وطن شہری بھی تیار کرتا ہے۔ میں نے اپنی من کی بات پروگرام میں بھی اس کا ذکر کیا تھا۔ گِریجا اَمّا نے بچوں کو ایک سادہ سا خیال دیا: ہر بچہ روزانہ صرف ایک روپیہ بچائے اور اسے ملک کے فوجیوں کے لیے وقف کرے۔ جب ہزاروں بچوں نے اس عزم میں شمولیت اختیار کی، تو تقریباً چالیس لاکھ روپے جمع ہوئے۔ واقعی، کیا متاثر کن مثال ہے!

ساتھیو،

چھوٹے تعاون سے بڑا فرق پڑ سکتا ہے۔ ایک چھوٹی سی کوشش بھی بہت بڑا اثر پیدا کر سکتی ہے۔ چاہے وہ آفت کے وقت ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہو یا صفائی مہم میں حصہ لینا ہو، یہ اقدار ہندو ودیالیہ خاندان کی عظیم وراثت کی تشکیل کرتی ہیں۔

ساتھیو،

اس موقع پر، میں عظیم سنت تروولور کو بھی یاد کرنا چاہوں گا۔ ان کی تعلیمات تمام طلبہ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ حال ہی میں، مجھے روس کے صدر پوتن کو تھروکّورل کا روسی ترجمہ پیش کرنے کا موقع ملا تھا۔ تھروکّورل ہر اس شخص کے لیے ایک غیر معمولی رہ نما ہے جو زندگی بھر سیکھنا چاہتا ہے۔ اپنی ایک مشہور کُرال میں، تروولور ہمیں سکھاتے ہیں کہ صرف کچھ سیکھنا کافی نہیں ہے؛ اسے اپنی زندگی میں لاگو کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اور یہ آپ سب طلبہ کے لیے بھی ایک عظیم سبق ہے۔

ساتھیو،

آپ سب نے مہاکوی بھارتیار کو بڑے پیمانے پر پڑھا ہوگا۔ کاشی شہر نے بھی ان کی زندگی میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ کاشی کے ماحول میں جو روحانی اور قومی بیداری پھیلی تھی، اس کا ان کی سوچ پر گہرا اثر پڑا۔

ساتھیو،

میں کاشی سے رکن پارلیمنٹ ہوں۔ آج بھی، کاشی کے لوگ مہاکوی بھارتیار کو یاد کرتے ہیں۔ ان کے الفاظ، ”اچمِلائی، اچمِلائی“ (بے خوف، بے خوف)، ہمیں خوف کے بغیر جینے کی ترغیب دیتے ہیں۔ لہذا، میں یہاں موجود تمام نوجوانوں سے کہنا چاہوں گا: اپنے آپ کو خوف کے بغیر ایک موقع دیں۔ اپنے خیالات پر کام کریں۔ بڑے خواب دیکھیں۔ مختلف سوچیں۔ اور بے خوف رہیں۔

ساتھیو،

بھارت کے بارے میں میری سمجھ ملک کے مختلف حصوں میں میرے سفر اور وہاں کے لوگوں سے سیکھنے سے بنی ہے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں، میں کنیا کماری سے کشمیر تک کی ایکتا یاترا کا بھی حصہ تھا۔ گِریجا اَمّا سے میری پہلی واقفیت اسی سفر کے دوران ہوئی تھی۔ تب سے، ہمارا تعلق جاری ہے۔

ساتھیو،

میرے سفر نے مجھے بھارت کے تنوع کو قریب سے سمجھنے کا موقع دیا۔ تمل زبان اور تمل ثقافت کے لیے جو محبت میرے دل میں ہے، وہ بھی انھی تجربات سے ابھری ہے۔

ساتھیو،

یہی وجہ ہے کہ میں آپ کو بھارت کو دریافت کرنے کی ترغیب دیتا ہوں۔ آپ جہاں بھی جائیں، تمل ثقافت کو اپنے ساتھ رکھیں۔ تمل شاعری، کہانیاں اور روایات اپنے دوستوں کے ساتھ بانٹیں۔ ایسے لوگوں سے دوستی کریں جن کا پس منظر آپ سے مختلف ہو۔ ہماری قوم کا اتحاد ان دوستیوں سے بنتا ہے جو آپ کرتے ہیں۔

ساتھیو،

آج کی نئی نسل کو اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے ایسے مواقع مل رہے ہیں جو واقعی بے مثال ہیں۔ دیکھیے آج ملک کا پورا تعلیمی منظر نامہ کس طرح بدل رہا ہے۔ 2014 میں، بھارت میں تقریباً 750 یونیورسٹیاں تھیں۔ آج، یہ تعداد 1,300 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ کالجوں کی تعداد بھی تقریباً 38,000 سے بڑھ کر 52,000 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ حالیہ برسوں میں، ملک کو کئی نئے آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، آئی آئی آئی ٹی، اور ایمس ادارے ملے ہیں۔

ساتھیو،

آج، نئی تعلیمی پالیسی ملک میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنا رہی ہے۔ بھارتی اداروں کی عالمی پہچان بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ 2015 کی کیو ایس رینکنگ میں، بھارت میں صرف 14 یونیورسٹیاں تھیں۔ تازہ ترین رینکنگ میں، یہ تعداد بڑھ کر 52 ہو گئی ہے۔ ان اعداد و شمار کا مطلب بہت واضح ہے۔ مزید ادارے، مزید انتخاب، اور آپ کے لیے مزید مواقع۔

ساتھیو،

ہر نوجوان کے مختلف خواب اور مختلف صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، آپ میں سے بہت سے لوگ کھیلوں کو اپنا کیریئر بنانا چاہتے ہوں گے۔ اس لیے، ملک یہ یقینی بنا رہا ہے کہ کھیل صرف تفریح تک محدود نہ رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پورے بھارت میں نئی کھیلوں کی سہولیات بنائی جا رہی ہیں۔ نوجوان کھلاڑیوں کو بہتر تربیت اور مدد مل رہی ہے۔ اور بین الاقوامی کھیلوں کی دنیا میں بھارت کا قد بھی بڑھ رہا ہے۔

ساتھیو،

بھارت 2030 کے دولت مشترکہ کھیلوں کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔ ہم 2036 کے اولمپکس کی میزبانی کے خواب کے ساتھ بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔ آنے والے برسوں میں، جب بھارت میں بڑے عالمی کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوں گے، تو ہمارے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے پلیٹ فارم اور موقع دونوں ملیں گے۔ اس لیے، بھارتی نوجوانوں کے پاس اب پلیٹ فارم، صلاحیت، اور مدد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مواقع بے شمار ہیں! مجھے یقین ہے کہ آپ کی نسل کھیلوں کی دنیا میں بھی بھارت کو نئی بلندیوں پر لے جائے گی۔

ساتھیو،

آج آپ سب کے درمیان آ کر اور آپ کے خوابوں کو محسوس کر کے، میرا اعتماد اور بھی مضبوط ہو گیا ہے۔ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ بھارت کا مستقبل شاندار ہوگا۔ اور اس مستقبل کے سب سے بڑے ہیرو آپ سب ہیں۔ مجھے آپ کی صلاحیت پر یقین ہے۔ مجھے آپ کے اعتماد پر یقین ہے۔ مجھے آپ کی قابلیت پر یقین ہے۔ اور اس لیے، آج میں آپ سب کے ساتھ مل کر کچھ بڑے عزائم کو دہرانا چاہوں گا۔ جو میں کہوں، آپ کو دہرانا ہے: ہم کر کے دکھائیں گے! کیا آپ دہرائیں گے؟ یقیناً؟

دو ہزار سینتالیس تک وِکست بھارت۔

دو ہزار سینتالیس تک وِکست بھارت۔ ہم کر کے دکھائیں گے!

میرے ساتھ کہیے: ہم کر کے دکھائیں گے!

دو ہزار سینتالیس تک وِکست بھارت، ہم کر کے دکھائیں گے!

ٹاپ تھری اکانومی، ہم کر کے دکھائیں گے!

آتمِ نربھر بھارت، ہم کر کے دکھائیں گے!

عالمی مینوفیکچرنگ ہب، ہم کر کے دکھائیں گے!

اولمپکس کی میزبانی، ہم کر کے دکھائیں گے!

چاند پر ایک بھارتی، ہم کر کے دکھائیں گے!

ہاں، ہم کر کے دکھائیں گے! ہم کر کے دکھائیں گے!

وِکست تمل ناڈو، ہم کر کے دکھائیں گے!

وِکست تمل ناڈو، ہم کر کے دکھائیں گے!

وِکست بھارت، ہم کر کے دکھائیں گے!

بہت بہت شکریہ۔

نندری، ونکم! (شکریہ، نمستے!)

ڈسکلیمر: یہ وزیرِ اعظم کے خطاب کا قریبی ترجمہ ہے۔ اصل خطاب ہندی میں کیا گیا تھا۔

***

(ش ح – ع ا)

U.No. 4980