Search

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

وزیر اعظم نریندر مودی نے اوڈیشہ کے شہر بھوبنیشور میں نو قائم شدہ آر بی آئی کے ڈیٹا سینٹر اور سائبر سکیورٹی تربیتی ادارے کا افتتاح کیا


وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج بھوبنیشور، اوڈیشہ میں ریزرو بینک آف انڈیا کے نو قائم شدہ ڈیٹا سینٹر اور سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کیا۔ مہا پربھو جگن ناتھ کا آشیرواد حاصل کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے نئے بھارت کو بھوبنیشور کی جانب سے ایک اہم نیا ادارہ تحفے میں دینے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے آر بی آئی اور ان دونوں سہولیات کے آغاز میں شامل تمام افراد کو مبارکباد دی۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، “یہ اوڈیشہ اور ملک کے لوگوں کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوگا۔

افتتاح کی وسیع تر اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ تقریب ملک کے انتظامی نقطہ نظر میں ایک بنیادی تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور کی طرزِ حکومت ترقی کو ترجیح دینے، اس کے دائرہ کار کو بڑھانے اور آخری شخص تک فوائد کی فراہمی کو یقینی بنانے پر استوار ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ “آج کا پروگرام اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت میں طرزِ حکومت کا انداز کس طرح بدل چکا ہے۔“

وزیر اعظم نے عوام دوست اور فعال عمدہ حکمرانی کے ماڈل کی جانب تبدیلی کی تفصیلات بتائیں جو متوازن علاقائی ترقی، غریبوں کی عزتِ نفس، اور اس بات کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے کہ کوئی بھی شہری محروم نہ رہ جائے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اب ایکسپریس ویز چھوٹے شہروں کو جوڑ رہے ہیں، ایمس جیسے ادارے متعدد ریاستوں میں پھیل چکے ہیں، چھوٹے شہروں میں میڈیکل کالج کھولے جا رہے ہیں، دیہاتوں میں تقریباً 1.75 لاکھ آیوشمان آروگیہ مندر قائم کیے جا چکے ہیں، اور دور دراز علاقوں میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی بڑھ رہی ہے۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، “شہریوں کی زندگی کو آسان بنانا اور ان کے خوابوں کو نئے مواقع فراہم کرنا ہی اب طرزِ حکومت کا اصل مقصد ہے۔“

وزیر اعظم نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اگرچہ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں غریبوں کے نام پر بینکوں کو قومیایا گیا تھا، تاہم 2014 تک نصف سے زیادہ آبادی بینکنگ کے نظام سے باہر ہی رہی، جب متوسط طبقے کے لیے بینک لون ایک دور کا خواب تھا اور چھوٹے کاشتکاروں، بے زمینوں اور خواتین کے لیے تو ناقابلِ تصور تھا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ مالیاتی شمولیت کے جدید دور نے ملک بھر میں اس منظر نامے کو یکسر بدل دیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، “آج بھارت میں، ڈیجیٹل بینکنگ نے ہر شخص کو 24 گھنٹے بینکنگ خدمات سے جوڑ دیا ہے۔“

وزیر اعظم جناب مودی نے زور دے کر کہا، “آج، ڈیجیٹل بینکنگ کے ذریعے، ملک کا ہر خاندان مستفید بن چکا ہے“۔ انہوں نے آج کے دور میں فنڈز کے ضیاع اور ہیر پھیر کے مکمل خاتمے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کیا جانے والا ایک ایک روپیہ اب بغیر کسی کٹوتی کے براہِ راست مستفید ہونے والے کے اکاؤنٹ میں پہنچتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے نوٹ کیا، “یہ صرف ملک میں کھولے گئے تقریباً 60 کروڑ جن دھن کھاتوں کی وجہ سے ہی ممکن ہو سکا ہے۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اب ضمانت کے بغیر بھی لوگ کاروبار شروع کرنے کے لیے آسان اور باقاعدہ قرضے حاصل کر سکتے ہیں، وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح چھوٹے کاروباری، روایتی دستکار، ریڑھی پٹری والے اور غیر منظم شعبے کے مزدور ہدف پر مبنی اقدامات کے ذریعے ترقی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدرا یوجنا کے تحت 13 کروڑ لوگ پہلی مرتبہ کاروباری بنے، لاکھوں ریڑھی والوں اور ہنر مند دستکاروں نے ‘پی ایم سواندھی‘ اور ‘پی ایم وشوکرما‘ کے ذریعے باقاعدہ قرضے حاصل کیے، اور 10 کروڑ دیہی خواتین کی نمائندگی کرنے والے سیلف ہیلپ گروپس کو بینکوں سے ہزاروں کروڑ روپے کی امداد ملی۔ جناب مودی نے کہا، ’’پہلی بار، انہیں باقاعدہ بینکنگ کا فائدہ حاصل ہوا ہے۔‘‘

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کبھی صرف امیروں کا خاصہ ہوا کرتے تھے، لیکن اب خود داری اور خود انحصاری کی علامت بننے والے کروڑوں ’روپے کارڈز‘ کے ذریعے یہ ہر شہری کی پہنچ میں آ چکے ہیں، وزیر اعظم نے اس تبدیلی کا سہرا بینکنگ برادری کے سر باندھا۔ انہوں نے مرکزی بینک، تجارتی بینکوں اور ملک بھر کے ایک ایک بینک ملازم کی اجتماعی کوششوں کو سراہا۔ وزیر اعظم مودی نے تعریف کرتے ہوئے کہا، “آپ سبھی اس فخر اور عظمت میں برابر کے شراکت دار ہیں۔“

’ناگرک دیوو بھوا‘ کے اصول کے تحت، اقتصادی خودمختاری کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کے نیٹ ورک کی بے مثال توسیع کی تفصیلات بتاتے ہوئے، وزیر اعظم نے نوٹ کیا کہ اٹل پنشن یوجنا 9 کروڑ شہریوں کو احاطہ فراہم کرتی ہے، جن میں اوڈیشہ کے 38 لاکھ لوگ شامل ہیں، جبکہ پی ایم سرکشا بیمہ یوجنا نے حادثاتی احاطہ کے لیے 20 روپے کے سالانہ پریمیم پر 2 لاکھ روپے کا لائف کور اور پی ایم جیون جیوتی یوجنا نے 450 روپے سالانہ سے بھی کم پر لائف کور فراہم کر کے کبھی امیروں کا عیاشی سمجھا جانے والا انشورنس غریبوں اور متوسط طبقے کی پہنچ میں لا دیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ دیگر حکومتوں کے برعکس جو اس طرح کے دعوؤں کی ادائیگیوں پر بڑی سرخیاں اور واہ واہی بٹورتیں، مشکل وقت میں خاندانوں کو خاموشی سے 25,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے دعوے جاری کیے گئے ہیں۔ جناب مودی نے توثیق کرتے ہوئے کہا، “حقیقت میں عمدہ حکمرانی یہی ہے۔“

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ جہاں گزشتہ دہائی کے دوران بینکنگ کی سہولت سے محروم لوگوں کو بینکنگ سے جوڑنے پر توجہ مرکوز تھی، وہیں آنے والی دہائی اوڈیشہ کے نئے ڈیٹا سینٹر اور مضبوط کمپیوٹنگ سسٹمز کے تعاون سے بینکنگ کو مزید کارآمد اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے وقف ہے، وزیر اعظم نے خبردار کیا کہ جدید جنگیں ابھرتے ہوئے سائبر خطرات کے ذریعے معیشتوں کو نشانہ بناتی ہیں۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایک ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقت کو اپنے مالیاتی نظام کو سائبر لٹیروں اور سائبر دہشت گردوں سے محفوظ رکھنا چاہیے، انہوں نے پرانے تربیتی وسائل کی جگہ جدید انفراسٹرکچر اور ہنر مند افرادی قوت لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظم مودی نے پختہ لہجے میں کہا، “ٹھیک اسی جگہ پر، اس نئے سائبر سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔“

مشرقی بھارت کو ایک ‘وِکست بھارت’ کے لیے ایک طاقتور گروتھ انجن کے طور پر اجاگر کرتے ہوئے اور اوڈیشہ کی موجودہ حکومت کے تحت تیز رفتار پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ریاست کانوں سے لے کر مائیکرو چپس تک ایک نیا مستقبل لکھنے کے لیے اپنی روایتی معدنیات پر مبنی صنعتوں کو سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرانکس، ڈیٹا سینٹرز اور ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ کے ایک نئے ایکو سسٹم کے ساتھ جوڑ رہی ہے۔ اس بات پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہ یہ ابھرتے ہوئے شعبے وسیع مواقع کی راہیں کھولیں گے اور اوڈیشہ کے نوجوانوں کے عظیم خوابوں کو پورا کریں گے، انہوں نے تہوار کی نیک خواہشات اور ‘جے جگن ناتھ’ کے نعروں کے ساتھ اپنے خطاب کا اختتام کیا۔ جناب مودی نے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “آپ دیکھیں گے، ریاست اوڈیشہ، کانوں سے لے کر مائیکرو چپس تک، ایک نیا مستقبل لکھنے جا رہی ہے۔“

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:6668