Search

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

 بھونیشور میں آر بی آئی کی اہم سہولیات کے افتتاح کے موقع پر وزیراعظم کی تقریر


جے جگن ناتھ

اڈیشہ کے گورنر برجموہن رام جی، یہاں کے مقبول وزیر اعلیٰ موہن چرن مانجھی جی، مرکزی حکومت میں میری ساتھی محترمہ نرملا سیتارمن جی، جویل اوراؤں جی، ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر جناب سنجے ملہوترا جی، اڈیشہ کی نائب وزیر اعلیٰ محترمہ پرباتی پریدا جی، کنک وردھن سنگھ دیو جی، بینکنگ اور مالیاتی شعبے سے وابستہ تمام معزز شخصیات، خواتین و حضرات۔

ماحول اتنا سنجیدہ کیوں ہے؟ یعنی بینکنگ میں یہ دباؤ رہتا ہے، ٹیکنالوجی میں بھی دباؤ رہتا ہے۔ آرام سے بیٹھیے۔

مہاپربھو کے آشیرواد سے آج بھونیشور نئے ہندوستان کو ایک نیا ادارہ دے رہا ہے۔ بھونیشور میں آر بی آئی کے ڈیٹا سینٹر اور سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، دونوں کا افتتاح ایک اہم موقع ہے۔ یہ اڈیشہ اور ملک کے عوام کے لیے بہت مفید ثابت ہونے والا ہے۔ میں آر بی آئی اور اس منصوبے سے وابستہ تمام لوگوں کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیو،

آج کا یہ پروگرام اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان میں گورننس کا نقطہ نظر کس طرح اور کتنی تیزی سے بدل رہا ہے۔ اور اس میں ہماری توجہ ترقی کی ترجیحات، ترقی کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور ترقی کے ثمرات ہر فرد تک پہنچانے پر ہے۔

ساتھیو،

آزادی کے بعد ملک میں بڑے بڑے شہروں کی ترقی ہوئی، بڑے ادارے بنے، بڑے اسپتال بنے، بڑے ہوائی اڈے بنے۔ لیکن ملک کا ایک بہت بڑا حصہ بنیادی سہولیات کا انتظار کرتا رہا۔ دہلی میں بڑے اسپتال تھے، لیکن چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں میں بہتر علاج کے لیے لوگوں کو طویل فاصلے طے کرنے پڑتے تھے۔ بڑے شہروں میں ہوائی سفر کی سہولت تھی، لیکن چھوٹے شہروں کو فضائی رابطے سے جوڑنے پر اتنی توجہ نہیں دی گئی۔ بڑے شہروں میں کچھ سہولیات موجود تھیں، لیکن بہت سے دیہات میں سڑک، بجلی اور پانی جیسی بنیادی ضروریات بھی ایک بڑا چیلنج تھیں۔

ریلوے اسٹیشن عام شہری کے سفر کا سب سے اہم حصہ تھے، لیکن ریلوے اسٹیشنوں پر جدید سہولیات کا فقدان تھا۔ یعنی ملک کے ہر خطے اور ہر شہری تک ترقی کے فوائد یکساں طور پر پہنچانا ایک بڑا چیلنج بنا رہا۔ ہم نے اسی سوچ کو بدلنے کی کوشش کی ہے۔ ہم عوام دوست، فعال اور اچھی حکمرانی کے ماڈل کے ساتھ آگے بڑھے ہیں۔ ہمارے لیے ترقی کا مطلب ہندوستان کی متوازن ترقی ہے، دیہات کو بھی مواقع ملیں اور چھوٹے شہروں کو بھی مواقع حاصل ہوں۔

ہمارا مقصد دور دراز علاقوں کو بھی بہتر رابطہ فراہم کرنا، غریب خاندانوں کو بھی باوقار زندگی گزارنے کی سہولیات دینا اور ہر شہری کو مسلسل یہ اعتماد دلانا ہے کہ ترقی کے سفر میں وہ پیچھے نہیں چھوٹے گا۔ آج ملک کے ایکسپریس وے چھوٹے شہروں کو بھی جوڑ رہے ہیں۔ ایمس جیسے اداروں کا دائرہ کئی ریاستوں تک پھیلایا گیا ہے۔ چھوٹے چھوٹے شہروں میں میڈیکل کالج کھولے جا رہے ہیں۔ دیہات میں تقریباً پونے دو لاکھ آیوشمان آروگیہ مندر قائم کیے گئے ہیں۔ آج دور دراز علاقوں میں ڈیجیٹل رابطے کا بھی دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ یہی اب گورننس کا اصل مقصد ہے، شہری کی زندگی آسان بنانا اور اس کے خوابوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا۔

ساتھیو،

عام خاندانوں، غریب اور متوسط طبقے کو کئی دہائیوں تک کس طرح محرومیوں میں رکھا گیا، اس کی ایک بڑی مثال ہمارا بینکنگ شعبہ بھی رہا ہے۔ غریبوں کے نام پر 60 اور 70 کی دہائی میں بینکوں کو قومیایا  گیا، لیکن 2014 تک ملک کی نصف سے زیادہ آبادی بینکنگ نظام سے ہی باہر تھی۔ بینک قرض جیسی سہولتیں متوسط طبقے کے لیے بھی خواب ہوتی تھیں، جبکہ غریب، چھوٹے کسان، بے زمین افراد اور بہنیں بیٹیاں تو اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔

آج ہندوستان میں ڈیجیٹل بینکنگ نے سب کو 24 گھنٹے بینکنگ خدمات سے جوڑ دیا ہے۔ لیکن 2014 سے پہلے فون بینکنگ کا ایک الگ ہی دور تھا۔ دہلی میں کانگریس کے کچھ خاص لوگوں اور ان سے رابطہ رکھنے والوں کو فون بینکنگ کے ذریعے ہزاروں کروڑ روپے کے بینک قرض دیے جاتے تھے۔ غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کو ایک بینک اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے ضامن کی ضرورت ہوتی تھی، لیکن کانگریس کی فون بینکنگ اسکیم میں امیر لوگوں کے لیے ہزاروں کروڑ روپے کسی بھی وقت دستیاب تھے۔ اسی بدانتظامی کا نتیجہ تھا کہ ہندوستان کا بینکنگ نظام این پی اے کی زد میں آ گیا۔ بینکنگ نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔

ساتھیو،

کسی بھی بڑے بدلاؤ کے لیے سوچ کا بھی بڑا ہونا بہت ضروری ہے۔ نیت صاف ہو، ارادے نیک ہوں تو ناممکن نظر آنے والے کام بھی ممکن ہو جاتے ہیں۔ جہاں سوچ ہی چھوٹی ہو، وہاں امکانات بھی محدود ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں ملک نے جو نظام قائم کیے ہیں، ڈیجیٹل انڈیا کا جو نیا ایکو سسٹم تیار کیا ہے، اس نے بینکنگ کو ملک کے ہر شہری تک پہنچایا ہے۔

آج ہندوستان کا بینکنگ شعبہ دنیا کے سب سے مضبوط بینکنگ شعبوں میں سے ایک ہے۔ پہلے فون بینکنگ کے ذریعے صرف دہلی کے خاص خاندانوں تک رسائی رکھنے والے ہی فائدہ اٹھاتے تھے، آج ڈیجیٹل بینکنگ کے ذریعے ملک کا ہر خاندان فائدہ اٹھا رہا ہے۔

ساتھیو،

اڈیشہ کی سرزمین سے ہی ملک کے ایک سابق وزیر اعظم نے کہا تھا کہ دہلی سے ایک روپیہ بھیجا جاتا ہے اور عوام تک صرف 15 پیسے پہنچتے ہیں۔ یہ ایک وزیر اعظم کا بیان تھا۔ ایک وہ دور تھا اور ایک آج کا وقت ہے۔ آج دہلی سے ایک روپیہ نکلتا ہے اور پورا ایک روپیہ ہر مستحق کے بینک اکاؤنٹ میں پہنچتا ہے۔ یہ ملک میں کھولے گئے، جیسا کہ ابھی محترمہ نرملا جی نے بتایا، تقریباً 59 سے 60 کروڑ جن دھن کھاتوں کی وجہ سے ہی ممکن ہو سکا ہے۔

ساتھیو،

جس کے پاس بینک کو ضمانت دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، وہ بھی آج بینک سے سستا اور آسان قرض لے کر اپنا کام شروع کر پا رہا ہے۔ چھوٹے کاروباری سے لے کر روایتی دستکار تک، ریڑھی پٹری والوں سے لے کر غیر منظم شعبے کے مزدوروں تک، پہلی بار انہیں رسمی بینکنگ کا فائدہ ملا ہے۔

مدرا یوجنا سے 13 کروڑ لوگ پہلی بار کاروباری بنے ہیں۔ پی ایم سواندھی کے ذریعے لاکھوں ریڑھی پٹری والوں کو پہلی بار قرض ملا ہے۔ پی ایم وشوکرما اسکیم نے لاکھوں ہنرمند دستکاروں کو بینکوں سے جوڑا ہے۔ 10 کروڑ دیہی بہنوں کے سیلف ہیلپ گروپس کو بھی بینکوں نے ہزاروں کروڑ روپے کی مدد فراہم کی ہے۔

ساتھیو،

یہ وہی ملک ہے جہاں ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کبھی امیر لوگوں کے وسائل سمجھے جاتے تھے۔ آج یہ ملک کے ہر شہری کے لیے قابل رسائی ہیں۔ ملک میں کروڑوں روپے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں۔ یہ خود اعتمادی اور خود کفالت، دونوں کی علامت بن چکے ہیں۔ اور یہ سب آپ سب کے تعاون سے ممکن ہو رہا ہے۔

آر بی آئی ہو، ملک کا ہر بینک ہو یا ان میں کام کرنے والا ایک ایک بینک ملازم، آپ سب نے جو کام کیا ہے، آپ واقعی اس کامیابی کے حقدار ہیں۔

ساتھیو،

گزشتہ دہائی میں اقتصادی بااختیاری کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کے حصار میں بھی بے مثال توسیع ہوئی ہے۔ اٹل پنشن یوجنا کے ذریعے 9 کروڑ لوگوں کو سماجی تحفظ کی کوریج ملی ہے۔ صرف اڈیشہ میں ہی اس سے 38 لاکھ لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔

10 سے 12 سال پہلے انشورنس بھی ایک عیش و آرام کی چیز سمجھی جاتی تھی۔ غریب اور متوسط طبقہ اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ہمارے لیے تو ’ناگرک دیوو بھو‘ یعنی شہری ہی دیوتا ہے، یہی اچھی حکمرانی کا منتر ہے۔

ہم حادثے کے وقت تحفظ کے لیے پی ایم سرکشا بیمہ یوجنا لائے۔ ہر سال صرف 20 روپے کے معمولی پریمیم پر دو لاکھ روپے تک کا انشورنس مل رہا ہے۔ اسی طرح لائف انشورنس کے لیے ہم سالانہ ساڑھے چار سو روپے سے بھی کم پریمیم میں پی ایم جیون جیوتی یوجنا لائے۔ ان دونوں اسکیموں سے کروڑوں ہندوستانی جڑے ہوئے ہیں اور اب تک 25 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے کلیم لوگوں کو مل چکے ہیں۔

25 ہزار کروڑ روپے، اگر کوئی دوسری حکومت اتنی رقم تقسیم کرنے کا اعلان کرتی تو یہ ایک بڑی سرخی بنتی۔ مہینوں تک گاجے باجے بجتے رہتے، چاروں طرف ڈھول نگاڑے بجتے رہتے۔ لیکن ہماری حکومت میں بغیر شور مچائے، خاموشی سے مشکل وقت میں غریب اور متوسط طبقے تک یہ رقم پہنچ رہی ہے۔ یہی اچھی حکمرانی ہوتی ہے۔

ساتھیو،

گزشتہ دہائی بینکنگ کو ان لوگوں تک پہنچانے کی دہائی تھی جو اس سے محروم تھے۔ آنے والی دہائی بینکنگ کو مزید مؤثر اور زیادہ قابل اعتماد بنانے کی ہے۔ اور اس میں اڈیشہ کے اس نئے ڈیٹا سینٹر کا بھی بڑا کردار ہونے والا ہے۔

اگر ہمیں بینکنگ نظام کو محفوظ رکھنا ہے تو اس کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو بھی محفوظ رکھنا ہوگا۔ اسی لیے مضبوط ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت ہے، ہمارے کمپیوٹنگ نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔

اور ساتھیو،

ہم سب جانتے ہیں کہ آج کل جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتیں۔ کسی ملک کو کمزور کرنا ہو تو اس کی معیشت پر حملہ کرکے بھی ایسا کیا جا سکتا ہے۔ اور جب ہندوستان اقتصادی طور پر مضبوط ہو رہا ہے تو ہمیں اپنے بینکنگ نظام کو سائبر لٹیروں اور سائبر دہشت گردوں سے تحفظ دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

آج سائبر خطرات کی نوعیت بدل رہی ہے۔ ایسی نئی چیلنجوں کا سامنا ہم پرانے نظام، پرانے تربیتی نظام اور پرانے تربیتی وسائل کے ذریعے نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے جدید بنیادی ڈھانچہ بھی چاہیے اور ہنرمند انسانی وسائل بھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نئے سائبر سکیورٹی ادارے کا کردار بہت اہم ہو جاتا ہے۔

ساتھیو،

آر بی آئی کی یہ نئی سہولیات ہندوستان کی ایک نئی ترجیح کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔ مشرقی ہندوستان ترقی یافتہ ہندوستان کا ایک مضبوط ترقیاتی انجن بن رہا ہے۔ اڈیشہ میں ڈبل انجن حکومت بننے کے بعد ترقی کو نئی رفتار ملی ہے۔

اڈیشہ کی معیشت اب قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی سے بھی مضبوط ہو رہی ہے۔ ایک طرف معدنیات پر مبنی صنعتوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، دوسری طرف سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس کا نیا ایکو سسٹم تیار کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

آپ دیکھیں گے، اڈیشہ کانوں سے مائیکرو چپس تک ایک نیا مستقبل لکھنے جا رہا ہے۔ اڈیشہ میں ڈیٹا سینٹرز اور ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ میں سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ اڈیشہ کے نوجوانوں کے لیے مواقع کے متعدد دروازے کھول رہے ہیں۔

میں اڈیشہ کے نوجوان ساتھیوں کو یقین دلاتا ہوں، آپ نے جو بڑے خواب دیکھے ہیں، وہ ضرور پورے ہوں گے۔ ہم یہ کرکے رہیں گے۔

اسی جذبے کے ساتھ ایک بار پھر آپ سب کو بہت بہت مبارکباد۔

بہت بہت نیک خواہشات۔

جئے جگن ناتھ!

***

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

U :  6666