وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ابھرتی ہوئی سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کانکلیو 2026 کا افتتاح کیا۔ کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دن کے اوائل میں اسٹارٹ اَپ بانیوں کے ساتھ ہونے والی پُرجوش گفتگو کے بعد اپنے جوش و خروش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ملک کے نوجوانوں کے وسیع وژن اور ان کے پختہ عزم کی تعریف کی۔ جناب مودی نے کہا، ’’ہندوستان کے نوجوان جس بڑے پیمانے پر سوچ رہے ہیں اور جس خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، وہ حوصلہ افزا ہے۔‘‘
کانکلیو کے گزشتہ ایڈیشن میں اپنی شرکت کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے گزشتہ دہائیوں اور اکیسویں صدی کے نئے ہندوستان کی سوچ کا موازنہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہندوستان کئی سال بعد غیر ملکی اختراعات کو اپنا کر یا ان میں ترمیم کرکے محض دوسروں کی برابری کرنے کی کوشش کرتا تھا، جب کہ آج کا ہندوستان اصل ٹیکنالوجیز تیار کرنے، عالمی سمت متعین کرنے اور دنیا بھر کے چیلنجوں کا حل تلاش کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔ انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ہندوستان نے اپنے شہریوں کو ٹیکے لگانے اور دیگر ممالک کو فراہم کرنے کے لیے مقامی طور پر کووڈ-19 کی ویکسین تیار کی، پہلی ہی کوشش میں مریخ تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی اور چاند کے غیر دریافت شدہ قطبِ جنوبی پر اترنے کا کارنامہ انجام دیا۔ ان مثالوں کے ذریعے انہوں نے ملک کے لیے ایک جرأت مندانہ تکنیکی وژن پیش کیا۔ وزیر اعظم مودی نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’ہندوستان کو مستقبل کی ٹیکنالوجیز کو اپنانا، جرأت مندانہ اختراعات کرنا اور ان کی تخلیق میں دنیا کی قیادت کرنا ہوگی۔‘‘
صفر اور عددی نظام کی ایجاد سے لے کر علمِ فلکیات تک، دریافتوں کے میدان میں ہندوستان کے شاندار ورثے کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک جدید ٹیکنالوجی اور نئے اعتماد کے ساتھ اس سائنسی ورثے کو آگے بڑھا رہا ہے، جس کا ثبوت گزشتہ ایک سال کے دوران حاصل کی گئی متعدد اہم کامیابیاں ہیں۔ 30 اکتوبر کو ڈاکٹر ہومی جہانگیر بھابھا کی سالگرہ منائے جانے کے پیش نظر، وزیر اعظم نے حالیہ سائنسی پیش رفت کا جائزہ جوہری شعبے سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ جناب مودی نے کہا، ’’آئیے، جوہری توانائی سے آغاز کرتے ہیں۔‘‘
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے جوہری توانائی کی وسیع پیداواری صلاحیت درکار ہے، جب کہ درآمد شدہ جوہری ایندھن پر انحصار توانائی کے تحفظ کے لیے ایک چیلنج ہے، وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ملک فاسٹ بریڈر ری ایکٹر ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چند ماہ قبل مقامی طور پر تیار کردہ 500 میگاواٹ کے پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر نے کامیابی کے ساتھ پہلی بار جوہری سلسلہ وار عمل کے آغاز کا مرحلہ حاصل کیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’جوہری توانائی کے شعبے میں ہماری طویل مدتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی سمت میں یہ ایک اہم قدم ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کے عزائم محض ملکی توانائی کے تحفظ اور تکنیکی خود انحصاری تک محدود نہیں، بلکہ وہ اہم ٹیکنالوجیز کے مختلف میدانوں میں اپنی رسائی بھی وسیع کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے رواں سال خلائی شعبے کی اہم کامیابیوں کا ذکر کیا، جن میں ہندوستان کے ایک خلائی اسٹارٹ اَپ کی جانب سے ملک میں تیار کردہ راکٹ کے ذریعے اپنی پہلی ہی کوشش میں سیٹلائٹ کو مدار میں پہنچانا اور ملک کی جانب سے سیٹلائٹ ڈاکنگ کی صلاحیت حاصل کرنا شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متعدد مقامی اسٹارٹ اَپس خلائی سائنس کے شعبے میں نئے اور منفرد حل پیش کر رہے ہیں، جب کہ نوجوان سائنس دانوں اور کاروباری افراد کی شرکت بھی بڑھ رہی ہے۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’ہمارا مقصد اہم ٹیکنالوجیز کے میدان میں اپنی طاقت کو بھی وسعت دینا ہے۔‘‘
ہندوستان کی مختلف شعبوں میں حاصل کی گئی غیر معمولی کامیابیوں کے وسیع دائرے کو بے مثال قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال ملک نے اے آئی امپیکٹ سمٹ کی میزبانی کی، اپنا مصنوعی ذہانت کا ماڈل تیار کیا اور ہندوستان میں تیار کردہ سیمی کنڈکٹر چپس کی دنیا بھر میں ترسیل شروع کی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ملک مکمل طور پر اندرونِ ملک دستیاب خام مال کی بنیاد پر بیٹریوں کے ذخیرے کی صلاحیت کو فعال طور پر فروغ دے رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’ہندوستان جن مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، وہ بے مثال ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ جوہری توانائی اور خلائی تحقیق سے لے کر مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹرز تک، مختلف شعبوں کی ضروریات الگ الگ ہیں، لیکن یہ تمام شعبے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی طاقت اور خود اعتمادی کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر حل فراہم کرنے کی ہندوستان کی منفرد صلاحیت کو اجاگر کیا، تاکہ ملک میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کے ذریعے عالمی چیلنجوں کو حل کیا جاسکے۔ ڈیجیٹل اسٹیک اور مقامی طور پر تیار کردہ 5جی ٹیکنالوجی کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے محفوظ اور پوری آبادی تک رسائی رکھنے والے پلیٹ فارم تیار کرنے کی جاری کوششوں پر زور دیا۔ جناب مودی نے کہا، ’’ہندوستان ایسے محفوظ حل تیار کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، جو بڑے پیمانے پر لوگوں تک پہنچ سکیں۔‘‘
سائنس اور ٹیکنالوجی کو ہتھیار کے طور پر دیکھنے کے تاریخی رجحان کے برعکس، وزیر اعظم نے انسانیت کی خدمت کے لیے ان کے استعمال کے ہندوستانی فلسفے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی سائنسی کامیابی اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب سائنس تجربہ گاہوں سے باہر نکل کر عام لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنائے، بڑے مسائل حل کرے اور صحت کی دیکھ بھال، زراعت، تعلیم، روزگار اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنائے۔ ہندوستانی اسٹارٹ اَپس کی جانب سے ان شعبوں کو ترجیح دیے جانے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ایسے اسٹارٹ اَپس اور ملکی کمپنیوں کا ذکر کیا جو دماغی سرگرمیوں کو سمجھنے کے لیے پہننے کے قابل ای ای جی ٹیکنالوجی، مقامی وائرلیس اور سیٹلائٹ مواصلات، خصوصی غذائی مصنوعات، سیمی کنڈکٹر کی نئی ٹیکنالوجیز اور فولاد کی تیاری کے دوران پیدا ہونے والے سلیگ جیسے صنعتی فضلے کے استعمال کے حل پر کام کر رہی ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’سائنس کی حقیقی کامیابی اسی وقت ہوتی ہے جب وہ تجربہ گاہ سے باہر نکل کر عام شہری کی زندگی کو بہتر بناتی ہے۔‘‘
چنئی کے آئی آئی ٹی مدراس میں اپنے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ایک جدید برین سنٹر کا افتتاح کرنے کے موقع کو یاد کیا۔ اس مرکز نے انسانی دماغ کی اعلیٰ ریزولیوشن والی ڈیجیٹل سہ جہتی تصاویر تیار کرنے اور اعصابی نظام کی پیچیدہ بیماریوں کے راز سمجھنے کے لیے دماغ کی تصویربرداری کا ایک ایسا تکنیکی پلیٹ فارم قائم کیا ہے جو عالمی سطح پر ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی ترقی کا حتمی معیار ’’معاشرے کے لیے سائنس‘‘ اور ’’تبدیلی کے لیے ٹیکنالوجی‘‘ ہونا چاہیے۔ جناب مودی نے کہا، ’’اور ہندوستان اسی معیار پر خود کو پرکھتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ کسی ملک کی ٹیکنالوجی تخلیق کرنے کی صلاحیت اور اہم ٹیکنالوجیز کے میدان میں خود انحصاری کا انحصار مضبوط تحقیقی نظام پر ہوتا ہے۔ اپنے نعرے ’’جے وگیان، جے انوسندھان‘‘ کے پس منظر میں انہوں نے انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن کی تیز رفتار پیش رفت کا ذکر کیا اور گزشتہ سال اسی فورم پر تحقیق، ترقی اور جدت طرازی کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے فراہم کرنے کے عزم کو یاد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت کی جانب سے تجربہ گاہوں میں تیار کردہ اور بازار میں لانے کے لیے تیار ٹیکنالوجیز کے لیے مختص کیے گئے 12,000 کروڑ روپے کے مساوی رقم نجی سرمایہ کاروں نے بھی فراہم کی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف ایک سال میں تحقیق اور ترقی کے لیے مجموعی طور پر 24,000 کروڑ روپے کی نئی سرمایہ کاری کا عہد کیا گیا ہے۔‘‘
ملک میں تحقیقی نظام کے مسلسل پھیلاؤ کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے گزشتہ دہائی کے دوران دانشورانہ املاک کے اندراج میں غیر معمولی اضافے کی جانب توجہ دلائی۔ انہوں نے بتایا کہ سالانہ پیٹنٹ درخواستوں کی تعداد دس سال پہلے 50,000 سے بھی کم تھی، جو گزشتہ سال بڑھ کر تقریباً 1.5 لاکھ ہوگئی۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی محض اعداد و شمار تک محدود نہیں، بلکہ اس سے ایک گہری ساختی تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’یہ اس تبدیلی کی علامت ہے جس کے تحت تحقیق اور جدت طرازی ہندوستان میں ایک مضبوط ثقافت بنتی جارہی ہیں۔‘‘
مصنوعی ذہانت کے دور میں سائنسی سوچ اور فیصلہ سازی کس طرح ترقی کرے گی، اس اہم سوال کو اکیسویں صدی کی دوسری سہ ماہی کے تناظر میں اٹھاتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اسٹیج پر موجود معروف تجربہ گاہی سائنس دانوں اور نوبل انعام یافتگان نے برسوں تک چھوٹے چھوٹے مسائل حل کرکے، تجربات کرکے، ناکامیوں سے سیکھ کر، رائج طریقوں پر سوال اٹھا کر اور نظر انداز کردی جانے والی تفصیلات کو پہچان کر اپنی فہم و فراست کو نکھارا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت معمول کے کام تیزی سے انجام دے کر پیداواری صلاحیت بڑھا سکتی ہے، لیکن اسے آزادانہ سوچ کو محدود کرنے کے بجائے مزید تقویت دینی چاہیے، تاکہ محققین بچنے والے وقت کو زیادہ پیچیدہ مسائل، نئے تجربات اور خیالات کی توثیق کے لیے استعمال کرسکیں۔ وزیر اعظم مودی نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’مصنوعی ذہانت ہمیں فوری طور پر جوابات دے سکتی ہے، لیکن ان جوابات کی صحت اور صداقت کو جانچنے کی ذمہ داری صرف سائنس دان ہی کی ہونی چاہیے۔‘‘
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کی سمت متعین کرنے والے شعبوں میں سائنس دانوں اور اداروں کی مسلسل تیاری کے لیے مخصوص قومی مشنوں کے ذریعے کام کیا جانا چاہیے۔ ان مشنوں میں سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم ٹیکنالوجیز، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، جدید مواد، روبوٹکس، خلائی ٹیکنالوجی، صاف توانائی اور اگلی نسل کے مواصلاتی نظام شامل ہیں، تاکہ نئی سائنسی کامیابیاں ہندوستان میں حاصل ہوں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مصنوعی ذہانت، مصنوعی حیاتیات اور خودکار نظاموں کے تمام شعبوں میں حفاظت اور سلامتی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ مصنوعی ذہانت کے دور میں مالیاتی نیٹ ورکس اور قومی سلامتی کو درپیش سائبر سکیورٹی کے ابھرتے ہوئے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے انہوں نے ایسے حفاظتی حل تیار کرنے کی اپیل کی جو مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجی پر مبنی ہوں، قومی نظاموں کا تحفظ کریں اور انسانیت کی خدمت میں کام آئیں۔ جناب مودی نے کہا، ’’ہمارا مقصد ایسی ٹیکنالوجیز تیار کرنا ہے جو ہندوستان کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ انسانیت کے مسائل حل کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔‘‘
وزیر اعظم نے کانکلیو میں شریک ہر محقق، صنعتی رہنما، اسٹارٹ اَپ بانی اور طالب علم سے اپیل کی کہ وہ اگلے تین سال کے لیے ایک واضح ہدف مقرر کرے اور اس بات کی نشان دہی کرے کہ وہ کون سی ٹیکنالوجی، نمونۂ ایجاد، آزمائشی منصوبہ یا مصنوعات تیار کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے ان سے ایسی اختراعات کو فروغ دینے کی اپیل کی جو ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کریں اور ہندوستان کو دنیا بھر میں مسائل کے حل فراہم کرنے کا مرکز بنائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس اجتماع کو محض مباحثے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس کے نتیجے میں ٹھوس نتائج سامنے آنے چاہییں۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’یہ کانکلیو محض خیالات کے تبادلے تک محدود نہ رہے، بلکہ قابلِ پیمائش نتائج حاصل کرنے کا ایک پلیٹ فارم بنے۔‘‘
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان دنیا کا سب سے نوجوان ملک ہے، جسے صلاحیتوں اور پختہ عزم کی دولت حاصل ہے۔ انہوں نے اس نسل کی تربیت کی ضرورت پر زور دیا جو ابھرتی ہوئی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں محض شریک ہونے کے بجائے فعال طور پر قیادت کرے۔ ’’ہم یہ کرکے دکھائیں گے‘‘ کے اجتماعی جذبے اور پختہ یقین کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کانکلیو کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ جناب مودی نے کہا، ’’ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو ابھرتی ہوئی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں محض شریک نہ ہو، بلکہ اس کی قیادت کرے۔‘‘
A Viksit Bharat will be built on strong foundations of scientific research, discoveries and the spirit of innovation. Speaking at the Emerging Science, Technology and Innovation Conclave in New Delhi. https://t.co/7VshP2K7GU
— Narendra Modi (@narendramodi) October 27, 2026
India must innovate and lead the world in shaping the technologies of tomorrow. https://t.co/jCI8XwQxsJ
— PMO India (@PMOIndia) October 27, 2026
India aims to achieve self-reliance and build strength in critical technologies. https://t.co/H8YNQbRf3G
— PMO India (@PMOIndia) October 27, 2026
AI can give quick answers, but it is essential to verify them. https://t.co/6lIKdPC7i2
— PMO India (@PMOIndia) October 27, 2026
******
ش ح۔ ف ا۔ م ر
U-NO. 6798
A Viksit Bharat will be built on strong foundations of scientific research, discoveries and the spirit of innovation. Speaking at the Emerging Science, Technology and Innovation Conclave in New Delhi. https://t.co/7VshP2K7GU
— Narendra Modi (@narendramodi) October 27, 2026
India must innovate and lead the world in shaping the technologies of tomorrow. https://t.co/jCI8XwQxsJ
— PMO India (@PMOIndia) October 27, 2026
India aims to achieve self-reliance and build strength in critical technologies. https://t.co/H8YNQbRf3G
— PMO India (@PMOIndia) October 27, 2026
AI can give quick answers, but it is essential to verify them. https://t.co/6lIKdPC7i2
— PMO India (@PMOIndia) October 27, 2026