Search

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

کابینہ نے کنٹینر سازی کے فروغ کی اسکیم کو منظوری دی


وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے کنٹینر سازی کے فروغ کی اسکیم (سی ایم پی ایس) کو منظوری دے دی ہے۔ اس اسکیم کے تحت مالی سال 40–2039 تک 10,000 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ اس کا مقصد بھارت میں عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھنے والا کنٹینر سازی کا نظام قائم کرنا، درآمدات پر انحصار کم کرنا اور رسد کی زنجیر کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ اس اسکیم کے تحت نئی پیداواری اکائیوں کے قیام کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود کنٹینر سازی کی اکائیوں کی توسیع میں بھی مدد فراہم کی جائے گی۔

کنٹینر سازی کی اسکیم کا اعلان مرکزی بجٹ 27–2026 میں کیا گیا تھا۔

اس اسکیم کے اہم اجزا درج ذیل ہیں:

  1. سود میں رعایت کے سلسلے میں معاونت: اس مد کے لیے 859 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت کنٹینر تیار کرنے والے اداروں کو نئی پیداواری اکائیاں قائم کرنے اور موجودہ پیداواری صلاحیت میں توسیع کرنے کے لیے حاصل کیے گئے اہل مدتی قرضوں (سرمایہ جاتی قرضوں) پر سالانہ 3 فیصد سود میں رعایت دی جائے گی۔
  2. عملی اخراجات کے لیے مالی معاونت: اس مد کے لیے 8,891 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت عالمی جہاز رانی کے معیارات کے مطابق تیار کیے جانے اور اہل کنٹینر ساز اداروں کے ذریعے فروخت کیے جانے والے تمام کنٹینروں کی تیاری کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس سے لاگت کے فرق کو کم کرنے اور ملک میں تیار ہونے والے کنٹینروں کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
  3. جانچ اور تصدیق کے لیے معاونت: اس مد کے لیے 150 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت اس شعبے میں متحرک اثرات کی جانچ جیسی مشترکہ سہولیات قائم کرنے میں مدد فراہم کی جائے گی۔

مجموعی طور پر متوقع اثرات:

  • ملک میں کنٹینر سازی کی سالانہ پیداواری صلاحیت میں تقریباً دس گنا اضافہ ہوگا اور اسے بڑھا کر 7.5 لاکھ ٹی ای یو تک پہنچایا جائے گا۔
  • بین الاقوامی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھنے والا پیداواری مرکز قائم ہوگا، جس سے بھارت کو معیاری جہاز رانی کے کنٹینروں کی برآمدات کے عالمی مرکز کے طور پر ابھرنے کا موقع ملے گا۔
  • بھارت کی بحری اور رسدکے نظام کی پائیداری اور مضبوطی میں اضافہ ہوگا۔
  • تقریباً 3,000 براہِ راست اور 50,000 سے زیادہ بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی متعلقہ معاون صنعتوں، مثلاً کنٹینروں کے کونوں پر لگنے والی مخصوص دھاتی فٹنگز، خصوصی فولاد، لکڑی کے فریم اور رنگ اورپینٹ تیارکرنے والی صنعتوں کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔

******

ش ح ۔ ع و ۔ م ا

UR No-6830