وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے ایک مرکزی امداد یافتہ اسکیم، یعنی پردھان منتری وکست گرام سوراج یوجنا ( پی ایم وی جی ایس وائی ) کو منظوری دے دی ہے۔ یہ وکست بھارت کے قومی ویژن کے مطابق حکمرانی کے نظام میں تبدیلی لانے کی آئندی سلسلے کی ایک پہل ہے۔ اس اسکیم کو 2026-27 ء سے 2030-31 ء تک نافذ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کی مدت سولہویں مالیاتی کمیشن کی مدت کے ساتھ ہم آہنگ ہوگی۔
مالیاتی اثرات:
اس اسکیم کے لیے 7,395.55 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس میں مرکزی حکومت کا حصہ 4,869.48 کروڑ روپے اور ریاستی حکومتوں کا حصہ 2,526.07 کروڑ روپے ہے۔
مستفید ہونے والوں کی تعداد:
اس اسکیم سے 2.55 لاکھ سے زیادہ پنچایتوں اور روایتی مقامی اداروں کے تقریباً 32 لاکھ منتخب نمائندوں کے ساتھ پنچایتوں کے عہدیداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ بیداری پیدا کرنے کی ہر مہم کے ذریعے کم از کم ایک کروڑ شہریوں تک رسائی حاصل کی جائے گی۔
روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت سمیت اہم اثرات:
اس اسکیم کے تحت کوئی مستقل عہدہ قائم نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، ادارہ جاتی نظام کے حصے کے طور پر تکنیکی معاونت فراہم کرنے اور اسکیم کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ریاستی، ضلعی اور بلاک سطح پر ضرورت کے مطابق معاہدے کی بنیاد پر افرادی قوت کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
شامل ریاستیں اور اضلاع:
یہ اسکیم تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں تک توسیع پائے گی۔ اس میں ان علاقوں کے دیہی مقامی حکومتی ادارے ( روایتی مقامی ادارے ) بھی شامل ہوں گے ، جہاں آئین کے نویں حصے کا اطلاق نہیں ہوتا اور پنچایتیں موجود نہیں ہیں۔
تفصیلات:
عمل درآمد کی حکمتِ عملی:
اس اسکیم پر متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے ذریعے عمل درآمد کیا جائے گا۔ ریاستیں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے اسکیم کے مقاصد اور رہنما اصولوں کے مطابق سرگرمیوں، ترجیحات اور ضروریات کی وضاحت کرتے ہوئے سالانہ عملی منصوبے پیش کریں گے۔ نامزد مرکزی بااختیار کمیٹی متعلقہ طریقۂ کار اور ضابطوں کے مطابق ان منصوبوں کا جائزہ لے کر انہیں منظوری دے گی۔ مرکزی حکومت اور ریاستیں نیز مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ اپنے اپنے دائرۂ کار میں سرگرمیاں انجام دیں گی، جن میں تال میل، تکنیکی معاونت، نگرانی اور جائزے کے ذریعے مدد فراہم کی جائے گی۔ زمینی سطح پر عمل درآمد کے لیے موجودہ ادارہ جاتی نظام، صلاحیت سازی کے انتظامات، ڈیجیٹل ذرائع اور مواصلاتی نظام سے مدد لی جائے گی۔
*****
(ش ح – ا ع خ – ع ا )
U. No. 6834