Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

دہیج میں گھوگھا- دہیج رو-رو نقل وحمل خدمات کا افتتاح کرنے کے بعد عوامی جلسے میں وزیراعظم کی تقریر کے اقتباسات

دہیج میں گھوگھا- دہیج رو-رو نقل وحمل خدمات کا افتتاح کرنے کے بعد عوامی جلسے میں وزیراعظم کی تقریر کے اقتباسات


نئی دہلی۔23؍اکتوبر۔

میرے پیارے بھائیو اور بہنو،

ساتھیو ، جیسا تجربہ کسان کو اپنی لہلہاتی فصل دیکھ کر کے ہوتا ہے ، جیسا تجربہ کمہار کو خوبصورت سا گھڑا، مٹی کے دیے بناتا ہے ، تو بننے کے بعد اسے جیسا خوشگوار تجربہ ہوتا ہے ،جیسا تجربہ کسی بنکر کو خوبصورت ساقالین بناکر اس کے دل میں جو مسرت ہوتی ہے ، ویسا ہی تجربہ اس وقت مجھے ہورہا ہے۔ ایسا لگ ہے جیسے اب سے کچھ دیر پہلے میں سواسو کروڑ اہل وطن کی تمناؤں کو، ان کی جذبات کو جی کرکے یہاں آیا ہوں۔

گھوگھا سے دہیج کے راستے میں سمندر پر بتائے ہوئے ایک ایک پل کے دوران میں یہی سوچتا رہا کہ گزرتا ہوا یہ وقت ایک نئی تاریخ رقم کررہا ہے، ایک نئے مستقبل کے دروازے کھول رہا ہے۔ اس دروازے سے چل کر ہم نیو انڈیا کی بنیاد رکھیں گے ، نیو انڈیا کا خواب شرمندہ تعبیر کریں گے۔ ملک کی عوامی قوت سے ہی اور اس کے صحیح استعمال کرنے کا خواب ، سردار پٹیل سے لیکر ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر تک ، سبھی نے دیکھا تھا۔ آج ہم نے ان کے خواب سے جڑے ہوئے ایک پڑاؤ کو پار کرلیا ہے۔

گھوگھا۔ دہیج کے مابین فیری سوراشٹر اور جنوبی گجرات کے کروڑوں ۔ کروڑو ں لوگوں کی زندگی کو نہ صرف آسان بنائے گا بلکہ انہیں اور قریب لے آئے گا۔

اس فیری سروس سے پورے علاقے میں سماجی۔ اقتصادی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔ روزگار کو جو نوجوان اس نئے نظام کا فائدہ اٹھائیں گے، روزگار کے نئے مواقع دستیاب ہوں گے۔ ساحلی جہازرانی اور ساحلی سیاحت کا بھی ایک نیا باب اس کے ساتھ جڑنے والا ہے۔ مستقبل میں ہم سب اس فیری سروس سے اور یہاں آئے لوگ توجہ سے سنیں، مستقبل میں ہم اس فیری سروس سے ہزیرا، پیپاواؤ، جعفرآباد، دمن دیو، ان سبھی اہم مقامات کے ساتھ فیری سروس جڑ سکتی ہے۔

مجھے بتایا گیا ہے کہ سرکار کی تیاری آنے والے برسوں میں اس فیری سروس کی سورت سے آگے ہزیرا اور پھر ممبئی تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ کچھ کی خلیج میں بھی اس طرح پروجیکٹ شروع کرکے کئے جانے کا ذکر چل رہا ہے۔ انہوں نے کافی کام آگے بڑھایا ہے اور میں ریاستی حکومت کو ان کی کوششوں کے لئے بہت بہت نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں اور حکومت ہند کی جانب سے پورا پورا تعاون ملے گا اس کی میں یقین دہانی کراتا ہوں۔

حکومت کی یہ کوشش دہیج سمیت پورے جنوبی گجرات کی ترقی کیلئے حکومت کی عہد بندگی کا ایک جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ بھڑوچ سمیت جنوبی گجرات میں صنعتی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کیلئے دہیج اور ہزیرا جیسے مراکز پر ہم نے بطور خاص توجہ مرکوز کی ہے۔ پٹرولیم ، کیمیکلز اور پٹروکیمکلز سرمایہ کاری خطوں کی تشکیل کے ساتھ ہی ریل نیٹ ورک ، سڑک روابط ، اس پر جو کام ہوا ہے، شاید پہلے کسی نے سوچا تک نہیں ہوگا۔

ہزیرا میں بھی بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر زور لگایا گیا ہے۔ آنے والے برسوں میں دلّی۔ ممبئی صنعتی گلیارے کا فائدہ ان سبھی علاقوں کو ملنے والا ہے۔ گجرات کی بحری ترقی پورے ملک کیلئے ایک نمونہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ رو ۔ رو فیری خدمت کا پروجیکٹ بھی دوسری راستوں کیلئے ایک نمونہ پروجیکٹ کی طرح کام کرے گا۔

ہم نے جس طرح برسوں کی محنت کے بعد اس طرح کے پروجیکٹ میں آنے والی دقتوں کو سمجھا ، اسے دور کیا، یہ دقتیں کم سے کم آئیں، مستقبل میں اگر نیا پروجیکٹ بنانا ہے ، اس سمت میں گجرات نے بہت بڑا کام کیا ہے۔

ساتھیو، آج سے نہیں، سینکڑوں برسوں سے آبی نقل وحمل کے معاملے میں بھارت دوسرے ممالک سے بہت آگے رہا تھا۔ ہماری تکنیک دوسرے ممالک سے کہیں زیادہ عظیم ہوا کرتی تھی۔ لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ غلا می کے طویل عرصے کے دوران ہم نے اپنی عظمت کو اپنی تاریخ سے سیکھنا دھیرے دھیرے کم کردیا ہے، بھولتے چلے گئے۔ نئی جدت طرازی کم ہونے کے ساتھ ہی جو صلاحیتیں تھیں، وہ بھی دھیرے دھیرے تاریخ کا حصہ بن گئیں ،ورنہ جس ملک کی جہازرانی کی صلاحیتوں کا لوہا صدیوں سے پوری دنیا مانتی رہی ہو، اسی ملک میں آزادی کے بعد آبی نقل وحمل پوری طرح سے نظرانداز کردیا گیا، بھلا دیا گیا۔

ساتھیو، آج بھی بھارت میں سڑک نقل وحمل کا حصہ 55 فیصد ہے ، ریلوے مال ڈھلائی کا 35 فیصد برداشت کرتی ہے اورآبی راستے ، کیونکہ سب سے سستا ہے، وہ صرف پانچ یا چھ فیصد ہیں ، جبکہ تیسرے ممالک میں آبی راستے اور ساحل نقل وحمل کی حصے داری قریب قریب 30 فیصد سےبھی زیادہ ہوا کرتی ہے۔ یہی ہماری سچائی ، یہی ہماری چنوتی ہے اور یہی صورتحال ہمیں بدلنے کا عہد لے کر کے آگے بڑھنا ہے۔

آج جان کر کے حیران ہوجاؤگے کہ ملک کی معیشت پر لاجسٹک کا وزن 18 فیصد تک ہے۔ یعنی سامان کو ملک کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک لے جانے پر دوسرے ملکوں کے مقابلے ہمارے ملک میں خرچ زیادہ ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے غریب فرد کو جو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ ٹرانسپورٹ کی وجہ سے بھی مہنگی ہوجاتی ہیں۔ اگر آبی نقل وحمل کو بڑھاوا دیکر ہم ساز وسامان کی لاگت کو لگ بھگ آدھا کرسکتے ہیں اور ایسا کرنے کیلئے ہمارے پاس وسائل ، سہولتیں اور اہلیت ، سب کچھ موجود ہیں ۔

ساتھیو، ہمارے ملک میں 7500 کلو میٹر کا بحری ساحل اور 14500 کلومیٹر کا داخلی آبی راستہ یعنی ندیوں کے ذریعے راستہ دستیاب ہے۔ اس طرح سے مادر ہند نے ہمیں پہلے سے ہی 21000 کلو میٹر کے آبی راستے سے نواز کر رکھا ہوا ہے ، برسوں تک ہم اس خزانے پر چوکڑی مار کر بیٹھے رہے ہیں اور یہ سمجھ ہی نہیں پائے کہ اس کا استعمال کیسے کریں؟

آپ یہ جان کر چونک جائیں گے کہ ہمارے یہاں اوّلین بندرگاہ پالیسی 1995 میں بنی ۔ ملک آزاد ہوا 1947 میں اور بندرگاہوں کی پالیسی 1995 میں بنی، کتنی تاخیر کردی گئی۔ اس سے پہلے بندرگاہ کی ترقی کیلئے ایک طویل خاکےکے ساتھ کام نہیں ہورہا تھا۔ بس چیزیں چل رہی تھیں اور یہ سچ ہے کہ اس کی وجہ سے آج ملک کو اربوں، کھربوں کا اقتصادی خسارہ بھی اٹھانا پڑا۔

آپ کو ایک مثال دیتا ہوں، اگر آبی راستے کے توسط سے ہم کوئلے کا نقل وحمل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا خرچ آتا ہے فی ٹن کلو میٹر 20 پیسے وہیں جب اسی کوئلے کو ریل کے توسط سے لے جاتے ہیں تو یہی قیمت ہوجاتی ہے سوا روپیہ، یعنی 20 پیسے کے سامنے سوا ہوجاتا ہے اور آپ غور کیجئے کہ سڑک راستے سے جائیں گے تو کتنا گنا بڑھ جائے گا۔ آپ بتائیے ہمیں سستے ذریعے سے کوئلے کی ڈھلائی کرنی چاہئے یا نہیں؟ آپ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ آج بھی کوئلے کی ڈھلائی کا 90 فیصد ریل کے ذریعے ہی ہورہا ہے۔ دہائیوں سے بنے ہوئے نظام کو بدلنا ہم نے ٹھان لیا ہے اور اس کے لئے حکومت لگاتارنئی نئی پہل قدمیاں کررہی ہے۔

ساتھیو، جب ہم نیا گھر خریدتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ اس گھر کی دوسرے علاقوں کے ساتھ رابطہ کاری کیسی ہے، روڈ ہے کہ نہیں، ریل ہے کہ نہیں، جانا ہے تو بس ملتی ہے کہ نہیں ملتی ہے، جب ہم نیا کاروبار شروع کرتے ہیں تو بھی دیکھتے ہیں کہ اس علاقے میں رابطہ کاری کیسی ہے، اس علاقے میں سامان کو لانے ، لے جانے میں کوئی دقت تو نہیں آئے گی۔

جب ہمارا عام طریقہ کار یہی رہتا ہے تو پھر ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ آخر ہماری صنعتوں کو ساحل سمندر سے دور کیوں لگایا جائے ۔ اگر صنعت کا کچا مال اور تیار کیا ہوا مال بندرگاہوں کی رابطہ کاری پر منحصر ہے تو کیا یہ صحیح نہیں ہوگاکہ ساحل سمندر کے نزدیک صنعتی ساحلی علاقے بھی تشکیل دیے جائیں۔ اس سے نہ صرف درکار ساز وسامان کی قیمت میں کمی آئے گی بلکہ کاروبار کرنے میں آسانی بھی پیدا ہوگی۔

جو ملک کے اندر ضرورت ہے ،اس کی صنعتیں ملک کے اندر کہیں بھی لگ سکتی ہیں اور لگنی بھی چاہئے۔ لیکن جو دوسرے ملکوں میں بھیجنا ہے، برآمد کرنا ہے، وہ جب ساحل سمندر پر کرتے ہیں تو زیادہ سہل ہوجاتا ہے، زیادہ منافع حاصل ہوتا ہے۔

ساتھیو، ٹرانسپورٹ کی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ اگر آپ آنے والے کل کی دقتوں کو آج سلجھا رہے ہیں تو آپ پہلے ہی بہت دیر کرچکے ہیں۔ آپ سوچیے آپ کے آس پاس کسی سڑک پر ہر روز جام لگتا تو اور کوئی طے کرے کہ اب وہاں فلائی اوور بنایا جائے گا، یہ فلائی اوور جب بن کر تیار ہوگا تب تک اس علاقے میں گاڑیوں کی تعداد اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اس فلائی اوور پر بھی جام لگنے لگتا ہے۔ ہمارے ملک میں یہی ہوتا رہا ہے۔ اور اس لئے ٹرانسپورٹ شعبے میں سرکار ابھی کی ضرورتوں کے ساتھ ہی مستقبل کی ضرورتوں کو ذہن میں رکھتےہوئے بھی کام کررہی ہے۔ ہمارا اصول ہے پی فار پی ، پورٹس فار پروسپیریٹی یعنی خوشحالی کیلئے جگہیں۔ ہماری بندرگاہوں کے داخلی دروازے۔ ساگر مالا اور ساگر مالا جیسا پروجیکٹ اسی وژن کی ایک جھلک ہے۔ اس پروجیکٹ پر بیس سے پینتیس تک کی ضرورتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے ہم کام کررہے ہیں۔ اس کے تحت حکومت اب سے لیکر 2035 کو دھیان میں رکھتے ہوئے 400 سے زیادہ پروجیکٹوں پر آج بہت بڑی سرمایہ کاری کررہی ہے۔

ان الگ الگ پروجیکٹوں پر آٹھ لاکھ کروڑ روپئے سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کرنے کی تیاری ہے۔ ساگر مالا پروجیکٹ یقینی طور پر نیو انڈیا کا بہت بڑا آدھار بنے گا۔

ساتھیو ، سمندر کے ذریعے دوسرے ملکوں سے مضبوط رشتے قائم کرنے کیلئے ہمیں اور جدید بندرگاہوں کی ضرورت ہے۔ ہماری معیشت کیلئے بندرگاہیں پھیپھڑے کی طرح ہیں اور بندرگاہیں بیمار ہوجائیں ، صلاحیت کے مطابق کام نہ کرے، تو ہم بہت کاروبار بھی نہیں کرپائیں گے۔ اسی طرح جیسے جسم میں پھیپھڑوں کے ذریعے کھینچی گئی آکسیجن دل کے ذریعے پمپ کرکے نسلوں کے وسیلے سے الگ الگ جگہوں پر پہنچائی جاتی ہے، ویسے ہی معیشت میں یہ کردار ریلوے ، شاہراہیں ، ایئرویز اور واٹر ویز کے ذریعے ہوتی ہے، اگر نسوں میں خون کی سپلائی کم ہوجائے ، آکسیجن کم ہوجائے تو جسم کمزور ہوجاتا ہے، ایسے ہی رابطہ صحیح نہ ہو تو ملک کا معاشی فروغ بھی کمزور پڑنے لگتا ہے اور اس لئے بنیادی ڈھانچہ اور رابطہ ، دو ایسے شعبے ہیں جن پر یہ حکومت زیادہ سے زیادہ طاقت لگا رہی ہے۔

ساتھیو، سرکار کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ پچھلے تین برس میں بندرگاہ کے شعبے میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے۔ ابھی تک کی سب سے زیادہ صلاحیت سازی پچھلے دو تین برس میں ہوئی ہے جو بندرگاہ اور سرکاری کمپنیاں گھاٹے میں چل رہی تھی ان میں بھی صورتحال بدل گئی۔ حکومت کا دھیان ساحلی خدمت سے وابستہ ہنر کے فروغ پر بھی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اکیلے ساگر مالاپروجیکٹ سے آنے والے وقت میں ملک کے مختلف حصوں پر ایک کروڑ نئی ملازمتو ں کے موقع کا امکان ہے۔ ہم اس نظریے کے ساتھ کام کر رہے ہیں کہ ٹرانسپورٹیشن کا پورا لائحہ عمل جدید اور مربوط ہو۔

آج کل آپ کئی جگہوں پر ٹریفک جام دیکھتے ہیں، اسی طرح ہماری بندرگاہوں میں بھی جام لگ جاتا ہے۔ بندرگاہوں میں لگنے والے جام کی وجہ سے مال لادنے ، اُتارنے پر لاگت بڑھتی ہے، انتظار کا وقت بڑھتا ہے، جس طرح ہم ٹریفک میں پھنسنے کے بعد صرف انتظار کرتے رہ جاتے ہیں کوئی تعمیری کام نہیں کرپاتے ، اسی طرح سمندر میں کھڑے جہاز بھی سامان اُتارنے اور سامان چڑھانے کے انتظار میں کھڑے رہ جاتے ہیں اور صرف وہ جہاز کھڑا نہیں رہتا ہے ، پوری معیشت ٹھہر جاتی ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ بندرگاہوں کی جدیدکاری ہو، روکاوٹیں ختم کی جائیں۔

ساگر مالاپروجیکٹ کا ایک اور پہلو ہے، اور وہ ہے نیلی معیشت ۔ پہلے لوگ بحری معیشت کے بارے میں بات کرتے تھے لیکن اب نیلی معیشت کے بارے میں بات کرتے ہیں ، نیلی معیشت یعنی معیشت اور ماحول کا گٹھ جوڑ۔ نیلی معیشت ، معاشی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہی سمندر سے جڑے ماحولیاتی نظام کو بھی بڑھاواد یتی ہے۔

اگر 18ویں اور 19ویں صدی میں صنعتی انقلاب زمین پر ہوا تو 21ویں صدی میں جدید انقلاب سمندر کے وسیلے سے ہوگا۔ نیلے انقلاب کے ذریعے ہوگا۔

ساتھیو ، ہماری آج کی ضرورتوں اور چیلنجوں کو دیکھتے ہوئے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ملک کی سمندری طاقت کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ نیلی معیشت کی صلاحیتوں کا زیادہ استعمال نیو انڈیا کی بنیاد بنے گا۔

خوراک کے تحفظ کیلئے نیلی معیشت کا استعمال کیا جاسکتا ہے ، جیسے اگر ہمارے ماہی گیر بھائی سمندری اشیا کی کھیتی کریں ، اور اس میں ویلیوایڈیشن کریں تو اس سے ان کی عمر میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ ایسے ہی نیلی معیشت توانائی کے میدان میں، کانکنی کے میدان میں، سیاحت کے میدان میں، نیو انڈیا کی ایک بہت بڑی بنیاد بن سکتی ہے۔

ساتھیو، یہ حکومت ملک میں کام کا ایک نیا ماحول تیا رکررہی ہے۔ ایک ایسا ماحول جو جوابدہ ہو ، شفاف ہو۔ آج اسی ماحول کی وجہ سے پروجیکٹوں پر تیزی سے کام ہورہا ہے۔ آج ملک میں دوگنی رفتار سے سڑک بن رہی ہے۔ دوگنی رفتار سے ریل لائنیں بچھ رہی ہیں۔
پروجیکٹوں کو وقت پر پورا کرنے کیلئے ڈرون سے لیکر سیارچے تک سے مانیٹرنگ کرنے کا انتظام ہورہا ہے۔ کوئی تو وجہ ہوگی کہ اب آپ کو پاسپورٹ اتنے جلد مل جاتا ہے۔ کوئی تو وجہ ہوگی کہ اب آپ کو گیس کا سیلنڈر اتنی آسانی سے مل جاتا ہے۔ کوئی تو وجہ ہوگی کہ اب آپ کو انکم ٹیکس ریفنڈ کیلئے مہینوں انتظار نہیں کرنا پڑتا ہے۔ یہ تبدیلی آپ کی زندگی میں آرہی ہے اور اس کے پیچھے بڑی وجہ ہے ، سرکار کے کام کرنے کے ماحول میں ہم نے جو تبدیلی کی ہے ۔ ایک ایسا ماحول ہے جو غریبوں کو اوسط درجے کو تکنیک کی مدد سے اس کا حق دلارہا ہے۔

گجرات میں آپ نے جو سکھایا ہے وہ تجربہ مجھے دلّی میں بہت کام آرہا ہے۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر فائلیں نکلوا رہا ہوں، اور جو پروجیکٹ دہائیوں سے اٹکے ہوئے ہیں انہیں پورا کروا رہا ہوں ۔ ہم نے ایک انتظام کیا ہے ترقی۔ اس کے وسیلے سے اب تک 9 لاکھ کروڑ روپئے سے زیادہ کے پروجیکٹوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ترقی میں جائزہ ہونے کے بعد چار چار دہائیوں سے اٹکے ہوئے پروجیکٹ اب تیزی سے پورے ہونے کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں۔

یہ حکومت ملک میں ایماندار معیشت اور ایماندار سماجی معیشت قائم کرنے کیلئے کوشش کررہی ہے۔ نوٹ بندی نے کالے دھن کو نہ صرف تجوری سے باہر نکال کر بنیک میں پہنچایا ہے بلکہ ملک کو ایسے ایسے ثبوت بھی سونپے ہیں، جس سے نہ ختم ہونے والی صفائی ستھرائی مہم شروع ہونا ممکن ہوا ہے۔

اسی طرح جی ایس ٹی سے بھی ملک میں ایک نیا بزنس کلچر مل رہا ہے۔ ہمیں معلوم ہے پہلے جو لوگ ٹرک لے کر جاتے ہیں ، چیک پوسٹ پر گھنٹوں کھڑے رہنا پڑتا تھا۔ جی ایس ٹی آنے کے بعد سارے چیک پوسٹ گئے۔ جو ٹرک پانچ دن میں پہنچتا تھا وہ آج تین دن میں پہنچتا ہے۔ سامان لے جانے ، لانے کا خرچہ کم ہوگیا اور ہزاروں کروڑ روپئے جو چیک پوسٹ پر جاتے تھے ، اس میں بھی بدعنوانی پنپتی تھی۔ وہ ساری چیزیں جی ایس ٹی آنے کے سبب بندہوگئیں۔ اب مجھے بتائیے ، اب تک جنہوں نے ٹھیکیداری میں لوٹا تھا وہ مودی سے ناراض ہوں گے یا نہیں ہوں گے؟ ان کو مودی پر غصہ آئے گا یا نہیں آئے گا لیکن ملک کے شہری کو بھلا ہونا چاہئے یا نہیں ہوناچاہئے؟ ملک کے شہریوں کو فائدہ ہونا چاہئے یا نہیں ہونا چاہئے؟

ایک ایسا بزنس کلچر جس میں ایمانداری سے سارا کاروبار ہوتا ہے اور ایمانداری کے دم پر ہی کمائی کی جاتی ہےاور میرا تجربہ ہے، کوئی کاروباری چوری نہیں کرناچاہتا ہے لیکن کچھ قانون ، اصول ، افسر ، سیاسی لیڈر اس کو اس پر دھکا مارتے ہیں۔ بیچارے کو مجبور کردیتے ہیں ۔ ہم اس کو ایمانداری کا ماحول دینے کیلئے کام کررہے ہیں۔

آپ دیکھئے جی ایس ٹی سے جڑنے والے کاروباریوں کی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے ۔ جی ایس ٹی لاگو ہونے کے بعد بالواسطہ ٹیکس کے دائرے میں 27 لاکھ شہری جڑ گئے ہیں۔

ساتھیو، مجھے پتہ ہے کہ اصل دھارے میں لوٹ رہے کچھ کاروباریوں کو ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں ان کے پرانے ریکارڈ تو نہیں کھولے جائیں گے؟ جو کوئی طبقہ ایمانداری سے ملک کی ترقی میں شامل ہورہا ہے، اصل دھارے میں آرہا ہے اسے میں یہ پورا بھروسہ دلانا چاہتا ہوں کہ ان کی پرانی چیزیں کھول کر کسی افسر کو پریشان کرنے کا حق نہیں دیاجائے گا۔

بھائیو بہنو، تمام سدھاروں اور سخت فیصلوں کے باوجود ملک کی معیشت پٹری پر آئے صحیح سمت میں ہے۔ حال میں آئے اعداد وشمار کو دیکھیں تو کوئلے ، بجلی ، اسٹیل ، قدرتی گیس، ان سب کی پیداوار میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ غیرملکی سرمایہ کار بھارت میں ریکارڈ سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ بھارت کے غیرملکی زرمبادلہ کا ریزرو تقریباً 30 ہزار کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 40ہزار کروڑ ڈالر کو پار کر گیا ہے۔ کئی ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ملک کی معیشت کی بنیادی کافی مضبوط ہیں ، مستحکم ہیں۔ ہم نے اصلاح کے میدان میں اہم فیصلے کیے ہیں اور یہ عمل لگاتار جاری رہے گا۔ ملک کی قطعی دیرپائی کو بھی برقرار رکھا جائیگا۔ سرمایہ بڑھانے اور معاشی ترقی کو رفتار دینے کیلئے ہم ہر ضروری قدم اٹھاتے رہیں گے۔

ساتھیو، یہ بدلتی ہوئی صورتحال کا دور ہے ۔ عزم سے ثابت کرنے کا دور ہے۔ ہم سبھی کو نیو انڈیا کی تعمیر کیلئے عزم کرنا ہوگا ، اسے ثابت کرنا ہوگا۔ آج یہاں گھوگھا۔ دہیج فیری سروس کے وسیلے سے نیو انڈیا کے ایک نئے وسیلے کی شروعا ہوئی ہے۔
آپ سبھی کو میں ایک مرتبہ پھر بہت بہت نیک خواہشات کےساتھ اس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے مدعو کرتا ہوں۔

بھارت ماتا کی جئے

بھارت کی ماتا کی جئے۔ بھارت ماتا کی جئے

بہت بہت شکریہ ۔

م ن۔اس ۔ ع ن۔

U-5283