پی ایم انڈیا
نئی دہلی،11۔اپریل ۔آج ہم بیسویں صدی کے ایک عظیم سلسلہ واقعات کی تقریب کے مبارک آغاز کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں ۔ 100 برس پہلے وہ آج کا ہی دن تھا جب گاندھی جی پٹنہ پہنچے تھے ، جہاں سے انہوں نے اپنے چمپارن کے سفر کا آغاز کیا تھا ۔ چمپارن کی جس دھرتی کو مہاتما بدھ کی تعلیمات کا آشیر واد ملا تھا وہ دھرتی سیتا ماتا کے والد جنک کی ریاست کا حصہ رہی تھی ، جہاں کے کسا ن انتہائی شدید نامساعد حالات سے دوچار تھے۔ گاندھی جی نے نہ صرف چمپارن کے کسانوں اوراستحصال زدہ طبقو ں کوراستہ دکھایا بلکہ پورے ملک کو یہ احساس بھی کرادیا کہ پُرامن ستیہ گرہ کی طاقت کیا ہوتی ہے۔
دوستو!
ہمارے ملک کی تاریخ محض کچھ افراد اور کچھ کنبوںمیں محدود نہیں رہی ہے ۔ ہمارے ملک کی تاریخ ایک ایسی کشادہ اور عظیم اور وسیع تاریخ ہے جو نئی نئی شکلوں اور حوالوںمیں بار بار دہرائی جاتی ہے ، جوہمیں اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنے ملک کی قابل فخر تہذیبی روایات کو پہچانیں ۔ تاریخ کے کچھ اوراق ایسے بھی ہوتے ہیں جو باربار اپنے لمس سے آپ کو نیا بنادیتے ہیں ، اسے پارس کا لمس کہتے ہیں ۔ یہ چمپارن کا ستیہ گرہ ایسا پی پارس ہے ۔ اس لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ایسے تاریخی مواقع کو جانیں اور انہیں جینے کی کوشش کریں ۔
دوستو!
1917 میں جب گاندھی جی چمپارن گئے توان کا ارادہ طویل مدت تک وہاں رکنے کا نہیں تھا ۔ انہیں چمپارن کے حالات سے زیادہ واقفیت بھی نہیں تھی لیکن جب وہ چمپارن پہنچے تو انہیں وہاں مہینوں قیام کے دوران موہن داس کرم چند گاندھی کومہاتما گاندھی بنادیا۔ چمپارن پہنچنے سے پہلے وہ ستیہ گرہ کی طاقت سے خود واقف تھے لیکن انہیں معلوم تھا کہ صرف ان کے ستیہ گرہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے ۔ وہ ملک کے عام لوگوں کوستیہ گرہ کی طاقت کا احساس کرانا چاہتے تھے ، اسلئے جب مجسٹریٹ نے انہیں چمپارن سے جانے کا حکم دیا تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس حکم کوماننے سے انکار توہین عدالت کی غرض سے نہیں کررہے ہیں بلکہ اپنے داخل کی آواز اور اپن وجود کے وقار کے لئے کررہے ہیں ۔ پوری انگریزی سرکار گاندھی جی کے اس فیصلے سے پسپا ہوگئی تھی ۔ گاندھی جی نے کہا تھا کہ وہ جیل جانے کے لئے تیار ہیں ۔ انگریزوں نے یہ بات خواب وخیال میں بھی نہیں سوچی تھی لیکن لوگ دیکھ رہے تھے کہ جنوبی افریقہ سے واپس آنے والا ایک بیرسٹر یہاں چمپارن میں آکر کس طرح جیل جانے کے لئے تیار ہوگیا ۔
بھائیوبہنو!
گاندھی جی بنیادی طور سے صفائی کے علمبردار تھے ۔وہ کہتے تھے صفائی آزادی سے کہیں زیادہ اہم ہے ۔وہ یہ دیکھ کر پریشان ہوجاتے تھے کہ گاؤں میں لوگ لاعلمی اور غفلت شعاری کے سبب گندگی کے حالات میں زندگی گزارتے ہیں ۔ 1917میں ہی ایک تقریب کے دوران گاندھی جی نے کہا تھا :’’ جب تک ہم اپنے گاؤں اورشہروں کے حالات میں بہتری پیدا نہیں کرتے ، اپنے آپ کونہیں بدلتے اور بری عادتوں سے نجات حاصل نہیں کرلیتے نیز بہتر بیت الخلأ تعمیر نہیں کرالیتے ہمارے لئے سوراج کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی ۔
ایک طرح سے دیکھا جائے تو چمپارن کو صفائی تحریک کا بنیادی مقام بھی مانا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے صفائی کو گاندھی نواز طریق زندگی کا جزو لاینفک بنادیا ۔ ان کا خواب تھا سبھی کے لئے صفائی ۔ اگر ہم باریکی سے دیکھیں تومعلوم ہوگا کہ چمپارن میں گاندھی جی نے جو کچھ کیا اس سے ملک وقوم کو پانچ الگ الگ امرت حاصل ہوئے ۔یہ پانچوں امرت آج بھی ملک کے لئے انتہائی اہم ہیں ۔ ان میں سے پہلا امرت ہے لوگوں کو ستیہ گرہ کی طاقت سے واقف کرانا ،دوسرا امرت ہے لوگوںکو عوامی طاقت سے واقف کرانا ، تیسرا امرت ہے صفائی اور تعلیم سے عوام الناس میں نئی بیداری پیدا کرنا ، چوتھا امرت ہے خواتین کے حالات میں بہتری پیدا کرنا اورپانچواں امرت ہے اپنے ہاتھ سے تیار کئے گئے کپڑے پہننا ۔ یہی پانچوںامرت چمپارن کی تحریک کے بنیادی عناصر ہیں۔
ساتھیو !
ستیہ گرہ نے ہمیں گاندھی جی قیادت میں آزادی دلائی ۔ لیکن آزادی کے بعد گاندھی جی کا صاف ستھرے ہندوستان کا خیال ادھورا ہی رہ گیا ۔ آج سات دہائیوں بعد بھی ہم اس برائی سے نجات حاصل نہیں کرسکے ۔ اس لئے جب میں نے 2014 میں لال قلعہ کی فصیل سے اپنی تقریر میں ہر گھر میں بیت الخلأ تعمیر کرانے کی بات کہی تو لو گ حیرا ن رہ گئے تھے ۔
دوستو!
سؤچھ بھارت مشن باپوکے ادھورے خواب کو پورا کرنے کی مہم میں یہ خواب 100 برسوں سے ادھورا ہے اور ہمیں مل کر اسے پورا کرنا ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ آج سؤچھ بھارت مشن کےذریعہ ملک کے لوگ باپوکےسپنے کوپورا کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔ لیکن اب سؤچھ بھارت مہم ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے ۔ پچھلے ڈھائی برس کے دوران ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد گاؤں اور 130 اضلاع اپنے آپ کو کھلے میں عجابت کی لعنت سے نجات دلا چکے ہیں ۔ اب ریاستی سرکاروں میں بھی ایک مقابلہ شروع ہوگیا ہے کہ کو ن سی ریات سب سے پہلے اپنے آپ کوکھلے میں عجابت کی لعنت سے آزاد کرانے میں کامیابی حاصل کرتی ہے ۔
آج حالات یہ ہیں کہ سکم ، ہماچل پردیش اورکیرل پوری طرح کھلے میں عجابت کی لعنت سے پاک ہوگیا ہے ۔ گجرات ، ہریانہ ، اتراکھنڈ اور کچھ دیگر ریاستیں بھی خود کوکھلے میں عجابت سے پاک کرنے کی لعنت سے نجات دلانے میں مصروف ہیں ۔ گنگا کے ساحل پرواقع مواضعات کو ترجیحی بنیاد پر کھلے میں عجابت سے نجات دلانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ اتراکھنڈ ،اترپردیش ، بہار ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال سمیت جن پانچ ریاستوں سے ہوکر گنگا کے کنارے کے 75 فیصد مواضعات نے خود کو کھلے میں عجابت کرنے کی لعنت سے آزاد کرلیا ہے ۔
بھائیو بہنو !
آج سبھی سرکاری اسکولوںمیں لڑکوںاور لڑکیوں کے لئے الگ الگ بیت الخلا ٔ موجود ہیں ۔ اب بچوں کے تعلیمی نصاب میں صفائی سے جڑے باب شامل کئے جارہے ہیں تاکہ انہیں شروع سے ہی اس کے فائدے اورنقصانات کے بارے میں علم رہے اور وہ صفائی ستھرائی کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں ۔
دوستو !
سؤچھ بھارت مشن نے ہی ہمیں کاریانجلی کا ایک نیا منتر دیا ہے اور یہ منتر ہے بے کارکوڑے کچڑے سے دولت بنانا ۔ گھروں سے جو گندگی نکلتی ہے ، بلڈنگ بنانے کے دوران جوکوڑا نکلتا ہے وہ بھی کمائی کا ایک ذریعہ ہوسکتا ہے ۔ اس سے بجلی بنائی جاسکتی ہے ۔ کھاد بنائی جاسکتی ہے اور اسے دوبارہ تیار کرکے تعمیراتی کاموں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ اسی لئے کوڑے کچڑےسے دولت کے منتر پر زوردیا جارہا ہے ۔ سرکار کے الگ الگ محکمے بھی صفائی ستھرائی کوآگے بڑھانے کے لئے عوام کی سہولت کو پیش نظر رکھتے ہوئے نئے نئے اقدامات کررہے ہیں ۔ ان میں ٹکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے ۔
ابھی حال ہی میں پٹرولیم کی وزارت نے سؤچھتا ایٹ دی ریٹ آف پٹرول پمپ کے نام سے ایک موبائل ایپ شروع کیا ہے اگر پٹرول پمپ پر بنے بیت الخلا میں گندگی ہے ،وہاںصفائی نہیں ہے تواس کی شکایت فوری طور سے اس ایپ کے ذریعہ کی جاسکتی ہے ۔ ملک کے تقریباََ 55 ہزار پٹرول پمپوں پر یہ سہولت دستیاب ہے ۔
اسی سلسلے میں دلی میں ایک راشٹریہ سؤچھتا کیمپ کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے ۔ یہ کیندر صفائی ستھرائی کی مہم سےتمام معلومات اور جدید تکنیکیں لوگوں تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوگا ۔
دوستو!
سرکارسے لے کر گاؤں تک مختلف سطحوں تک صفائی ستھرائی مہم ملک بھر میں جاری ہے ۔ یہ اپنے آپ میں انتہائی غیرمعمولی بات ہے۔ اب لوگوں کی سوچ میں یہ بات گھر بناتی جارہ ہے کہ اب گندگی نہیں پھیلانی ہے ۔ بچے بڑوں کوٹوک رہے ہیں ،شکایتیں کررہے ہیں اس لئے صفائی ستھرائی کے عہد کی مہم کوآگے بڑھانے کے لئے شکایت کے ساتھ ایک بات یہ بھی تو سامنے آرہی ہے کہ ہمیں گندگی نہیں کرنی ہے ۔ اپنے آس پاس ، گھر ،دفتر ،سڑک اور شہر کو صاف ستھرا رکھنا ہے ۔
دوستو !
گاندھی جی صرف نظام میں تبدیلی ہی نہیں چاہتے تھے بلکہ قدروں میں بھی تبدیلی چاہتے تھے ۔ انہوں نے اپنی سوانح حیات میں لکھا ہے : ’’ میں چاہتا ہوں کہ ہندوستان اس بات کو پہچان لے کہ وہ ایک محض ایک جسم ہی نہیں بلکہ ایک جاوید روح ہے ، جو ہرجسمانی کمزوری سے بالاتر ہوسکتی ہے اور ساری دنیا کی مشترکہ جسمانی طاقت کو چیلنج کر سکتی ہے ۔
ہمیں ملک کی روح پو پہچاننا ہوگا ، اس سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا کہ تبدیلی آسکتی ہے ۔ یہ سوچ جتنی مضبوط ہوگی ، نئے ہندوستان کی بنیاد اتنی ہی مضبوط ہوگی ۔ ہمیں صفائی سے جڑے اپنے نشانے طے کرنے ہوں گے اور ان کے حصول کے لئے مسلسل کوششیں کرنی ہوں گی۔ کوئی وجہ نہیں کہ ہمارا ملک ایک گندے ملک کے طور پر قائم رہے ، کوئی وجہ نہیں کہ ہمارا ملک صاف ستھرا نہ ہوپائے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم صفائی کے عہد کی اس مہم کوپورا نہ کرپائیں ۔ ایک صاف ستھرے ،صحت مند اور خوشحال ہندوستان کا گاندھی جی کا خواب ہر ہندوستانی شہری کا خواب ہونا چاہئے ۔
میں سچائی پر زوردیتا ہوں ۔ میرے دیش واسیو ! 2019 میں جب گاندھی کے یوم پیدائش کے 150 سال پورے ہوں گے ، گاندھی جی جب ہندوستان واپس آئے تھے تو محض دوسال کے بعد 1917 میں موہن داس کرم چند گاندھی چمپارن میں مہاتما گاندھی بن گئے تھے ۔ باردولی کے ستیہ گرہ میں ولبھ بھائی پٹیل سردار پٹیل بن گئے تھے ۔پورا ملک ان کے پیچھے چل پڑا تھا ۔ ہمارے لئے چمپارن کا ستیہ گرہ آزادی کی تحریک کو ایک نئے طاقتور دھارے کا نقطہ آغاز کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج جب ہم اسکی سوویں یادگار منارہے ہیں تو صفائی پر اصرار کا ہمارا عہد بھی ستیہ گرہ سے صفائی ستھرائی پر زوردینے کی جانب سفر کررہا ہے ۔ ان دنوں آزادی کے لئے ستیہ گرہ ضروری تھا تو آج ملک کو گندگی سے نجات دلانے کے لئے صفائی ستھرائی پر زوردیا جانا ضروری ہے اور گندگی سے نجات کا مطلب ہے غریبوں کی فلاح ۔ اگر ہم واقعی غریبوںکی خدمت کرنا چاہتے ہیں ، ان کو بیماریوں سے بچانا چاہتے ہیں ، ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو گندگی سے نجات کے اس فارمولے کو لے کر آگے بڑھنا ہوگا۔
میں ایک بار پھر چمپارن ستیہ گرہ کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر پورے سال کو چمپارن ستیہ گرہ کی صدی کے طور پر منانے کی تمناکرتا ہوں ۔ سابرمتی آشرم کے 100 برس پورے ہونے جارہے ہیں ۔ یہی وہ آشرم ہے جہاں گاندھی جی تپسیا کی تھی اوراب 1915 کے گاندھی آج 2019 میں ہمارے سامنے ہوں گے ۔ یہ وقت کا ایک ایسا وقفہ ہے ، جسے ہم بیسویں صدی کے گاندھی کو اکیسویں صدی میں جدید روپ رنگ کے ساتھ جینے کے موقع کے طور پر تصور کرسکتے ہیں ۔ مجھے امید ہے کہ اسے نئی امیدوں کے ساتھ جینے کے ایک نئے موقع کی شکل میں لے کر اگر ہم آگے بڑھیں گے تو مجھے پورا یقین ہے کہ یہی گاندھی جی کو عملی خراج عقیدت ہوگا۔ خراج عقیدت ہم انہیں بہت پیش کرچکے ، انہیں خراج عقیدت ہم انہیں ضرور دیں گے لیکن اب ضرورت ہے انہیں عملی خراج عقیدت پیش کرنے کی ۔ ہمارا عہد ، ہماری محنت ، ان سپنوں کو عملی شکل دینے کے لئے ہے ۔ ہماری مسلسل یہ کوشش ہے کہ اس عملی خراج عقیدت کے ذریعہ باپو کے خوابوں کے بھارت کوہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں ۔ اسی جذبے کے ساتھ اس عظیم موقع پر ہمارے اہالیان وطن جی کر دکھائیں ۔ بس اسی مید کے ساتھ میں آپ سب کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں ۔‘‘
م ن ۔س ش۔ رم
U-1787
Through the Champaran Satyagraha, Mahatma Gandhi showed us what a 'Shantipoorna Satyagraha' can achieve: PM @narendramodi pic.twitter.com/pBDRrHFBJv
— PMO India (@PMOIndia) April 10, 2017
Essential for us to know more about movements like the Champaran Satyagraha: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) April 10, 2017
Along with Shradhanjali, we also have to dedicate Karyanjali to Mahatma Gandhi & the means to do that is Swachhagraha: PM @narendramodi pic.twitter.com/FSDeXKvxIt
— PMO India (@PMOIndia) April 10, 2017
Mahatma Gandhi attached more importance to cleanliness than freedom: PM @narendramodi pic.twitter.com/B62VsSJgbE
— PMO India (@PMOIndia) April 10, 2017
Champaran Satyagraha added new vigour to the freedom struggle of India: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) April 10, 2017
Swachh Bharat Mission is an effort to fulfil the dream of Mahatma Gandhi - of a clean India: PM @narendramodi pic.twitter.com/8BabyhHHY4
— PMO India (@PMOIndia) April 10, 2017
People are working towards creating a Swachh Bharat: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) April 10, 2017
The aim of Satyagraha was independence and the aim of Swachhagraha is to create a clean India. A clean India helps the poor the most: PM pic.twitter.com/9hP3kmZmY3
— PMO India (@PMOIndia) April 10, 2017