Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

سویڈن کے سرکاری دورے کے موقع پر وزیر اعظم کا پریس بیان

سویڈن کے سرکاری دورے کے موقع پر وزیر اعظم کا پریس بیان

سویڈن کے سرکاری دورے کے موقع پر وزیر اعظم کا پریس بیان

سویڈن کے سرکاری دورے کے موقع پر وزیر اعظم کا پریس بیان


عالی جناب وزیر اعظم  اسٹیفان لوین،،

میڈیا کے دوستو،

یہ میرا سویڈن کا پہلا سفر ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم کا سویڈن کا دورہ تقریباً تین دہائیوں کے عرصے کے بعد عمل میں آیا ہے۔ سویڈن میں ہمارے گرمجوشی سے مامور خیر مقدم اور اعزاز کے لئے میں وزیر اعظم لوین کا اور سویڈن کی حکومت کے تئیں دلی تشکر کا اظہار کرتا ہوں۔ میرے اس سفر میں وزیر اعظم لوین نے دیگر نورڈک ممالک کے ساتھ بھارت کی سربراہ ملاقات کا بھی اہتمام کیا ہے۔ اس کے لئے بھی میں قلبی اظہار تشکر کرتا ہوں۔ بھارت کے میک ان انڈیا مشن میں سویڈن شروع سے ہی مضبوط شراکت دار رہا ہے۔ 2016 میں ممبئی ہمارے میک ان انڈیا پروگرام میں وزیر اعظم لوین بذاتِ خود بڑے کاروباری وفد کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔ بھارت سے باہر میک ان انڈیا کا سب سے اہم پروگرام بھی پچھلے برس اکتوبر میں سویڈن میں منعقد کیا گیا تھا۔ ہمارے لئے یہ بہت ہی مسرت اور فخر کی بات ہے کہ بذاتِ خود وزیر اعظم جناب لوین اس میں شامل ہوئے تھے۔ میں مانتا ہوں کہ آج کی ہماری بات چیت میں سب سے اہم موضوع یہی تھا کہ بھارت کی ترقی سے ہموار ہو رہے مواقع میں سویڈن کس طرح بھارت کے ساتھ مفید شراکت داری کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہم نے ایک اختراعاتی شراکت داری اور مشترکہ منصوبۂ عمل پر اتفاق کیا ہے۔

Innovation, Investment, Start-ups, Manufacturing आदि हमारी साझेदारी के प्रमुख आयाम हैं। इनके साथ हम renewable energy, urban transport, waste management जैसे अनेक विषयों पर भी ध्यान दे रहे हैं, जो भारत के लोगों की quality of life से जुड़े विषय हैं। Tradeऔर Investment से जुड़े विषयों पर आज प्रधानमंत्री लवैन और मैं स्वीडन के प्रमुख CEOs के साथ मिल कर के भी चर्चा करेंगे।

हमारे द्विपक्षीय संबंधों का एक और मुख्य स्तंभ है हमारा रक्षा और सुरक्षा सहयोग। रक्षा क्षेत्र में स्वीडन बहुत लंबे समय से भारत का साझेदार रहा है। और मुझे विश्वास है कि भविष्य में भी इस क्षेत्र में, विशेष रूप से रक्षा उत्पादन में, हमारे सहयोग के लिए कई नए अवसर पैदा होने वाले हैं ।

हमने अपने सुरक्षा सहयोग, विशेष रूप से cyber security सहयोग, उसे और मजबूत करने का निर्णय लिया है। एक और बात जिस पर हम सहमत हैं, वह है कि हमारे संबंधों का महत्त्व क्षेत्रीय और वैश्विक पटल पर भी हो। अंतर्राष्ट्रीय मंच पर हमारा बहुत क़रीबी सहयोग है, और आगे भी जारी रहेगा।

आज हमने Europe और Asia में हो रहे developments के बारे में विस्तार से विचारों का आदान प्रदान किया। अंत में मैं एक बार फ़िर प्रधानमंत्री लवैन का ह्रदय से आभार प्रकट करना चाहूँगा।

आप सबका बहुत-बहुत धन्यवाद।