Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

انڈونیشیا میں ہندوستانی برادری کے اجتماع سے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا خطابانڈونیشیا میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ہندوستانی برادری میں جو تقریر کی تھی اس کا متن حسب ذیل ہے:

انڈونیشیا میں ہندوستانی برادری کے اجتماع سے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا خطابانڈونیشیا میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ہندوستانی برادری میں جو تقریر کی تھی اس کا متن حسب ذیل ہے:

انڈونیشیا میں ہندوستانی برادری کے اجتماع سے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا خطابانڈونیشیا میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ہندوستانی برادری میں جو تقریر کی تھی اس کا متن حسب ذیل ہے:


انڈونیشیا میں ہندوستانی زندگی جینے والے آپ سبھی بھائیوں کو میرا نمسکار۔

سلامت سورے، تمان ۔ تمان۔

آپا کابار؟ (آپ کیسے ہیں۔)

مجھے یہاں آکر بہت خوشی ہوئی ہے۔

میں انڈونیشیا کے عوام، آپ سبھی اور خاص طور سے صدر محترم جناب ویڈوڈو کا ممنون ہوں جنہوں نے رمضان کے اس ماہِ مقدس میں میرا خیرمقدم کیا۔ مجھے آج صبح انڈونیشیا کی ہمہ جہت زندگی کی جھلک دیکھنے کا بھی موقع ملا۔ مختلف قسم کے لباسوں میں مبلوس شہریوں اور بچوں نے جس طرح سے میرا استقبال کیا اس نے میرے دل کو چھو لیا۔

ساتھیو،

اب سے کچھ مہینے قبل ہم نے سبھی دس آسیان ممالک کے لیڈروں کے ساتھ ہندوستان کا جشن جمہوریت منایا۔ آسیان ممالک میں انڈونیشیا سب سے زیادہ آبادی والے ایک اہم رکن ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ میں صدرِ محترم جناب ویڈوڈو کا ممنون ہوں کہ انہوں نے ہمیں اپنی میزبانی کا شرف بخشا۔ یہ محض اتفاق ہی نہیں ہے کہ 1950 میں ہندوستان کے پہلے جشن جمہوریت میں بھی انڈونیشیا کے صدرِ مملکت نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی تھی۔

ساتھیو،

گذشتہ چار برسوں کے دوران سوا سو کروڑ ہندوستانیوں کے نمائندے کی حیثیت سے میں دنیا میں جہاں بھی گیا، میری کوشش رہی کہ آپ جیسے ان لاکھوں بھائیوں اور بہنوں سے ملوں جو ہند نژاد ہیں۔ اس دوران میری جتنی بھی گفتگو رہی اس میں مادرِ عزیز ہند کے لئے زبردست عقیدت اور احترام ہمیشہ موجود رہا۔ یہاں انڈونیشیا میں بھی میں اپنے سامنے اسی جذبے ک دیکھ رہا ہوں۔ آپ کی جتنی عقیدت انڈونیشیا سے ہے، اتنا ہی زبردست جذبہ اپنی جڑوں سے جڑنے کا ہے۔ آپ میں سے بیشتر لوگ انڈونیشیا کے شہری ہیں لیکن ان کے دلوں کے کسی گوشے میں کہیں ہندوستان بھی بسا ہوا ہے۔

ساتھیو،

ہمارا اور انڈونیشیا کا تہذیب و ثقافت کا رشتہ ہے اور یہاں انڈونیشیا میں آباد آپ سبھی ہمارے اسی رشتے کی مضبوط کڑی ہیں۔ آپ میں سے متعدد لوگ ایسے بھی ہیں جو یہاں چار پانچ نسلوں سے آباد ہیں۔ وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو گذشتہ دو تین دہائیوں کے دوران یہاں آئے ہیں۔ آج آپ میں سے کوئی کپڑے کے کاروبار سے جڑا ہوا ہے تو کوئی اسپورٹس کے سامان کا کاروبار کر رہا ہے۔ کوئی انجینئر ہے تو کوئی کنسلٹینٹ۔ کوئی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہے تو کوئی بینکر اور کوئی روحانی پیشوا۔ 1962 میں ہند نژاد کھلاڑی جناب گرنام سنگھ نے جکارتہ ایشین گیمز میں انڈونیشیا کے لئے جیت کا میڈل حاصل کیا تھا۔ مجھے اس بات پر نہ صرف ازحد خوشی بلکہ فخر بھی ہے کہ اپنی ریاضت اور اپنی سخت محنت سے آپ سبھی نے نہ صرف یہ کہ یہاں کی فضا سے مطابقت پیدا کی بلکہ آپ آج انڈونیشیا کی ترقی میں بھی بہت بڑا تعاون دے رہے ہیں۔

ساتھیو،

ایک دور وہ بھی تھا جب آپ کے اجداد کو مختلف حالات کی وجہ سے ہندوستان کو خیرباد کہنا پڑا تھا۔ اور آج ایک دور وہ بھی ہے جب دنیا بھر میں ہندوستان کی مضبوط شناخت قائم ہوئی ہے۔ پچھلے چار برسوں کے دوران ہندوستان نے عالمی معیشت کو آگے بڑھانے کا کام کیا ہے۔

آج ہندوستان سب سے زیادہ کشادہ معشتوں میں شامل ہے۔ ہندوستان میں ریکارڈ سطح پر سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔

ہندوستان کا غیر ملکی زر مبادلہ 300 ارب ڈالر سے بڑھ کر 400 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

گرین فیلڈ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی دعوت دینے والا ہندوستان دنیا کا صفِ اول کا ملک بن گیا ہے۔

ایف ڈی آئی کنفیڈینس انڈیکس میں ہندوستان دنیا کے دو ابھرتے ہوئے بازاروں میں سے ایک ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کے گلوبل کامپٹیٹونس انڈیکس میں ہندوستان کی رینکنگ 71 سے بہتر ہو کر 40 ہو گئی ہے۔

ایز آف ڈوئنگ بزنس کی رینکنگ میں ہندوستان 142 سے سوویں نمبر پر آگیا ہے۔

لاجسٹک پرفارمنس انڈیکس میں 19 نمبروں کی بہتری آئی ہے۔

گلوبل انوویشن انڈیکس میں ہندوستان کی رینکنگ میں 21 نمبروں کا اچھال ہوا ہے۔

انک ٹاڈ کی رپورٹ میں ہندوستان کو مستقبل میں دنیا کی تین اعلیٰ ترین معیشتوں میں شامل کیا گیا ہے۔

پچھلے 14 برسوں کے دوران، پہلی بار موڈیز نے ہندوستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں سدھار کیا ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

جہاں ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے وہیں انڈونیشیا میں بھی جمہوریت کی جڑی بہت مضبوط ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح سوا سو کروڑ ہندوستانی شہریوں نے مجھ جیسے عام شہریوں کو پردھان سیوک بننے کا موقع دیا، اسی طرح انڈونیشیا کی عوام نے بھی جناب ویڈوڈو کو اپنا صدرِ مملکت منتخب کیا۔ ساتھیوں، ہندوستان اور انڈونیشیا اپنی سماجی اور تہذیبی گوناں گونی، تنوع اور خیرسگالی کی علامت ہیں۔ یہاں مختلف زبانیں ہیں، سیکڑوں طبقے آباد ہیں، تو ہندوستان میں بھی کوس کوس کے فاصلے پر بدلے پانی اور چار کوس کے فاصلے پر بدلی بولی کی کہاوت مشہور ہے۔ میں نے کہیں پڑھا ہے کہ انڈونیشیا کے جزیرۂ بورنیو کے سترہ سو سال قدیم آثار قدیمہ  موجود ہیں جو ہندوستان کے ساتھ مضبوط رشتوں کے ثبوت ہیں۔ ابھی تین چار دن قبل ہی میں اڈیشہ کے شہر کٹک میں تھا۔ وہاں جس میدان میں عظیم الشان عوامی جلسے کا اہتمام کیا گیا اس کا نام تھا بالی جاترا۔ بالی جاترا کا کیا مطلب ہے؟ یعنی انڈونیشیا کے جزیرۂ بالی کا سفر۔ سینکڑوں برس قبل اڈیشہ کے عظیم جہاز راں کٹک سے نکل کر جاوا، سماترا اور بورنیو تک آتے تھے۔ آج بھی ہر سال اکتوبر ۔ نومبر کے مہینوں میں اڈیشہ میں بالی جاترا کا میلہ بہت ہی شان اور بہت ہی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ انڈونیشیا کا گجرات سے بھی قدیمی رشتہ رہا ہے۔ جب میں گجرات کا وزیر اعلیٰ تھا تو ایک بار مجھ سے کسی نے کہا تھا کہ بارہویں صدی کے آس پاس کچھ میں رہنے والے جو مسلمان نکلے ان میں سے بیشتر لوگ یہاں انڈونیشیا آکر آباد ہو گئے تھے۔ ان لوگوں کے ساتھ گجراتی زبان، گجراتی خور و نوش بھی انڈونیشیا آ گئ تھی۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ انڈونیشیا کے متعدد مسلم کنبوں میں بوبور گجرات اور گجراتی کھچڑ بنائی جاتی ہے۔ آج بھی متعدد ایسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو ہندوستان اور انڈونیشیا کے مراسم کی قدیمی قربت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ مثلاً بھائی چارے کے لئے سہودر یعنی رفاقت، موت کے لئے ماٹی، رنگوں یا کلرس کے لئے ورن، گروپ کے لئے سموہ یا سموع، اپواس اور پواس، بہاسا اور بھاشا، روپیا اور روپیہ جیسے الفاظ اور اصطلاحیں مستعمل ہیں۔ ایسے الفاظ جمع کیے جائیں تو پوری ڈکشنری تیار ہو جائے گی۔ مماثلتیں فطری ہیں۔ ہندوستان اور انڈونیشیا کے درمیان صرف 90 نوٹیکل مائلس کا فاصلہ ہے۔ یعنی ہم ایک دوسرے سے 90 نوٹیکل مائلس دور نہیں بلکہ 90 نوٹیکل میل کے قریبی پڑوسی ہیں۔

ساتھیوں،

مجھے بتایا گیا ہے کہ ہندوستان انڈونیشیا کے گہرے تہذیبی رشتوں کو یہاں مختلف طریقوں سے منایا جاتا ہے۔ یہاں انڈونیشیا ۔ تمل سنگم کی ثقافتی تقریبات کو بھی ایک اچھی پہچان ملی ہے۔ پچھلے سال جکارتہ و دیگر مقامات پر بین الاقوامی یوگا دِوَس کے کامیاب پروگرام اہتمام کیے گئے۔ مجھے یہ معلومات بھی ملی ہیں کہ بالی میں مشہور ہندوستانی ٹریڈیشنل میڈیسن کے سینٹر اور پنچ کرم آیوروید سینٹروں کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حال کے برسوں میں ہالسٹک ہیلتھ کیئر کے تئیں دنیا بھر میں دلسچپی اور کشش پیدا ہوئی ہے۔ آپ کے لئے بھی ہندوستان کے روایتی علاج کے  طریقوں کا سفیر بننے کا یہ بہترین موقع ہے۔

ساتھیوں،

ویسے یہ بھی ایک اتفاق ہی ہے کہ ابھی کچھ یہ دن پہلے مجھے نیپال کے جنک پور میں ماں جانکی کا آشیرواد حاصل کرنے کا موقع ملا تھا اور اب میں یہاں انڈونیشیا میں ہوں جہاں رام کتھا کو ایک نئی سرزمین اور نئے تناظر ملے۔ یہ اپنے آپ میں انڈونیشیا کی خصوصیت ہی ہے کہ یہاں رامائن اسٹیج کرنے والے فنکار مسلمان ہیں۔ آج کچھ دیر قبل صدرِ محترم جناب ویڈوڈو اور میں نے پتنگوں کی ایک نمائش دیکھی۔ یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ رامائن اور مہابھارت جیسی کہانیوں اور روایات کو انڈونیشیا کی عوامی زندگی میں آج بھی خصوصی مقام حاصل ہے۔ عقیدت اور تہذیبیں کس طرح پرورش پانے پر پروان چڑھتی ہیں، اس کی یہ بہت بڑی مثال ہے۔

ساتھیوں

پچھلی صدی میں ہمارے ان دونوں ملکوں کو جب آزادی حاصل ہوئی تھی، ہم اسی وقت سے عالمی اور علاقائی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ گذشتہ چار برسوں کے دوران ہمارے تعلقات میں مزید گہرائی پیدا ہوئی ہے۔ آج ہند انڈونیشیا تعلقات نئی بلندیوں پر ہیں۔  سفارتکار ہوں اسٹریٹجک یا معاشی تعاون ہندوستان اور انڈونیشیا مل کر چیلنجوں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور مواقع کا استعمال کر رہے ہیں۔ آج ہندوستان اور انڈونیشیا نے اپنی حکمتی شراکت داری کو ایک الگ سطح پر لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدرِ مملکت جناب ویڈوڈو اور میں نے آج اسے ایک قدم اور آگے بڑھا کر کمپریہینسو اسٹریٹجک پارٹنر شپ کا درجہ دیا ہے۔ ہماری افواج کے درمیان مشترکہ مشقیں ہو رہی ہیں۔ سلامتی سے جڑے معاملوں پر بھی ہمارے درمیان تال میل اور ہم آہنگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آج انڈونیشیا آسیان ممالک میں ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ آج ہماری تجارت اور کاروبار 18 ارب ڈالر سے زائد تک پہنچ چکا ہے۔

ساتھیوں،

ہندوستان اور انڈونیشیا کے مضبوط تعلقات کی ایک مضبوط بنیاد ہیں ہمارے لوگ، یعنی آپ سب۔ ہمارے وہاں ایک بہت بڑی آبادی ہے جو 35 سے کم عمر کی ہے۔ گذشتہ چار برس کے دوران ان کی توانائی کو صحیح سمت اور ترغیب دینے کی کوششیں ہماری سرکار نے کی ہیں۔ اسی لئے میری سرکار کے کام کرنے کی رفتار بہت تیز ہے اور اسکیل بہت ہی وسیع۔ ملک کے لوگوں کی امیدوں اور آرزؤں کے مطابق ہم نے گڈ گورنینس پر زور دیا ہے۔ منیمم گورنمنٹ میکسیمم گورنینس پر زور دیا ہے۔ ہم سٹیزن فرسٹ کے اصول کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ سرکار بہت ہی زمینی سطح پر جا کر بڑے انتظامی، مالیاتی اور قانونی اقدامات کر رہی ہے۔ ہماری سرکار کے لئے کرپشن فری، سٹیزن سینٹرک اور ڈیولیپمنٹ فرینڈلی ایکو سسٹم اول ترین ترجیحات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اب ہندوستان میں پاسپورٹ کے لئے مہینوں یا ہفتوں کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ دو یا تین دنوں میں پاسپورٹ لوگوں کے گھر پہنچ جاتا ہے۔ ہندوستان میں انڈونیشیا سمیت 163 ملکوں کو ای۔ ویزا کی سہولت دی ہے اور ای۔ ویزا پر ہندوستان آنے والے سیاحوں کی تعداد میں تقریباً 150 کا اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ برسوں کے دوران ہندوستان میں 1400 سے زائد پرانے قوانین ختم کیے جا چکے ہیں۔ گڈس اینڈ سروسز ٹیکس ۔ جی ایس ٹی نے ہندوستان کو ایک بہتر ٹیکس کمپلائنس سسٹم اور بہتر ریونیو سسٹم دیا ہے۔

ساتھیوں،

ہم ملک کے شہریوں کے لئے ایز آف لیونگ اور ملک کے لئے ماڈرن انفراسٹرکچر کے منفرد اور شاندار کمبینیش پر کام کر رہے ہیں۔ ہم ہندوستان میں ایک ایسا سسٹم تیار کر رہے ہیں جو نہ صرف شفاف ہو، بلکہ حساس بھی ہو۔

ریلوی لائنوں کو براڈ گیج میں بدلنے کی رفتار دوگنی ہوگئی ہے۔

ریل لائنوں کی برق کاری تین گنی رفتار سے ہو رہی ہے۔

مواضعات میں سڑکیں میری سرکار دوگنی رفتار سے تعمیر کر رہی ہے۔

پہلے جس رفتار سے پاور ٹرانسمشن لائن بچھائی جا رہی تھیں آج یہی کام اس سے دوگنی رفتار سے کیا جا رہا ہے۔

ہم نے پچھلی 59 گاؤں پنچایت کے مقابلے ایک لاکھ دس ہزار سے زائد گاؤں پنچایتوں کو آپٹک فائبر سے جوڑ دیا ہے ۔

پچھلے محض 400 سرکاری منصوبوں کے مقابلے اب 400 سے زائد منصوبوں کا پیسہ لوگوں کو بینک کھاتوں میں مل رہا ہے۔

یہاں تک کہ پہلے جو ایل ای ڈی بلب ساڑھے تین سو روپئے میں ملا کرتا تھا، وہ بھی اب 40-50 روپئے میں ملنے لگا ہے۔

پہلے جہاں ہندوستان میں صرف دو موبائل مینوفیکچرنگ کمپنیاں ہوتی تھیں، وہیں اب ان کی تعداد بڑھ کر 120 ہو گئی ہے۔ ہندوستان میں بن رہے موبائل نے امپورٹ کرنے کا خرچ بھی کم کر کے آدھا کر دیا ہے۔

ہندوستان میں آج بڑی تعداد میں نئے انجینئرنگ کالج کھل رہے ہیں۔ میجنمنٹ کالج اور میڈیکل کالج کھل رہے ہیں۔ محض پچھلے ڈھائی سال کے دوران ہندوستان میں نو ہزار سے زیادہ اسٹارٹ اپ رجسٹر کیے گئے ہیں۔ دنیا کا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم ہندوستان میں بنایا گیا ہے۔ آج دنیا بھر میں ہندوستان کے پاسپورٹ کی طاقت بڑھی ہے۔ ہندوستان شمسی توانائی کو انسانی فضا کے لئے زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کے لئے انٹرنیشنل سولر الائنس کی قیادت کرنے والے ملکوں میں سے ایک ہے۔ ہماری سرکار ہندوستان کو اکیسویں صدی کی ضرورتوں، امیدوں اور آرزؤں کے مطابق تیار کرنے کا کام کر رہی ہے۔ آج ہندوستان نیو انڈیا کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ہمیں ہندوستان کی  75 سالہ یومِ آزادی کے موقع پر 2022 تک نیو انڈیا تیار کرنا ہے۔

ساتھیوں،

یہاں انڈونیشیا میں آپ سب سکھ دکھ میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی روایت اور وسودیو کٹمبھ کم کے اصولوں پر قائم ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ حال کے دنوں میں بالی میں جو آتش فشاں کا حادثہ ہوا۔ اس میں پھنسے ہزاروں ہندوستانی سیاحوں کو بالی اور سرابیا کے لوگوں نے نہ صرف بچایا بلکہ انہیں ان کے ملک بھیجنے کا انتظام بھی کیا۔ اس انسانی سلوک کے لئے میں آپ کے تئیں دل سے ممنونیت کا اظہار کرتا ہوں اور آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انسانی قدروں کی یہی سرپرستی ہندوستان کی وراثت کے جزو لاینفک کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہم ان قدروں کو ہندوستان میں بھی اسی شان کے ساتھ جی رہے ہیں۔ خواہ نیپال میں زلزلہ ہو یا سری لنکا میں سیلاب کی ناگہانی آفت، ہندوستان کی پہچان مصیبت کے وقت میں سب سے پہلے موجود رہنے والے ملک کے طورپر بن رہی ہے۔ مصیبت میں پھنسے 90,000 ہندوستانیوں کو این ڈی اے سرکار کے دوران محفوظ طریقے سے واپس لایا گیا ہے۔

ساتھیوں،

ہندوستان اور انڈونیشیا صرف نام سے ہی ملتے جلتے نہیں ہیں۔ یہ تال میل تک یعنی رہائم کا ہی نہیں بلکہ رِدم یعنی تال کا بھی ہے۔ یہ تال میل ہماری ثقافت کا ہے، ہماری روایات کا ہے، ہماری عقیدت کا ہے، ہمارے نظام کا ہے ، ہمارے عوامی رابطوں کا اور ہماری جمہوریت کا ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

ہندوستان اور انڈونیشیا ثقافتی رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے تعلقات انتہائی قدیمی ہیں۔ لیکن آج ہم سبھی کو یہ سوال بھی درپیش ہے کہ کیا یہ آثارِ قدیمہ کا ہی موضوع رہے گا۔ ہماری آئندہ نسلیں، ہمارے پیوپل ٹو پیوپل کنٹیکٹس اور کس طرح آگے بڑھے مضبوط ہو، زندہ رہے، اس پر بھی ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ آپ میں متعدد لوگ ایسے بھی ہوں گے جو کبھی ہندوستان نہیں گئے۔ متعدد لوگ ایسے بھی ہوں گے جن کا کافی سالوں سے وطنِ عزیز کا سفر کرنا نہیں ہو سکا ہے۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ ایک بار اپنے دوستوں کے ساتھ ہندوستان ضرور آئیں۔ وہاں آپ یہ احساس کر سکیں گے کہ ہندوستان میں کس طرح کی تبدیلیاں آر ہی ہیں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ انڈونیشیا کے شہریوں کو تیس دن کے لئے ہندوستان کے سفر کے مفت ویزے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ کچھ مہینوں میں ایک بڑا موقع آپ کا منتظر ہے۔ اگلے سال جنوری میں اترپردیش کے پریاگ میں کمبھ کا میلہ ہونے والا ہے۔ عقیدت کا یہ میلہ آپ کے لئے نیا تجربہ ہوگا۔ یہاں آپ کو اپنے ہندوستان کی مالامال روحانیت کے مشاہدے کا موقع حاصل ہوگا۔ اسی وقت آپ کو نیو انڈیا کی جھلک دکھائی دیگی۔ میں آپ کو نیو انڈیا میں پیدا ہونے والے مواقع سے جڑنے کی دعوت دیتا ہوں۔ آپ آیئے اور بدلے ماحول کا فائدہ بھی اٹھایئے۔ اور تبدیلی میں اپنا تعاون بھی دیجئے۔

آپ نے یہاں مجھے جو عزت و احترام دیا ہے، اس کے لئے صرف ایک بار آپ کا، انڈونیشیا کی سرکار کا اور یہاں کی انتظامیہ کا میں بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔

یہاں آنے کے لئے آپ سب کا بہت بہت شکریہ

سلامت رمادان!