پی ایم انڈیا
نئی دہلی،27/جون۔وزیراعظم جناب نریندر مودی کی سربراہی میں، ہندوستان اور انڈونیشیاء کے درمیان ریلویز کے شعبے میں تکنیکی تعاون معاہدے پر ہوئے سمجھوتے( ایم او یو) کے بارے میں آگاہ کرایا۔ اس مفاہمت نامے پر 29مئی 2018 کو دستخط کئے گئے تھے۔
اس مفاہمت نامے کے تحت جن کلیدی میدانوں میں توجہ مرکوز کی جائے گی اور تعاون کا فریم ورک فراہم کیاجائے گا ، ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
(اے)معلومات، ٹیکنالوجی، ہنر مندی اور صلاحیت کے فروغ سمیت ادارہ جاتی تعاون کا تبادلہ
(بی)ریلوے رولنگ اسٹاک کی تجدید کاری اور ریلویز میں سگنلنگ اور مواصلاتی نظام کی جدید کاری
(سی)ریلوے کے آپریشنز، انتظامیہ اور قواعد وضوابط کی جدیدیت۔
(ڈی) بین۔ ماڈل ٹرانسپورٹ، لوجسٹکس پارکس اور مال برداری ٹرمنلز کافروغ۔
(ای)مقررہ (فکسڈ) بنیادی ڈھانچہ کی جس میں ٹریکس، پل، سرنگیں، اوور ہیڈ برق کاری اور بجلی کی فراہمی نظام شامل ہیں، تعمیر اور رکھ رکھاؤ کے لئے ٹیکنالوجی کا تبادلہ ۔
(ایف)تعاون کے دیگر میدان جو دونوں اطراف سے فیصلہ کئے جاسکتے ہیں۔
پس منظر:
ریلویز کی وزارت نے مختلف بیرونی حکومتوں اور قومی ریلویز کے ساتھ ریلوے کے شعبے میں تکنیکی تعاون کے لئے مفاہمت ناموں پر دستخط کئے ہیں۔ جن میدانوں میں تعاون کی شناخت کی گئی ہے ان میں، تیز رفتار کاری ڈورس، موجودہ روٹوں پر رفتار کو بڑھانا، عالمی پیمانے کے اسٹیشنوں کو فروغ، ہیوی ہال آپریشنز اور ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی تجدید کاری وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تعاون یا امداد ریلوے کی ٹیکنالوجی اور ا ٓپریشنز کے میدانوں میں فروغ کے لئے معلومات کے تبادلے کے ذریعہ حاصل کی جائے گی۔ نیز اس کے تحت معلومات کا مشترک کرنا، تکنیکی دورے، تربیتیں اور سیمینار باہمی مفاد پر ان میدانوں میں سیمینار اور ورکشاپس کا انعقاد شامل ہے۔
********
(م ن۔ش ت۔ رض)
U-3323