Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

کابینہ نے ساحلی ریگو لیشن زون ( سی آر زیڈ ) مشتہری 2018 کو منظوری دی


 

نئی دہلی، 28دسمبر / مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں   ساحلی ریگو لیشن زون ( سی آر زیڈ ) مشتہری 2018 کو اپنی منظوری دے دی ہے ۔ اس پر  پچھلی مرتبہ  2011 ء میں نظر ثانی کی گئی تھی اور بعض شقوں میں  وقتاً فوقتاً چند ترامیم بھی کی گئی تھیں ۔ یہ منظوری  ماحولیات ، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کی  وزارت کو  موصول ہونے والی  متعدد نمائندگیوں کے پس منظر میں دی گئی ہے ۔ یہ نمائندگیاں مختلف ساحلی ریاستوں  / مرکز کے زیر انتظام علاقوں ، دیگر شرکائے کار کی جانب سے موصول ہوئی تھیں ، جن میں کہا گیا تھا کہ سی آر زیڈ مشتہری 2011 کی تجاویز پر  جامع طریقے سے  نظرِ ثانی درکار ہے ۔ خاص طور پر  انسانی وسائل کے انتظام  اور  بحری و ساحلی ایکو نظام   ،  ساحلی علاقوں کی ترقی ، ایکو پر مبنی سیاحت ،  روزی روٹی کے متبادل اور ساحلی علاقوں  میں بسنے والی برادریوں وغیرہ کی ہمہ گیر ترقی کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے ۔

فوائد

          مذکورہ مجوزہ سی آر زیڈ نوٹفکیشن 2018 ساحلی خطے میں سرگرمیوں کو  بڑھاوا دے گا ، جس کے ذریعے  اقتصادی نمو  کو فروغ ہو گا  اور ساحلی خطے میں  تحفظ کے اصولوں کا بھی احترام کیا جا سکے گا ۔ اس کے ذریعے نہ صرف یہ کہ  روز گار کے مواقع کو فروغ ہو گا  بلکہ  بھارت کی معیشت  کی قدر و قیمت میں بھی اضافہ ہو گا اور باشندگان کا معیارِ حیات بھی بہتر ہو گا ۔ توقع کی جاتی ہے کہ مذکورہ نیا نوٹفکیشن ساحلی علاقوں میں  ہونے والے نقصانات وغیرہ کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں درکار ضروریات کی تکمیل بھی کرے گا ۔

          مذکورہ مشتہری کے اہم نکات میں  سی آر زیڈ علاقوں میں  موجودہ قواعد و ضوابط کے مطابق ایف ایس آئی سرگرمیوں کی اجازت ،  گھنی آبادی والے ساحلی علاقوں میں روز گار کو فروغ دینے  کے اقدامات  ،  سیاحت کے لئے  بنیادی ڈھانچے کے سلسلے میں  بنیادی سہولتوں کو فروغ دینا ، سی آر زیڈ کی  منظوریوں کو منظم بنانا ،  تمام جزائر کے لئے  20 میٹر کا مخصوص نو ڈیولپمنٹ زون فراہم کرنا ،  معیشتِ حیوانات کے لحاظ سے حساس تمام علاقوں کو خصوصی اہمیت دینا ،  کثافت کی روک تھام پر خاص توجہ ، دفاعی اور کلیدی پروجیکٹوں کو ضروری ترجیح اور اہمیت دینا جیسی باتیں شامل ہیں ۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

U. No. 6509