پی ایم انڈیا
نئی دہلی،10 نومبر / ایودھیا کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو وزیراعظم نے تاریخی قرار دیتے ہوئے اس کی ستائش کی اور آج کے دن کو ہندوستان اور ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں ایک سنہرا دن قرار دیا۔ وزیراعظم نے تمام شہریوں سے کہا کہ وہ ایک نئے ہندوستان کی تعمیر کے لیے متحدہ ہوں اور سبھی کی ترقی کے لیے کام کریں۔
وزیراعظم جناب نریندر مودی نے کہا ‘‘ آج 9 نومبر کو کرتار پور کوریڈور شروع ہوا ہے۔ اس کوریڈور کے لیے ہندوستان نے بھی کوششیں کی ہیں اور پاکستان نے بھی کوششیں کی ہیں اور اب ایودھیا پر آج کے فیصلے سے یہ تاریخ 9 نومبر ہمیں متحد رہنے اور ساتھ ساتھ ترقی کرنے کی طاقت کا سبب دیتی ہے۔ ’’
وزیراعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ سبھی کی بات تحمل کے ساتھ سنی اور متفقہ طور پر فیصلہ لیا جس سے اُس کے زبردست عزم و ارادے کا اظہار ہوتا ہے۔
وزریاعظم نے مزید کہا ‘‘آج کے فیصلے سے سپریم کورٹ نے یہ پیغام دیا ہے کہ سخت سے سخت مسائل کا حل بھی آئین کے فریم ورک کے اندر اور قانون کے جذبے کے اندر کیا جا سکتا ہے۔
ہمیں اس فیصلے سے سبق لینا چاہیے اور اگر کچھ تاخیر بھی ہوئی ہو تو ہمیں صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ یہی سبھی کے مفاد میں ہے۔
ہر حال میں ہندوستان کے آئین ، ہندوستان کے عدالتی نظا م پر ہمارا اعتماد برقرار رہنا چاہیے۔ یہ بہت اہم ہے۔ ’’
وزیراعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ نے رام مندر کے نرمان کے بارے میں اپنا فیصلہ دیا ہے اور یہ فیصلہ ہم سبھی شہریوں کے لیے یہ ضروری بناتا ہے کہ ہم مزید سنجیدگی کے ساتھ قوم کی تعمیر کی اپنی ذمہ داری کو نبھائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم سب کے درمیان ہم آہنگی، بھائی چارہ ، دوستی ، اتحاد اور امن ملک کی ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔ وزیراعظم نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کے نشانوں اور مقاصد کو پورا کرنے کے لیے مل کر چلیں اور مل کر کام کریں۔
My address to the nation. https://t.co/xeMEuOyun0
— Narendra Modi (@narendramodi) November 9, 2019
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(م ن ۔ ا گ ۔ م ت ح(
U-5034
देश के सर्वोच्च न्यायालय ने अयोध्या पर अपना फैसला सुना दिया है। इस फैसले को किसी की हार या जीत के रूप में नहीं देखा जाना चाहिए।
— Narendra Modi (@narendramodi) November 9, 2019
रामभक्ति हो या रहीमभक्ति, ये समय हम सभी के लिए भारतभक्ति की भावना को सशक्त करने का है। देशवासियों से मेरी अपील है कि शांति, सद्भाव और एकता बनाए रखें।
सुप्रीम कोर्ट का यह फैसला कई वजहों से महत्वपूर्ण है:
— Narendra Modi (@narendramodi) November 9, 2019
यह बताता है कि किसी विवाद को सुलझाने में कानूनी प्रक्रिया का पालन कितना अहम है।
हर पक्ष को अपनी-अपनी दलील रखने के लिए पर्याप्त समय और अवसर दिया गया।
न्याय के मंदिर ने दशकों पुराने मामले का सौहार्दपूर्ण तरीके से समाधान कर दिया।
यह फैसला न्यायिक प्रक्रियाओं में जन सामान्य के विश्वास को और मजबूत करेगा।
— Narendra Modi (@narendramodi) November 9, 2019
हमारे देश की हजारों साल पुरानी भाईचारे की भावना के अनुरूप हम 130 करोड़ भारतीयों को शांति और संयम का परिचय देना है।
भारत के शांतिपूर्ण सह-अस्तित्व की अंतर्निहित भावना का परिचय देना है।
The Honourable Supreme Court has given its verdict on the Ayodhya issue. This verdict shouldn’t be seen as a win or loss for anybody.
— Narendra Modi (@narendramodi) November 9, 2019
Be it Ram Bhakti or Rahim Bhakti, it is imperative that we strengthen the spirit of Rashtra Bhakti.
May peace and harmony prevail!
SC’s Ayodhya Judgment is notable because:
— Narendra Modi (@narendramodi) November 9, 2019
It highlights that any dispute can be amicably solved in the spirit of due process of law.
It reaffirms the independence, transparency and farsightedness of our judiciary.
It clearly illustrates everybody is equal before the law.
The halls of justice have amicably concluded a matter going on for decades. Every side, every point of view was given adequate time and opportunity to express differing points of view. This verdict will further increase people’s faith in judicial processes.
— Narendra Modi (@narendramodi) November 9, 2019
The calm and peace maintained by 130 crore Indians in the run-up to today’s verdict manifests India’s inherent commitment to peaceful coexistence.
— Narendra Modi (@narendramodi) November 9, 2019
May this very spirit of unity and togetherness power the development trajectory of our nation. May every Indian be empowered.