نئی دہلی:28دسمبر، 2020:
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنس کے ذریعے دہلی میٹرو کی میجنٹا لائن پر بغیر ڈرائیور کے چلنے والی بھارت کی پہلی ٹرین کا افتتاح کیا۔ آج یکساں آمدورفت سے متعلق قومی کارڈ کی دہلی میٹرو کی ایئر پورٹ ایکسپریس لائن میں بھی استعمال کی اجازات دی گئی ، جسے گزشتہ برس احمد آباد میں شروع کیا گیا تھا۔ مرکزی وزیر جناب ہردیپ سنگھ پوری اور دہلی کے وزیر اعلیٰ جناب اروند کیجریوال بھی اس موقع پر موجود تھے۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے آج کی تقریب کو شہری ترقی کو مستقبل کے لئے تیار کرنے کی ایک کوشش کے طورپر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مستقبل کی ضروریات کے لئے تیار کرنا، حکومت کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس حقیقت کو اُجاگر کیا کہ کچھ دہائیوں پہلے، جب شہرکاری کی ضرورت محسوس کی گئی تو مستقبل کی ضروریات کو زیادہ توجہ نہیں دی گئی اور بے دلی سے کام کیاگیا اور الجھن قائم رہی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برخلاف جدید غوروفکر سے پتہ چلتا ہے کہ شہرکاری کو ایک چیلنج کے طورپر نہیں دیکھا جاناچاہئے، بلکہ اسے ملک میں ایک بہتر بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے کے ایک موقع کے طورپر استعمال کیاجانا چاہئے۔ ایک ایسا موقع کہ جس کے ذریعے ہم رہن سہن میں آسانی پیدا کرنے میں اضافہ کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوچ کا یہ فرق اب شہرکاری کے ہر شعبے میں دیکھا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2014ء میں صرف پانچ شہروں میں ہی میٹرو ریل دستیاب تھی اور آج ملک کے اٹھارہ شہروں میں میٹرو ریل کی سہولت موجود ہے اور سال 2025ء تک ہم 25 سے زیادہ شہروں میں یہ سہولت فراہم کرنے والے ہیں۔ 2014ء میں ملک میں صرف 248 کلو میٹر میٹرو لائن پر ٹرینیں چل رہی تھیں اور آج اس سے لگ بھگ تین گنا زیادہ یعنی 700 کلومیٹر سے بھی زیادہ لائنوں پر ٹرینیں چل رہی ہیں۔ سال 2025ء تک ہم 1700کلو میٹر تک یہ سہولت فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ محض اعدادو شمار نہیں ہیں، بلکہ یہ کروڑوں بھارتی باشندوں کے رہن سہن میں آسانی پید اکرنے کے ثبوت ہیں۔ یہ محض اینٹوں اور پتھروں، سیمنٹ، لوہے سے بنے بنیادی ڈھانچے نہیں ہیں، بلکہ یہ ملک کے شہریوں ، ملک کے متوسط درجہ کے لوگوں کی خواہشات کی تکمیل کے ثبوت ہیں۔
وزیر اعظم نے رائے زنی کی کہ حکومت نے پہلی مرتبہ میٹرو پالیسی مرتب کی ہے اور ہمہ گیر حکمت عملی کے ساتھ اس پر عمل درآمد کیا ہے۔ مقامی مطالبات کے مطابق کام کرنے ، مقامی معیارات کو فروغ دینے، میک اِن انڈیا میں توسیع کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ میٹرو کی توسیع ا ور ٹرانسپورٹ کے جدید ذرائع کا استعمال شہر کے عوام اور پیشہ ورانہ طرز زندگی کی ضروریات کے مطابق کیا جانا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف شہروں میں مختلف قسم کی میٹرو ریل پر کام کیاجارہا ہے۔
وزیر اعظم نے مختلف قسم کی ان میٹروریل کا ذکر کیا جن پر کام جاری ہے۔ دہلی اور میرٹھ کے درمیان علاقائی تیز رفتار عبوری نظام-آر آر ٹی ایس کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا کہ اس کی بدولت دہلی اور میرٹھ کے درمیان فاصلہ کم ہوکر ایک گھنٹے سے بھی کم وقت کا رہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جن شہروں میں مسافروں کی تعداد کم ہے، وہاں میٹرو لائٹ نظریہ کے تحت کام ہورہا ہے اور یہ عام میٹرو کی 40 فیصد لاگت پر تعمیر کیاجائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میٹرو نے ان شہروں میں تعمیر کی جارہی ہے، جہاں مسافروں کی تعداد کم ہے اور یہ عام میٹرو کی 25 فیصد لاگت پر تعمیر کی جائے گی۔ اسی طرح واٹر میٹرو کے لئے اختراعی طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ جس شہروں میں پانی کے بڑے دریا، تالاب اور جھیلیں وغیرہ ہیں ، وہاں واٹر میٹرو پر کام ہورہا ہے۔ اس سے جزائر کے نزدیک رہنے والے افراد تک کنکٹی وٹی فراہم ہوجائے گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ میٹرو خدمات کی توسیع کے لئے ‘‘میک اِن انڈیا’’کی اہمیت ہے۔ میک ان انڈیا سے لاگت میں کمی ہوگی، غیر ملکی زرمبادلہ کی بچت ہوگی اور خود ملک کے لوگوں کو روزگار کے مزید مواقع دستیاب ہوں گے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ریل کے ڈبے اور انجن کو معیاری بنانے سے ہر کوچ کی قیمت 12 کروڑ روپے سے کم ہوکر اب محض آٹھ کروڑ روپئے رہ گئی ہے۔ آج ملک میں چار بڑی کمپنیاں میٹرو ریل کے ڈبے بنارہی ہیں، اس کے علاوہ درجنوں کمپنیاں میٹرو کے آلات اور دیگر سازو سامان بنارہی ہیں۔ اس سے میک اِن انڈیا کے ساتھ ساتھ خود کفیل بھارت کے لئے مہم میں مدد مل رہی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ نیا ڈرائیور کے چلنے والی میٹرو ریل کی کامیابی کے ساتھ ہی ملک دنیا کے ان چنندہ ملکوں میں شامل ہو گیا ہے جہاں ایسی سہولیات دستیاب ہیں انہوں نے کہا کہ بریک لگانے سے متعلق اس قسم کے نظام کا استعمال کیا جا رہا ہے جس میں بریک لگانے پر پچاس فیصد توانائی گرڈمیں واپس چلی جاتی ہے ۔ اس وقت میٹرو ریل میں 130 میگاواٹ شمسی توانائی کا استعمال کیا جا رہا ہے جسے بڑھا کر 600 میگاواٹ کیا جائے گا ۔
آمدورفت سے متعلق یکساں کارڈ کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ جدیدکاری کیلئے ایک ہی قسم کے معیارات اور سہولیات فراہم کرنے کی بہت اہمیت ہے۔ قومی سطح پر آمدورفت سے متعلق یکساں کارڈ، اس سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔ اس ایک کارڈ سے مسافروں کو ایک مربوط رسائی حاصل ہوگی تاکہ وہ کہیں بھی جا سکیں اور کسی بھی طرح کے سرکاری ٹرانسپورٹ کے ذریعہ سفر کر سکیں ۔
اس کارڈ کی مثال پیش کرتے ہوئے وزیراعظم نے تمام نظاموں کو مستحکم کرنے کے عمل پر زور دیا۔ نظاموں کو اس طرح مستحکم بنا کر ، ملک کی طاقت کو مزید مربوط اور موثر طریقے سے فروغ دیا جارہا ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ایک قوم ایک موبیلٹی کارڈ کی طرح ہماری حکومت نے ملک کے نظاموں کو مربوط بنانے کی غرض سے گذشتہ برسوں میں بہت سے اقدامات کئے ہیں۔ ایک قوم ، ایک فاسٹیگ سے پورے ملک کی شاہراہوں پر خوش اسلوبی سے ٹریفک آمدورفت جاری ہے ۔ اس کی وجہ سے مسافروں کو ٹریفک جام اور تاخیر سے نجات ملی ہے۔ ایک قوم ، ایک ٹیکس یعنی جی ایس ٹی کی بدولت ٹیکس نظام میں پیچیدگیاں ختم ہوگئی ہیں اور بلواسطہ ٹیکس نظام میں یکسانیت پیدا ہو گئی ہے۔ ایک قوم –ایک پور گرڈ سے ملک کے ہر حصے میں بجلی کی خاطرخواہ اور لگاتار سپلائی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ بجلی کے ضائع ہونے کو بھی کم کیا گیا ہے۔
ایک قوم ، ایک گیس گرڈ کی بدولت ملک کے ان حصوں میں بھی گیس کی بلا رکاوٹ دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ جہاں اس سے پہلے گیس پر مبنی زندگی اور معیشت محض ایک خواب ہوا کرتا تھا۔ ایک قوم-ایک صحت بیمہ اسکیم یعنی آیوشمان بھارت، کے ذریعہ بھارت کے ہر حصے میں لاکھوں افراد کو فائدہ حاصل ہو رہا ہے اور ایک قوم ، ایک راشن کارڈ کے ذریعے ایک مقام سے دوسرے مقام پر قیام کرنے والے شہریوں کو اب نئے راشن کارڈ بنوانے کے مسئلے سے چھٹکارا مل گیا ہے۔ اسی طرح نئی زرعی اصلاحات اور ای-نام جیسے بندوبست کی وجہ سے ملک ، اب ، ایک قوم ، ایک زرعی مارکیٹ کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔
*****
م ن۔ع م۔ ن ع۔رب
U NO:8435
Next-generation infrastructure for Delhi. Watch. https://t.co/LK789BkE3x
— Narendra Modi (@narendramodi) December 28, 2020
कुछ दशक पहले जब urbanisation का असर और urbanisation का भविष्य, दोनों ही बिल्कुल साफ था तो उस समय एक अलग ही रवैया देश ने देखा।
— PMO India (@PMOIndia) December 28, 2020
भविष्य की जरुरतों को लेकर उतना ध्यान नहीं था, आधे-अधूरे मन से काम होता था, भ्रम की स्थिति बनी रहती थी: PM
इस सोच से अलग, आधुनिक सोच ये कहती है शहरीकरण को चुनौती ना मानकर एक अवसर की तरह इस्तेमाल किया जाए।
— PMO India (@PMOIndia) December 28, 2020
एक ऐसा अवसर जिसमें हम देश में बेहतर इंफ्रास्ट्रक्चर बना सकते हैं।
एक ऐसा अवसर जिससे हम Ease of Living बढ़ा सकते हैं।
सोच का ये अंतर शहरीकरण के हर आयाम में दिखता है: PM
साल 2014 में देश में सिर्फ 248 किलोमीटर मेट्रो लाइन्स आपरेशनल थीं।
— PMO India (@PMOIndia) December 28, 2020
आज ये करीब तीन गुनी यानी सात सौ किलोमीटर से ज्यादा है।
वर्ष 2025 तक हम इसका विस्तार 1700 किलोमीटर तक करने का प्रयास कर रहे हैं: PM
2014 में सिर्फ 5 शहरों में मेट्रो रेल थी।
— PMO India (@PMOIndia) December 28, 2020
आज 18 शहरों में मेट्रो रेल की सेवा है।
वर्ष 2025 तक हम इसे 25 से ज्यादा शहरों तक विस्तार देने वाले हैं: PM#MetroRevolution
ये सिर्फ आंकड़े नहीं हैं ये करोड़ों भारतीयों के जीवन में आ रही Ease of Living के प्रमाण हैं।
— PMO India (@PMOIndia) December 28, 2020
ये सिर्फ ईंट पत्थर, कंक्रीट और लोहे से बने इंफ्रास्ट्रक्चर नहीं हैं बल्कि देश के नागरिकों, देश के मिडिल क्लास की आकांक्षा पूरा होने के साक्ष्य हैं: PM
हमारी सरकार ने मेट्रो पॉलिसी बनाई और उसे चौतरफा रणनीति के साथ लागू भी किया।
— PMO India (@PMOIndia) December 28, 2020
हमने जोर दिया स्थानीय मांग के हिसाब से काम करने पर,
हमने जोर दिया स्थानीय मानकों को बढ़ावा देने पर,
हमने जोर दिया मेक इन इंडिया विस्तार पर,
हमने जोर दिया आधुनिक टेक्नोलॉजी के उपयोग पर: PM
हमने ध्यान दिया कि मेट्रो का विस्तार, ट्रांसपोर्ट के आधुनिक तौर-तरीकों का इस्तेमाल शहर के लोगों की जरुरतों और वहां की प्रोफेशनल लाइफस्टाइल के हिसाब से ही होना चाहिए।
— PMO India (@PMOIndia) December 28, 2020
यही वजह है कि अलग अलग शहरो में अलग अलग तरह की मेट्रो रेल पर काम हो रहा है: PM
मेट्रो नियो - जिन शहरों में सवारियां और भी कम है वहां पर मेट्रो नियो पर काम हो रहा है। ये सामान्य मेट्रो की 25 प्रतिशत लागत से ही तैयार हो जाती है।
— PMO India (@PMOIndia) December 28, 2020
इसी तरह है वॉटर मेट्रो- ये भी आउट ऑफ द बॉक्स सोच का उदाहरण है: PM
RRTS- दिल्ली मेरठ RRTS का शानदार मॉडल दिल्ली और मेरठ की दूरी को घटाकर एक घंटे से भी कम कर देगा।
— PMO India (@PMOIndia) December 28, 2020
मेट्रोलाइट- उन शहरों में जहां यात्री संख्या कम है वहां मेट्रोलाइट वर्जन पर काम हो रहा है। ये सामान्य मेट्रो की 40 प्रतिशत लागत से ही तैयार हो जाती है: PM
मेट्रो सर्विसेस के विस्तार के लिए, मेक इन इंडिया महत्वपूर्ण है।
— PMO India (@PMOIndia) December 28, 2020
मेक इन इंडिया से लागत कम होती है, विदेशी मुद्रा बचती है, और देश में ही लोगों को ज्यादा से ज्यादा रोजगार मिलता है।
रोलिंग स्टॉक के मानकीकरण से हर कोच की लागत अब 12 करोड़ से घटकर 8 करोड़ पहुंच गयी है: PM
आज चार बड़ी कंपनियां देश में ही मेट्रो कोच का निर्माण कर रही हैं।
— PMO India (@PMOIndia) December 28, 2020
दर्जनों कंपनिया मेट्रो कंपोनेंट्स के निर्माण में जुटी हैं।
इससे Make in India के साथ ही, आत्मनिर्भर भारत के अभियान को मदद मिल रही है: PM
अभी मुझे बिना ड्राइवर के चलनी वाले मेट्रो रेल का उद्घाटन करने का अवसर मिला है।
— PMO India (@PMOIndia) December 28, 2020
आज इस उपलब्धि के साथ ही हमारा देश दुनिया के उन चुनिंदा देशों में शामिल हो गया है जहां इस तरह की सुविधा हैं: PM#MetroRevolution
हम ऐसे ब्रेकिंग सिस्टम का भी प्रयोग कर रहे हैं जिनमें ब्रेक लगाने पर 50 प्रतिशत उर्जा वापस ग्रिड में चली जाती है।
— PMO India (@PMOIndia) December 28, 2020
आज मेट्रो रेल में 130 मेगावाट सोलर पावर का इस्तेमाल किया जा रहा है, जिसे बढ़ाकर 600 मेगावाट तक ले जाया जाएगा: PM#MetroRevolution
आधुनिकीकरण के लिए एक ही तरह के मानक और सुविधाएं उपलब्ध कराना बहुत जरूरी है।
— PMO India (@PMOIndia) December 28, 2020
राष्ट्रीय स्तर पर कॉमन मोबिलिटी कार्ड इसी दिशा में एक बड़ा कदम है।
आप जहां कहीं से भी यात्रा करें, आप जिस भी public transport से यात्रा करें, ये एक कार्ड आपको integrated access देगा: PM
आज तमाम व्यवस्थाओं को एकीकृत करके देश की ताकत को बढ़ाया जा रहा है, एक भारत-श्रेष्ठ भारत को मजबूत किया जा रहा है।
— PMO India (@PMOIndia) December 28, 2020
वन नेशन, वन मोबिलिटी कार्ड की तरह ही बीते वर्षों में हमारी सरकार ने देश की व्यवस्थाओं का एकीकरण करने के लिए अनेक काम किए हैं: PM
वन नेशन, वन Fastag से देशभर के हाइवे पर ट्रैवल सीमलेस हुआ है।
— PMO India (@PMOIndia) December 28, 2020
वन नेशन, वन टैक्स यानि GST से देशभर में टैक्स का जाल समाप्त हुआ है ।
वन नेशन, वन पावर ग्रिड, से देश के हर हिस्से में पर्याप्त और निरंतर बिजली की उपलब्धता सुनिश्चित हो रही है। बिजली का नुकसान कम हुआ है: PM
वन नेशन, वन गैस ग्रिड से, उन हिस्सों की Seamless Gas Connectivity सुनिश्चित हो रही है, जहां गैस आधारित जीवन और अर्थव्यवस्था पहले सपना हुआ करता था।
— PMO India (@PMOIndia) December 28, 2020
वन नेशन, वन हेल्थ एश्योरेंस स्कीम यानि आयुष्मान भारत से देश के करोड़ों लोग पूरे देश में कहीं भी इसका लाभ ले रहे हैं: PM
वन नेशन, वन राशनकार्ड, से एक स्थान से दूसरे स्थान जाने वाले नागरिकों को नया राशनकार्ड बनाने के चक्करों से मुक्ति मिली है।
— PMO India (@PMOIndia) December 28, 2020
इसी तरह नए कृषि सुधारों और e-NAM जैसी व्यवस्थाओं से वन नेशन, वन एग्रीकल्चर मार्केट की दिशा में देश आगे बढ़ रहा है: PM
Urbanisation is on the rise and we in India are fully prepared to ensure our cities have top quality infrastructure.
— Narendra Modi (@narendramodi) December 28, 2020
Increase in the number of cities with metro connectivity over the last 6 years will make you happy. #MetroRevolution pic.twitter.com/VMnfzZnpCw
Different cities have different infrastructural needs and we are catering to them, so that ‘Ease of Living’ is furthered. #MetroRevolution pic.twitter.com/PNwPFkcKsq
— Narendra Modi (@narendramodi) December 28, 2020
Furthering ‘Make in India’ and increasing the pace of progress. #MetroRevolution pic.twitter.com/lkuBo69lqs
— Narendra Modi (@narendramodi) December 28, 2020
The many advantages of a Common Mobility Card. #MetroRevolution pic.twitter.com/4AScFerm0j
— Narendra Modi (@narendramodi) December 28, 2020
Here is how a spirit of oneness is being furthered in various sectors. #MetroRevolution pic.twitter.com/BIWP8h4ems
— Narendra Modi (@narendramodi) December 28, 2020
We are committed to creating top quality infrastructure for our national capital. #MetroRevolution pic.twitter.com/8r417U5W47
— Narendra Modi (@narendramodi) December 28, 2020