پی ایم انڈیا
نئیدہلی7 مارچ ۔وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے چار مارچ 2019 کو گجرات کے شہر ادلج میں شکشن بھون اور ودیارتھی بھون کی عمار ت کا سنگ بنیادرکھے جانے کی تقریب میں جو تقریر کی تھی اس کا متن حسب ذیل ہے:
بھارت ماتاکی-جے
بھارت ماتاکی-جے
بھارت ماتاکی-جے
بڑی تعداد میں یہاں آئے سماج کے سبھی طبقوں کے سینئیر حضرات میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے ایسے مقدس موقع پر آپ کےدرمیان آنے کی دعوت ملی ہے اور آپ کا آشیرواد حاصل کی کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ہمارے ملک میں دنیا کے لوگوں کے لئے ہمارا مذہب ، ہماری روایت اور ہماری تہذیب سمجھنا بہت بھاری کام ہے ۔تکلیف جلدی سے مجھ میں نہیں آتی ۔ ہمارے وہاں کوئی ایک مذہب صحیفہ تو ہے نہیں ، کوئی ایک بھگوان نہیں ،اس قدر ہمہ جہتی ہے کہ سمجھ نہیں پاتے کہ ہم کیا ہیں اور یہی ہماری خصوصیت ہے ۔ ہم ایسے لوگ ہیں جس میں بھگت بھی بھگوان جیسا ہی ہوتا ہے ۔ اگر بھگت پہلوان ہے تو بھگوان ہنومان ہوتے ہیں ۔ بھگت اگر تعلیم کی ریاضت کرتا ہوتو بھگوان سرسوتی ہے۔بھگت کو اگر روپے پیسے سے پیار ہوتو بھگوان لکشمی جی ہیں۔ یہ ہماری خصوصیت ہے ۔اس لئے سماجی زندگی میں جس نے سب سے زیادہ رزق دینے والے کا کام کیا ،ذرے ذرے میں من بھر کے جس نے سماجی خدمت کی فکر کی ، ہمارے سماج یعنی ہماراکسان سماج ہے ، آپ کاٹھیاواڑ میں کھیڑوں کہیں تو اس کا مطلب بھی لیووا پٹیل ہوتا ہے ۔
جیسا بھگت ویسا بھگوان یہی ہماری خصوصیت رہی ہے ، اسی خصوصیت کے ایک جزو کی شکل میں آج باقاعدہ طریقے سے دیوی انّ پورنا ماں کا ایک علاقہ عقیدت اور ایک علاقہ حوصلہ افزائی ملک کے نام وقف کیا گیا ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ آپ کسی بھی سمت میں جائیں ، 20 یا25 کلومیٹر آگے جائیں تو آپ کو کوئی نہ کوئی جگہ ایسی ملے گی جہاں کوئی مندر ،کوئی بابا ، کوئی جوگی ، کوئی سادھوبابا بیٹھا ہوگا۔ گھرمیں آنے والے کو بھوکا نہ جانے دیں ۔ رات میں رکنا ہوتو اس کا انتظام کریں ۔ یہ روایت ہندوستان کے کونے کونے میں ہے ۔ ہماری ہزاروں برس کی روایت ہے ، رہنا یا کھانا، جنہوں نے نرمدا کی کریکرما کی ہوگی تو انہیں معلوم ہوگا کہ نرمدا ندی کے کنارے کے گاؤں وہی ہیں ، وہ لوگ بھی وہی ہیں ، آنے والےنئے ہوتے ہیں۔ نرمدا کے ساحل پر ہزاروں لوگ پریکرما کرتے ہیں۔ ایک بار بھی کسی کو بھوکا نہیں رہنا پڑتا ۔ گاؤں کے لوگ ان کی خدمت کرتے ہیں ۔ یہ ہمارے ملک کی ایک خصوصیت ہے۔ ہمارے ملک میں اب یہ رواج ہے کہ سب کچھ سرکار ہی کرے اور اگر نہ ہوتو سرکار سے جواب مانگا جائے، ہندوستان میں یہ روایت نہیں تھی ،ایسا کوئی رواج ہی نہیں تھا ۔دھرم شالہ بنائی جاتی تھی ، گؤ شالہ بنائی جاتی تھی ،پانی کے پیاؤ بنائے جاتے تھے ، یہ سارے کام سرکار نہیں کرتی تھی۔ سماجی طاقت سے کئے جاتے تھے ۔دھرم شالہ ہو، پانی کا پیاؤ ہویا لائبریری ہو ،دھیرے دھیرے سماج اور اس کی طاقتیں نادانستگی میں ہی دبا دی گئیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ریاست ،ریاست کا کام کرے ۔ سماج پھلے پھولے ،سماج طاقتور ہوگا تو ملک جلد ہی طاقتور بن جائے گا۔سرکار کی طاقت یکجا کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس بنیادی روایت میں اس طرح کی سبھی ذہنیتوں کی ہمیں حوصلہ افزائی کرنی ہے اور اس کے حصے میں آنے والے دنوں میں اس طرح کی چیزوں کو کوئی سیاسی داؤں پیچ نہیں ہوتے ، یہ سماج کی بنیادی طاقت ہے ۔
آج ہزاروں کروڑ روپے کی قیمت کی عمارتی لکڑی بیرونی ملکوں سے لانی پڑتی ہے ۔ ہماری یہ بیٹیاں بھی بڑی ہوں اور عمارت کی لکڑی بھی بڑی ہو ،وہ باہر سے عمارتی لکڑی لانا بند ہو ، ہماری مذہبی روایات کو اقتصادی انتظامات کے ساتھ کس طرح جوڑا جاسکتا ہے ۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ جگہ اس طرح کے کام کرسکتی ہے ۔
سردار ولبھ بھائی پٹیل کو اگر کوئی ذات پات کے رنگ میں رنگے تو غلط بات ہے ۔ ملک کا ایک عظیم قائد اسٹیچو آف یونٹی یعنی دنیا کو آج سراونچا کرکے دیکھنا ہی پڑتا ہے کہ یہ ہمارے سردار صاحب ہیں۔ پوری دنیا کی سب سے بلند یادگار کون سی ہے تو سردار پٹیل کا اسٹیچو آف لبرٹی کہنا ہی پڑے گا ،اس میں کوئی منھ نہیں چھپا سکتا ۔ مجھے نہیں لگتا کہ مستقبل قریب میں اس کا کوئی ریکارڈ توڑ سکے گا۔مجھے یہاں ایک دوسری بات کرنی ہے ۔ اس امول ڈیری کی پیدائش ہوئی تو اس کی بنیاد ڈالنے والے کون تھے ،شروع کس نے کی ؟ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ انہیں ذات پات کے رنگ میں نہ رنگنا ۔ انہیں ذات پات کے رنگ میں رنگنا پاپ ہے ۔
ہم ماں انّ پورناسے جڑچکے ہیں تو آئیے ایک ذمہ داری یہ بھی اٹھائیں اور سیدھے سیدھے کسانوں کے ساتھ جڑ جائیں ۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ ٹرسٹ والے جس طرح سردار صاحب کی حوصلہ افزائی سی امول کا یہ پورا کاروبار کرکے چلارہے ہیں ۔اسی طرح انّ پورنا کی حوصلہ افزائی سے غذائی اشیا کی افزودگی ،کسان کی پیداوار کی قیمت میں اضافہ ان تمام باتوں کے لئے ایک سائنسی طریقے سے نظام کو فروغ دینا ہوگا۔
شیر تھا کی مرچ فیمس ہولیکن شیر تھا کی مرچ اگر لال ہوتو زیادہ کمائی ہوتی ہے اور لال مرچ کا اگر پاؤڈر بنے تو اور زیادہ کمائی ہوتی ہے ۔ اس کی پیکنگ اچھی ہوتو اور زیادہ پیسے ملتے ہیں ۔ فوڈ پراسیسنگ یعنی غذائی افزودگی سے قیمتوںمیں اضافہ ہوتا ہے ۔ ہمارے کسان کو اس کی پیداوار کے لئے اس یونٹ کا فائدہ حاصل ہو ،بڑی سطح پر اس کا کام ہو ، اس میں ریسرچ ہو ، میں مانتا ہوں کہ صحیح معنوں میں ہم ماں ان پورنا کے قدموں میں سب کو یہاں سرجھکانے کی حالت پیداکرسکتے ہیں ۔ میں چاہوں گا کہ یہاں جو میری صنعتی دنیا کے جو لوگ بیٹھے ہیں وہ اس پر ضرور بالضرور غور کریں ۔ ایک عقیدہ ، ایک روحانیت کو زندگی کی ترقی میں کس طرح استعمال کرسکتے ہیں اس پر غٰورکیا جانا چاہئے ۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ اس میں پانچ عناصر کو مرکز میں رکھ کر ماتا ان پورنا دھام کی تعمیر کی گئی ہے ۔ہمارے یہاں رام چرت مانس کی ایک چوپائی ہے :
چھتی جل پاون گگن سمیرا !
پنچ رچت اتی ادھم شریرا !!
یعنی ہمار ا یہ جسم پانچ عناصر سے بنا ہوا ہے ۔ پانچ عناصر سے بنی ہوئی یہ کایا اسی جذبے سے پانچ عناصر کے بنیادی مفہوم کو کے امتزاج کی جب یہاں کوشش ہورہی ہے تو مجھے پورا یقین ہے کہ اس بنیادی عنصر کو ذہن میں رکھتے ہوئے سماج کے آئندہ کل کو ذہن میں رکھتے ہوئے انہیں اجاگر کریں گے۔
نرہری بھائی کی جو خود اعتمادی ہے کہ 2020 میں اس کا افتتاح کریں گے اوردوسرے کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا اور میرا یقین اس سے سو ا گنا زیادہ ہے ۔ گھر پر کوئی بلائے تو کون منع کرسکے گا ۔ یہاں کوئی میں مہمان تھوڑئی ہوں ۔یہ تو گھر آنے کی خوشی ہے کہ ماں ان پورنا کے قدموںمیں آئیں اور پورے ملک کی اناج کی ضرورت پورے کرنے کی خوش نصیبی حاصل ہو۔ آج جب میں کسانوں کے درمیان آیا ہوں تو اس ملک کے ذرےذرے میں من سمو دینے والے ریاضت کار ،زرعی دنیا کے لوگوں کے درمیان میں آیا ہوں ،تب جے جوان جے کسان دونوں کی ہی اپنی قیمت ہے ۔کسان کی طاقت ، جوان کی طاقت ملک کو غذائی سلامتی فراہم کرنا ہے اور ملک کی سرحدوں کی بھی حفاظت کرنی ہے اور دونوںک کی سماجی طاقت سے یہ ملک ترقی کے تمام مواقع حاصل کرتا رہے گا ۔ میں ایک بار پھر آپ سب کے بیچ آنے کا موقع دینے کے لئے آپ کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ ماتا ان پورنا کے قدموںمیں وندن کرتا ہوںاور آپ سب کے روشن مستقبل کے لئے دیوی ان پورنا کے قدموںمیں پرارتھنا کرکے اپنی بات تمام کرتا ہوں۔
شکریہ !
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
م ن ۔س ش ۔رم
U-1425
India has a rich history of societies rising to the occasion and taking the lead when it comes to solving the challenges every era has faced.
— PMO India (@PMOIndia) March 5, 2019
Communities have come together to improve irrigation and education. Several people have benefitted through these community efforts: PM
Today we pay homage to Maa Annapurna.
— PMO India (@PMOIndia) March 5, 2019
Annapurna Dham should give our society the strength to ensure there is gender equality and prosperity for everyone: PM @narendramodi
Today at Annapurna Dham, we remember the great Sardar Patel. His efforts towards the cooperative sector will never be forgotten: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 5, 2019
I would urge the people of Gujarat to work on food processing. Such value addition will help both farmers and industries: PM @narendramodi
— PMO India (@PMOIndia) March 5, 2019