پی ایم انڈیا
نئی دہلی،09 نومبر /
میرے پیارے ہم وطنوں،
میں دن بھر پنجاب میں تھا۔
میری ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ سے براہ راست مکالمہ کروں۔
آج سپریم کورٹ نے ایک ایسے اہم معاملے پر فیصلہ سنایا ہے، جس کے پیچھے سینکڑوں برسوں کی ایک تاریخ ہے، پورے ملک کی یہ خواہش تھی کہ اس معاملے کی عدالت ،میں روز سماعت ہو۔
جو ہوئی اور آج فیصلہ آ چکا ہے۔ کئی دہائیوں تک چلی انصاف کے عمل کا اب خاتمہ ہوا ہے۔
ساتھیو،
پوری دنیا یہ تو مانتی ہی ہے کہ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا جمہوریہ ملک ہے۔ آج دنیا نے یہ بھی جان لیا ہے کہ ہندوستان کی جمہوریت کتنی زندگی سے بھرپور اور مضبوط ہے۔
فیصلہ آنے کے بعد جس طرح ہر فرقے نے، ہر طبقے نے، ہر پنتھ کے لوگوں نے پورے ملک سے کھلے دل سے اسے تسلیم کیا ہے وہ ہندوستان کی قدیم تہذیب، روایات اور نیک خواہشات کے جذبےکی عکاسی کرتا ہے۔
بھائیو بہنو،
ہندوستان جذبات کے لیے جانا جاتا ہے۔ تنوع میں اتحاد ، آج یہ منتر اپنی مکمل شکل کے ساتھ حقیقت کے طور پر واضح دکھائی دے رہا ہے۔
ہزاروں سال بعد بھی کسی کو تنوع میں یکجہتی، ہندوستان کی زندگی کے اس عنصر کو سمجھنا ہوگا تو وہ آج کے تاریخی دن کا ، آج کے واقعہ کا سہارا لے گا جس کی ہم سب آج خود تخلیق کر رہے ہیں، خود لکھ رہے ہیں۔
ساتھیو،
ہندوستان کی عدالیہ کی تاریخ میں آج کا یہ دن ایک سنہرے باب کی طرح ہے۔ اس موضوع پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سب کو سنا۔ بہت تحمل سے سنا اور اتفاق رائے فیصلہ دیا۔ یہ آسان کام نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کے پیچھے مضبوط قوت ارادی دکھائی ہے اور اس کے لیے ملک کے جسٹس ، عدالت اور ہمارے نظام انصاف کو سلام۔
ساتھیو،
9 نومبر ہی وہ تاریخ تھی، جب برلن کی دیوار گری تھی۔ دو مخالف دھاروں نے متحد ہوکر نیا عزم کیا تھا۔
آج 9 نومبر کو ہی کرتار پور صاحب کوریڈور کی شروعات ہوئی ہے۔ اس میں ہندوستان کا بھی تعاون رہا ہے ، پاکستان کا بھی۔
آج ایودھیا پر فیصلے کے ساتھ ہی 9 نومبر کی یہ تاریخ ہمیں ساتھ رہ کر آگے بڑھنے کا سبب دے رہی ہے۔
آج کے دن کا پیغام جوڑنے کا ہے، جڑنے کا ہے اور مل کر جینے کا ہے۔
اس موضوع کو لے کر کہیں بھی، کبھی بھی، کسی کے من میں کوئی تلخی رہی ہو ، تو آج اُسے چھوڑ دینے کا بھی دن ہے۔
نئے ہندوستان میں خوف، تلخی، منفیت کا کوئی مقام نہیں ہے۔
ساتھیو،
سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے نے ملک کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ سخت سے سخت مسئلے کا حل آئین کے دائرے میں ہی آتا ہے۔ قانون کے دائرے میں ہی آتا ہے۔
ہمیں، اس فیصلے سے سبق لینا چاہیے کہ بھلے ہی کچھ وقت لگے لیکن پھر بھی صبر و تحمل برقرار رکھنا ہی سب سے بہتر ہے۔
ہر حالت میں ہندوستان کے آئین ، ہندوستان کے نظام انصاف پر ہمارا اعتماد برقرار رہے یہ بہت اہم ہے۔
ساتھیو،
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ہمارے لیے ایک نیا سویرا لے کر آیا ہے۔
اس تنازعہ کا بھلے ہی کئی نسلوں پر اثر پڑا ہو لیکن اس فیصلے کے بعد ہمیں یہ عزم کرنا ہوگا کہ اب نئی نسل نئے سرے سے نیو انڈیا کی تعمیر میں جٹے گی۔
آیئے ایک نئی شروعات کرتے ہیں۔
اب نئے بھارت کی تعمیر کرتے ہیں۔
ہمیں اپنا اعتماد اور ترقی اس بات سے طے کرنی ہے کہ میرے ساتھ چلنے والا کہیں پیچھے تو نہیں چھوٹ رہا۔
ہمیں سب کو ساتھ لے کر ، سب کی ترقی کرتے ہوئے اور سب کا اعتماد حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔
ساتھیو،
رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ سپریم کورٹ نے دے دیا ہے اب ملک کے ہر شہری پر قوم کی تعمیر کی ذمہ داری اور بڑھ گئی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ایک شہری کے طور پر ہم سبھی کے لیے ملک کے عدالتی عمل کو ماننا ہوگا، قوانین و ضوابط کا احترام کرنا، یہ ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔
اب سماج کے ناطے ہر ہندوستانی کو اپنے فرض ، اپنی ذمہ داری کو اولیت دیتے ہوئے کام کرنا ہے۔ ہمارے درمیان کا بھائی چارہ ، ہماری یکجہتی ، ہمارا امن ملک کی ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔
ہمیں مستقبل کی طرف دیکھنا ہے، مستقبل کے ہندوستان کے لیے کام کرتے رہنا ہے۔ ہندوستان کے سامنے چیلنج اور بھی ہیں، نشانے اور بھی ہیں، منزلیں اور بھی ہیں۔
ہر ہندوستانی ، ساتھ مل کر ، ساتھ چل کر ہی ان مقاصد کو حاصل کرے گا۔ منزلوں تک پہنچے گا۔
جے ہند۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(م ن ۔ ا گ ۔ م ت ح(
U-5029
देश के सर्वोच्च न्यायालय ने अयोध्या पर अपना फैसला सुना दिया है। इस फैसले को किसी की हार या जीत के रूप में नहीं देखा जाना चाहिए।
— Narendra Modi (@narendramodi) November 9, 2019
रामभक्ति हो या रहीमभक्ति, ये समय हम सभी के लिए भारतभक्ति की भावना को सशक्त करने का है। देशवासियों से मेरी अपील है कि शांति, सद्भाव और एकता बनाए रखें।
सुप्रीम कोर्ट का यह फैसला कई वजहों से महत्वपूर्ण है:
— Narendra Modi (@narendramodi) November 9, 2019
यह बताता है कि किसी विवाद को सुलझाने में कानूनी प्रक्रिया का पालन कितना अहम है।
हर पक्ष को अपनी-अपनी दलील रखने के लिए पर्याप्त समय और अवसर दिया गया।
न्याय के मंदिर ने दशकों पुराने मामले का सौहार्दपूर्ण तरीके से समाधान कर दिया।
यह फैसला न्यायिक प्रक्रियाओं में जन सामान्य के विश्वास को और मजबूत करेगा।
— Narendra Modi (@narendramodi) November 9, 2019
हमारे देश की हजारों साल पुरानी भाईचारे की भावना के अनुरूप हम 130 करोड़ भारतीयों को शांति और संयम का परिचय देना है।
भारत के शांतिपूर्ण सह-अस्तित्व की अंतर्निहित भावना का परिचय देना है।
The Honourable Supreme Court has given its verdict on the Ayodhya issue. This verdict shouldn’t be seen as a win or loss for anybody.
— Narendra Modi (@narendramodi) November 9, 2019
Be it Ram Bhakti or Rahim Bhakti, it is imperative that we strengthen the spirit of Rashtra Bhakti.
May peace and harmony prevail!
SC’s Ayodhya Judgment is notable because:
— Narendra Modi (@narendramodi) November 9, 2019
It highlights that any dispute can be amicably solved in the spirit of due process of law.
It reaffirms the independence, transparency and farsightedness of our judiciary.
It clearly illustrates everybody is equal before the law.
The halls of justice have amicably concluded a matter going on for decades. Every side, every point of view was given adequate time and opportunity to express differing points of view. This verdict will further increase people’s faith in judicial processes.
— Narendra Modi (@narendramodi) November 9, 2019
The calm and peace maintained by 130 crore Indians in the run-up to today’s verdict manifests India’s inherent commitment to peaceful coexistence.
— Narendra Modi (@narendramodi) November 9, 2019
May this very spirit of unity and togetherness power the development trajectory of our nation. May every Indian be empowered.