Search

پی ایم انڈیاپی ایم انڈیا

مزید دیکھیں

متن خودکار طور پر پی آئی بی سے حاصل ہوا ہے

بحریہ کی آبدوزآئی این ایس کلوری کو بیڑے میں شامل کیے جانے کی تقریب میں وزیراعظم کی تقریر

بحریہ کی آبدوزآئی این ایس  کلوری کو  بیڑے میں شامل کیے جانے کی تقریب میں وزیراعظم کی تقریر

بحریہ کی آبدوزآئی این ایس  کلوری کو  بیڑے میں شامل کیے جانے کی تقریب میں وزیراعظم کی تقریر

بحریہ کی آبدوزآئی این ایس  کلوری کو  بیڑے میں شامل کیے جانے کی تقریب میں وزیراعظم کی تقریر


نئی دہلی۔14دسمبر؛ مہاراشٹر کے گورنر جناب ودیا ساگر راؤجی، وزیر دفاع محترمہ سیتا رمن جی، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ جناب دیویندر فڑنویس جی، دفاع کے وزیر مملکت ڈاکٹر سبھاش بھامبرے جی، سلامتی کے مشیر جناب اجیت ڈووال جی، فرانس کے سفیر جناب الیکژینڈر جگرل  اور فرانس  کے دیگر معزز مہمانان کرام، بحریہ کے چیف ایڈمرل سنیل لانبا جی، کمانڈنگ ان چیف، ویسٹرل نیول کمان وائس یڈمرل گریس لوتھرا جی، وائس ایڈمرل ڈی ایم دیش پانڈے جی، سی ایم ڈی، ایم ڈی ایل، جناب راکیش آنند، کیپٹن ای ڈی، مہیندلے، بحریہ کے دیگر افسران اور فوجی حضرات، ایم ڈی ایل (مژگاؤں ڈاک شپ بلڈرس لمیٹڈ) کے افسران اور ملازمین، پروگرام میں موجود تمام معزز حضرات۔

آج سوا سو کروڑ بھارتیوں کے لیے یہ ایک قابل فخر اور اہم دن ہے۔ میں سبھی اہل وطن کواس تاریخی کامیابی پر بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

آبدوزآئی این ایس کلوری کو قوم کے نام وقف کرنا ، میرے لیےایک  بہت ہی خوش قسمتی  کا موقع ہے۔

میں ملک کی عوام کی جانب سے بھارتی بحریہ کو بھی  بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

تقریباً دو دہائیوں کے بعد بھارتی بحریہ کو اس کی طرح کی آبدوز مل رہی ہے۔

بحریہ کے بیڑے میں کلوری کی شمولیت، دفاع کے شعبے میں ہماری جانب سے اٹھایا گیا ایک بہت بڑا قدم ہے۔ اس کی تعمیر میں  بھارتیوں کا پسینہ لگا ہے، بھارتیوں کی طاقت لگی ہے۔ یہ میک ان انڈیا کی شاندار مثال ہے۔

میں کلوری کی تعمیر سے منسلک ہر ایک مزدور، ہر ایک ملازم کا آج   تہہ دل سے خیرمقدم کرتا ہوں۔ کلوری کی تعمیر میں فرانس کے ذریعے دئیے گیے تعاون کے لیے بھی اس کا بہت شکر گزار ہوں۔

یہ آبدوز ،بھارت اور فرانس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک پارٹنر شپ کی بھی ایک بہترین مثال ہے۔

ساتھیو، یہ سال بھارتی بحریہ کی سب مرین آرم کا گولڈن جوبلی سال ہے۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی سب مرین آرم کو پریسیڈینس کلر  اعزاز سے سرفراز کیا گیا ہے۔ کلوری کی طاقت، یا کہیں ٹائیگر شارک کی طاقت، ہماری بھارتی بحریہ کو مزید مضبوط کرے گی۔

ساتھیو، بھارت کی سمندری ساحلی روایت کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ پانچ ہزار سال پرانی، گجرات کا لوتھل کا مقام، دنیا کی ابتدائی بندرگاہوں میں سے  ایک رہا ہے۔ مورخ  بتاتے ہیں کہ 84 ممالک سے تجارت  لوتھل کے ذریعے ہوا کرتی تھی۔ ایشیا کے دیگر ممالک اور افریقہ تک میں ہمارے تعلقات سمندر کی انہی لہروں سے ہوتے ہوئے آگے بڑھے ہیں۔ صرف تجارت ہی نہیں بلکہ ثقافتی طور پر بھی بحر ہند نے ہمیں دنیا کے دوسرے ملکوں کے ساتھ جوڑا ہے، ان کے ساتھ کھڑے ہونے میں ہماری مدد کی ہے۔

بحر ہند نے بھارت کی تاریخ  رقم کی ہے اور اب وہ بھارت کے حال کو مزید مضبوطی فراہم کررہا ہے۔7500 کلومیٹر سے زیادہ طویل ہمارا سمندری ساحل، 1300 کے قریب چھوٹے چھوٹے جزائر، تقریباً 25 لاکھ مربع کلومیٹر کی خصوسی اقتصادی زون یعنی   ایکسکلوزیو اکونامک زون،  ایک ایسی سمندری طاقت کی تعمیر کرتے ہیں، جس کا کو ئی مقابلہ نہیں ہے۔ بحر ہند صرف بھارت ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مستقبل کے لیے بہت اہم ہے۔ یہ  سمندر دنیا کے دو تہائی آئل شپ مینٹس، دنیا کے ایک تہائی  بلک کارگو اور دنیا کا نصف کنٹینر ٹریفک  کا وزن برداشت کرتا ہے۔ اس سے ہوکر گزرنے والا تین چوتھائی ٹریفک دنیاکے دوسرے حصوں میں جاتا ہے ۔ اس میں اٹھنے والی لہریں دنیا کے 40 ممالک اور  40 فیصد آبادی تک پہنچتی ہے۔

ساتھیو،  کہا جاتا ہے کہ 21 ویں صدی ایشیا کی صدی ہے ۔ یہ بھی طے ہے کہ 21ویں صدی کی ترقی کا راستہ بحر ہند سے  ہوکر ہی نکلے گا۔ اور اس لیے بحر ہند کی ہماری سرکار کی پالیسیوں میں ایک ہی مخصوص  اس کا مقام ہے۔ ایک خاص جگہ ہے۔ یہ اپروچ ہماری زندگی میں جھلکتی ہے۔ میں اس کا ایک خصوصی نام سے بھی ذکر کرتا ہوں۔ ایس اے جی اے آر (ساگر) اگر میں ساگر کہتا ہوں یعنی سیکورٹی اور گروتھ فار آل ان دی ریجن۔ ساگر ہم بحر ہند میں اپنی عالمی فوجی اور معاشی مفادات کو لے کر پوری طرح بیدار ہیں۔، چوکنا ہیں اور اس لیے ہندوستان کی ماڈرن اور ملٹی ڈائمینشنل۔ بحریہ ،پورے خطے میں امن کے لیے، وجود کے لیے ، آگے بڑھ کر قیادت کررہی ہے۔  جس طرح ہندوستان کی سیاسی اور معاشی میری ٹائم پارٹنر شپ بڑھ رہی ہے، علاقائی فریم ورک  کو مضبوط کیا جارہا ہے، اس سے اس نشانے کا حصول  آسان نظر آتاہے۔

ساتھیو، سمندر میں پوشیدہ طاقتیں ہمیں ملک کی تعمیر کے لیے اقتصادی طاقت فراہم کرتی ہے اور اس لیے بھارت ان چیلنجوں کو لے کر بھی کافی سنجیدہ ہے، جن کا سامنا بھارت ہی نہیں بلکہ اس خطے کے  علیحدہ علیحدہ ملکوں کو بھی کرنا پڑتا ہے۔

چاہے  سمندر کے راستے آنے والا دہشت گرد ہو،  پائریسی (قزاقی) کا مسئلہ ہو ، منشیات کی اسمگلنگ ہو، بھارت ان سبھی چیلنجوں سے نمٹنے میں اہم رول نبھا رہا ہے۔ سب کا ساتھ، سب کا وکاس کا ہمارا یہ اصول ہے۔  جل-تھل- نبھ میں  بھی سب یکساں ہیں۔

 پوری دنیا کو  ایک کنبہ مانتے ہوئے  وسودھیو کُٹنبھ کے جذبے کو آگے بڑھاتے ہوئے بھارت اپنی عالمی   جوابدہی کو مسلسل نبھا رہا ہے۔ بھارت اپنے ساتھی ممالک کے لیے ان کے بحران کے وقت فرسٹ ریسپونڈر بنا ہوا ہے۔ اور اس لیے جب سری لنکا میں سیلاب آتا ہے تو بھارتی بحریہ مدد کے لیے سب سے پہلے  پہنچ جاتی ہے۔

جب مالدیپ میں پان کا بحران آتا ہے، تو ہندوستان سےجہاز بھر بھر کے پانی وہاں پہنچایا جاتا ہے۔ جب بنگلہ دیش میں گرادبی طوفان آتا ہے تو ہندوستان کی بحریہ بیچ سمندر میں پھنسے بنگلہ دیشیوں کو نکال لاتی ہے۔ میانما  تک میں طوفان سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے بارتی بحریہ پوری طاقت کے ساتھ انسانی نظریے سے مدد کرنے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹتی ہے۔ اتنا ہی نہیں، یمن میں بحران کے وقت، جب بھارتی بحریہ اپنے ساڑھے چار ہزار سے زیادہ شہریوں کو بچاتی ہے تو ساتھ میں 48 غیر ملکوں کے  شہریوں کو بھی بحفاظت بحران سے نکال لاتی ہے۔

 بھارتی سفارت کاری اور بھارت کاسلامتی نظام  کاانسانی پہلو یہ  ہندوستان کی خوبی ہے۔ یہ ہماری خصوصیت ہے۔ مجھے یاد ہے جب نیپال میں زلزلہ آیا تھا، تو کیسے بھارتی فوج اور فضائیہ نے راحتی کاموں کا مشن سنبھالا تھا۔ 700 سے زیادہ پرواز، ایک ہزار ٹن سے زیادہ راحت کا سامان، زلزلے سے متاثرہ ہزاروں لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا، سینکڑوں کو غیر ملکی شہریوں کو باہر نکال کرلانا، یہ دوستی کا جذبہ بھارت کے ذہن میں ہے۔، بھارت کی فطرت میں ہے۔ بھارت، انسانیت کے کام کو کیے بغیر کبھی نہیں رہ سکتا ہے۔

 ساتھیو، مضبوط اور طاقتور بھارت ، صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک اہم رول نبھا رہا ہے۔ آج ہم دنیا کے مختلف ملکوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر چل رہے ہیں۔ ان کی افواج ہماری فوجوں کے ساتھ تال میل بڑھانے کے لیے ہم سے تجربہ شئیر کرنے کے لیے منتظر رہتی ہیں۔ جب وہ ہمارے ساتھ  مشقوں میں شرکت کرتی ہیں تو اکثر یہ گفتگو کا موضوع بھی ہوتا ہے۔

پچھلے سال ہی بھارت میں انٹر نیشنل فلیٹ ریویو کے لیے 50 ملکوں کی بحریہ جمع  ہوئی تھیں۔ وشاکھاپٹنم کے پاس سمندر میں بنے  خوبصورت مناظر  کسی کے لیے بھی شاید ہی بھولنا ممکن ہو۔

اس سال بھی ہندوستانی  بحریہ نے بحر ہند میں اپنی بہادری سے دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچی ہے۔

جولائی میں ہوئی مالابار مشقوں میں امریکہ اور جاپان کی بحریہ کے ساتھ بھارتی بحریہ نے شاندار مظاہر ہ کیا تھا ۔ اسی طرح آسٹریلیا کی بحریہ کے ساتھ، سنگاپور کی بحریہ کے ساتھ، میانما، جاپان، انڈونیشیا  کی بحریہ کے ساتھ بھارتی بحریہ الگ الگ مہینوں میں اس سال مشقوں کا پروگرام مسلسل جاری رکھا ہے۔ بھارتی فوج بھی سری لنکا، روس، امریکہ،  برطانیہ، بنگلہ دیش اور سنگاپور جیسی ملکو ں کے ساتھ مشترکہ مشقیں  کرچکی ہے۔

 بھائیو اور بہنو، یہ پوری تصویر اس بات کی گواہ ہے کہ دنیا کے ملک، امن اور استحکام کی راہ پر بھارت کے ساتھ چلنےمیں آج بھی خواہشمند ہیں، عہد بستہ ہیں۔

ساتھیو، ہم اس بات کے تئیں بھی خبردار ہیں کہ ملک کی سلامتی کے لیے چیلنجوں کی شکل بدل چکی ہے۔ ہم اپنی دفاعی تیاریوں کو ان چیلنجوں کے مطابق کرنے لیے پوری کوشش کررہے ہیں۔ سرگرم اقدامات کررہے ہیں۔

ہماری کوشش ہے کہ ہماری دفاعی طاقت، اقتصادی طاقت، تکنیکی طاقت کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات کی طاقت، عوام کے اعتماد کی طاقت، ملک کی نرم طاقت، ان سبھی  فیکٹرس (عوامل) میں ایک رابطہ ہو۔ یہ تبدیلی آج کے وقت کا مطالبہ ہے۔

بھائیو اور بہنو، پچھلے تین سال میں دفاع اور سلامتی سے  منسلک پورے ایکو سسٹم میں تبدیلی کا آغاز ہوا ہے۔ بہت ہی نئی پہل کی گئی ہے۔ جہاں ایک طرف ہم ضروری سازوسامان کے موضوع کو اہمیت کے ساتھ ایڈریس کررہے ہیں، وہیں ملک میں ہی لازمی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے متحرک ایجنڈہ بھی طے کیا جارہا ہے۔

لائسنسنگ عمل سے برآمدات کے عمل تک، ہم پورے نظام میں شفافیت اور متوازن مقابلہ  آرائی لارہے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے بھی ہماری حکومت نے متعدد اقدام کیے ہیں۔ اب 49 فیصد ایف ڈی آئی  خودکار راستے سے کی جاسکتی ہے۔ دفاعی شعبے کے کچھ شعبوں میں تو اب 100 فیصد ایف ڈی آئی کا راستہ کھل گیا ہے۔ دفاع خریداری طریقہ کار میں بھی ہم نے بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ ان سے میک ان انڈیا کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ اس سےروزگار کے بی نئے مواقع پیدا ہورہےہیں۔

جیسا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ آئی این ایس کلوری کی تعمیر میں تقریباً 12 لاکھ  دن لگے ہیں۔ اس آبدوز کی تعمیر کے دوران جو تکنیکی صلاحیت ہندوستانی کمپنیوں کو بھارتی صنعتوں کو چھوٹی صنعتوں کو اور ہمارے انجینئروں کو حاصل ہوئی ہے وہ ملک کے لیے ایک طرح سے ذہانت کا خزانہ ہے۔ یہ اسکل سیٹ ہمارے لیے ایک اثاثہ ہے، جس کا فائدہ ملک کو مستقبل میں لگاتار ملے گا۔

ساتھیو، ہندوستانی کمپنیاں، دفاع کے شعبے کے  پروڈکٹ بنائیں اور اسے دنیا بھر میں برآمد کریں، اس کے لیے دفاعی برآمدات میں پالیسیوں میں بھی ہم نے  پوری طرح سے تبدیلیاں کی ہیں۔ جو پروڈکٹس یہاں بن رہے ہیں وہ ہماری فوجی طاقت بھی آسانی سے خرید سکیں، اس کے لیے تقریباً ڈیڑھ سو   نان –کور آئٹمس کی ایک فہرست بنائی گئی ہے۔ ان کی خرید کے لیے  فوجی  دستوں کو آرڈیننس فیکٹریوں سے منظوری کی ضرورت نہیں ہے، وہ سیدھے پرائیوٹ کمپنیوں سے یہ پروڈکٹس خرید سکتی ہیں۔

ملک کو دفاع کے شعبے میں خود کفیل بنانے کے لیے حکومت بھارت پرائیوٹ سیکٹر کے ساتھ کلیدی پارٹنر شپ ماڈل لاگو کررہی ہے۔ یہ ہماری کوشش ہے کہ بیرون ملکوں کی طرح ہندوستانی کمپنیاں بھی جنگی جہازوں سے لے کر  ہیلی کاپٹر اور ٹینک سے لے کر آبدوز تک کی تعمیر اسی سرزمین پر کریں۔ مستقبل میں  یہ اسٹریٹجک پارٹنر شپ بھارت کی دفاعی صنعت کو مضبوط بنائیں گے۔

حکومت نے دفاع کے شعبے سے منسلک سامان کی خرید میں بھی تیزی لانے کے لیے متعدد پالیسی فیصلے کیے ہیں۔ وزارت دفاع اور سروس ہیڈ کوارٹر سطح پر مالی اختیارات میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ پورے عمل کو مزید آسان اور مؤثر بنایا گیا ہے۔ ان اہم  بہتر اقدامات سے  دفاعی نظام اور ملک کی فوجوں کی صلاحیت اور بھی مضبوط ہوگی۔

بھائیو اور بہنو، ہماری سرکار کی دفاعی پالیسیوں کا  اثر باہر ہی نہیں بلکہ ملک کی اندرونی سلامتی پر بھی مثبت طریقہ سے اثر انداز ہورہا ہے۔

آپ سبھی جانتے ہیں کہ کس طرح دہشت گردی کو بھارت کے خلاف ایک درپردہ جنگ کی شکل میں استعمال کیا جارہا ہے۔ ہماری حکومت کی پالیسیاں اور ہمارے فوجیوں کی بہادری کا یہ نتیجہ ہے کہ جموں و کشمیر میں ہم نے ایسی طاقتوں کو کامیاب ہونے نہیں دیا ہے۔ جموں و کشمیر میں اس سال اب تک 200 سے زیادہ دہشت گرد، جموں و کشمیر پولیس اور سلامتی دستوں کے تعاون سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ پتھر بازی کے معاملات میں کمی آئی ہے۔ شمال مشرق کی ریاستوں میں بھی صورتحال میں کافی بہتری دکھائی دی ہے۔ نکسلی، ماؤوادی تشدد بھی کم ہوا ہے۔  یہ صورتحال اس بات کا بھی مظہر ہے کہ ان علاقوں میں زیادہ سے زیادہ لوگ اب ترقی کے قومی دھارے میں واپس لوٹ رہے ہیں۔

میں آج اس موقع پر ہر اس شخص کا  شکر گزار ہوں ، جس نے ملک کی سلامتی میں اپنی زندگی وقف کردی ہے۔

ریاستوں کے پولیس دستے ، نیم فوجی دستے، ہماری فوجیں سلامتی کے شعبے  سے منسلک ہر وہ ایجنسی ، جو نظر آتی ہیں اور ہر وہ ایجنسی جو نظر نہیں آتی ، ان کے تئیں اس ملک کے سوا سو کروڑ لوگ مقروض ہیں، ان کا خیرمقدم کرتا ہے، میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ساتھیو، ملک کی مضبوطی ہمارے سلامتی دستوں کی مضبوطی سے جڑی ہوئی ہے اور اس لیے سلامتی دستوں کی ضرورتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے تاخیر کئے بغیر ان کے لیے فیصلے کرنا، ان کے ساتھ کھڑے رہنا یہ حکومت کی ترجیح ہے۔ اور یہ حکومت کا شیوہ ہے۔  یہ ہماری کمٹمنٹ تھی، جس کے  سبب کئی دہائیوں سے زیر التوا ون بینک ، ون پنشن کا وعدہ حقیقت میں بدل چکا ہے۔ اب تک 20 لاکھ سے زیادہ ریٹائرڈ فوجی بھائیوں کو تقریباً 11 ہزار کروڑ روپے ائیریل کے طور پر دئیے بھی جاچکے ہیں۔

بھائیو اور بہنو، آج اس موقع پر میں ساگر پریکرما کے لیے نکلی بھارتی بحریہ کی چھ بہادر جانباز افسروں کو یاد کرنا چاہوں گا، ان کا اعزاز کرنا چاہوں گا۔

ہمارے ملک کی وزیر دفاع نرملا جی کی تحریک  سے بھارت کی خواتین کی طاقت کا پیغام لے کر بہت ہی حوصلے کے ساتھ، یہ ہماری چھ جانباز فوجی آگے بڑھتی چلی جارہی ہیں۔

ساتھیو، آپ ہی جل، تھل نبھ میں اسی بے پایاں بھارتی اہلیت کو محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ آج آئی این ایس  کلوری کے ساتھ ایک نئے سفر کا آغاز ہورہا ہے۔

سمندر دیو آپ کو طاقتور بنائے رکھے، آپ کو سلامت رکھے۔ ‘‘ شامے نو ورون’’ آپ کا ہی یہ موٹو ہے۔ ہماری اسی خواہش کے ساتھ میں آپ کو ایک بار پھر سلام کرتا ہوں۔ نیک خواہشات کے ساتھ آپ سب کو گولڈن جوبلی پر ایک نئے اجرا کے لیے بہت بہت مبارکباد پیش کرتے ہوئے  اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ

بھارت ماتا کی جئے۔

 

***********

U – 6265